Showing posts with label Parda پرده. Show all posts
Showing posts with label Parda پرده. Show all posts

محبت انسان کو توڑ دیتی ہے..!!!

 
 محبت انسان کو توڑ دیتی ہے..!!!
mohabbat kya hai محبت انسان کو توڑ دیتی ہے..!!! mohabbat or ishaq love kiya hai suchi mohabbat
یہ فقرہ ہر کہانی، ناول، شاعری، افسانہ اور آپ بیتی کا حصہ ہوتی ہے.
بے شک محبت انسان کو دکھ دیتی ہے، لیکن توڑتی نہیں.
معاشرے میں جس عاشقی اور معشوقی کو محبت کہا جاتا ھے وہ محبت نہیں بلکہ بے راہ روی ھوتی ھے، مالک سے غداری ھوتی ھے، خالق کی نافرمانی ھوتی ھے، 
بے راہ روی ہمیشہ انسان کو توڑتی ھے، 
نافرمانوں کے لیئے دنیا میں بھی بھلائی نہیں ھوتی اور آخرت میں بھی رسوا ھوں گے. 
محبت کبھی بھی انسان کو نہیں توڑتی، 
محبت تو سلجھاؤ اور طمانیت کا نام ھے،
محبت نفس کی پہچان ہوتی ہے. محبت میں یا تو نفسِ امارہ غالب آتا ہے یا نفسِ لوامہ.
محبت انسان کو توڑتی نہیں، طاقت دیتی ہے. وہ ایک طرف تو دکھ کرب کے سمندر میں غوطے کھاتا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسی لہروں سے گزر کر انسان کے اندر ایسا ٹھہراؤ آتا ہے جس سے وہ آئندہ کے ہر غم دکھ میں پرسکون رہتا ہے.
انسان کا مسئلہ ہے کہ وہ محبت کو چھوڑ کر محبوب کے پیچھے بھاگتا ہے، امیدیں وابستہ کرتا ہے، خود کو ضائع کرتا ہے.
اور ھمارے ہاں غیر محرم سے ناجائز و حرام تعلقات کو محبت کا نام دے دیا جاتا ھے. بھائیو اور بہنو! یہ محبت نہیں ھوتی بلکہ یہ سراسر شیطانی دھوکہ ھے، یہ ابلیس ھی ھے کہ جس نے اس بدبودار اور تعفن سے لبریز تعلق کو محبت کے خول سے ملمع کر دیا ھے، 
جو نافرمانی کرے گا وہ بکھرے گا
اور
جو پاک و حلال رشتوں سے محبت کرے گا وہ طمانیت کیساتھ کیساتھ سُرخرو بھی ھوگا.
محبت کی اصل رضائے الٰہی ہے. 
محبت کا معیار اللہ کی خوشنودی ہے.
محبت کا ظرف اعلی ہے. 
محبت کا مقام اونچا ہے.
محبت تو قربت کا نام ھے، مالک سے ھوتی ھے تو قربت نصیب ھوتی ھے، ماں باپ سے ھوتی ھے تو ماں باپ کی قربت کیساتھ کیساتھ مالک کی قربت بھی نصیب ھوتی ھے، خاوند سے ھوتی تو بھی خاوند کی قربت کیساتھ کیساتھ مالک کی قربت بھی ملتی ھے، 
بہن بھائیوں سے محبت ھوتی ھے تو بھی قربت ھی نصیب ھوتی ھے، عزیز و اقارب سے محبت ھوتی ھے تو بھی صلہ رحمی کے نتیجے میں مالک کی قربت نصیب ھوتی ھے، غرضیکہ محبت کے ثمرات میں دنیا جہاں کی بھلائیاں نصیب ھوتی ھیں، اور جسے دنیا کی تمام تر بھلائیاں مل جائیں بھلا وہ کیسے بکھر سکتا ھے، کبھی بھی نہیں!
محبت توڑتی نہیں...طاقت دیتی ہے، جینا سکھاتی ہے، بامقصد بناتی ہے، انسان کو تراش کر سنوار کر خالقِ محبت سے جوڑتی ہے.
--------

گهر میں سکون اور میاں بیوی میں محبت کا لازوال عمل


********
 Share's Button say WhatsApp , Facebook , Twitter , Google+ Par
 share Zaror Karen
Jazak Allah Khair

جماعت اسلامی کا پروگرام : حجاب گالا . اور اسلامی نقط نظر

 
جماعت اسلامی کا پروگرام 
حجاب گالا . اور اسلامی نقط نظر
علماء حق عمومی ہدایات میں فرماتے ہیں کہ
’’اہلِ دین سے ہمارا تعامل برادرانہ اور خیر خواہی پر مبنی ہونا چاہیے۔
 ہمیں چاہیے کہ ان کی چھپی خطاؤں پر انہیں مخفی انداز میں نصیحت کریں اور اعلانیہ خطاؤں پر اعلانیہ انداز سے نصیحت کی جائے‘‘۔

