Showing posts with label میلاد Milad. Show all posts
Showing posts with label میلاد Milad. Show all posts

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع جشن منانے کا حکم

 

 میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع جشن منانے کا حکم  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا جشن  new rabi ul awal pics free

اول: سیرت نگار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش کے بارے میں مختلف اقوال رکھتے ہیں، تاہم سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات گیارہ سن ہجری کو 12 ربیع ا الاول کے دن ہوئی تھی! اور یہی وہ دن ہے جس میں عوام الناس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا جشن مناتی ہے!!

دوم:
پوری شریعت اسلامیہ میں ایسا کوئی تہوار نہیں ہے جس کا نام "عید میلاد النبی" ہو، چنانچہ صحابہ کرام، تابعین عظام، اور تمام ائمہ کے عہد میں اس دن جشن منانا تو دور کی بات ہے، اس کا نام و نشان بھی نہیں تھا، بلکہ اس بدعت کی ایجاد باطنی بدعتی لوگوں نے کی پھر ان کے پیچھے سب لوگ لگ گئے اور اسے منانے لگے۔
سوم:
کچھ سنت کے شیدائی اپنے ملک میں ہونے والے جشن عید میلاد کے جلسے اور جلوسوں سے متاثر ہو کر بدعت سے بچنے کیلئے صرف اپنے گھر کے لوگوں کو جمع کر تے ہیں، خصوصی طور پر کھانا تیار کیا جاتا ہے اور سب مل کر کھاتے ہیں، اسی طرح کچھ لوگ اپنے ساتھیوں اور عزیز و اقارب کیساتھ مل کر گھر میں اسی مقصد سے پروگرام منعقد کرتے ہیں ، اور کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت خوانی کیلئے اکٹھے ہوتے ہیں یا سیرت نبوی پر خطاب سنتے ہیں۔ اس میں یہ امر بھی شامل ہوتا ہے کہ آپ کا مقصد اتفاق و اتحاد اور غیر مسلم ملک میں اپنے دینی تشخص کی پاسداری یہ بہت اچھے مقاصد ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام اچھے مقاصد مل کر بھی عید میلاد النبی کے جشن کو جواز فراہم نہیں کر سکتے، بلکہ یہ جشن بدعت ہی رہے گا،
 چنانچہ اگر آپ کوئی تہوار منانا چاہتے ہیں تو عید الفطر اور عید الاضحی مسلمانوں کی دو عیدیں ہیں، اور اگر اس سے زیادہ آپ کو تہوار چاہییں تو ہر ہفتے ہمارے پاس جمعہ کا دن ہے، اس دن جمعہ کیلئے سب اکٹھے ہوں، اور دینی تشخص بیدار کرنے کیلئے اپنی پوری توانائی صرف کر دیں۔

اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر پورے سال کے دن آپ کے پاس موجود ہیں ، آپ کسی بھی دن جمع ہو جائیں بس یہ خیال رہے کہ ایسا کوئی دن نہ ہو جس میں خود ساختہ تہوار منایا جاتا ہو،
بلکہ شادی بیاہ، عقیقہ، اور کسی بھی جائز تقریب میں جمع ہو کر آپ ك اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ذیل میں اہل علم کے فتاوی جات ہیں جس میں مذکورہ نیتوں کیساتھ ان تقریبات کے منانے کا حکم موجود ہے۔

1- ابو حفص تاج الدین فاکہانی رحمہ اللہ جشن میلاد کی اقسام بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ایک قسم یہ ہے کہ: انسان اپنے ذاتی مال سے اپنے گھر والوں اور دوست احباب کیلئے کھانا تیار کرے اور اکٹھے بیٹھ کر کھانا تناول کریں، اس سے زیادہ اور کچھ نہ ہو، کسی قسم کا کوئی گناہ کا کام بھی نہ کیا جائے تو اسی قسم کے بارے میں ہم نے یہ کہا ہے کہ یہ بدعت اور برا عمل ہے؛
 کیونکہ ایسا عمل ہمارے فقہائے اسلام، علمائے کرام، اور چمکتے ستاروں نے ماضی میں کبھی نہیں کیا"
" المورد في عمل المولد " ( ص 5 )

2-  ابن حاج مالکی رحمہ اللہ گانے بجانے، موسیقی، اور مرد و زن کے اختلاط سے پاک جشن میلاد کے بارے میں کہتے ہیں:  "اگر عید میلاد میں یہ سب کچھ نہ ہو ، صرف کھانا بنا کر جشن میلاد منایا جائے اور دوست احباب کو بلائے تو صرف اسی نیت کی وجہ سے یہ عمل بدعت قرار پائے گا؛
 کیونکہ یہ دین میں اضافہ ہے، سلف صالحین کا عمل نہیں ہے، چونکہ سلف صالحین کی اتباع اور ان کے نقش قدم پر چلنا ضروری امر ہے اس لیے ان کے طریقہ کار سے متصادم طریقہ اپنانے کی وجہ سے گناہ میں مزید اضافہ بھی ہوگا؛ کیونکہ سلف صالحین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے شیدائی تھے،
 وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر سختی سے عمل پیرا رہنے والے لوگ تھے، بلکہ اتباع سنت کیلئے وہ لوگ سب سے آگے تھے، لیکن اس کے باوجود کسی سے ایسی کوئی بات منقول نہیں ہے کہ
 انہوں نے میلاد منایا ہو ، یا میلاد منانے کی نیت ہی کی ہو، ہم ان کے نقش قدم پر چلیں گے،
 اور وہی کچھ کرینگے جو انہوں نے کیا تھا، اور یہ بات سب کیلئے عیاں ہے کہ سلف صالحین کی اتباع و پیروی حقیقی مآخذ و مصادر پر عمل کی صورت میں ہی ہے
، یہی بات شیخ امام ابو طالب مکی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں بھی کہی ہے" " المدخل " ( 2 / 10 )

