Showing posts with label Masail مسائل. Show all posts
Showing posts with label Masail مسائل. Show all posts

مغربی ماحول اور آزادی نسواں کی آواز

 

azadi e niswan in urdu Aurat ki azadi مغربی ماحول اور آزادی نسواں کی آواز
آپ کس کو پسند کرتے ہیں ؟
 یورپ میں فیملی کا کوئی تصور نہیں ہے
یوں کہ لیں کے بہن بھائی ماں باپ دادا دادی کی کوئی تمیز نہیں ہے

جنسی ضرورت کے لئے شادی کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی بلکہ جانوروں کی طرح وہاں رشتے گڈ مڈ ہیں ...

وہاں عورت کی کوئی عزت نہیں ہے کوئی شوہر نہیں ہے جو کہے بیگم تم گھر رہو میں ہر چیز تمہں گھر لا کے دونگا.

وہاں کوئی بیٹا نہیں ہے جو کہے ماں تم گھر سے نہ نکلو مجھے حکم دیں.

وہاں کوئی بیٹی نہیں ہے جو کہے ماں تم تھک گئی ہو آرام کرو میں کام کر دونگی

وہاں عورت گھر کے کام خود کرتی ہے...
اور روزی کمانے کے لئے دفتروں میں دھکے بھی خود کھاتی ہے.

کل تک آزادی کے نعرے لگانے والی آج سکون کی ایک سانس کو ترس رہی ہیں.

کوئی مرد انہیں نہیں اپناتا نا ان کی ذمہ داری اٹھاتا ہے.

وہ صرف iستعمال کی جاتی ہیں بس...

مسلمان عورتو !

تم کسی ملکہ سے کم نہیں ہو باپ کے سایہ میں لاڈوں سے پلی ہو

بھائی تمہارآ محافظ ہے

شوہر تمہارا زندگی بھر کا ساتھی ہے.

تم کیا سمجھتی ہو گھر میں بیٹھ کر ہانڈی روٹی کر کے تم ملازمہ ہو؟

نہیں نہیں یہ بھول ہے تمہاری یہ ہانڈی روٹی کا سامان جو تمہارا شوہر لے کر اتا ہے یہ گرمیوں کی دھوپ اور گرم لو وجود پگلنے والے سورج سے لڑ کر اتا ہے

تمہیں تو مغربی عورتوں سے عبرت حاصل کرنی چاہیے.

لیکن تم کو آزادی نسواں کے سنہرے خواب دکھا کر تمہارے وقار کو ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے .
اس سازش کو نہیں سمجھو گی تو تم بھی متاع کوچہ و بازار بن جاؤ گی.

مسجد سے افضل امام اور مؤذن ہوتا ہے

 

مسجد سے افضل امام اور مؤذن ہوتا ہے

masjid tameer karne ki fazeelat, masjid banane ki fazilat,ممبران مسجد کمیٹی  اور متولی  , masjid ki tameer ka sawab  masjid ki tameer ki fazilat  فتح مکہ کے موقع پر کعبہ کی چھت پر 

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے چڑھایا اور فرمایا کہ اے کعبہ تیری حرمت اورعزت اپنی جگہلیکن اس سے کئ زیادہ بڑھ کرایک انسان کی جان، مال، عزت وآبروہے. اگر کوئ اس کو نقصان پہنچائے گاتو وہ کعبہ کوڈھانے سے بھی زیادہ بڑھ کرہے.  

جو قوم اپنے علماء کا خون چوسے وه کیسے رحمت خداوندی کی مستحق ہوسکتی ہے

ایک مسجد میں جانا ہوا ماشاءاللہ ہرطرف تعمیری کام چل رہاتها 
کہیں سنگ مرمر بچھایا جارہا تها 
کہیں ٹائلیں لگائ جارہی تهیں
کہیں بجلی فٹنگ ،کہیں ریپیرنگ وغیره وغیره! 
معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ تقریبا 20 لاکھ روپے لگ چکے ہیں اور اندازه کے مطابق اتنے ہی اور لگ جائیں گے

تعجب اس کام پر نہیں ہو رہا تها 
بلکہ تعجب کی اصل وجہ یہ تهی 
کہ مسجد بنی بنائی پہلے ہی سے موجود تهی ، بس نمازیوں کی سہولت اور اس سے بهی زیاده
خوش نمائی کےجزبہ سے یہ کام کیا جا رہا تها،

« اگلے ہی لمحہ 

امام مسجد سے ملاقات ہوئی میں نے ان سے ان کی تنخواه معلوم کیاس امید پر کہ ایسی جگہ 30 ہزار سےکم تنخواه کیا ہوگی ،جس مسجد میں 50 لاکھ روپیہ خوشنمائی کےلئے لگایا جاسکتا ہو، تووہاں اتنی تنخواه کوئی مشکل نہیںلیکن

