Showing posts with label Aurat. Show all posts
Showing posts with label Aurat. Show all posts

محبت انسان کو توڑ دیتی ہے..!!!

 
 محبت انسان کو توڑ دیتی ہے..!!!
mohabbat kya hai محبت انسان کو توڑ دیتی ہے..!!! mohabbat or ishaq love kiya hai suchi mohabbat
یہ فقرہ ہر کہانی، ناول، شاعری، افسانہ اور آپ بیتی کا حصہ ہوتی ہے.
بے شک محبت انسان کو دکھ دیتی ہے، لیکن توڑتی نہیں.
معاشرے میں جس عاشقی اور معشوقی کو محبت کہا جاتا ھے وہ محبت نہیں بلکہ بے راہ روی ھوتی ھے، مالک سے غداری ھوتی ھے، خالق کی نافرمانی ھوتی ھے، 
بے راہ روی ہمیشہ انسان کو توڑتی ھے، 
نافرمانوں کے لیئے دنیا میں بھی بھلائی نہیں ھوتی اور آخرت میں بھی رسوا ھوں گے. 
محبت کبھی بھی انسان کو نہیں توڑتی، 
محبت تو سلجھاؤ اور طمانیت کا نام ھے،
محبت نفس کی پہچان ہوتی ہے. محبت میں یا تو نفسِ امارہ غالب آتا ہے یا نفسِ لوامہ.
محبت انسان کو توڑتی نہیں، طاقت دیتی ہے. وہ ایک طرف تو دکھ کرب کے سمندر میں غوطے کھاتا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسی لہروں سے گزر کر انسان کے اندر ایسا ٹھہراؤ آتا ہے جس سے وہ آئندہ کے ہر غم دکھ میں پرسکون رہتا ہے.
انسان کا مسئلہ ہے کہ وہ محبت کو چھوڑ کر محبوب کے پیچھے بھاگتا ہے، امیدیں وابستہ کرتا ہے، خود کو ضائع کرتا ہے.
اور ھمارے ہاں غیر محرم سے ناجائز و حرام تعلقات کو محبت کا نام دے دیا جاتا ھے. بھائیو اور بہنو! یہ محبت نہیں ھوتی بلکہ یہ سراسر شیطانی دھوکہ ھے، یہ ابلیس ھی ھے کہ جس نے اس بدبودار اور تعفن سے لبریز تعلق کو محبت کے خول سے ملمع کر دیا ھے، 
جو نافرمانی کرے گا وہ بکھرے گا
اور
جو پاک و حلال رشتوں سے محبت کرے گا وہ طمانیت کیساتھ کیساتھ سُرخرو بھی ھوگا.
محبت کی اصل رضائے الٰہی ہے. 
محبت کا معیار اللہ کی خوشنودی ہے.
محبت کا ظرف اعلی ہے. 
محبت کا مقام اونچا ہے.
محبت تو قربت کا نام ھے، مالک سے ھوتی ھے تو قربت نصیب ھوتی ھے، ماں باپ سے ھوتی ھے تو ماں باپ کی قربت کیساتھ کیساتھ مالک کی قربت بھی نصیب ھوتی ھے، خاوند سے ھوتی تو بھی خاوند کی قربت کیساتھ کیساتھ مالک کی قربت بھی ملتی ھے، 
بہن بھائیوں سے محبت ھوتی ھے تو بھی قربت ھی نصیب ھوتی ھے، عزیز و اقارب سے محبت ھوتی ھے تو بھی صلہ رحمی کے نتیجے میں مالک کی قربت نصیب ھوتی ھے، غرضیکہ محبت کے ثمرات میں دنیا جہاں کی بھلائیاں نصیب ھوتی ھیں، اور جسے دنیا کی تمام تر بھلائیاں مل جائیں بھلا وہ کیسے بکھر سکتا ھے، کبھی بھی نہیں!
محبت توڑتی نہیں...طاقت دیتی ہے، جینا سکھاتی ہے، بامقصد بناتی ہے، انسان کو تراش کر سنوار کر خالقِ محبت سے جوڑتی ہے.
--------

گهر میں سکون اور میاں بیوی میں محبت کا لازوال عمل


********
 Share's Button say WhatsApp , Facebook , Twitter , Google+ Par
 share Zaror Karen
Jazak Allah Khair

ایمان والی عورت ..!

 

Nek Aurat - Janti Aurat ki Sifat - Janti Aurat kon hai . Ak muslman Aurat ki Shan - Urdu Quotes Islamic image in urdu - Message for Girls in urdu ایمان والی عورت ..! نیک عورت .. جنتی عورت

Nek Aurat - Janti Aurat ki Sifat - Janti Aurat kon hai . Ak muslman Aurat ki Shan - Urdu Quotes Islamic image in urdu - Message for Girls in urdu ایمان والی عورت ..! نیک عورت .. جنتی عورت

Nek Aurat - Janti Aurat ki Sifat - Janti Aurat kon hai . Ak muslman Aurat ki Shan - Urdu Quotes Islamic image in urdu - Message for Girls in urdu ایمان والی عورت ..! نیک عورت .. جنتی عورت

Nek Aurat - Janti Aurat ki Sifat - Janti Aurat kon hai . Ak muslman Aurat ki Shan - Urdu Quotes Islamic image in urdu - Message for Girls in urdu ایمان والی عورت ..! نیک عورت .. جنتی عورت

Nek Aurat - Janti Aurat ki Sifat - Janti Aurat kon hai . Ak muslman Aurat ki Shan - Urdu Quotes Islamic image in urdu - Message for Girls in urdu ایمان والی عورت ..! نیک عورت .. جنتی عورت

ایمان والی عورت ..! نیک عورت .. جنتی عورت
Nek Aurat - Janti Aurat ki Sifat - Janti Aurat kon hai . Ak muslman Aurat ki Shan - Urdu Quotes Islamic image in urdu - Message for Girls in urdu 

Facebook Page : Facebook.com/RaahehaQ313
YouTube Islamic Video channel : https://goo.gl/DfPRmY