3- کچھ لوگ احتیاط کا پہلو اپناتے ہوئے جشن میلاد میں گانے بجانے کی بجائے صحیح بخاری پڑھتے ہیں ،
 اب یہ عمل بذاتہ خود ایک عظیم عمل اور عبادت ہے، بلکہ خیر و برکت کا موجب بھی ہے، لیکن اس کیلئے شرط وہی ہے کہ اسے بھی اسی انداز سے سر انجام دیا جائے جیسے کہ اسے کرنے کا شرعی طور پر طریقہ بتلایا گیا ہے، جشن میلاد کی نیت سے نہ کیا جائے، اس کی مثال آپ یوں سمجھیں کہ نماز قرب الہی کے حصول کا عظیم ترین ذریعہ ہے،
 لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شخص نماز کے وقت سے پہلے ہی یا نماز کا وقت ہی نہ ہو تو
ایسے وقت میں نماز ادا کرنا قابل مذمت اور شریعت سے متصادم ہوگا، اگر نماز کا یہ معاملہ ہے تو اس کے علاوہ دیگر امور کا کیا حال ہوگا؟!  " المدخل " ( 2 / 25 )

خلاصہ یہ ہوا کہ:   ذکر کردہ اہداف باہمی راوبط اور تعلقات کو فروغ دینے کیلئے بدعتی جشن کو منانا جائز نہیں ہے،"
 چنانچہ ان عظیم مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے دیگر جائز مواقع کو استعمال کریں، اس کیلئے آپ سال کے کسی بھی دن اکٹھے ہو سکتے ہیں۔مگر کسی دن کو مخصوص کرلینا اور اُس پر ثواب کی نیت رکھنا بدعت ہوگا


  ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپکو اچھے مقاصد میں کامیاب کرے اور آپ کی کامیابی کیلئے رہنمائی فرمائے۔  واللہ اعلم.

یہ ضرور پڑھیں :
tyht

عنوان: یہ کیسی محبت ہے ؟؟؟؟

 
jashne meid ilad un nabi . biddat . bilad ki haqeeqat  . میلاد النبی
عنوان: 
یہ کیسی محبت ہے؟؟؟؟

ایک بچے نے اک استاد کو اپنےگھر ایک مضمون پڑھانے کے لئے مقرر کیا. استاد نے اسے اک ٹاپک سمجھایا اور کہا کہ آج شام میں گھر آکر اس کا ٹیسٹ لوں گا اس کی پریکٹس کر کے ٹیسٹ تیار کرلینا.

استاد جب شام کو بچے کے گھر گئے تو دیکھا کہ گلی میں قالین بچھا ھوا تھا جس پر گلاب کے پھولوں کی پتیاں اسے ڈھانپے ھوئے تھیں. گلی کے دونوں طرف کے تما گھروں کی دیواروں پر ہر رنگ کی بتیاں جل رھی تھیں. اورگلی کےاوپر رنگ برنگی جھنڈیوں کی چادر تنی ھوئی تھی آخرتک.

استاد جب گلی میں سے گزر کر بچے کے گھر کے دوازے پر پہنچے تو ان پر چھت سے پھولوں کی بارش برسائی گئی. اور فضا "مرحبا یااستاذ" کےفلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی. گھر کے دروازے پر بچے نے استاد کا پرتپاک استقبال کیا اور استاد کے ہاتھوں کو جھک کر ادب سے چوما اور انھیں آنکھوں پر لگایا.

استادنے پوچھا کہ "بیٹا یہ سب کیا ھے.‫؟" تو بچے نے جواب دیا کہ،،،، "استاد محترم مجھے آپ سے والہانہ پیار، محبت، عقیدت اورعشق ھے. آپ آج میرے گھر تشریف لائے ھیں تو یہ سارا انتظام آپ کی آمد کی خوشی میں آپ کے استقبال کے لئے میں نے کیا ھے.تاکہ آپ مجھ سے راضی اور خوش ھوجائیں."

استاد نے فرمایا کہ "اچھا بیٹا یہ بتاؤ کہ تم نے وہ ٹیسٹ تیار کیا ھے جس مقصد کے لئے میں یہاں آیا ھوں.؟" تو بچے نے جوب دیا کہ "استاد محترم دراصل میں آپ کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف رہا تھا اس لئے میں وہ ٹیسٹ تیار نھیں کر سکا." تو استاد نے فرمایا کہ.، ، ،
" بیٹا جس مقصد کے لئے میں یہاں آیا ھوں اور جس کام سے میں نے تم سے راضی اور خوش ہونا تھا وہ تو یہ ٹیسٹ تھا جو تم نے تیار ھی نھیں کیا. اور جس کام کے کرنے کے لئے میں نے ایک مرتبہ بھی آپ کو نھیں کہا تھا آپ نے اس کام میں اپنا قیمتی وقت اور پیسہ لگا کر مجھے خوش کرنے کا کیسے سوچ لیا.؟ جس کام کے کرنے کا میں نے کہا ھی نھیں تھا اس کام سے بھلا میں خوش کیسے ھو سکتا ھوں.؟ اور جس کام سے میں نے خوش ھونا تھا وہ آپ نے کیا ھی نھیں. آپ کےخلوص اور جذبے پر مجھے کوئی شک نھیں بیٹا لیکن اس جذبے کی تکمیل اس راستے سے کبھی نھیں ھو سکتی جو آپ کو پسند ھو بلکہ صرف اسی طریقے سے ھو سکتی ھے جو مجھے پسند ھے."

بس یہی حقیقت ہمارے اپنے نبی سے عشق و محبت کی میرے بھائیو! جس کا بخار ہمیں صرف ربیع الاول میں ھوتا ھے.
اگر ہم اپنے نبی کو راضی و خوش کرنا چاھتے ھیں تو اس کے لئے ہمیں طریقہ بھی وھی اختیار کرنا ھوگا جو خود نبی علیہ السلام نے بتایا تھا اور صحابہ کرام علیھم الرضوان نے جس پر عمل کرکے دکھایا تھا.
بے شک ہمارے خلوص اور عشق کی سچائی میں کوئی شک نھیں لیکن محبوب راضی اسی طریقے سے ھوتا ھے جو محبوب کو پسند ھو نہ کہ عاشق کو پسند ھو. اور وہ ایک ھی طریقہ ھے کہ حکم الله کا ھو اور طریقہ ِمحمد الرسول الله کا ھو. صلی الله عليه وسلم. اور زندگی اسی محبوب کی سنتوں کی اتباع میں گزر جائے. نماز میرے آقا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کا اہتمام کیا جاۓ ۔زندگی کے ہرکام کو سننت کے مطابق کیا جاۓ
کوئی لڑائی نھیں کوئی جھگڑا نھیں کوئی بحث و مناظرہ نھیں بس صرف آسان الفاظ میں اپنے ھی بھائیوں کو سادہ سی دعوت فکر ھے. اس امید کے ساتھ کہ، ، ، ،

شاید کہ اتر جائےکسی دل میں میری بات.