میری حیرت کی انتہا نہ رہی اس وقت جب امام صاحب نے جواب میں 12 ہزار تنخواه بتلائی

اور ستم بالائے ستم
وه بهی وقت پر نہیں ملتی

میں اس سوچ میں پڑگیا 
کہ
سن2018 میں اتنے کا تو متولی کےگهر کا دودھ ہی آجاتاہوگا
اور 
ایک امام کی ضروریات 
گهی
تیل
آٹا
سبزی
گوشت
بچوں کی اسکول فیس 
چائے ناشتہ
دوا وغیره
مہمان وغیره
سفر وغیره کے اخراجات 
نئے کپڑے
سردی گرمی کی ضروریات
وغیره وغیره
ان سب کا موں کےلئے 1200 ہزار
اناللہ وانا الیہ راجعون

انتہائی افسوس کے ساتھ سارے جزبات کو دل میں محسوس کر کے واپس ہوا.!

پهر اپنے ایک اہم مشفق عالم دین مفتی صاحب کے سامنے اس کا تذکره کیا
سنکر ان کی آنکهوں میں آنسو آگئے
اور
فرمانے لگے
کہ
" آج مسلمانوں پر جوحالات آرہے ہیں یہ علماء کے خون چوسنےاور  جہاد قتال فی سبل اللہ کی ہی وجہ سے آرہےہیں "

حضور علیہ السلام نے حجر اسود کوخطاب کرکے ارشاد فرمایا تھا
کہ تجھ سے زیاده عزت والا ایک مسلمان ہے ،تو جب ایک مسلمان حجر اسود سے افضل ہے تو عالم دین یقینا بدرجہا افضل ہے
لہذا مسجد سے افضل مسجد کا امام ہے

اب اگر ممبران مسجد کمیٹی 
اور متولی حضرات 
، ائمہ مساجد کو کمتر اور مسجدوں کو ان سے افضل سمجھ رہے ہیں تو ان کو جاہل اجہل ناہنجار نابکار بےوقوف بےدین متکبر نالائق کہدیاجائے تو کوئی غلط بات نہیں.!


میرا بارہا کا تجربہ ہے
کہ
جب بهی مسجد کمیٹی کے پاس کچھ بیلنس بڑه جاتاہے، تو ان کی سوچ و فکر......
بس یہی ہوتی ہے کہ کس طرح اس پیسے کو پیشاب خانہ، بیت الخلاء 
اینٹ گارا مٹی میں کس طرح لگا دیاجائے، چاہے ان کو کوئی چیز بنی بنائی توڑ کر ہی کیوں نہ بنانی پڑے

مگر ان کے ذہن میں یہ نہیں آتا
کہ ، امام یا موذن یا مدرس کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیاجائے
یا ان کی کسی ضرورت پر خرچ کردیاجائے یا مکتب میں اساتذه کا اضافہ کردیائے

حرف غلط کی طرح بهی دماغ میں ایسی باتیں نہیں آتیں

پاک و ہند کی مساجد کے ہزاروں ائمہ کرایہ کے مکانوں میں یا مسجد کے ایک حجره میں رہ کر زندگی گذارکر دنیاسے رخصت ہوگئے
مگر ان فرعون صفت ممبران مساجدکو ذرا بهی رحم نہیں آیا

اور خوف خدا سے عاری ہوکر 
امت کے لاکھوں کڑوڑوں روپے غیرضروری تعمیرات میں لگادیئے گئے.

خوف خدا سےعاری ایسے ممبران مساجد کو دهیان رکهنا چاہیئے کہ حساب و کتاب کا دن اور اعمال تولنے والی ترازو ان کے لئے بهی ہے..
اگر تحریر اچھی لگے تو ضرور شیئر کریں تاکہ کسی کو تو اس کی ھدایت ملے..آمین
منقول 
www.raahehaq313.blogspot.com

27 رجب کو عبادت کا کیا حکم ہے

 
27 رجب کو عبادت کا حکم ہے  شب معراج  حقیقت  , 27 rajab ki ibadat  in quran Hadees

27 رجب کو عبادت کا کیا حکم ہے

میرا سوال ۲۷ رجب کے متعلق ہے ، ۲۷ رجب کو کسی عبادت کا حکم ہے اور ہے تو پھر آج کل کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب بدعات ہیں ، کیا یہ حقیقت ہے اس کے متعلق تفصیل سے بتادیجیےجزاک اللہ خیرا