جماعت اسلامی کا پروگرام : حجاب گالا . اور اسلامی نقط نظر

 
جماعت اسلامی کا پروگرام 
حجاب گالا . اور اسلامی نقط نظر
علماء حق عمومی ہدایات میں فرماتے ہیں کہ
’’اہلِ دین سے ہمارا تعامل برادرانہ اور خیر خواہی پر مبنی ہونا چاہیے۔
 ہمیں چاہیے کہ ان کی چھپی خطاؤں پر انہیں مخفی انداز میں نصیحت کریں اور اعلانیہ خطاؤں پر اعلانیہ انداز سے نصیحت کی جائے‘‘۔

اللہ پاک سے ڈرتے ڈرتے اس موضوع پر کچھ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
 ہماری ایک سیاسی مذہبی جماعت کے زیرِ انتظام ، صوبۂ پنجاب کے صدر مقام لاہور میں واقع پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں’ حجاب گالا ‘کا اہتمام کیا گیا۔اس حجاب گالا میں مختلف شخصیات نے حجاب اور اس سے متعلقہ امور پر اظہارِ خیال کیا،
بلکہ مرد حضرات نے بھی براہِ راست خواتین کے سامنے کھڑے ہو کر خطابات کیے پردے کے خصوصی انتظام کے بغیر۔ حالانکہ اس سیاسی مذہبی جماعت کے یہاں ماضی میں اس بات کا اہتمام کیا جاتا تھا کہ اگر مرد خطیب کو خواتین سے خطاب کرنا ہوتا تو یا تو مرد حضرات کی جگہ ہی علیحدہ رکھتے یا پھر کم از کم کپڑے کا ایک پردہ درمیان میں ضرور لٹکایا جاتا تھا۔ 
اس کے بعد ہال کے سٹیج پر نو عمر بچیوں نے مختلف قسم کے سکارف اور عبایوں کو اوڑھے ہوئے چکر لگایا، جسے ’ٹیبلو‘ کا عنوان دیا گیا۔ بندہ یہ لکھتے ہوئے نہایت عار محسوس کر رہا ہے کہ بچیوں کو رنگا رنگ سکارف اور عبایے اوڑھائے گئے تھے۔ ہر بچی کے ہاتھ میں ایک کتبہ تھا جس پر اس ملک کا نام درج ہوتا جس میں اس خاص طریقِ ’حجاب‘کا فیشن ہے، مثلاً کویتی،مصری،سوڈانی، سعودی، عمانی، اماراتی، پاکستانی و غیرہ۔
نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ ان نو عمر بیٹیوں کو سٹیج پر ’کیٹ واک؍cat walk ‘سے ملتے جلتے انداز سے چلایا گیا گویا ریمپ؍ramp پر چل رہی ہوں اور پھر ایک جگہ کھڑے ہو کر گول گھوم کر نقطۂ آغاز کی طرف واپس لوٹایا گیا۔
تقریب کے اختتام پر شرکانے’قومی‘ترانہ بجنے پر اپنے سینوں پر ہاتھ رکھے جس طرح کے مغرب سے روایت آئی ہے
۔
صرف ایک مثال کہ حجاب گالا انتظامیہ کی مدارالمہام فخریہ انداز میں جتلا رہی
 تھیں کہ ’’ہماری اناؤنسرز نے بالکل پروفیشنل انداز میں پروگرام کنڈکٹ کیا اورٹی وی شوز ہوسٹس کی طرح اناؤنسنگ کی‘‘۔
یہ سب ’’فروغِ حجاب‘‘کے نام پر حجاب کے لیے گالی ہے۔
پردہ کیا ہے اور احکاماتِ پردہ کیا ہیں ‘پر علمائے کرام نے خوب بحث فرمائی ہے۔ خود قرآنِ عظیم الشان اس حوالے سے رہ نمائی کرتا ہے۔
بلاشبہ کل تک فحش لباس میں گھومنے والی کے لیے نیلا پیلا سکارف اوڑھ لینا ایک بہتری کی جانب قدم ہے لیکن دین و اسلام کے علم برداروں کے لیے اسی پیلے پیلے، اودے اودے، نیلے نیلے پیرہنوں کی طرف رہ نمائی درست قدم نہیں بلکہ ایک قبیح روایت ہے۔
گزارش ہے کہ ان اعمال کا جائزہ و محاسبہ کریں اور علمائے کرام سے رہ نمائی لیں۔ ہماری فوز و فلاح دین و شریعت کی کامل اتباع میں ہے نہ کہ رینڈ کارپوریشن کے مطابق ماڈریٹ اور مغرب سے امپورٹڈ اسلام میں۔
قرآن سے رہ نمائی لیجیے کہ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ اوروَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِاولیٰ کے احکامات خواتینِ اسلام سے کس امر کے متقاضی ہیں۔
کتبِ سیرت اٹھائیے اور جانیئے کہ خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیسے پردہ فرماتی تھیں۔ خدیجہ و عائشہ اور حفصہ و زینب، مریم و آسیہ اور سارہ و ہاجر ہ رضی اللہ عنہن کا اسوہ کیا تھا۔
امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے حقیقی اسوے کی طرف دعوت دینے کوآپ چاہے تو ’’تاریک خیالی ‘‘قراردیجیے،’’دقیانوس ذہنیت‘‘کی عکاسی کہیے،’’رجعت پسندی ‘‘کہہ کر گزر جائیے یا ’’کٹھ ملائیت‘‘گردانیے…
لیکن ہم پھر بھی پورے شرح صدر سے یہی عرض کریں گے کہ
؎طاقِ دل میں اجالا اگر چاہیے،تو پرانے چراغوں سے ہی پیار کر!
jamat e islami ki haqeeqat jamat e islam program jamat e islam hijab program hijab gala
hijab fahsion - aurat ka paprda - pard or fashio - burqa kesa ho . shari parda


Behaya Aurat ka Libas Or barbadi -  مسلمان عورت کا لباس - 


Aurat ka parda or jaded Hijab style - Molana makki al hijazi


↓↓  Share's Button say Whatsapp , Facebook , Twitter , Google+ Par share Zaror Karen
Jazak Allah Khair