منقول ..

عید میلاد النبی پر تقریر  عید میلاد النبی کی حقیقت   عید میلاد النبی کی شرعی حیثیت   عید میلاد النبی پرمضمون . eid milad un nabi in islam
***
   ء  جشن عید میلاد النبی مبارک ہو   ء  جشن عید میلادالنبی  ء  عید میلاد النبی اشعار    جشن عید میلاد النبی   
احمد رضا خان بریلوی آپ صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش ولادت ۹ ربیع الاول کو ہوئی

بریلویوں کے ایک بڑے عالم کا فتوی . 
آپ صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش ولادت ۹ ربیع الاول کو ہوئی اور وفات ۱۲ ربیع الاول کو ہوئی 

Berlvi Alim ka Fatwa Milad un nabi 9 Rabi ul awal ko hai 



=
Eid Milad un Nabi kiya hai ? - 12 Rabi ul Awal Special Clip

عید میلاد کیا ہے . 
Molana makki al hijazi in makkah sawal o jawab




کیا ۱۲ ربیع الاول عید کا دن ہے . 
 kiya 12 rabi ul awal Eid ka Dn Hai


↓↓  Share's Button say Whatsapp , Facebook , Twitter , Google+ Par share Zaror Karen
Jazak Allah Khair

جشنِ عید میلاد النبی ﷺ صلی اللہ علیہ وسلم سے آخر کیوں روکا جاتا ہے ؟

 

لفظی اعتبارسے ہر اس دن کو عید کہتے ہیں جس میں کسی بڑے آدمی یا کسی بڑے واقعہ کی یاد منائی جائے۔ بعض نے کہا کہ عید کو عید؛ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ہر سال لوٹ کر آتی ہے۔ (المنجد: ۶۹۰، معجم الوسیط:۶۳۵) ”عید“ کو عید کہنا ایک طرح کی نیک فالی اور اس تمنّا کا اظہار ہے کہ یہ روزِ مسرّت بار بار آئے۔(قاموس الفقہ:۴/۴۱۹)
ولادتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کی صحیح تاریخ
تمام موٴرخین اور اصحابِ سیر کا اس پر تو اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ولادتِ با سعادت پیر کے دن ہوئی؛البتہ تاریخ میں شدید اختلاف ہے۔۲،۸،۹،۱۰،اور ۱۲ تاریخیں بیان کی گئی ہیں اور وفات کے سلسلے میں ۲/ربیع الاول کو جب کہ ولادت کے سلسلے میں ۱۲/ربیع الاول کو ترجیح دی گئی۔
یومِ ولادتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
یومِ ولادت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  یعنی اس عظیم الشان شخصیت کا جنم دن ،جسے تمام عالم کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔وہ دن واقعی بڑی ہی عظمت و برکت کا حامل تھا؛اس لیے کہ اس مبارک دن میں رحمة للعالمین حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس عالمِ رنگ و بو میں تشریف لائے۔اگرچہ شریعت نے سالانہ آقا کے یومِ ولادت کو”منانے“ کا حکم نہیں دیا نہ اسے عید ہی قرار دیا، نہ ہی اس کے لیے کسی قسم کے مراسم مقرّر کیے؛لیکن جس سال ماہِ ربیع الاول میں یہ دن آیا تھا ،وہ نہایت ہی متبرک اور پیارا دن تھا۔آج جو لوگ اس دن کو ”عید“ کے نام سے یاد کرتے ہیں وہ اصلاً رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم  کی نافرمانی کرتے ہیں،اس لیے کہ خود ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے :
اللہ تعالیٰ نے دیگر قوموں کے مقابلے میں مسلمانوں کے لیے عید کے دو دن مقرّر کیے ہیں: (۱)عید الفطر اور (۲) عید الاضحی۔ یہ ارشاد اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا تھا جب کہ آپ نے اہلِ مدینہ کو دوسرے دنوں میں زمانہٴ جاہلیت کے طرز پر عید و خوشی مناتے دیکھا۔ (ابوداود: ۱۳۳۴، نسائی: ۱۵۵۷) اس سے یہ مسئلہ بالکل واضح ہو گیا کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماننے والوں کے لیے سالانہ صرف دو دنوں کو عید کے طورپر مقرر فرمایا،ان کے علاوہ بعض روایتوں میں جمعہ کے دن کو بھی عید کہا گیا ہے، اس کے علاوہ کسی دن کے متعلق عید کا لفظ وارد نہیں ہوا۔اب اگر کوئی اس پر زیادتی کرکے اپنی طرف سے مزید ایک دن بڑھاتا اور اس میں عید جیسی خوشیاں مناتا ہے،تو وہ گویا رحمة للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم  کے اس ارشادِ عالی پر عدم رضامندی کا اظہار کرتا ہے،اور جو اسے دین کا حصہ سمجھتا ہے،وہ اپنی طرف سے نیا دین تراشتا ہے اور یہ دونوں ہی طریقہٴ عمل نہایت خطرناک ہیں۔
عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی ابتداء
فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:
یہ مروجہ مجلسِ میلاد قرآن ِکریم سے ثابت ہے نہ حدیث شریف سے،نہ خلفاءِ راشدین و دیگر صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے نہ تابعین و ائمہ مجتہدین رحمہ اللہ ؛ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ، امام مالک رحمہ اللہ ، امام شافعی رحمہ اللہ ، امام احمد  رحمہ اللہ  وغیرہ سے ، نہ محدثین ؛ امام بخاری رحمہ اللہ ، امام مسلم رحمہ اللہ ، امام ابو داود رحمہ اللہ ، امام ترمذی رحمہ اللہ ، امام نسائی رحمہ اللہ  اور امام ا بن ماجہ رحمہ اللہ  وغیرہ سے اورنہ اولیاءِ کاملین ؛ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ ، خواجہ بہاء الدین نقشبندی رحمہ اللہ  اور شیخ عارف شہاب الدین سہروردی رحمہ اللہ  وغیرہ سے۔ چھ صدیاں اس امت پر اس طرح گزر گئیں کہ اس مجلس کاکہیں وجود نہیں تھا۔سب سے پہلے بادشاہ اربل نے شاہانہ انتظام سے اس کو منعقد کیا اور اس پر بہت مال خرچ کیا،پھر اس کی حرص و اتباع میں وزراء وامراء نے اپنے اپنے انتظام سے مجالس منعقد کیں،اس کی تفصیل ”تاریخ ابن خلکان “ میں موجود ہے۔
اسی وقت سے علماءِ حق نے اس کی تردید بھی لکھی ہے؛چنانچہ ”کتاب المدخل“میں علامہ ابن الحجاج نے بتیس صفحات میں اس کے قبائح و مفاسد دلائلِ شرعیہ کی روشنی میں لکھے ہیں۔ ۷۳۷ھ میں اس کی تصنیف سے فراغت حاصل ہوئی،پھر جہاں یہ مجلس پہنچتی گئی ، وہاں کے علماء تردید فرماتے رہے؛چنانچہ عربی، فارسی اور اردو صلی اللہ علیہ وسلم ہر زبان میں اس کی تردید موجود ہے اور آج تک تردید کی جا رہی ہے۔
(فتاوی محمودیہ جدید:۳/۲۱۴-۲۱۳بتغیر)
بریلوی عالم کا اعتراف
بریلوی حضرات کے ایک عالم قاضی فضل احمد صاحب لکھتے ہیں:”یہ امر بھی مسلمہ ہے کہ اس مخصوص شکل سے یہ عملِ خیر و برکت و نعمت ۶۰۴ھ سے جاری ہے“۔
(مروجہ محفلِ میلاد:۵۲ ملخصاً)