جواب:
ستائیس رجب کی شب کے بارے میںعوام میں یہ مشہور ہوگیا ہے کہ یہ شب معراج ہے ،سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ۲۷ رجب کے بارے میں یقینی طور پر نہیں کہاجاسکتا کہ یہ وہی رات ہے
جس میں نبی کریم ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے ، کیونکہ اس بارے میں مختلف روایتیں ہیں، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ربیع الاول کے مہینے میں تشریف لے گئے تھے ، بعض روایتوں میں رجب کا اور بعض روایتوں میں کوئی اور مہینہ بیان کیا گیا ہے ، اس لیے پورے یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ کونسی رات صحیح معنی میں معراج کی رات تھی ، جس میں آنحضرت ﷺ معراج پر تشریف لے گئے ،اس سے آپ خود اندازہ کرلیںکہ اگر شب معراج بھی کوئی مخصوص رات ہوتی اور اس کے بارے میں کوئی خاص احکام ہوتے تو اس کی تاریخ اور مہینہ محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جاتا، لیکن چونکہ شب معراج کی تاریخ محفوظ نہیں تو اب یقینی طور سے ۲۷ رب کو شب معراج قرار دینا درست نہیں۔
پھر دوسری بات یہ ہے کہ یہ واقعہ معراج سن ۵ نبوی میں پیش آیا ، یعنی حضور ﷺ کے نبی بننے کے پانچویں سال یہ شب معراج پیش آئی ، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد ۱۸ سال تک آپ ﷺ دنیا میں تشریف فرمارہے ،لیکن اس دوران یہ کہیں ثابت نہیں کہ آپ ﷺ نے شب معراج کے بارے میں کوئی خاص حکم دیا ہو ، یا اس کو منانے کا اہتمام فرمایا ہو ، یا اس کے بارے میںیہ فرمایا ہو کہ اس رات میں شب قدر کی طرح جاگنا زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے ، نہ توآپ ﷺ کا ایسا کوئی ارشاد ثابت ہے ، اور نہ آپ کے زمانے میں اس رات میں جاگنے کا اہتمام ثابت ہے ، نہ خود حضور ﷺ جاگے اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی تاکید فرمائی ، اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے طور پر اس کا اہتمام فرمایا۔
پھر سرکار دو عالم ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد سو سال تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دنیا میں موجود رہے ،اس پوری صدی میں کوئی ایک واقعہ ایسا ثابت نہیں ہے جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ۲۷ رجب کو خاص اہتمام کرکے منایا ہو ، لہذا جو چیز حضور اقدس ﷺ نے نہیں کی ، اور جوآپ کے صحابہ کرام نے نہیںکی ، اس کو دین کا حصہ قرار دینا ، یا اس کو سنت قرار دینا ، یا اس کے ساتھ سنت جیسا معاملہ کرنا بدعت ہے اوراس سے اجتناب کرنا چاہیے
========

سوال:

۲۷​ رجب کی شب یعنی شب معراج کو نفلی عبادت کرنا اور اس دن روزہ رکھنا بدعت ہے؟

جواب:
بسم الله الرحمن الرحيم

۲۷؍ رجب کا شب معراج کا ہونا ہی محدثین اور مؤرخین کے درمیان مختلف فیہ ہے، نیز اس رات میں خصوصیت کے ساتھ عبادت کرنے کی صراحت کتب حدیث میں نہیں ملتی اور جو بھی روایت خاص اس شب میں عبادت کرنے کی ملتی ہے وہ لائق استدلال نہیں،
 البتہ اگر کوئی عام راتوں کی طرح اس شب میں بھی عبادت کرے تو مضائقہ نہیں، اسی طرح اس رات کے اگلے دن روزہ رکھنے کے سلسلے میں بھی کوئی صحیح روایت نہیں ملتی اور عوام میں جو یہ بات مشہور ہے کہ اس دن کا روزہ ہزار روزوں کے برابر ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے: 
''وقد وردت فیہ أحادیث لا تخلو عن طعن وسقوط کما بسطہ ابن حجر في تبیین العجب مما ورد في فضل رجب وما اشتہر في بلاد الہند وغیرہ أن الصیام تلک اللیلۃ یعدل ألف صوم فلا أصل لہ (الآثار المرفوعۃ)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،

دارالعلوم دیوبند

 Urdu Articles اردو مضامین تحریرں , سوال و جواب - 

Home » Masail مسائل »



  facebook.com/RaahehaQ313

Share's Button say WhatsApp , Facebook , Twitter , Google+ Par Share Karen

قرآن حدیث کی روشنی میں شرعی اسلامی لباس اور تشبہ کا المیہ

 
قرآن حدیث کی روشنی میں شرعی لباس شرعی اسلامی لباس اور تشبہ کا المیہ - 
لباس کے شرعی وطبعی تقاضے 
islami libas shari libas or kufr ke seth mushabihat ka masla
قرآن حدیث کی روشنی میں شرعی لباس شرعی اسلامی لباس islamic libas in urdu libas ki ahmiyat  islam aur libas  libas ke adab in urdu  hadees about black dress