عورتوں کا مساجد میں نماز ادا کرنا

 
aurat ka masjid mein jana- aurat ki namaz - aurat ki namaz ka taarika , aurato ky masail , women problem in urdu , girl problem in urdu
یہ انسانی دنیا جب سے وجود میں آئی ہے اس میں کوئی خطہ، کوئی قوم اور کوئی مذہب ایسا نہیں ملتا جس میں فواحش و بدکاری، زنا اورحرام کاری کو مستحسن، اچھا یا مباح و جائز سمجھا گیا ہو بلکہ ساری دنیا اور اس کے مذاہب زنا کی مذمت اور برائی میں متفق و ہم رائے رہے ہیں کیونکہ یہ مذموم جرم نہ صرف یہ کہ فطرتِ انسانی کے خلاف ہے، بلکہ اس درجہ فساد افزا اور ہلاکت خیز ہے جس کے تباہ کن اثرات صرف اشخاص و افراد ہی کو نہیں بلکہ بسا اوقات سارے خاندان اور پورے شہر و قصبہ کو برباد کردیتے ہیں۔ اس وقت فتنہ و فساد اور قتل و غارت گری کے جتنے واقعات سامنے آرہے ہیں ان کی صحیح تحقیق کی جائے تو اکثر واقعات کے پس منظر میں شہوانی جذبات اور ناجائز جنسی تعلقات کا عمل دخل ملے گا۔
البتہ بہت سی قوموں اوراکثر مذاہب میں زنا اور فواحش کی ممانعت کے باوجود اس کے مقدمات اوراسباب و ذرائع کو معیوب و ممنوع نہیں سمجھا جاتا اور نہ ان پر خاص قد غن اور بندش لگائی جاتی ہے۔
مذہب اسلام چونکہ ایک کامل و مکمل نظامِ حیات اور فطرت کے مطابق قانون الٰہی ہے اس لئے اسلام میں جرائم و معاصی کی حرمت کے ساتھ جرائم و معاصی کے ان اسباب و ذرائع کو بھی حرام و ممنوع قرار دے دیاگیا جو بالعموم بطور عادت جاریہ کے ان جرائم تک پہنچانے والے ہیں۔ مثلاً شراب پینے کو حرام کہا گیا تو شراب کے بنانے، بیچنے، خریدنے اورکسی کو دینے کو بھی حرام کردیاگیا۔ سود کو حرام کیاگیا تو سود سے ملتے جلتے سارے معاملات کو بھی ناجائز اورممنوع کردیاگیا۔ شرک و بت پرستی کو گناہ عظیم اور ناقابل معافی جرم ٹھہرایا گیا تواس کے اسباب و ذرائع، مجسمہ سازی و بت تراشی اور صورت گری کو بھی حرام اور ان کے استعمال کو ناجائز کردیاگیا۔
اسی طرح جب شریعت اسلامی میں زنا کو حرام کردیا گیا تواس کے تمام قریبی اسباب و ذرائع اورمقدمات پر بھی سخت پابندی لگادی گئی چنانچہ اجنبی عورت پر شہوت سے نظر ڈالنے کو آنکھوں کا زنا، اس کی باتوں کے سننے کو کانوں کا زنا، اس کے چھونے کو ہاتھوں کا زنا، اس کے پاس جانے کو پیروں کا زنا ٹھہرایا گیا۔جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں وارد ہے:
العینان زنا ہما النظر، والاذنان زنا ہما الاستماع، واللسان زنا الکلام، والید زناہا البطش، والرجل زناہا الخطی“ (مشکوٰة، ص:۲۰ باب الایمان بالقدر)
آنکھوں کا زنا (اجنبی عورت کی جانب شہوت سے) دیکھنا ہے، کانوں کا زنا (شہوت سے اجنبی عورت کی) باتوں کی طرف کان لگانا ہے، زبان کا زنا اس سے گفتگو کرنا ہے، ہاتھ کا زنا اس کو چھونا و پکڑنا ہے، پیروں کا زنا اس کی طرف (غلط ارادہ سے) جانا ہے۔
برے ارادے سے کسی اجنبی عورت کی جانب دیکھنا اس کی باتوں کی جانب متوجہ ہونا، اس سے بات چیت کرنا، اس کو چھونا و پکڑنا اس کے پاس جانا یہ سارے کام حقیقتاً زنا نہیں بلکہ زنا کے اسباب و مقدمات میں سے ہیں مگر انھیں بھی حدیث میں زنا سے تعبیر کیاگیا ہے تاکہ امت سمجھ جائے کہ زنا کی طرح اس کے مقدمات و اسباب بھی شریعت میں حرام و ممنوع ہیں۔ انھیں شہوانی جرائم سے بچانے کے لئے عورتوں کے واسطے پردہ کے احکام نازل و نافذ کئے گئے۔
اس موقع پر یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ شریعت اسلامی کا مزاج تنگی و دشواری کے بجائے سہولت و آسانی کی جانب مائل ہے اس سلسلے میں کتاب الٰہی کا واضح اعلان ہے ”مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَج“ دین میں تمہارے اوپر کوئی تنگی نہیں ڈالی گئی ہے اس لئے اسباب و ذرائع کے بارے میں فطرت سے ہم آہنگ یہ حکمت آمیز فیصلہ کیاگیا کہ جو امور کسی معصیت کاایسا سبب قریب ہوں کہ عام عادت کے اعتبار سے ان کاکرنے والا اس معصیت میں ضرور مبتلا ہوجاتا ہے، ایسے قریبی اسباب کو شریعت اسلام نے اصل معصیت کے حکم میں رکھ کر انھیں بھی ممنوع و حرام کردیا۔اور جن اسباب کا تعلق معصیت اور گناہ سے دور کا ہے کہ ان کے اختیار کرنے اور عمل میں لانے سے گناہ میں مبتلا ہونا عادةً لازم و ضروری تو نہیں مگر ان کا کچھ نہ کچھ دخل گناہ میں ضرور ہے ایسے اسباب و ذرائع کو مکروہ قرار دیا اور جواسباب ایسے ہیں کہ معصیت میں ان کا دخل شاذ و نادر کے درجہ میں ہے ان کو مباحات میں داخل کردیا۔
اس سلسلے کی یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ شریعت اسلام نے جن کاموں کو گناہ کا سبب قریب قرار دے کر حرام کردیا ہے وہ تمام مسلمانوں کے لئے حرام ہیں خواہ وہ کام کسی کے لئے گناہ میں مبتلا ہونے کا سبب بنے یا نہ بنے اب وہ خود ایک حکم شرعی ہے جس پر عمل سب کے لئے لازم اور اس کی مخالفت حرام ہے۔