اللہ پاک سے ڈرتے ڈرتے اس موضوع پر کچھ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
 ہماری ایک سیاسی مذہبی جماعت کے زیرِ انتظام ، صوبۂ پنجاب کے صدر مقام لاہور میں واقع پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں’ حجاب گالا ‘کا اہتمام کیا گیا۔اس حجاب گالا میں مختلف شخصیات نے حجاب اور اس سے متعلقہ امور پر اظہارِ خیال کیا،
بلکہ مرد حضرات نے بھی براہِ راست خواتین کے سامنے کھڑے ہو کر خطابات کیے پردے کے خصوصی انتظام کے بغیر۔ حالانکہ اس سیاسی مذہبی جماعت کے یہاں ماضی میں اس بات کا اہتمام کیا جاتا تھا کہ اگر مرد خطیب کو خواتین سے خطاب کرنا ہوتا تو یا تو مرد حضرات کی جگہ ہی علیحدہ رکھتے یا پھر کم از کم کپڑے کا ایک پردہ درمیان میں ضرور لٹکایا جاتا تھا۔ 
اس کے بعد ہال کے سٹیج پر نو عمر بچیوں نے مختلف قسم کے سکارف اور عبایوں کو اوڑھے ہوئے چکر لگایا، جسے ’ٹیبلو‘ کا عنوان دیا گیا۔ بندہ یہ لکھتے ہوئے نہایت عار محسوس کر رہا ہے کہ بچیوں کو رنگا رنگ سکارف اور عبایے اوڑھائے گئے تھے۔ ہر بچی کے ہاتھ میں ایک کتبہ تھا جس پر اس ملک کا نام درج ہوتا جس میں اس خاص طریقِ ’حجاب‘کا فیشن ہے، مثلاً کویتی،مصری،سوڈانی، سعودی، عمانی، اماراتی، پاکستانی و غیرہ۔
نہایت افسوس کی بات یہ ہے کہ ان نو عمر بیٹیوں کو سٹیج پر ’کیٹ واک؍cat walk ‘سے ملتے جلتے انداز سے چلایا گیا گویا ریمپ؍ramp پر چل رہی ہوں اور پھر ایک جگہ کھڑے ہو کر گول گھوم کر نقطۂ آغاز کی طرف واپس لوٹایا گیا۔
تقریب کے اختتام پر شرکانے’قومی‘ترانہ بجنے پر اپنے سینوں پر ہاتھ رکھے جس طرح کے مغرب سے روایت آئی ہے
۔
صرف ایک مثال کہ حجاب گالا انتظامیہ کی مدارالمہام فخریہ انداز میں جتلا رہی
 تھیں کہ ’’ہماری اناؤنسرز نے بالکل پروفیشنل انداز میں پروگرام کنڈکٹ کیا اورٹی وی شوز ہوسٹس کی طرح اناؤنسنگ کی‘‘۔
یہ سب ’’فروغِ حجاب‘‘کے نام پر حجاب کے لیے گالی ہے۔
پردہ کیا ہے اور احکاماتِ پردہ کیا ہیں ‘پر علمائے کرام نے خوب بحث فرمائی ہے۔ خود قرآنِ عظیم الشان اس حوالے سے رہ نمائی کرتا ہے۔
بلاشبہ کل تک فحش لباس میں گھومنے والی کے لیے نیلا پیلا سکارف اوڑھ لینا ایک بہتری کی جانب قدم ہے لیکن دین و اسلام کے علم برداروں کے لیے اسی پیلے پیلے، اودے اودے، نیلے نیلے پیرہنوں کی طرف رہ نمائی درست قدم نہیں بلکہ ایک قبیح روایت ہے۔
گزارش ہے کہ ان اعمال کا جائزہ و محاسبہ کریں اور علمائے کرام سے رہ نمائی لیں۔ ہماری فوز و فلاح دین و شریعت کی کامل اتباع میں ہے نہ کہ رینڈ کارپوریشن کے مطابق ماڈریٹ اور مغرب سے امپورٹڈ اسلام میں۔
قرآن سے رہ نمائی لیجیے کہ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ اوروَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِاولیٰ کے احکامات خواتینِ اسلام سے کس امر کے متقاضی ہیں۔
کتبِ سیرت اٹھائیے اور جانیئے کہ خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیسے پردہ فرماتی تھیں۔ خدیجہ و عائشہ اور حفصہ و زینب، مریم و آسیہ اور سارہ و ہاجر ہ رضی اللہ عنہن کا اسوہ کیا تھا۔
امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے حقیقی اسوے کی طرف دعوت دینے کوآپ چاہے تو ’’تاریک خیالی ‘‘قراردیجیے،’’دقیانوس ذہنیت‘‘کی عکاسی کہیے،’’رجعت پسندی ‘‘کہہ کر گزر جائیے یا ’’کٹھ ملائیت‘‘گردانیے…
لیکن ہم پھر بھی پورے شرح صدر سے یہی عرض کریں گے کہ
؎طاقِ دل میں اجالا اگر چاہیے،تو پرانے چراغوں سے ہی پیار کر!
jamat e islami ki haqeeqat jamat e islam program jamat e islam hijab program hijab gala
hijab fahsion - aurat ka paprda - pard or fashio - burqa kesa ho . shari parda