عیدِ میلاد کا حکم
اس سے بعض لوگ اس غلط بات کی طرف چلے جاتے ہیں، گویا کہ ہم ذکر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کو منع کرتے ہیں۔ نعوذ باللہ ! ثم نعوذ باللہ! نفسِ ذکر میلاد فخرعالم علیہ السلام کو کوئی منع نہیں کرتا؛بلکہ ذکرِ ولادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مثل ذکر دیگر سیر و حالات کے مندوب ہے۔(البراہین القاطعةعلی ظلام انوار الساطعة:۱۴)لیکن اس زمانہ میں مجالسِ میلاد بہت سے منکرات وممنوعات پر 
مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ممنوع ہے۔
(فتاویٰ محمودیہ:۳/۱۸۱جدید محقق)
 بالفاظِ دگرمیلاد ِ مروجہ وقیام مروج جو امور ِ محدثہ ، ممنوعہ کو مشتمل ہے ، ناجائز اور بدعت ہے۔
(عزیز الفتاویٰ:۱۲۲،زکریا بکڈپو ، دیوبند)
یومِ ولادتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  یقینا باعث ِ خوشی اور اظہارِ مسرت کا سبب ہے؛ لیکن اس تاریخ میں ہر سال اگر یہ دن ”منانے“ کا ہوتا،
 تو اس کے متعلق احکامات و ہدایات شریعتِ مطہرہ میں کثرت سے وارد ہوتیں۔یہ خیال رکھنے کی بات ہے کہ یہ دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہٴ کرام رضی اللہ تعالی عنہما کے سامنے بھی تھا ، تو جب خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہٴ کرامرضی اللہ تعالی عنہما نے اس خوشی کا اظہار مروجہ طریقہ پر نہیں کیااور” عید ِمیلاد “ نہیں منایا، تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ شریعت میں اظہارِ خوشی کا یہ طریقہ درست نہیں،
ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے
 صحابہٴ کرام رضی اللہ تعالی عنہما اس پر عمل کرکے اس کا جواز ضرور بتلاتے  ۔
یہی ایک دلیل مروجہ میلاد کے غیر درست ہونے کے لیے کافی ہے۔
 ارشادِ ربّانی ہے:  ﴿اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا﴾۔(سورة المائدة:۳)  آج میں نے تمھارے لیے دین کو کامل و مکمل کر دیا (اب اس میں کسی طرح کمی بیشی کی گنجائش نہ رہی) اور تم پر اپنا انعام مکمل کر دیااور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر راضی ہو گیا۔
نیز ارشادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ہے:  جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات ایجاد کرے ، جو دین میں سے نہیں ہے، وہ مردود ہے۔ 
(بخاری:۲۶۹۷،مسلم:۶۷۱۸)
ایک دوسری روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:
تم میری سنّت کو لازم پکڑو اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفاءِ راشدین کی سنّت کو لازم پکڑو،اسے ڈاڑھوں سے مضبوط پکڑے رہو اور دین میں نئی باتیں ایجاد کرنے سے بچو؛ کیوں کہ دین میں پیدا کی گئی ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
(ابو داود: ۴۶۰۷، ترمذی: ۲۶۷۸، ابن ماجہ:۴۲)
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا بس یہی حق امت پر ہے کہ سارے سال میں صرف ایک دن اور وہ بھی صرف تماشہ کے طور پر ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ذکرِ مبارک جھوٹے سچے رسالوں سے پڑھ دیا اور پھر سال بھر کے لیے فارغ ہو کر آئندہ بارہ وفات اور عیدِمیلاد کے منتظر ہوکر بیٹھ گئے۔
افسوس !مسلمانوں کا فرض تو یہ ہے کہ کوئی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکرِ مبارک سے خالی نہ جائے؛ البتہ یہ ضروری نہیں کہ فقط ولادت کا ہی ذکر ہو؛ بلکہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا،کبھی آپ کے روزے کا،کبھی جہاد کا،اور کبھی آپ کے اخلاق و اعمال کا،جو کہ سب سے زیادہ اہم ہیں۔کبھی ولادتِ با سعادت کا بھی ہو کہ یہ بھی باعثِ خیر و برکت ہے۔
(جواہر الفقہ:۴/۹۱،امداد المفتیین:۱۶۳)
محبت کی علامت بھی یہی ہے کہ محبوب کی ہر بات کا ذکر ہو،ولادتِ شریفہ کا بھی، سخاوت اور عبادت کا بھی۔ اس میں کسی مہینہ اور تاریخ اور مقام کی کوئی تخصیص نہیں؛بلکہ دوسرے وظیفوں کی طرح روزمرہ اس کا وظیفہ ہونا چاہیے۔یہ نہیں کہ سال بھر میں مقررہ تاریخ پر یومِ میلاد منا لیا جائے اور اس کے بعد کچھ نہیں؛ حالاں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا ذکرِ مبارک تو غذا ہے،ہر وقت ہونا چاہیے، اس میں وقت کی تخصیص کی کیا ضرورت ؟
(الفضائل والاحکام :۱۱۱،امداد الفتاویٰ:۱/۱۸۷)
اس پوری تفصیل سے واضح ہو گیا کہ محفلِ میلاد میں کوئی تاریخ معین اور ضروری نہ سمجھی جائے، شیرینی کو ضروری نہ سمجھا جائے، ضرورت سے زیادہ روشنی نہ کی جائے، غلط روایات نہ پڑھی جائیں،نظم پڑھنے والے بے ریش نہ ہوں،اور گانے کی طرح نہ پڑھیں،اسی طرح دوسری بدعات سے خالی ہو، تو مضائقہ نہیں۔
(امداد الفتاویٰ:۵/۲۴۹ ، و نظام الفتاویٰ ، حصہ دوم : ۱/۱۶۵، اعتقاد پبلشنگ ہاوٴس ، دیوبند)
غرض یہ کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا ذکرِ مبارک جب کہ ان رسوم و بدعات سے خالی ہو تو ثواب اور افضل ہے،اوراگر مروجہ طریقہ پررسوم وبدعات سے بھرا ہو تو نیکی برباد گناہ لازم ہے۔جیسے کوئی بیت الخلاء میں جاکر قرآن ِکریم کی تلاوت کرنے لگے۔ 
(جامع الفتاویٰ:۲/۵۵۲ ، ربانی بک ڈپو ، دہلی ، فتاوی عثمانی:۱/۱۱۹، کتب خانہ نعیمیہ دیوبند)
المختصر ! ہم مسلمان ہیں اور ہمیں اپنی خوشی اور غمی ،ہر حالت میں شریعت کی اتباع کرنا واجب و ضروری ہے اور شریعت میں امرِ مندوب پر اصرار کرنا اور واجب کی طرح اس کا التزام کرنا اتباعِ شیطان ہے۔ 
(عزیزالفتاویٰ:۱۴۲ بتغیر)