اس کے بعد سمجھئے کہ عورتوں کاپردہ بھی شرعاً اسی سدذرائع کے اصول پر مبنی ہے کہ ترکِ پردہ گناہ میں مبتلا ہونے کا سبب ہے۔ اس میں بھی اسباب کی مذکورہ قسموں یعنی سبب قریب، سبب بعید اور سبب بعید تر کے احکام جاری ہوں گے، مثلاً جوان مرد کے سامنے جوان عورت کا بدن کھولنا گناہ میں مبتلا ہونے کا قریبی سبب ہے کہ عادتاً آدمی ایسی صورت حال میں بالعموم گناہ میں لازمی طور پرمبتلا ہوجاتاہے اس لئے یہ صورت شریعت کی نظر میں زنا کی طرح حرام ہے، کیونکہ شریعت میں اس عمل کو فاحشہ کا حکم دیاگیا ہے لہٰذا یہ سب کے حق میں حرام ہوگا۔ البتہ مواقع ضرورت علاج وغیرہ کا مستثنیٰ ہونا ایک الگ حکم شرعی ہے اس استثنائی حکم سے اصل حرمت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ پھر یہ مسئلہ اور حکم اوقات و حالات سے بھی متاثر نہیں ہوتا اسلام کے عہد زریں اور خیر و صلاح میں بھی اس کا حکم وہی تھا جوآج کے دورِ ظلمت اور شر و فساد کے زمانہ میں ہے۔
دوسرا درجہ ترک پردہ کا یہ ہے کہ گھر کی چہاردیواری سے باہر برقع یا دراز چادر سے پورا بدن چھپاکر نکلے۔ یہ فتنہ کا سبب بعید ہے۔ اس صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر ایساکرنا فتنہ کا سبب ہوتو ناجائزہے اور جہاں فتنہ کااندیشہ نہ ہو وہاں جائز ہوگا۔ اسی لئے اس صورت کا حکم زمانے اورحالات کے بدلنے سے بدل سکتا ہے۔ آنحضرت … کے عہد خیر مہد میں اس طرح سے عورتوں کاگھر سے باہر نکلنا فتنہ کا سبب نہیں تھا اسلئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عورتوں کو برقع وغیرہ میں سارا بدن چھپا کر چند شرائط کے ساتھ مسجدوں میں آنے کی اجازت دی تھی اور ان کومسجد میںآ نے سے روکنے کو منع فرمایا تھا اگرچہ اس وقت بھی عورتوں کو ترغیب اسی کی دی جاتی تھی کہ وہ گھروں میں ہی نمازادا کریں کیونکہ ان کے لئے مسجد کے مقابلہ میں گھر کے اندر نماز پڑھنا زیادہ باعث ثواب اور افضل ہے۔ چنانچہ حافظ ابن عبدالبر لکھتے ہیں: ”ولم یختلفوا ان صلاة المرأة فی بیتہا افضل من صلاتہا فی المسجد“ (التمہید ج۱۱، ص۱۹۶) اس بارے میں کسی کااختلاف نہیں ہے کہ عورت کی گھر میں نماز مسجد میں نماز سے افضل و بہتر ہے۔
آپ کی وفات کے بعد وہ حالات باقی نہیں رہے۔ بلکہ طبیعتوں میں تغیر اور قلبی اطمینان میں فتور پیداہوگیا چنانچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے ”ما نفضنا ایدینا عن قبر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حتی انکرنا قلوبنا“ (التمہید للحافظ ابن عبدالبر ج۳ ص ۳۹۴ مطبوعہ ۱۴۱۰، ورواہ الترمذی فی الشمائل ص ۲۷ عن انس رضی اللہ عنہ) ہم نے ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کرکے ہاتھوں سے مٹی بھی نہیں جھاڑی تھی کہ اپنے دلوں کی بدلتی ہوئی کیفیت کو محسوس کیا، علاوہ ازیں جن شرائط کے ساتھ مسجد میں حاضری کی اجازت دی گئی تھی ان کی پابندی میں دن بدن کوتاہی بڑھتی رہی اسی تغیر حالات کی جانب مزاج شناسِ نبوت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرماتے ہوئے امت کو متنبہ فرمایا ہے کہ آج کے حالات اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے تو عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے روک دیتے اس لئے عام صحابہٴ کرام نے یہی فیصلہ کیا کہ حالات کی اس تبدیلی کی بناء پر اب عورتوں کا مسجد میںآ نا فتنہ سے خالی نہیں رہا اس لئے ان حضرات (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے روک دیا۔
اس دور فتنہ و فساد میں جب کہ جنسی انارکی اور شہوانی بے راہ روی کی قدم قدم پر نہ صرف افزائش بلکہ ہمت افزائی ہورہی ہے، دین و مذہب اور حیا و مروت کے سارے بندھن ٹوٹ گئے ہیں کوچہ و بازار کا کیا ذکر شرور و فتن کی خود سر موجیں گھروں کی چہار دیواری سے ٹکرانے لگی ہیں، کیا ایسے فساد انگیز حالات میں بھی خواتین اسلام اور عفت مآب ماؤں بہنوں اور بہو بیٹیوں کو گھروں کی چہار دیواری سے باہر نکل کرجمعہ و جماعت میں مردوں کے دوش بدوش شریک ہونے کی اجازت مقاصد شریعت سے ہم آہنگ اوراصول سدّ ذرائع کے مطابق ہے؟
حالاتِ زمانہ اور گردوپیش کے واقعات سے آنکھیں بند کرکے جو لوگ عورتوں کو مسجد میں آکر نماز اداکرنے کی دعوت دے رہے ہیں ان کا یہ رویہ مزاج دین سے کتنا ہم آہنگ اور خود یہ لوگ اسلامی معاشرے کے بارے میں کتنے مخلص ہیں؟
فقہائے اسلام بیک زبان یہ کہتے ہیں کہ ایسے فساد آمیز حالات میں عورتوں کے لئے گھر سے باہر آکر مسجدوں میں حاضر ہونا مقاصد شریعت اور اصول سد ذرائع کے خلاف ہے اس لئے ان حالات میں شرعاً اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
$ $ $
______________________________
ماہنامہ دارالعلوم ‏
--------------------------