Behaya Aurat ka Libas Or barbadi -  مسلمان عورت کا لباس - 


Aurat ka parda or jaded Hijab style - Molana makki al hijazi


⬆↓↓  Share's Button say Whatsapp , Facebook , Twitter , Google+ Par share Zaror Karen
Jazak Allah Khair

عورت کا مسجد میں جانا - حدیث کی روشنی میں

 




|| کیا عورت مسجد میں نماز پڑھ سکتی ہے حدیث || عورتوں کا مسجد میں نماز پڑھنا حدیث || کیا خواتین مسجد میں باجماعت نماز پنجگانہ ادا کر سکتی ہیں؟ || خواتين كا مسجد ميں نماز پڑھنا || عورت   مسجد میں نماز ادا کرسکتی ہے....!  aurat ka masjid jana . kya aurat masjid mein namaz parh sakte hain || aurat ka qabristan jana hadees  || aurton ka masjid mein namaz parhna |

میرا پہلا سوا ل نمبر5852ہے۔ڈاکٹر ذاکر نائک نے سنن ابوداؤد کی ج:1باب نمبر 
204حدیث نمبر 570جس کے راوی عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ ہیں اس کا حوالہ دیا ہے۔ یہی صرف ایک حدیث ہے جس میں عورتوں کو مسجد میں جانے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی بنیاد پر آپ عورتوں کو مسجد میں جانے سے نہیں روک سکتے ہیں۔جب کہ صحیح مسلم ج:1باب 177حدیث نمبر 886میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی بندیوں کواللہ کی مسجد میں جانے سے مت روکو۔ آپ نے تفصیل پوچھا تھا۔ اتنا ڈاکٹر ذاکر نائک کی ویب سائٹ سے ملا۔ آپ کے گوش گزار ہے، اب آگے آپ جواب دیں گے ۔ اگر مسجد جانے کے لیے منع کیا ہے تو صرف ایک حدیث کے حوالہ سے آپ کیسے ثابت کریں گے؟ جب کہ مسجد میں جانے کے لیے چار سے پانچ حدیث کا حوالہ ڈاکٹر ذاکر نے دیا ہے۔
جواب:فتوی: 752=752/ معن أمّ سلمة رضي اللہ عنھا عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: خیر مساجد النساء قعر بیوتھن (رواہ أحمد وبیہقي وکذا في کنز العمال)

ترجمہ: حضرت ام سلمہ -رضی اللہ عنہا- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے لیے بہترین مسجد ان کی کوٹھریوں کا اندرونی مکان ہے۔

(۲)

عن أم حمید امرأة أبي حمید الساعدي عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال لھا: قد علمتُ أنّکِ تحبّین الصلاة معي، وصلاتُکِ في بیتکِ خیر من صلاتِکِ في حجرتِکِ، وصلاتُکِ في حجرتکِ خیر من صلاتِکِ في دارکِ، وصلاتکِ في دارکِ خیر من صلاتکِ في مسجد قومکِ، وصلاتکِ في مسجد قومِکِ خیر من صلاتکِ في مسجدي (رواہ الإمام أحمد وابن حبان، کذا في کنز العمال)