’ اہل ِ حدیث ‘ علماء کا موقف
جناب مولانا مفتی ابو محمد عبد الستار صاحب فرماتے ہیں:
ہےئت ِمروجہ کے ساتھ مجلس ِ میلاد کا انعقاد ازروئے کتاب و سنت قطعاً حرام اور بدعت؛ بلکہ داخل فی الشرک ہے؛کیوں کہ اس کا ثبوت نہ تو خود رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت ہے،نہ کسی صحابی رضی اللہ تعالی عنہ سے، نہ کسی تابعی  رحمہ اللہ  سے۔ غرض قرونِ ثلاثہ میں اس کا وجود بالکل مفقود ہے،نہ ازمنہٴ ائمہ اربعہ میں اس کا پتہ لگتا ہے؛بلکہ ساتویں صدی میں یہ بدعت بجانب خود ایجاد کی گئی ہے۔
 (فتاویٰ ستاریہ:۱/۶۴)
جناب مولانا ثناء اللہ امرتسری فرماتے ہیں:
ہم مجلسِ میلاد کو کارِ ثواب نہیں جانتے؛اس لیے کہ زمانہٴ رسالت و خلافت میں اس کا ثبوت نہیں ملتا۔آگے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:مولود کی مجلس ایک مذہبی کام ہے،جس پر ثواب کی امید ہوتی ہے۔یہ ظاہر ہے کہ کسی کام پر ثواب کا بتلانا شرع شریف کا کام ہے؛اس لیے کسی کام پر ثواب کی امید رکھنا،جس پر شرع شریف نے ثواب نہ بتلایا ہو،اس کام کو بدعت بنا دیتا ہے۔مولود کی مجلس بھی اسی قسم سے ہے؛کیوں کہ شریعتِ مطہرہ نے اس پر ثواب کا وعدہ نہیں کیا؛اس لیے ثواب سمجھ کر تو یقیناًبدعت ہے،رہا محض محبت کی صورت، یہ بھی بدعت ہے؛کیوں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  سے محبت کرنا بھی ایک مذہبی حکم ہے،جس پر ثواب کی امید ہے۔پس جس طریق سے شرع شریف نے محبت سکھائی ہے،اس طریق سے ہوگی تو سنّت،ورنہ بدعت۔(فتاویٰ ثنائیہ: ۱/۱۱۹)
مفتیِ اعظم مکہ مکرمہ کا فتویٰ
شیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ بن بازفرماتے ہیں:
مسلمانو کے لیے ۱۲/ربیع الاول کی رات یا کسی اور رات میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی محفل منعقد کرنا جائز نہیں ہے؛بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے علاوہ کسی اور کی ولادت کی محفل منعقد کرنا بھی جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ میلاد کی محفلوں کا تعلق ان بدعات سے ہے،جو دین میں نئی پیدا کر لی گئی ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی حیات ِ پاک میں کبھی اپنی محفلِ میلاد کا انعقاد نہیں فرمایا تھا؛حالاں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  دین کے تمام احکام کو بلا کم وکاست ،من وعن پہنچانے والے تھے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے مسائلِ شریعت کو بیان فرمانے والے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے محفلِ میلاد نہ خود منائی اور نہ کسی کو اس کا حکم دیا۔یہی وجہ ہے کہ خلفاءِ راشدین ،حضراتِ صحابہٴ کرام اور تابعین میں سے کسی نے کبھی اس کا اہتمام نہیں کیا تھا،الخ۔(مقالات وفتاویٰ:۴۰۶اردو)
اللّٰہم ارنا الحق حقا ًوارزقنا اتباعہ، وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ․
$ $ $
***
عید میلاد النبی کی شرعی حیثیت  ء  عید میلاد النبی پر مضمون  ء  عید میلاد النبی پر تقریر   ء  جشن عید میلاد النبی مبارک ہو   ء  عید میلاد النبی کی حقیقت   ء  جشن عید میلادالنبی  ء  عید میلاد النبی اشعار    جشن عید میلاد النبی   
احمد رضا خان بریلوی آپ صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش ولادت ۹ ربیع الاول کو ہوئی

بریلویوں کے ایک بڑے عالم کا فتوی . 
آپ صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش ولادت ۹ ربیع الاول کو ہوئی اور وفات ۱۲ ربیع الاول کو ہوئی 