عورت کا مسجد میں جانا - حدیث کی روشنی میں



کیا عورت مسجد میں نماز پڑهنے جاسکتی ہے  || کیا عورت مسجد میں نماز پڑھ سکتی ہے حدیث || عورتوں کا مسجد میں نماز پڑھنا حدیث || کیا خواتین مسجد میں باجماعت نماز پنجگانہ ادا کر سکتی ہیں؟ || خواتين كا مسجد ميں نماز پڑھنا || عورت
 مسجد میں نماز ادا کرسکتی ہے....! 
aurat ka masjid jana . kya aurat masjid mein namaz parh sakte hain || aurat ka qabristan jana hadees  || aurton ka masjid mein namaz parhna || mard ka ghar mein namaz parhna || aurat ke liye eid ki namaz ||aurat ki juma ki namaz | aurton ki namaz ka tarika sunni || eid ki namaz aurton ke liye

عورت کا مسجد میں جانا - حدیث کی روشنی میں

 




|| کیا عورت مسجد میں نماز پڑھ سکتی ہے حدیث || عورتوں کا مسجد میں نماز پڑھنا حدیث || کیا خواتین مسجد میں باجماعت نماز پنجگانہ ادا کر سکتی ہیں؟ || خواتين كا مسجد ميں نماز پڑھنا || عورت   مسجد میں نماز ادا کرسکتی ہے....!  aurat ka masjid jana . kya aurat masjid mein namaz parh sakte hain || aurat ka qabristan jana hadees  || aurton ka masjid mein namaz parhna |

میرا پہلا سوا ل نمبر5852ہے۔ڈاکٹر ذاکر نائک نے سنن ابوداؤد کی ج:1باب نمبر 
204حدیث نمبر 570جس کے راوی عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ ہیں اس کا حوالہ دیا ہے۔ یہی صرف ایک حدیث ہے جس میں عورتوں کو مسجد میں جانے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی بنیاد پر آپ عورتوں کو مسجد میں جانے سے نہیں روک سکتے ہیں۔جب کہ صحیح مسلم ج:1باب 177حدیث نمبر 886میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی بندیوں کواللہ کی مسجد میں جانے سے مت روکو۔ آپ نے تفصیل پوچھا تھا۔ اتنا ڈاکٹر ذاکر نائک کی ویب سائٹ سے ملا۔ آپ کے گوش گزار ہے، اب آگے آپ جواب دیں گے ۔ اگر مسجد جانے کے لیے منع کیا ہے تو صرف ایک حدیث کے حوالہ سے آپ کیسے ثابت کریں گے؟ جب کہ مسجد میں جانے کے لیے چار سے پانچ حدیث کا حوالہ ڈاکٹر ذاکر نے دیا ہے۔
جواب:فتوی: 752=752/ معن أمّ سلمة رضي اللہ عنھا عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: خیر مساجد النساء قعر بیوتھن (رواہ أحمد وبیہقي وکذا في کنز العمال)

ترجمہ: حضرت ام سلمہ -رضی اللہ عنہا- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے لیے بہترین مسجد ان کی کوٹھریوں کا اندرونی مکان ہے۔

(۲)

عن أم حمید امرأة أبي حمید الساعدي عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال لھا: قد علمتُ أنّکِ تحبّین الصلاة معي، وصلاتُکِ في بیتکِ خیر من صلاتِکِ في حجرتِکِ، وصلاتُکِ في حجرتکِ خیر من صلاتِکِ في دارکِ، وصلاتکِ في دارکِ خیر من صلاتکِ في مسجد قومکِ، وصلاتکِ في مسجد قومِکِ خیر من صلاتکِ في مسجدي (رواہ الإمام أحمد وابن حبان، کذا في کنز العمال)

ترجمہ: ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حمید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ: میں جانتا ہوں کہ تم میرے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہو، مگر تمہاری وہ نماز جو گھر کی اندرونی کوٹھری میں ہو، وہ بیرونی کمرہ کی نماز سے بہتر ہے، اور بیرونی کمرہ کی نماز، گھر کے صحن کی نماز سے بہتر ہے، اور گھر کے صحن کی نماز محلہ کی مسجد کی نماز سے بہتر ہے، اور مسجد محلہ کی نماز میری مسجد کی نماز سے بہتر ہے۔

(۳)

وأوردہ الھیثمي في مجمع الزوائد وزاد: فأمرتْ فبُنِيَ لھا مسجدٌ في أقصی بیت في بیتھا وأظلَمِہ فکانت تُصلي فیہ حتی لقیتْ اللّٰہَ عز وجل، قال الہیثمي: رجالہ رجال الصحیح غیر عبد اللہ بن سوید الأنصاري ووثقہ ابن حبان۔

ترجمہ: اوراس حدیث کو ہیثمی، مجمع الزوائد میں لائے ہیں، اوراس میں اتنی زیادتی ہے کہ ام حمید رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر اپنے گھروالوں گو حکم دیا، ان کے لیے ان کے گھر کی ایک اندرونی کوٹھری میں جو نہایت تاریکی میں تھی، نماز کی جگہ بنادی گئی، اور یہ اس میں نماز پڑھتی رہیں، یہاں تک کہ خدا سے جاملیں۔ حافظ ہیثمی نے کہا کہ اس روایت کے راوی صحیح کے راوی ہیں، سوائے عبداللہ بن سوید انصاری کے اور ابن حبان نے ان کو معتبر بتایا ہے۔