ترجمہ: ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حمید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ: میں جانتا ہوں کہ تم میرے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہو، مگر تمہاری وہ نماز جو گھر کی اندرونی کوٹھری میں ہو، وہ بیرونی کمرہ کی نماز سے بہتر ہے، اور بیرونی کمرہ کی نماز، گھر کے صحن کی نماز سے بہتر ہے، اور گھر کے صحن کی نماز محلہ کی مسجد کی نماز سے بہتر ہے، اور مسجد محلہ کی نماز میری مسجد کی نماز سے بہتر ہے۔

(۳)

وأوردہ الھیثمي في مجمع الزوائد وزاد: فأمرتْ فبُنِيَ لھا مسجدٌ في أقصی بیت في بیتھا وأظلَمِہ فکانت تُصلي فیہ حتی لقیتْ اللّٰہَ عز وجل، قال الہیثمي: رجالہ رجال الصحیح غیر عبد اللہ بن سوید الأنصاري ووثقہ ابن حبان۔

ترجمہ: اوراس حدیث کو ہیثمی، مجمع الزوائد میں لائے ہیں، اوراس میں اتنی زیادتی ہے کہ ام حمید رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر اپنے گھروالوں گو حکم دیا، ان کے لیے ان کے گھر کی ایک اندرونی کوٹھری میں جو نہایت تاریکی میں تھی، نماز کی جگہ بنادی گئی، اور یہ اس میں نماز پڑھتی رہیں، یہاں تک کہ خدا سے جاملیں۔ حافظ ہیثمی نے کہا کہ اس روایت کے راوی صحیح کے راوی ہیں، سوائے عبداللہ بن سوید انصاری کے اور ابن حبان نے ان کو معتبر بتایا ہے۔

(۴)

عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: صلاة المرأة في بیتھا أفضلُ من صلاتھا في حجرتھا، وصلاتھا في مِخدعھا أفضل من صلاتھا فی بیتھا۔ (أبوداوٴد شریف) 
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کی نماز کوٹھری میں بیرونی کمرہ کی نماز سے بہتر ہے۔ اور کوٹھری کے اندر کی نماز، کوٹھری کی نماز سے بہتر ہے۔

(۵)

وعنہ: ما صلت امرأة من صلاتہ أحب إلی اللہ من أشد مکان في بیتھا ظلمة (مجمع الزوائد) 
ترجمہ: اورابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورت کی کوئی نماز، خدا کو اس نماز سے زیادہ محبوب نہیں، جو اس کی تاریک تر کوٹھری میں ہو۔

(۶)

عن أبي ہریرة -رضي اللہ عنہ- عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: لولا ما في البیوت من النساء والذریة، أقمت صلاة العشاء وأمرتُ فتیاني یحرقون ما في البیوت بالنار (رواہ أحمد، مشکاة) 
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے، تو میں نماز عشاء قائم کرتا، اور اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ گھروں میں آگ لگادیں۔