Berlvi Alim ka Fatwa Milad un nabi 9 Rabi ul awal ko hai 



=
Eid Milad un Nabi kiya hai ? - 12 Rabi ul Awal Special Clip

عید میلاد کیا ہے . 
Molana makki al hijazi in makkah sawal o jawab




کیا ۱۲ ربیع الاول عید کا دن ہے . 
 kiya 12 rabi ul awal Eid ka Dn Hai


↓↓  Share's Button say Whatsapp , Facebook , Twitter , Google+ Par share Zaror Karen
Jazak Allah Khair

جشن عید میلاد النبی (صلى الله عليه وسلم) کی حقیقت

 
eid milad un nabi ki haqeeqat , jashn e ied milad - eid milad kiya hai


چودہ سو برس سے زیادہ زمانہ گذرا کہ رب العالمین نے ظلمت کدہ عالم کو نور
 بخشنے والا وہ پیغمبر بھیجا جس کے ہاتھ میں سیادت رسل کا علم اور سرپرخاتمیت انبیاء کا تاج تھا۔ اللہ جل جلالہ نے اپنے پیغمبر کو ایسی شریعت کاملہ عطا فرمائی کہ اس کے بعد قیامت تک نوع انسانی کے لیے کسی مذہبی قانون اور نئی شریعت کی ضرورت درپیش نہ ہوگی۔

مگر مسلمانوں نے اس شریعت مطہرہ پرکاربند ہونے کی بجائے ایسے رسوم وقیود اپنالیے جو ہندؤوں اور غیرمسلم اقوام سے درآمد شدہ ہیں جومسلمانوں میں غیرمسلموں کے ساتھ میل جول اوراسلامی تعلیم کے فقدان کے سبب پیدا ہوگئے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ عام سادہ لوح مسلمان ان باطل رسوم کو اسلام کا نام دے رہے ہیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ یہ دین ہے۔!!

افسوس ان حضرات پر ہے جوبدعات و رسوم کی حقیقت سے آگاہی کے باوجود محض دنیوی اغراض اور عاجلانہ مقاصد کے حصول اور سیم وزر کی لالچ میں بدعتوں وجاہلانہ روایتوں کو سنت کا نام دے کر عوام کو تاریکی کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں؛ بلکہ ان بدعتوں و خرافات کو سنت ثابت کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔

آج کل ہمارے معاشرے میں بدعات و خرافات کارواج ہے، باطل نظریات اور غلط عقائد وافکار کی حکمرانی ہے، اہل باطل ان بدعتوں پر دین کا لیبل چسپاں کرکے عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں اور عوام اس پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں، رفتہ رفتہ وہ بدعتیں پھیل جاتی ہیں اور معاشرے میں اس کی جڑیں مضبوط ہوجاتی ہیں۔ ان بدعتوں میں سرفہرست ”عیدمیلاد النبی“ ہے، جسے معاشرے کے اکثر افراد دین تصور کرتے ہیں اور عبادت سمجھ کر منائی جاتی ہے، جلوس نکالے جاتے ہیں، جلسوں کا اہتمام کیاجاتا ہے، محفل میلاد منعقد کی جاتی ہے۔

یہ ایک سچائی ہے کہ اسلام میں حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کا مقام انتہائی اونچا ہے، کوئی دوسرا وہاں تک رسائی نہیں حاصل کرسکتا، نیز حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کے حالات سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے اوراس میں مسلمانوں کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کی ولادت خوشی کا باعث ہے۔ مسلمانوں کے دلوں میں حضور صلى الله عليه وسلم کی پیدائش کی خوشی ہونا فطری اور طبعی بات ہے؛ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم کی ولادت کی خوشی میں بدعات وخرافات کا سلسلہ شروع کردیا جائے جیساکہ آج کل کیاجاتا ہے۔ آں حضور صلى الله عليه وسلم نے صاف ارشاد فرمایا: تم پر میری اور میرے خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے، ان کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور نئی نئی باتوں سے دور رہو؛ اِس لیے کہ دین میں ہر نئی بات (جس کا حکم نہ دیاگیا ہو) بدعت ہے۔ (مستدرک حاکم، ج:۱، ص:۹۶)

اس مروّجہ میلاد کا اسلام میں کہیں ثبوت نہیں ہے؛ بلکہ یہ مروّجہ میلاد ساتویں صدی ہجری کی پیداوار ہے۔ پوری چھ صدی تک اِس بدعت کا مسلمانوں میں کہیں رواج نہ تھا؛ نہ کسی صحابی رضى الله تعالى عنه نے، نہ تابعی رحمة الله عليه نے، نہ تبع تابعین رحمة الله عليه نے عید میلاد نبی منائی، نہ کسی محدث نے، نہ مفسر نے، نہ فقیہ نے؛ بلکہ سب سے پہلے میلاد منانے والی شخصیت موصل کے علاقے اربل کا ظالم، ستم شعار اور فضول خرچ بادشاہ ملک مظفرالدین ہے۔ ۶۰۴ھ میں سب سے پہلے اس کے حکم سے محفل میلاد منائی گئی۔ (دول الاسلام، ج:۲، ص:۱۰۴) امام احمد بن محمد مصری اپنی کتاب ”القول المعتمد“ میں لکھتے ہیں:

اس ظالم اورمسرف بادشاہ (ملک مظفرالدین) نے اپنے زمانے کے علماء کو حکم دیاکہ وہ اپنے اجتہاد پر عمل کریں اور اس میں کسی غیر کے مذہب کا اتباع نہ کریں تو اس وقت کے وہ علما جو اپنے دنیوی اغراض ومقاصد کی سرتوڑ کوششیں کررہے تھے اُن کی طرف مائل ہوئے، جب اُنھیں موقع ملا تو ربیع الاوّل کے مہینے میں عیدمیلاد النبی منانا شروع کیا۔ مسلمانوں میں سب سے پہلے عیدمیلادالنبی منانے والا شخص ملک مظفرالدین ہے جوموصل کے علاقے اربل کا بادشاہ تھا۔“

علامہ انور شاہ کشمیری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: یہ شخص ہر سال میلاد پر لاکھوں روپیہ خرچ کرتا تھا اس طرح اُس نے رعایاکے دلوں کو اپنی طرف مائل کرنا شروع کیا اوراس کے لیے ملک وقوم کی رقم کو محفل میلاد پر خرچ کرنا شروع کیا اوراس بہانے اپنی بادشاہت مضبوط کرتا رہا اور ملک وقوم کی رقم بے سود صرف کرتا رہا۔(فیض الباری، ج:۲، ص:۳۱۹)