(۴)

عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: صلاة المرأة في بیتھا أفضلُ من صلاتھا في حجرتھا، وصلاتھا في مِخدعھا أفضل من صلاتھا فی بیتھا۔ (أبوداوٴد شریف) 
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کی نماز کوٹھری میں بیرونی کمرہ کی نماز سے بہتر ہے۔ اور کوٹھری کے اندر کی نماز، کوٹھری کی نماز سے بہتر ہے۔

(۵)

وعنہ: ما صلت امرأة من صلاتہ أحب إلی اللہ من أشد مکان في بیتھا ظلمة (مجمع الزوائد) 
ترجمہ: اورابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورت کی کوئی نماز، خدا کو اس نماز سے زیادہ محبوب نہیں، جو اس کی تاریک تر کوٹھری میں ہو۔

(۶)

عن أبي ہریرة -رضي اللہ عنہ- عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: لولا ما في البیوت من النساء والذریة، أقمت صلاة العشاء وأمرتُ فتیاني یحرقون ما في البیوت بالنار (رواہ أحمد، مشکاة) 
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے، تو میں نماز عشاء قائم کرتا، اور اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ گھروں میں آگ لگادیں۔

(۷) 
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: لو أدرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما أحدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بني اسرائیل۔ 
یعنی اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان حرکات کو دیکھتے جو آج کل کی عورتوں نے ایجاد کرلی ہیں تو ان کو مسجد میں جانے سے روک دیتے، جس طرح کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ (بخاری شریف)
ان تمام حدیثوں سے صراحةً ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جماعتوں میں حاضر ہونا، محض رخصت واباحت کی بنا پر تھا، کسی تاکید یا فضیلت واستحباب کی بنا پر نہیں، اس رخصت واباحت کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور ارشاد، ان کے لیے یہی تھا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں، اور اسی کی ترغیب دیتے تھے اور فضیلت بیان فرماتے تھے۔ حدیث نمبر (۶) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں کو جو جماعت عشاء میں حاضر نہ ہوتے تھے، آگ سے جلادینے کا ارادہ فرمایا مگر عورتوں، بچوں کا گھروں میں ہونا اس کی تکمیل سے مانع آیا، عورتوں کا اس حدیث میں ذکر فرمانا اس کی دلیل ہے کہ وہ جماعت میں حاضر ہونے کی مکلف نہ تھیں، اور جماعت ان کے ذمے موٴکد نہ تھی، ورنہ وہ بھی اسی جرم کی مجرم اوراسی سزا کی مستوجب ہوتیں۔ اور حدیث نمبر ۱،۲،۳،۴ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عورت کی کوٹھری کے اندر کی نماز، دالان کی نماز سے افضل او ردالان کی نماز، صحن کی نماز سے افضل اور صحن کی نماز محلہ کی نماز سے افضل ہے، پس اس میں کیا شبہ رہا کہ عورتوں کو جماعت میں اورمسجد نبوی میں حاضر ہونا کسی استحباب وفضیلت کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ محض مباح تھا۔ پس کس قدر افسوس ہے ان لوگوں کے حال پر جو عورتوں کو مسجد میں بلاتے اورجماعتوں میں آنے کی ترغیب دیتے ہیں، اورغضب یہ کہ اسے سنت بتاتے ہیں اوراپنے اس فعل کو احیائے سنت سمجھتے ہیں۔ اگر عورتوں کے لیے جماعتوں میں حاضر ہونا سنت ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد کی نماز سے مسجد محلہ کی نماز کو اور مسجد محلہ کی نماز سے گھر کی نماز کو افضل کیوں فرماتے۔ کیوں کہ اس صورت میں گھر میں تنہا نماز پڑھنا عورتوں کے لیے ترک سنت ہوتا تو کیا ترک سنت میں ثواب زیادہ تھا، اور سنت پر عمل کرنے میں ثواب کم؟ اور کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنے کی ترغیب دے کر گویا ترک سنت کی ترغیب دیتے تھے؟ شاید یہ لوگ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ سے زیادہ بزرگ اور اپنی مسجدوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد شریف سے افضل سمجھتے ہیں۔ جن حدیثوں میں خاوندوں کو عورتوں کو مسجد میں جانے سے روکنے کی ممانعت ہے، ان حدیثوں سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ عورتوں کو مسجد میں جانا، مستحب یا سنت موٴکدہ ہے، عورتوں کو چونکہ آپ کے زمانہ میں مسجدوں میں جانا مباح تھا، تو اس اباحت ورخصت سے فائدہ اٹھانے کا حق انھیں حاصل تھا؛ اس لیے مردوں کو ان کے روکنے سے منع فرمایا کہ ان کا یہ حق زائل نہ ہو، دوسرے یہ کہ اس وقت عورتوں کے مسجد میں آنے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ عورتوں کو تعلیم کی بہت حاجت تھی، اور اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ مسجد میں حاضر ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال نماز کو دیکھیں اور سیکھیں۔ کوئی بات پوچھنی ہو تو خود پوچھ لیں۔ تیسرے یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک زمانہ فتنہ وفساد سے مامون تھا۔ وغیرہ وغیرہ

پس ان حدیثوں سے عورتوں کے لیے جماعتوں کی حاضری کا سنت یا مستحب ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔

واللہ تعالیٰ اعلم 
بشکریہ دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

کیا عورت مسجد میں نماز پڑهنے جاسکتی ہے  || کیا عورت مسجد میں نماز پڑھ سکتی ہے حدیث || عورتوں کا مسجد میں نماز پڑھنا حدیث || کیا خواتین مسجد میں باجماعت نماز پنجگانہ ادا کر سکتی ہیں؟ || خواتين كا مسجد ميں نماز پڑھنا || عورت
 مسجد میں نماز ادا کرسکتی ہے....!