(۷) 
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: لو أدرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما أحدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بني اسرائیل۔ 
یعنی اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان حرکات کو دیکھتے جو آج کل کی عورتوں نے ایجاد کرلی ہیں تو ان کو مسجد میں جانے سے روک دیتے، جس طرح کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ (بخاری شریف)
ان تمام حدیثوں سے صراحةً ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جماعتوں میں حاضر ہونا، محض رخصت واباحت کی بنا پر تھا، کسی تاکید یا فضیلت واستحباب کی بنا پر نہیں، اس رخصت واباحت کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور ارشاد، ان کے لیے یہی تھا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں، اور اسی کی ترغیب دیتے تھے اور فضیلت بیان فرماتے تھے۔ حدیث نمبر (۶) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں کو جو جماعت عشاء میں حاضر نہ ہوتے تھے، آگ سے جلادینے کا ارادہ فرمایا مگر عورتوں، بچوں کا گھروں میں ہونا اس کی تکمیل سے مانع آیا، عورتوں کا اس حدیث میں ذکر فرمانا اس کی دلیل ہے کہ وہ جماعت میں حاضر ہونے کی مکلف نہ تھیں، اور جماعت ان کے ذمے موٴکد نہ تھی، ورنہ وہ بھی اسی جرم کی مجرم اوراسی سزا کی مستوجب ہوتیں۔ اور حدیث نمبر ۱،۲،۳،۴ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عورت کی کوٹھری کے اندر کی نماز، دالان کی نماز سے افضل او ردالان کی نماز، صحن کی نماز سے افضل اور صحن کی نماز محلہ کی نماز سے افضل ہے، پس اس میں کیا شبہ رہا کہ عورتوں کو جماعت میں اورمسجد نبوی میں حاضر ہونا کسی استحباب وفضیلت کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ محض مباح تھا۔ پس کس قدر افسوس ہے ان لوگوں کے حال پر جو عورتوں کو مسجد میں بلاتے اورجماعتوں میں آنے کی ترغیب دیتے ہیں، اورغضب یہ کہ اسے سنت بتاتے ہیں اوراپنے اس فعل کو احیائے سنت سمجھتے ہیں۔ اگر عورتوں کے لیے جماعتوں میں حاضر ہونا سنت ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد کی نماز سے مسجد محلہ کی نماز کو اور مسجد محلہ کی نماز سے گھر کی نماز کو افضل کیوں فرماتے۔ کیوں کہ اس صورت میں گھر میں تنہا نماز پڑھنا عورتوں کے لیے ترک سنت ہوتا تو کیا ترک سنت میں ثواب زیادہ تھا، اور سنت پر عمل کرنے میں ثواب کم؟ اور کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنے کی ترغیب دے کر گویا ترک سنت کی ترغیب دیتے تھے؟ شاید یہ لوگ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ سے زیادہ بزرگ اور اپنی مسجدوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد شریف سے افضل سمجھتے ہیں۔ جن حدیثوں میں خاوندوں کو عورتوں کو مسجد میں جانے سے روکنے کی ممانعت ہے، ان حدیثوں سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ عورتوں کو مسجد میں جانا، مستحب یا سنت موٴکدہ ہے، عورتوں کو چونکہ آپ کے زمانہ میں مسجدوں میں جانا مباح تھا، تو اس اباحت ورخصت سے فائدہ اٹھانے کا حق انھیں حاصل تھا؛ اس لیے مردوں کو ان کے روکنے سے منع فرمایا کہ ان کا یہ حق زائل نہ ہو، دوسرے یہ کہ اس وقت عورتوں کے مسجد میں آنے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ عورتوں کو تعلیم کی بہت حاجت تھی، اور اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ مسجد میں حاضر ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال نماز کو دیکھیں اور سیکھیں۔ کوئی بات پوچھنی ہو تو خود پوچھ لیں۔ تیسرے یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک زمانہ فتنہ وفساد سے مامون تھا۔ وغیرہ وغیرہ

پس ان حدیثوں سے عورتوں کے لیے جماعتوں کی حاضری کا سنت یا مستحب ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔

واللہ تعالیٰ اعلم 
بشکریہ دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

کیا عورت مسجد میں نماز پڑهنے جاسکتی ہے  || کیا عورت مسجد میں نماز پڑھ سکتی ہے حدیث || عورتوں کا مسجد میں نماز پڑھنا حدیث || کیا خواتین مسجد میں باجماعت نماز پنجگانہ ادا کر سکتی ہیں؟ || خواتين كا مسجد ميں نماز پڑھنا || عورت
 مسجد میں نماز ادا کرسکتی ہے....!


 
=
aurat ka masjid jana . kya aurat masjid mein namaz parh sakte hain || aurat ka qabristan jana hadees  || aurton ka masjid mein namaz parhna || mard ka ghar mein namaz parhna || aurat ke liye eid ki namaz || aurat ki juma ki namaz | aurton ki namaz ka tarika sunni || eid ki namaz aurton ke liye

نادان یہ عورت کیا جانے ..!

 
نادان یہ عورت کیا جانے
سب گھات لگائے بیٹھے ہیں

باتوں میں تو کیسے آئے گی
سب بات بنائے بیٹھے ہیں

کب قدم تیرے رستہ بھٹکیں
سب نظریں جمائے بیٹھے ہیں

یہ مال سمجھتے ہیں تجھکو
بازار سجائے بیٹھے ہیں

منہ سے تجھے مظلوم کہیں
سوچوں میں نچائے بیٹھے ہیں

تو بہن بھی ہے تو ماں بھی ہے
سب رشتے گمائے بیٹھے ہیں

یہ عورت مرد کے رشتے کو
بس کھیل بنائے بیٹھے ہیں

یہ بد ہیں, بدکردار بھی ہیں
صورت کو چھپائے بیٹھے ہیں

گر ایسا نہیں تو چپ کیوں ہیں
کیوں دین گمائے بیٹھے ہیں

سبق ہیں جو الله نے دیے
کیوں سارے بھلائے بیٹھے ہیں

تو ان پہ بھروسہ نہ کرنا
یہ جال بچھائے بیٹھے ہیں

خود اپنی حفاظت کرنی ہے
یہ شرم مٹائے بیٹھے ہیں


aurat in islam , hijab quotes in urdu , women islam ,love story , piyar ka wazifa, parda , girls beauty tips in urdu  , islamic images , whatsapp images , pakistani girls photos