علامہ ذہبی رحمة الله عليه رقم طراز ہیں: اس کی فضول خرچی اور اسراف کی حالت یہ تھی کہ وہ ہر سال میلادالنبی پر تقریباً تین لاکھ روپے خرچ کیا کرتا تھا۔ (دول الاسلام، ج:۲،ص:۱۰۳)

ذرا اُس باطل پرست اور کج فکر کی حالت بھی سن لیجئے جس نے محفل میلاد کے جواز پر دلائل اکٹھے کیے اور بادشاہ کو اس محفل کے انعقاد کے جواز کا راستہ بتایا اس کا نام ابوالخطاب عمرو بن دحیہ تھا۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمة الله عليه اُس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں: وہ شخص ائمہ کی شان میں گستاخی کیا کرتاتھا، زبان دراز، بے وقوف اور متکبر تھا اور دینی امور میں سست اور بے پرواہ تھا۔ (لسان المیزان،ج:۴،ص:۲۹۶)

یہ تو میلاد کی ابتدائی تاریخ اور اُس کے موجد پر بحث تھی اب آئیے! علماے متقدمین ومتأخرین اس محفل میلاد کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں۔

علامہ عبدالرحمن مغربی رحمة الله عليه لکھتے ہیں: میلاد منانا بدعت ہے؛ اِس لیے کہ اِس کو حضور صلى الله عليه وسلم نے کیا ہے نہ اِس کے کرنے کو کہا ہے۔ خلفائے کرام نے میلاد منائی ہے اورنہ ائمہ نے۔ (الشریعة الالٰہیہ بحوالہ حقیقت میلاد،ص:۴۱)

علامہ سیوطی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس میلاد کے بارے میں کوئی نص وارد نہیں ہوئی ہے؛ لیکن اس میں قیاس آرائی پر عمل کیا جاتا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ حرّانی دمشقی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب ”اقتضاء الصراط المستقیم“ میں تحریر فرماتے ہیں: نصاری میلاد عیسیٰ علیہ الصلاة والسلام مناتے تھے، جب مسلمانوں کی اس طرف نظر ہوئی تو دیکھا دیکھی مسلمانوں نے یہ رسم اختیار کی؛ حال آں کہ سلف صالحین سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اگر یہ جائز ہوتی اوراس کے منانے میں خیر ہوتی، تو پہلے کے لوگ جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے زیادہ محبت رکھتے تھے اوراچھے کام کرنے کے زیادہ حریص تھے؛ وہ مناتے؛ لیکن سلف صالحین کا میلاد نہ منانا یہ اس بات کابیّن ثبوت ہے کہ میلاد مروّجہ طریقے پر منانا درست نہیں ہے۔“

اس میں لوگوں کا یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ یہ بڑی عبادت ہے حال آں کہ یہ بدعت ہے اوراس میں محرمات کا ارتکاب ہوتا ہے اور دیگر لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ اگرمیلاد منائی جائے اور اس میں محرمات کا ارتکاب نہ ہو اور وہ تمام مفاسد نہ ہوں جو اس کے منانے میں ہوتے ہیں، تب بھی میلاد منانا بدعت ہے؛ کیوں کہ یہ دین میں زیادتی ہے اوراسلاف کا عمل نہیں ہے۔ اگر یہ کارِ خیر اور کارِ ثواب ہوتا تو سب سے پہلے سلف صالحین مناتے؛ لیکن اُن کا میلاد نہ منانا اس کا ثبوت ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔ (مدخل، ج:۱، ص:۳۶۱)

مجدّد الف ثانی رحمة اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں: بالفرض اگر آں حضور صلى الله عليه وسلم اس دنیا میں زندہ ہوتے اور یہ مجلس منعقد ہوتی تو آیا وہ اس پر راضی ہوتے اوراس اجتماع کو پسند فرماتے تو اس سلسلے میں بندے کایقین یہ ہے کہ وہ ہرگز اسے قبول نہ فرماتے۔ (دفتر اوّل مکتوب،ص:۱۷۳)

علامہ نصیرالدین الاودی الشافعی علیہ الرحمہ سے کسی نے سوال کیا کہ میلاد منانا کیسا ہے؟ تو انھوں نے جواب میں فرمایا: محفل میلاد نہ منائی جائے؛ کیوں کہ سلف صالحین نے اختیار نہیں کیا ہم اسے کیسے اختیار کرلیں۔ (القول المعتمد)

علامہ شرف الدین رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: بعض امیر لوگ ہر سال محفل میلاد مناتے ہیں، اس میں بہت سے ناجائز تکلّفات پائے جاتے ہیں اور یہ محفل نفس پرستوں کی ایجاد کی ہوئی ہے جن کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے کس چیز کا حکم دیا اور کس چیز سے منع کیا؟ اِس لیے یہ بدعت ہے۔ (القول المعتمد)

حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: مروّجہ میلاد اور اس میں مروّجہ قیام محدثہ، ممنوعہ ہیں، جو ناجائز اور بدعت ہیں۔ (عزیزالفتاوی:۹۹)

قطب ارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ محفل چونکہ زمانہٴ فخردوعالم صلى الله عليه وسلم میں اور زمانہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور زمانہٴ تابعین وتبع تابعین اور زمانہٴ مجتہدین میں نہیں ہوئی، اِس محفل کا موجد چھ سو سال بعد کا ایک بادشاہ ہے جس کو اکثر اہل تاریخ فاسق لکھتے ہیں؛ لہٰذا یہ مجلس بدعت اور گمراہی ہے۔ عدم جواز کے واسطے یہ دلیل کافی ہے کہ قرونِ خیر میں اس کو کسی نے نہیں کیا۔ (فتاویٰ رشیدیہ،ص:۴۰۹)

حضرت مفتی محمد شفیع رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: موجودہ مروّجہ میلاد ہمارے نزدیک ناجائز اور بدعت ہے۔ (امداد المفتیین،ص:۷۹)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ رقم طرازہیں: ذکر ولادتِ نبوی شریف صلى الله عليه وسلم مثل دیگر اذکارِ خیر کے ثواب اور افضل ہے اگر بدعات وقبائح سے خالی ہو۔ اس سے بہتر کیا ہے کما قال الشاعر:

وذکرک للمشتاق خیر شراب * وکل شراب دونہ کسراب

البتہ جیسا ہمارے زمانے میں قیودات اورشنائع کے ساتھ مروّج ہے اس طرح بے شک بدعت ہے۔ (امداد الفتاویٰ،ج:۵،ص:۲۴۹)

سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: میلاد منانا کسی کے لیے بھی جائز نہیں؛ اِس لیے کہ یہ بدعت ہے اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم، صحابہ اور تابعین سے ثابت نہیں۔ (فتاویٰ عبداللہ بن باز،ج:۱،ص:۲۶)

ایک اور جگہ شیخ رحمة الله عليه رقم طراز ہیں: عید منانا خواہ حضور صلى الله عليه وسلم کی پیدائش پر ہو یا کسی اور کی پیدائش پر ناجائز ہے؛ کیوں کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے اِس طریقے پر عید نہیں منائی اورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ عید منائی ہے، سلف امت کا بھی یہی فیصلہ رہا ہے اور خیراُن کی اتباع میں مضمر ہے۔

مولانا بدرعالم میرٹھی رحمة اللہ علیہ رقم طراز ہیں: مروّجہ میلاد حرام ہے؛ اِس لیے کہ یہ میلاد معاصی ظاہرہ وباطنہ پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں محرمات کا ارتکاب ہوتاہے موضوع روایات پڑھی جاتی ہیں، جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی ہے اور سب سے بڑی غلطی یہ کہ آں حضرت صلى الله عليه وسلم کو عالم الغیب مانا جاتا ہے اور یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ آں حضرت صلى الله عليه وسلم اس محفل میلاد میں تشریف لاتے ہیں ان تمام امور کی وجہ سے اس محفل کا انعقاد حرام ہے۔

تمام علما، ائمہ، محدثین، مفسرین اور مفتیان کا اس پر اتفاق ہے کہ عید میلاد النبی منانا ناجائز اور بدعت ہے۔

عید میلاد النبی کے منانے والوں پر اگر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تواکثر ایسے افراد ملیں گے جو دین سے ناواقف اور احکام شریعت سے نا آشنا ہوتے ہیں؛ لیکن جوں جوں ربیع الاوّل کا مہینہ قریب آتا ہے ان افراد میں جوش وخروش پیداہوتا جاتا ہے اور یہ عیدمیلاد النبی منانے کی تیاری شروع کردیتے ہیں۔ اس کو اپنے تمام گناہوں کا کفارہ گردانتے ہیں۔ ان مجالس میں جن منکرات کاارتکاب ہوتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائیں۔

یہ تھی عیدمیلاد النبی کی حقیقت اور مروّجہ میلاد کی مجالس کے منکرات کہ اس بے دینی کو دین کہا جارہا ہے اور اسے اسلام اور مسلمانوں کے نام سے پیش کیا جارہا ہے اور سادہ لوح عوام بھی پوچھے بغیر اس کو کرنے میں مصروف ہیں اور ان مجالس کے لیے زرکثیر صرف کررہے ہیں۔
خدارا! خواب غفلت سے بیدار ہوجائیے اوران ظاہری دل آویزیوں پر نہ جائیے، ان خرافات کی ظاہری چمک دمک دیکھ کر دھوکے میں نہ آئیے۔ ان بدبختانہ عقائد سے اپنا دامن چھڑائیے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہونے کا عہد کیجئے، پھر آپ یہ کہہ سکیں گے کہ ہم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں اور فلاح وکامیابی ہمارا مقدر ہے۔

اگر اس کے برعکس عمل کیاتو یاد رکھئے کہ زندگی ایک کتاب کی مانند ہے، ہر روز اس کتاب کا ایک صفحہ پلٹتا ہے اور پورے دن کی کارروائی اس پر محفوظ ہوجاتی ہے جب زندگی کی اس کتاب کے صفحات ختم ہوں گے تو آپ کے اعمال کی یہ کتاب بند ہوجائے گی اور آپ کو قبر میں اتارا جائے گا جہاں بیٹا ہوگا نہ بیوی، بھائی نہ بہن، والد نہ والدہ۔ وہاں آپ اکیلے ہوں گے جہاں آپ کا خاندان آپ کے کام نہیںآ ئے گا، آپ کے ساتھی کام نہ آئیں گے، اگر وہاں کوئی چیز فائدہ دے سکتی ہے تو وہ آپ کے نیک اعمال ہوں گے۔ اس سے ایک قدم آگے میدان حشر میںآ پ کو جواب دہ ہونا ہوگا۔ یہی کتاب اگر آپ کو دائیں ہاتھ میں ملی تو کامیاب خدانخواستہ اگر یہ کتاب بائیں ہاتھ میں ملی تو خسارہ ہی خسارہ ۔

ایسے وقت کے آنے سے پہلے اپنے کیے پر نادم ہوکر توبہ کیجئے اور آیندہ کے لیے حق کو حق کہیے اورحق کا ساتھ دیجئے۔ وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَنْصُرُہ. (۴۰/۱۷)

***
عید میلاد النبی کی شرعی حیثیت  ء  عید میلاد النبی پر مضمون  ء  عید میلاد النبی پر تقریر   ء  جشن عید میلاد النبی مبارک ہو   ء  عید میلاد النبی کی حقیقت   ء  جشن عید میلادالنبی  ء  عید میلاد النبی اشعار    جشن عید میلاد النبی   
احمد رضا خان بریلوی آپ صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش ولادت ۹ ربیع الاول کو ہوئی

بریلویوں کے ایک بڑے عالم کا فتوی . 
آپ صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش ولادت ۹ ربیع الاول کو ہوئی اور وفات ۱۲ ربیع الاول کو ہوئی 

Berlvi Alim ka Fatwa Milad un nabi 9 Rabi ul awal ko hai 



=
Eid Milad un Nabi kiya hai ? - 12 Rabi ul Awal Special Clip

عید میلاد کیا ہے . 
Molana makki al hijazi in makkah sawal o jawab




کیا ۱۲ ربیع الاول عید کا دن ہے . 
 kiya 12 rabi ul awal Eid ka Dn Hai


↓↓  Share's Button say Whatsapp , Facebook , Twitter , Google+ Par share Zaror Karen
Jazak Allah Khair