 
=
aurat ka masjid jana . kya aurat masjid mein namaz parh sakte hain || aurat ka qabristan jana hadees  || aurton ka masjid mein namaz parhna || mard ka ghar mein namaz parhna || aurat ke liye eid ki namaz || aurat ki juma ki namaz | aurton ki namaz ka tarika sunni || eid ki namaz aurton ke liye

نادان یہ عورت کیا جانے ..!

 
نادان یہ عورت کیا جانے
سب گھات لگائے بیٹھے ہیں

باتوں میں تو کیسے آئے گی
سب بات بنائے بیٹھے ہیں

کب قدم تیرے رستہ بھٹکیں
سب نظریں جمائے بیٹھے ہیں

یہ مال سمجھتے ہیں تجھکو
بازار سجائے بیٹھے ہیں

منہ سے تجھے مظلوم کہیں
سوچوں میں نچائے بیٹھے ہیں

تو بہن بھی ہے تو ماں بھی ہے
سب رشتے گمائے بیٹھے ہیں

یہ عورت مرد کے رشتے کو
بس کھیل بنائے بیٹھے ہیں

یہ بد ہیں, بدکردار بھی ہیں
صورت کو چھپائے بیٹھے ہیں

گر ایسا نہیں تو چپ کیوں ہیں
کیوں دین گمائے بیٹھے ہیں

سبق ہیں جو الله نے دیے
کیوں سارے بھلائے بیٹھے ہیں

تو ان پہ بھروسہ نہ کرنا
یہ جال بچھائے بیٹھے ہیں

خود اپنی حفاظت کرنی ہے
یہ شرم مٹائے بیٹھے ہیں


aurat in islam , hijab quotes in urdu , women islam ,love story , piyar ka wazifa, parda , girls beauty tips in urdu  , islamic images , whatsapp images , pakistani girls photos


میں نماز پڑھنا شروع کرتی ہوں پھر چھوٹ جاتی ہے

 




میں نماز پڑھنا شروع کرتی ہوں پھر چھوٹ جاتی ہے ... کبھی بہت اچھا لگتا ہے، کبھی نماز سکون دیتی ہے مگر تھوڑے ہی ٹائم بعد بیزاریت ہو جاتی ہے، نماز بوجھ لگتی ہے.. مجھے اپنا بھاری وجود نماز کےلئے اٹھانا مشکل لگتا ہے" وہ بہت تھکے ہوۓ لہجے میں کہہ رہی تھی..مجھے لگ رہا تھا بات کرتے کرتے اس کا سانس پھول رہا تھا..وہ مجھے ظاہری نہیں باطنی طور پر تھکی ہوئی محسوس ہوئی .. "نظر کا پردہ کرتی ہو؟؟"میں نے نرمی سے اسے دیکھتے ہوۓ اس سے سوال کیا۔اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا، اس بات کی شاید توقع نہیں تھی اسے۔ "نظر کا پردہ ؟ ... میں .. میں تو نقاب کرتی ہوں خود، میں ...سمجھی نہیں ... نظر کے پردے کا کیا تعلق نماز سے ..؟؟" ...الفاظ بےترتیب تھے۔ میں مسکرا دی۔ "تعلق تو ہے ..بہت گہرا ہے .بری نظر شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے جو انسان کے دل میں اتر جاتا ہے، پردہ کرنا تو بہت آسان ہے مگر نظر کا پردہ کچھ مشکل ہے۔ جب نگاہ پاک نہیں رہتی نا تو عبادتوں سے لذّت جاتی رہتی ہے .. جب نگاہ پاک نہیں رہتی تو سوچ بھی پاک نہیں رہتی، اور جب سوچ خراب تو نیت خراب ..اور اعمال کا دارومدار تو ہے ہی نیتوں پر۔ تمہیں پتا ہے؟ انسان جو دیکھتا ہے سوچتا ہے، جو سنتا ہے وہ اس کے دل پر اثر رکھتا ہے۔ ہم کیا دیکھتے ہیں، کیا سنتے ہیں، کیا بات کرتے ہیں، کبھی سوچا ہے ؟؟ ... تم خود تو پردہ کرتی ہو تو کیا ہر وہ نا محرم جو تمہاری نظر کو اچھا لگے، اسے پہلی نظر کے بعد اپنے نفس کی تسکین کے لئے کتنی بار دیکھتی ہو کہ وہ کس قدر خوبصورت ہے ؟؟ فیس بک پر کوئی غیر مناسب تصویر، کوئی ویڈیو، کوئی بات .. جب کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا.. تنہائی میں .. مگر صرف اللّه !! تو کیا ایک دفع اس پر رکتی ہو ؟..کبھی کوئی فلم، کوئی گانا ... جس میں نا محرم تو خیر چھوڑو .. ہماری اپنی صنف کا بھی پردہ پورا نہیں ہوتا، بے خیالی میں دیکھ لیتی ہو ؟؟ اور پھر نا محرم ہمارے ارد گرد کے مرد تو نہیں ہیں نا ... یہ جو ٹیلی ویژن پر آنے والے ایکٹرز، ماڈلز، ..جن کی غائبانہ محبت میں ہم گرفتار ہوتے ہیں، انہیں غور سے دیکھتے ہیں، ان کی باڈی، ڈریسنگ اور لُکس کی تعریف... یہ سب نظر کا پردہ ختم ہونے کے بعد ہی ہو پاتا ہے .. تو تم سوچو .. میں نہیں کہہ رہی اس کا جواب مجھے دو ..اپنا تجزیہ کرو اس کا جواب اپنے دل کو دو ... اگر اسکا جواب ہاں میں آۓ تو سمجھ جاؤ یہ نظر کی خیانت تم سے تمہاری عبادت کی لذت چھین رہی ہے.. دل کو سیاہ کر رہی ہے ... زنا صرف ایک طرح کا تو نہیں ہوتا.. اگر ہاتھ سے کچھ غلط چھوا تو وہ ہاتھ کا زنا، زبان سے فحش بات کہی تو زبان کا زنا ہے، آنکھوں سے کچھ حرام دیکھا تو وہ آنکھوں کا زنا ہے.. نظر کی بے پردگی دل میں ایسا سوراخ کر دیتی ہے کہ جس سے ہمارے دل کا نور بہتا جاتا ہے.. اور پھر جو لوگ نظر کا پردہ نہیں کرتے، ان کی نمازیں ان پر بھاری ہو جاتی ہیں، اگر وہ نماز پڑھ بھی لیں تو بےدلی سے پڑھتے ہیں، دل نہیں لگتا.. بوجھ سا رہتا ہے دل پر ... تو کیا تم نظر کا پردہ کرتی ہو ؟ اگر نہیں تو آج سے عہد کر لو کہ کرو گی ... جب کبھی غلطی سے کچھ غلط دیکھ بھی لو، اگر کبھی تمہارا نفس تمہارے ایمان پر حاوی آجاۓ تو فوراً استغفار کر لیا کرو .. اللہ کی طرف رجوع کر لیا کرو، پھر تم دیکھنا نمازوں کا لطف، عبادت کی لذت اور دل کا سکون ... سب تمہیں عطا کر دیا جائے گا ..." اور ایک اور بات .. سکون نماز میں رکھا گیا ہے کہ قرآن خود کہتا ہے کہ "بے شک اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون حاصل ہے .." اب اگر کسی کو وہ سکون محسوس نہیں ہوتا نا تو اسے ایک مثال سے سمجھو .. ایک بیمار شخص ہے..اسکو آپ اس کے پسندیدہ کھانا لا کر دو وہ نہیں کھاے گا .. اب وہ کہے کھانے میں لذت نہیں ہے یہ تو کوئی بات نہ ہوئی نا .. کھانے میں لذت ہے، کھانا وہی ہے مگر اس کا معدہ بیمار ہے ...اسی طرح سکون عبادت میں رکھا گیا ہے لیکن جس کو نہیں ملتا اسے سمجھ جانا چاہئے کہ اس کا دل بیمار ہے .... اور اس دل کی صحتیابی کا نظر کی حفاظت کا بہت گہرا تعلق ہے میری پیاری ..." میں نے تحمل سے اپنی بات مکمل کر کہ اس کی جانب دیکھا .. جو بات میں نے خود ایک عرصے کی کوشش، بیچینی اور اضطراب کے بعد سمجھی تھی وہ اس تک پہنچا دی تھی ... مجھے جواب کی ضرورت نہیں رہی تھی ... اس کی آنکھوں کی چمک میرے لئے کافی تھی ..."