بهائیو اور بہنوں کیلۓ...ایک رہنما تحریر »شـــرعی پـــرده«

 
بهائیو اور بہنوں کیلۓ...ایک رہنما تحریر
☼◙»شـــرعی پـــرده«◙☼
shari parda parda in islam parda karna parde ki ahmiyat parda or islam hijab in islam urdu parde ku masail  parda islam aurat ka parda in quran in urdu aurat ka parda islamic urdu book
جو انسان یہ سمجهتا ہے کہ ہمارے یہاں تو کوئی خطره نہیں ہے ،،،،سب سے بڑا خطره اسی کے یہاں پیدا ہوتا ہے اس کی کئ وجوه ہیں ، اللہ کرے یہ باتیں سمجھ میں آجائیں
۱».....پہلی بات تو یہ کہ دشمن وار وہیں کرتا ہے جہاں انسان غافل ہوتا ہے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ
"جہاں کہیں بهی خلوت میں دو نامحرم مرد و عورت جمع ہوۓ وہاں تیسرا شیطان ضرور ہوتا ہے،"
«ترمذی»
کسی بزرگ کا قول ہے کہ اگر حسن بصری اور رابعہ بصریہ جیسے مقدس بزرگ بهی خلوت میں ایک جگہ جمع ہوجائیں تو شیطان ان کو بهی بدکاری میں متبلا کردےگا، عوام کا تو کیا کہنا،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمادیا کہ جہاں بهی خلوت میں نامحرم مرد و عورت جمع ہوں گے وہاں شیطان ضرور ہوتا ہے اور وه بدکاری کرواکر چهوڑتا ہے، اسی لۓ فرمایا کہ غیر سے اتنا پرده نہیں جتنا کہ شوہر کے اعزه و اقارب سے ہے،
شوہر کے اعزه و اقارب سے زیاده سخت پرده کا حکم ہے، فرمایا کہ شوہر کے رشتہ داروں سے اتنا سخت پرده کرو ، اتنا ڈرو کہ جیسے موت سے ڈرتے ہو، جس سخت خطره کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہر کے رشتہ داروں کو "موت" فرمایا بعینہ وہی خطره عورت کے نامحرم رشتہ داروں سے بهی ہے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہر کے رشتہ داروں کو "موت" کیوں فرمایا؟
اس لۓ کہ غفلت اور اطمینان انسان کو ہمیشہ اپنے رشتہ داروں سے ہوتا ہے، فلاں آرہا ہے تو کوئی بات نہیں، وه تو ہمارا دیور ہے، فلاں تو ہمارا چچا زاد بهائی ہے، فلاں پهوپهی زاد بهائی ہے، فلاں ماموں زاد بهائی ہے اور فلاں خالہ زاد بهائی ہے ، جہاں ان سارے خطرات سے انسان غافل رہتا ہے سوچهتا ہے کہ یہ تو اپنے ہی ہیں اور ان کے گهر میں آنے میں ذرا بهی شک و شبہہ نہیں ہوتا کہ ان سے کسی
قسم کی بدکاری ہوگی،
شیطان غافل سمجھ کر وہیں حملہ کرتا ہے،
خالہ زاد وغیره کو بهائی قرار دےکر ان سے بے تکلفی کا تعلق رکها جاتا ہے، اس طرح یہ سب "زاد" ہمزاد کی طرح ہر وقت لپٹے رہتے ہیں، 
اللہ نے ان رشتوں کے ساتھ بالخصوص شادی کرنے کا ذکر فرمایا ہے،
"وبنت_عمک و بنت_عمتک و بنت_خالک وبنت_خلتک التی هاجرن معک،"
»۵۰ء۳۳«
چچا کی لڑکیاں، پهوپهی کی لڑکیاں، ماموں کی لڑکیاں، خالہ کی لڑکیاں چاروں "زاد" کی تصریح فرمادی کہ ہم نے ان کو شادی کیلۓ حلال کردیا ہے،
مگر اس زمانہ کا دغا باز مسلمان ان کو بہنیں بناکر مزے اڑاتا ہے، پهر چاہے تو بہن بهائی آپس میں شادی بهی کرلیتے ہیں، اللہ تعالی کی نافرمانی سے عقل مسخ ہوجاتی ہے، اتنی موٹی سی بات دماغ میں نہیں اترتی کہ بہن بهائی ہیں تو ان کی آپس میں شادی کیسے ہوگی؟
بس اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے باغیوں اور اپنی ہوس کے بندوں نے یہ جادو کی ڈبیہ بنارکهی ہے، اس میں ایک طرف سے دیکهیں تو بهائی بہن،
فورا" اسی وقت دوسری جانب سے دیکهیں میاں بیوی،
یآللہ!
تو ان دغاباز مسلمانوں کو سچے مسلمان بنادے،
۲».....دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ لوگ اپنے آپ کو پارسا سمجهتے ہیں ، کہتے ہیں ہمارا خاندان بہت پاک دامن اور نیک ہے، یہاں تو کوئی گناه ہو ہی نہیں سکتا،
س جہاں کسی نے خود کو پارسا سمجها اور دل میں عجب و پندار پیدا ہوا اللہ تعالی اس کو ذلیل کرتے ہیں، اسے گناه میں مبتلا کردیتے ہیں،
۳»....ایسے خاندانوں کی بربادی کی تیسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ یہ سمجهتے ہیں کہ ہم تو پارسا اور پاک دامن ہیں، ہمارے یہاں یہ بدکاری نہیں آسکتی، یہ لوگ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو بیکار سمجهتے ہیں، اگر کہیں کوئی خطره ہی نہیں تو اللہ تعالی نے ایسے احکام
نازل ہی کیوں فرماۓ؟
یہ لوگ اپنے علم کو اللہ تعالی کے علم سے زیاده سمجهتے ہیں،
اللہ تعالی کے نازل فرماۓ ہوۓ احکام کو فضول و بیکار سمجهتے ہیں،
قرآن کریم کو بیکار سمجهتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو بیکار جانتے ہیں،
سو جو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو بیکار بتاۓگا اللہ تعالی اس کو دنیا ہی میں اس کے وبال میں مبتلا کرکے چهوڑیںگے اس پر یہ عذاب ہوتا ہے اس لۓ ایسے واقعات ہوتے ہیں،
»مفتئ حضرت_والا مفتی رشیداحمدلدهیانوی رحمه الله تعالی 
منتخب از وعظ:
شـــرعی پــــرده صفحہ۲۷«
خوب سوچهۓ
دعاؤں کا محتاج