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس اور آپ کی وضع قطع پر قومیت اور وطنیت کے بجائے اتباعِ انبیاء کا غلبہ تھا، ذخیرہ حدیث میں ”کتاب اللباس“ اور ”شمائل نبوی“ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام  صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس اور عادی طور و طریقوں میں بھی انبیائے کرام علیہم السلام کی اتباع اور وحی و الہام کا عنصر شامل تھا، عرب میں قدیم زمانے سے چادر اور تہہ بند کا دستور چلا آرہا تھا، جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کالباس تھا،جیساکہ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے آذربائجان کے عربوں کو حلہ(ازار اور چادر)پہننے کی یہ کہہ کر ترغیب دی کہ وہ تمہارے باپ اسماعیل علیہ السلام کا لباس ہے۔

أما بعد، فاتزروا وارتدوا وانتعلوا وألقوا الخفاف والسراویلات وعلیکم بلباس أبیکم إسماعیل وإیاکم والتنعم وزی العجم (فتح الباری لابن حجر۱۰/۲۸۶، باب لبس الحریر،ط؛ دارالمعرفہ، بیروت)

نیز اللہ کے نبی طبعی آداب میں بھی وحی اور الہام سے خالی نہیں ہوتے؛بلکہ اللہ کی وحی اور اس کے حکم سے قوم کو عقائد، اخلاق، اعمال، عبادات، اور معاملات سب کے متعلق ہدایت جاری کرتے ہیں؛ یہاں تک کہ بول وبراز (پیشاب، پاخانہ) کے آداب بھی ان کو سکھاتے ہیں، یہ ناممکن ہے کہ نبی عام لوگوں کے رسم و رواج کی پیروی پر اکتفاء کریں۔

حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے لباس کے متعلق بھی احکام جاری فرمائے یہاں تک کہ مسلمانوں اور کافروں کے لباس میں امتیاز ہوگیا، آحادیث ِ نبویہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کی مشابہت سے ممانعت فرمائی ہے اور ان کی مخالفت کا حکم دیا ہے، اور جو لباس دشمنانِ خدا سے مشابہت کا سبب بنے ایسے لباس کو ممنوع قرار دیا ہے۔

جیساکہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:

إن فرق ما بیننا وبین المشرکین العمائم علی القلانس.(سنن ترمذی۱/۴۴۱،باب العمائم علی القلانس،ط؛ رحمانیہ)

ترجمہ: ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق یہ ہے کہ ہم عمامہ ٹوپیوں پر باندھتے ہیں۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے:

 قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم.... من تشبہ بقوم فھو منھم. (المسند الجامع، (الجھاد)، ۱۰/۷۱۶،رقم الحدیث ۸۱۲۷، دار الجیل، بیروت)

ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے؛ جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ شخص اسی قوم میں شمار ہوگا۔

ایک اور حدیث ِ مبارکہ میں ہے:

ان ھذہ من ثیاب الکفار فلا تلبسھا (مسلم،۳/۱۶۴۸، باب النھی عن لبس الرجل الثوب المعصفر،ط؛ داراحیاء التراث)

یعنی یہ کافروں کے(جیسے)کپڑے ہیں ، پس ان کو نہ پہنو!

ان احادیث سے ثابت ہوگیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کالباس اور آپ کی وضع قطع یہ سب وحی الٰہی کے تابع تھی۔

نیزیہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین سے لے کر آسمان تک خواہ حیوانات ہوں یا نباتات یا جمادات، سب کو ایک ہی مادہ سے پیدا کیا ہے؛ مگر اس کے باوجود ہر چیز کی صورت اور شکل مختلف بنائی؛ تاکہ ان میں امتیاز قائم رہے؛کیوں کہ امتیاز کا ذریعہ یہی ظاہری شکل و صورت ہے اور جس طرح دنیاکی قومیں ایک دوسرے سے معنوی خصائص اور باطنی امتیازات کے ذریعہ جدا ہیں، اسی طرح ہر قوم کا تمدن، تہذیب اور لباس بھی دوسری قوم سے ممتاز کرتا ہے، عبادات کی انھیں خاص شکلوں کی وجہ سے ایک مسلم ، موحد، مشرک اور بت پرست سے جدا ہے، اور ایک عیسائی ایک پارسی سے جدا ہے، غرض قوموں میں امتیاز کا ذریعہ یہی قومی خصوصیات ہیں؛ جب تک ان مخصوص شکلوں اور ہیئتوں کی حفاظت نہ کی جائے تو قوموں کا امتیاز باقی نہیں رہتا۔