Namaz ka tarika in urdu Namaz men dil nai lagan namaz men dil lagane ka tarika , namaz kesy parhen ,namaz men sakuon nai melta namaz parhne ka shai tarika 

جدید پردہ یا فیشن

 
جدید پردہ یا فیشن

اس تحریر کو سوشل میڈیا پر ضرور شیئر کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پردہ کا مطلب ہوتا ہے اپنے آپ کو چھپانا یعنی عورت کسی بڑی چادر، برقعہ یا عباء سے اپنے آپ کو اس طرح چھپائے کہ نہ تو اعضاء کی بناوٹ ظاہر ہو اور نہ حسن وجمال ۔ اسکی زیب وزینت اور بناؤ سنگھار غیر محرم کی نظروں سے چھپا رہے ۔ لوگ اس پر سرسری نظر ڈال کر دوسری نظر نہ ڈالیں ۔ پردےمیں ہروہ چیزآجاتی ہے جو مردکے لیے عورت کی طرف رغبت ومیلان کاباعث ہو،خواہ پیدائشی ہو یامصنوعی۔
آج کل برقعے یا عبا کا استعمال کافی بڑھ گیا ہے لیکن ایمان داری سے بتائیں کہ کیا آج کل استعمال ہونے والے برقعے یا عبائے پردہ کی بنیادی ضرورت کو پورا کررہے ہیں ۔ نت نئے ڈیزانوں والے تنگ اور چست برقعے بجائے پردے کے، غیروں کو اپنی طرف راغب کرنے کا باعث بن رہے ہیں ۔ سیاہ برقعے پر خوبصورت ڈیزائن کے نقش ونگار اور کشیدہ کاری ، رنگ برنگے اسکارف لیے ہوئے عورت دور سے ہی نگاہوں کا مرکز بن جاتی ہے ۔ اس پر برقعہ کا اس قدر چست ہونا کہ جسم کے اعضاء ظاہر ہواوربھی فتنے کا باعث بن رہا ہے
خدارا دین کو مذاق مت بنائیں حکم کی روح کو سمجھیں اور دین کو اپنی خواہشات کے تابع نہ کریں ۔اللہ کو اپنی مخلوق بہت پیار ی ہے اور پردے کاحکم اللہ نے عورت کی بہتری کے لیے ہی دیا ہے۔ جو عورت بھی پردے کو اللہ کا حکم سمجھ کر اور اسکی روح کو سمجھ کر کرے گی اور اپنی خواہش کو پسِ پشت ڈال دے گی وہ ان شاءاللہ بہت سی پریشانیوں سے بچی رہے گی ۔ اللہ ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے ۔
  ۔ آمین

parda burqah hijab

jaded parda Burqa hijab islam aurat islami pardah islami shari pard

Aurat عورت

 


Aurat عورت


 











عورت کا حُسن ، عورت کی بہادری ، عورت کی ہارت ، عورت کے محرم Aurat Ka hussan , Aurat ki Mahrt , aurat ki Bahaduri , aurat ky Mahram

  پیام حجاب خصوصی


Written by: Published by: Copyright holder:
عورت کا حُسن ، عورت کی بہادری ، عورت کی ہارت ، عورت کے محرم
Aurat Ka hussan , Aurat ki Mahrt , aurat ki Bahaduri , aurat ky Mahram پیام حجاب خصوصی

Ghareban Mian Jhank گریبان میں جھانک

 


Ghareban Mian Jhank گریبان میں جھانک


 




 



Written by: Published by: Copyright holder:

Ghareban Mian Jhank گریبان میں جھانک
جن کا کلمہ پڑه کر ہم مسلمان کہلواتے ہیں اُن کے احکامات بهی مانتے ہیں کہ نہیں ؟؟؟

پیام حجاب خصوصی