دینِ اسلام ایک کامل اور مکمل مذہب ہے، تمام ملتوں اور شریعتوں کا ناسخ بن کر آیا ہے، وہ اپنے پیروکاروں کو اس کی اجازت نہیں دیتاکہ وہ ناقص اورمنسوخ ملتوں کے پیروکاروں کی مشابہت اختیار کریں، جس طرح اسلام معتقدات اور عبادات میں مستقل ہے کسی کا تابع نہیں ہے، اسی طرح اسلام اپنے معاشرتی آداب اور عادات میں بھی مستقل ہے، کسی دوسرے کا تابع اور مقلد نہیں ہے۔

حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ تشبہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے یوں رقم طراز ہیں:

”تشبہ کی تعریف سنیے؛ تاکہ آپ تشبہ کی قباحتوں اور مضرتوں کا اندازہ لگاسکیں“!

۱- اپنی حقیقت ، اپنی صورت اور وجود کو چھوڑ کر دوسری قوم کی حقیقت، اس کی صورت اور اس کے وجود میں مدغم ہونے کا نام تشبہ ہے۔

۲- یا اپنی ہستی کو دوسرے کی ہستی میں فنا کردینے کا نام تشبہ ہے۔

۳- اپنی ہیئت اور وضع کو تبدیل کرکے دوسری قوم کی وضع اور ہیئت اختیار کرلینے کا نام تشبہ ہے۔

۴- اپنی شانِ امتیازی کو چھوڑ کر دوسری قوم کی شانِ امتیازی کو اختیار کرلینے کا نام تشبہ ہے۔

۵- اپنی اور اپنوں کی صورت اور سیرت کو چھوڑ کر غیروں اور پرایوں کی صورت اور سیرت کو اپنالینے کا نام تشبہ ہے۔

اس لیے شریعت حکم دیتی ہے کہ مسلمان قوم دوسری قوموں سے ظاہری طور پر ممتاز اور جدا ہونی چاہیے اور وضع و قطع میں بھی۔(سیرتِ المصطفیٰ۳/۳۰۶، تشبہ کی تعریف، ط؛ مکتبة الحسن)

شریعت میں تشبہ (دوسروں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے)کی ممانعت کسی تعصب پر مبنی نہیں ہے؛ بلکہ غیرت ، حمیت اور اسلامی خصوصیات وامتیازات کے تحفظ کے لیے ہے؛ اس لیے کہ کوئی قوم اس وقت تک قوم نہیں کہلاسکتی؛ جب تک اس کی خصوصیات اور امتیازات پائیدار اورمستقل نہ ہوں۔

نیز یہود ونصاریٰ اور کافروں کو دوست بنانے یا ان کی مشابہت اختیار کرنے سے مسلمانوں کے دل بھی ان کی طرح سخت ہوجاتے ہیں اور احکامِ شریعت کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

واضح رہے کہ غیروں کی وضع قطع اور ان جیسا لباس اختیار کرنے میں بہت سے مفاسد ہیں:

(۱) پہلا نتیجہ تو یہ ہوگا کہ مسلمان اور کافر میں ظاہری کوئی امتیاز باقی نہیں رہے گا، حقیقت یہ ہے کہ تشبہ بالکفار اہلِ کفر میں دلچسپی اور ان کی قربت کا زینہ ہے۔

(۲) غیروں کی مشابہت اختیار کرنا غیرت کے بھی خلاف ہے۔

(۳) کافروں کا لباس اختیار کرنا درحقیقت ان کی سیادت اور برتری کو تسلیم کرنا ہے۔

(۴) اور یہ اپنی کمتری اور غلامی کا اقرار اور اعلان ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا؛کیوں کہ اسلام غالب ہوتا ہے، تابع اور مغلوب نہیں ہوتا۔

نیز اس تشبہ کا نتیجہ یہ ہوگاکہ رفتہ رفتہ کافروں سے مشابہت کا دل میں میلان اور داعیہ پیدا ہوگا جو صراحةً ممنوع ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَا تَرْکَنُوا إِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللہِ مِنْ أَوْلِیَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ﴾ (ہود:۱۱۳)

ترجمہ: اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں، پھر تم کو لگے گی آگ اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا مددگار، پھر کہیں مدد نہ پاوگے۔ (ترجمہ از شیخ الہند)

باقی آج کل ہر خاص و عام یہ دعوی کرتا رہتا ہے کہ پینٹ شرٹ مسلم اور غیر مسلم دونوں کاہی لباس ہے ، اب تو ہر جگہ مسلمان بھی پہنتے ہیں، تو عرض ہے کہ یہ بات ہمیں تسلیم نہیں؛بلکہ شرٹ اور پتلون غیر مسلموں کا ہی لباس تھا ، پھر جب اسلامی سلطنتوں کے فرمانروا اقتدار کے نشہ میں عیش پرستی کا شکار بن گئے تو نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی حکومتیں زوال پذیر ہوگئیں اور مسلمانوں سے شکست خوردہ قومیں برسرِ اقتدار آگئیں، چند روز تک مسلمانوں کو اپنی شکست اور ذلت کا احساس رہا؛ مگر پھر رفتہ رفتہ مسلمانوں نے ان کے معاشرے ، تمدن اور وضع قطع کو قبول کرنا شروع کردیا ،یہاں تک کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کی اسلامی ممالک کے باشندے اپنے من و تن میں غیروں کے رنگ میں ایسے رنگے گئے کہ مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق ہی نہ رہا۔

اگریہ بات تسلیم کرلی جائے کہ موجودہ زمانے میں پینٹ شرٹ کے کثرتِ استعمال اور معاشرے میں اس کے عام ہونے کے سبب یہ کسی غیر قوم کا شعار تو نہیں رہا؛ اس لیے اس میں غیر اقوام کے شعار ہونے کی حد تک توتشبہ باقی نہیں رہا؛ مگر اس کی کوئی تاویل ممکن نہیں ہے کہ یہ فساق و فجاراور غیر صلحاء کا لباس ہے ، اور جس طرح غیر مسلموں سے مشابہت ممنوع ہے اسی طرح فساق و فجار اور غیر صلحاء سے مشابہت بھی ممنوع ہے۔

اور مشابہت کی شناعت میں زمان اور مکان کے لحاظ سے سختی یا نرمی کی بات ممکن ہے، جس علاقہ میں جتنی زیادہ مشابہت متصور ہوگی، اسی حساب سے کراہت تحریمی یا تنزیہی ہونے کا حکم لگے گا۔

اسلامی ممالک کے لیے تو علی الاطلاق یہ حکم لگانا بھی درست نہیں ہے کہ کثرتِ استعمال کی وجہ سے مشابہت بالکل ختم ہوگئی ہے؛ اس لیے کہ اگرچہ اکثر شہری علاقوں اور بعض دیہاتی علاقوں میں اس کو بطورِ لباس استعمال کیا جاتا ہے؛ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سارے علاقے بالخصوص قبائلی علاقے اور گاؤں دیہاتوں میں اب بھی اس کو کفار یا کم از کم فساق و فجار اور غیر صلحاء کا لباس تصور کیا جاتا ہے اور اپنے قومی و علاقائی لباس کو اس لباس(پینٹ شرٹ)پر ترجیح دی جاتی ہے، لہٰذا جس علاقے میں جس قدر مشابہت متصور ہوگی، اسی حساب سے کراہت کا حکم لاگو ہوگا۔

نیز یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ یہ تمام تفاوت اور فرقِ مراتب علم اور اعتقاد کے اعتبار سے ہے، ورنہ عملا ہر درجہ کے تشبہ کو ممنوع العمل قرار دینا ہی ایک مسلمان کے لیے احتیاط اور پرہیزگاری کا باعث ہوسکتا ہے؛ کیوں کہ تمدن اور معاشرت کا ایک طویل سلسلہ ہے اور اس سلسلہ کی ایک کڑی دوسری کو کھینچتی ہے، پس کسی تمدن کی کسی چیز کو اختیار کرنا گویا دوسری چیزکے لیے راستہ صاف کردینا ہے تو اس طرح انجام کار پورے ہی تمدن کا حلقہ اپنی گردن میں ڈال لینا ہے؛ اس لیے سدِ ذرائع کے طورپر تشبہ کے تمام مراتب سے خواہ حرام ہو ں یا مکروہ تحریمی ہوں یا مکروہ تنزیہی، عمل کے دائرہ میں یکساں ہی ممانعت کی جائے گی۔


aj-kal-k-burqe parda burqah hijab hijab fahsion - aurat ka parda - hiba fashion or islam - islamic hijab in urdu . parde wali aurat. islamic  parda . women hijab

جماعت اسلامی کا پروگرام : حجاب گالا . اور اسلامی نقط نظر


--------------------------------------------------

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ4، جلد:101 ‏، رجب 1438 ہجری مطابق اپریل 2017ء
===========
سوال :
عورتوں اور مردوں کے لیئے شرعی لباس کیا ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ لباس کے معاملہ میں شریعت مطہرہ نے مرد وعورت کو کسی خاص وضع اور تراش کا پابند نہیں کیا،البتہ کچھ حدود وقیود رکھیں ہیں جن سے تجاوز کی اجازت نہیں،
 ان حدود میں رہتے ہوئے کسی بھی وضع کو اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ 
جن کا خلاصہ یہ ہے :
 ۱) لباس اتنا چھوٹا ،باریک یا چست نہ ہو کہ جسم کے جن اعضاء کا چھپانا واجب ہے وہ یا ان کی ساخت ظاہر ہوجائے۔
 ۲) لباس میں مرد عورت کی یا عورت مرد کی مشابہت اختیار نہ کریں۔
 ۳) کفار وفساق کی نقالی اور مشابہت نہ ہو۔
 ۴) مرد شلوار،پائجامہ یا تہبند وغیرہ اتنا نیچے نہ پہنیں کہ ٹخنے یا ٹخنوں کا کچھ حصہ چھپ جائے اور نہ ہی خواتین شلوار وغیرہ اتنی اونچی پہنیں کہ ان کے ٹخنے ظاہر ھوجائیں۔
 ۵) لباس میں سادگی ہو، تصنع، بناوٹ یا نمائش مقصود نہ ہو۔
 ۶) مالدار شخص نہ تو فاخرانہ لباس پہنے اور نہ ہی ایسا لباس پہنے کہ اس سے مفلسی جھلکتی ہو۔
۷) اپنی مالی استطاعت کے مطابق ہی لباس کا اہتمام ہونا چاہیے۔
 ۸) مرد کے لیئے خالص ریشم پہننا حرام ہے۔
 ۹) مرد کے لیئے خالص سرخ رنگ مکروہ ہے ،
 البتہ سرخ کے ساتھ کسی اور رنگ کی بھی آمیزش ہو تو جاہز ہے۔ 
۱۰) لباس صاف ستھرا ہو، نیز مردوں کے لیئے سفید رنگ پسندیدہ ہے ۔ واللہ اعلم

=============

 Share's Button say WhatsApp , Facebook , Twitter , Google+ Par Share Zaror Karen

کارٹون اور آپ کے بچے - والدین ایک نظر ادھر بھی کریں !!

 
#کارٹون اور آپ کے بچے
والدین ایک نظر ادھر بھی کریں ! 
kids cartoon urdu bachuon ki tarbiyat
کارٹون اور آپ کے بچے islamic cartoon kids cartoon urdu bachuon ki tarbiyat kesy karen
۔۔۔
اگر آپ اپنے بچوں کو کاٹون_نیٹ_ورک #موبائل پوگو یا وارنر_برادرز اور ڈزنی جیسے چینلز مہیا کر کے اس بات پے مطمئن ہیں کہ بچے تفریحی_سرگرمی میں مگن ہیں اور گھر کی چیزیں توڑنے اور تنگ کرنے سے باز ہیں تو یقین مانیں _آپ_غلط_ہیں ۔۔۔۔۔ 
آپ دراصل اپنے بچوں کو ایک ایسی سرگرمی میں مبتلا کررہے ہیں جو ناصرف ان کی زندگی یا زندگی کے کچھ پہلووں کو تباہ یا ڈسٹرب کررہی ہے بلکہ انہیں ایسے روبوٹس میں بدل رہی ہے جو جنہیں بالواسطہ طور پے اس سرگرمی کے بانی کنٹرول کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔

کیا آپ نے کھبی یہ جاننے کی کوشش کی کہ آپ کا بچہ کارٹونز سے کیا سیکھ رہا ہے؟
کیا آپ نے کھبی وہ کارٹونز خود بھی دیکھے جنہیں آپ بچوں کو دیکھنے کی کھلی چھوٹ دیتے ہیں؟

اس پوسٹ میں کارٹونز کے بچوں پر اثرات کا ایک سرسری جائزہ لیتے ہیں ۔۔!

1-حقیقت سے فرار اور فینٹیسی
ایک لمبے عرصے تک کارٹونز دیکھنا بچوں کو حقیقی دنیا سے دور اور ان کے ذہن میں انکی من پسند ایک خیالی دنیا بنانے اور اس میں کھوۓ رہنے رہنےکا سبب بنتا ہے

فینٹیسیز میں مبتلا بچے تعلیم اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں پیچھے۔ والدین اور رشتہ داروں سے کم تعلق۔ تنہائی پسند اور اعصابی تناو کے شکار کے ساتھ نفسیاتی طور پر زیادہ حساس اور کمزور دل ہوجاتے ہیں۔

2-جسمانی مسائل
زیادہ دیر تک کارٹونز دیکھنے والے بچوں میں چھوٹی عمر سے ہی نظر کی کمزوری،سردرد،نیند کی کمی جیسے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں جن میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

3- بری عادات
کارٹونز کی اکثریت جیسے ڈریگن بال زی، پوکی مان، وغیرہ بدترین ماردھاڑ ،قتل و غارت خونریزی اورتشدد پر مبنی ہے ایسے میں بچوں میں جھگڑالو پن پیدا ہوجانا معمول کی بات ہے۔

ایسے ہی کئی کارٹون کردار چوری،دھوکہ دھی، بڑوں سے بدتمیزی اور دیگر بہت سی منفی سرگرمیوں میں مبتلا نظر آتے ہیں جن کا اثر بچے بہت جلد قبول کرتے ہیں۔

4-غلط نظریات کی ترویج
کارٹونز کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا میں جس کام کوانتہائی برا بھی کیوں نہ مانا جاتا ہو کارٹونز میں اسے پرکشش اور اسے کرنے والوں کو ہیرو دکھایا جاسکتا ہے جیسے "بلی اینڈ مینڈی" اور "ٹین ٹائٹنز" جیسے کارٹونز میں کالے جادو کو اور پوکی مون اور ڈیجی مون جیسے کارٹونز میں جانوروں پر تشدد اور انہیں آپس میں لڑوانے کو۔

5- بے راہروی
آج کل کے کارٹونز میں جنسی بے راہروی کے بہتات ہے۔ ہردوسرے کارٹون کی کہانی میں کوئی لو سٹوری شامل ہوتی ہے۔ بڑی تعداد میں کارٹونز کی فیمیل ہیرو مثلا ونڈر وومن اور شی را اور ڈیفنی بلیک کو مختصر لباس زیب تن کیے دکھایا جاتا ہے ایسے ہی کئی کارٹونز میں بوس وکنار کے بولڈ مناظر، ذومعنی فقرے وغیرہ بچوں پر بدترین اثرات مرتب کرتے ہیں۔

"سپونج باب" نامی مشہور ترین کارٹونز میں سٹوری کی لوکیشن "بکینی اٹال" نامی جزیرے کے قریب سمندر کی تہہ ہوتی ہے جسے "بکینی باٹم"کہا جاتا ہے اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ دنیا میں ہزاروں جزیرے ہیں مگر کارٹون کا محور ایسا جزیرہ کیوں بنایا گیا جس کا نام عریانیت کا مظہر ہے۔۔۔۔!!

6-صحت مندانہ سرگرمیوں سے دوری
کارٹونز کے شوقین بچے اکثر گیمز،سیر و تفریح وغیرہ جیسی سرگرمیوں میں کم دلچسپی لیتے ہیں۔جس سے انکی جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں۔

7-پیسے اور وقت کا مزید ضیاع
کارٹونز کیسے والدین کا پیسا ضائع کرتے ہیں اس کی مثال یوں ہیں کہ دس روپے میں بکنے والا کھلونا "یو یو" "بلیزنگ ٹینز" نامی بچوں کی سیریز کے بعد پانچ سو یا اس سے زیادی کا بکنے لگا اور پھر بھی اس کی فروخت میں طوفانی اضافہ ہوا جس کی وجہ اس کے ساتھ جذباتی ہیروازم کا اضافہ کردینا تھا۔ایسے ہی دس روپے میں بکنے والا لٹو "بی بلیڈ" سیریز کے بعد ہزار ہاروپے کے پیکس میں بکنے لگا کیونکہ اس پر جذباتی ہیروازم کی چھاپ لگ چکی ہے۔

میک ڈانلڈز جیسی کمپنیاں چند سینٹ قیمت پر مشتمل آلو کے چپس،نگٹس اور کولڈ ڈرنکس کئی ڈالرز میں فروخت کررہی ہیں کیونکہ انہوں نے اس پیک میں مشہور کارٹونز کے کھلونوں کا اضافہ کردیا ہے۔

ایسے ہی بین ٹین کی گھڑی ٹرانسفارمر کارٹونز کی کارز اور کیا نہ کیا۔

8-نیو ورلڈ آرڈر اور مائنڈ کنٹرول پروگرام
اور آخر میں۔۔۔۔ 
کیا وجہ ہے کہ نوے فیصد کارٹونز میں منفی کرداروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے؟
کیا وجہ ہے کہ گرے ہوۓ کردار کے حامل کرداروں کو "دنیا کا نجات دھندہ" بناکر پیش کیا جاتا ہے؟

تقریبا ہر کارٹون میں " ایک آنکھ " اور "تکون" جیسے نشان ۔۔۔۔ گندے مکروہ چہرے ۔۔۔۔ دنیا کی تباہی کے مناظر ۔۔۔۔ کو وافر دکھایا جاتا ہے۔۔۔؟
معزز والدین۔۔
ان سوالوں کا جواب خود ہی سمجھ جائیں ورنہ "آنے والا وقت" خود ہی سمجھادے گا۔
۔۔
شکریہ  - 

 Share's Button say WhatsApp , Facebook , Twitter , Google+ Par         
 share Zaror Karen
Jazak Allah Khair