آپ کا بهائی
#RaahehaQ313 shari parda parda in islam parda karna parde ki ahmiyat parda or islam hijab in islam urdu parde ku masail  parda islam aurat ka parda in quran in urdu aurat ka parda islamic urdu book

میں نماز پڑھنا شروع کرتی ہوں پھر چھوٹ جاتی ہے

 




میں نماز پڑھنا شروع کرتی ہوں پھر چھوٹ جاتی ہے ... کبھی بہت اچھا لگتا ہے، کبھی نماز سکون دیتی ہے مگر تھوڑے ہی ٹائم بعد بیزاریت ہو جاتی ہے، نماز بوجھ لگتی ہے.. مجھے اپنا بھاری وجود نماز کےلئے اٹھانا مشکل لگتا ہے" وہ بہت تھکے ہوۓ لہجے میں کہہ رہی تھی..مجھے لگ رہا تھا بات کرتے کرتے اس کا سانس پھول رہا تھا..وہ مجھے ظاہری نہیں باطنی طور پر تھکی ہوئی محسوس ہوئی .. "نظر کا پردہ کرتی ہو؟؟"میں نے نرمی سے اسے دیکھتے ہوۓ اس سے سوال کیا۔اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا، اس بات کی شاید توقع نہیں تھی اسے۔ "نظر کا پردہ ؟ ... میں .. میں تو نقاب کرتی ہوں خود، میں ...سمجھی نہیں ... نظر کے پردے کا کیا تعلق نماز سے ..؟؟" ...الفاظ بےترتیب تھے۔ میں مسکرا دی۔ "تعلق تو ہے ..بہت گہرا ہے .بری نظر شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے جو انسان کے دل میں اتر جاتا ہے، پردہ کرنا تو بہت آسان ہے مگر نظر کا پردہ کچھ مشکل ہے۔ جب نگاہ پاک نہیں رہتی نا تو عبادتوں سے لذّت جاتی رہتی ہے .. جب نگاہ پاک نہیں رہتی تو سوچ بھی پاک نہیں رہتی، اور جب سوچ خراب تو نیت خراب ..اور اعمال کا دارومدار تو ہے ہی نیتوں پر۔ تمہیں پتا ہے؟ انسان جو دیکھتا ہے سوچتا ہے، جو سنتا ہے وہ اس کے دل پر اثر رکھتا ہے۔ ہم کیا دیکھتے ہیں، کیا سنتے ہیں، کیا بات کرتے ہیں، کبھی سوچا ہے ؟؟ ... تم خود تو پردہ کرتی ہو تو کیا ہر وہ نا محرم جو تمہاری نظر کو اچھا لگے، اسے پہلی نظر کے بعد اپنے نفس کی تسکین کے لئے کتنی بار دیکھتی ہو کہ وہ کس قدر خوبصورت ہے ؟؟ فیس بک پر کوئی غیر مناسب تصویر، کوئی ویڈیو، کوئی بات .. جب کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا.. تنہائی میں .. مگر صرف اللّه !! تو کیا ایک دفع اس پر رکتی ہو ؟..کبھی کوئی فلم، کوئی گانا ... جس میں نا محرم تو خیر چھوڑو .. ہماری اپنی صنف کا بھی پردہ پورا نہیں ہوتا، بے خیالی میں دیکھ لیتی ہو ؟؟ اور پھر نا محرم ہمارے ارد گرد کے مرد تو نہیں ہیں نا ... یہ جو ٹیلی ویژن پر آنے والے ایکٹرز، ماڈلز، ..جن کی غائبانہ محبت میں ہم گرفتار ہوتے ہیں، انہیں غور سے دیکھتے ہیں، ان کی باڈی، ڈریسنگ اور لُکس کی تعریف... یہ سب نظر کا پردہ ختم ہونے کے بعد ہی ہو پاتا ہے .. تو تم سوچو .. میں نہیں کہہ رہی اس کا جواب مجھے دو ..اپنا تجزیہ کرو اس کا جواب اپنے دل کو دو ... اگر اسکا جواب ہاں میں آۓ تو سمجھ جاؤ یہ نظر کی خیانت تم سے تمہاری عبادت کی لذت چھین رہی ہے.. دل کو سیاہ کر رہی ہے ... زنا صرف ایک طرح کا تو نہیں ہوتا.. اگر ہاتھ سے کچھ غلط چھوا تو وہ ہاتھ کا زنا، زبان سے فحش بات کہی تو زبان کا زنا ہے، آنکھوں سے کچھ حرام دیکھا تو وہ آنکھوں کا زنا ہے.. نظر کی بے پردگی دل میں ایسا سوراخ کر دیتی ہے کہ جس سے ہمارے دل کا نور بہتا جاتا ہے.. اور پھر جو لوگ نظر کا پردہ نہیں کرتے، ان کی نمازیں ان پر بھاری ہو جاتی ہیں، اگر وہ نماز پڑھ بھی لیں تو بےدلی سے پڑھتے ہیں، دل نہیں لگتا.. بوجھ سا رہتا ہے دل پر ... تو کیا تم نظر کا پردہ کرتی ہو ؟ اگر نہیں تو آج سے عہد کر لو کہ کرو گی ... جب کبھی غلطی سے کچھ غلط دیکھ بھی لو، اگر کبھی تمہارا نفس تمہارے ایمان پر حاوی آجاۓ تو فوراً استغفار کر لیا کرو .. اللہ کی طرف رجوع کر لیا کرو، پھر تم دیکھنا نمازوں کا لطف، عبادت کی لذت اور دل کا سکون ... سب تمہیں عطا کر دیا جائے گا ..." اور ایک اور بات .. سکون نماز میں رکھا گیا ہے کہ قرآن خود کہتا ہے کہ "بے شک اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون حاصل ہے .." اب اگر کسی کو وہ سکون محسوس نہیں ہوتا نا تو اسے ایک مثال سے سمجھو .. ایک بیمار شخص ہے..اسکو آپ اس کے پسندیدہ کھانا لا کر دو وہ نہیں کھاے گا .. اب وہ کہے کھانے میں لذت نہیں ہے یہ تو کوئی بات نہ ہوئی نا .. کھانے میں لذت ہے، کھانا وہی ہے مگر اس کا معدہ بیمار ہے ...اسی طرح سکون عبادت میں رکھا گیا ہے لیکن جس کو نہیں ملتا اسے سمجھ جانا چاہئے کہ اس کا دل بیمار ہے .... اور اس دل کی صحتیابی کا نظر کی حفاظت کا بہت گہرا تعلق ہے میری پیاری ..." میں نے تحمل سے اپنی بات مکمل کر کہ اس کی جانب دیکھا .. جو بات میں نے خود ایک عرصے کی کوشش، بیچینی اور اضطراب کے بعد سمجھی تھی وہ اس تک پہنچا دی تھی ... مجھے جواب کی ضرورت نہیں رہی تھی ... اس کی آنکھوں کی چمک میرے لئے کافی تھی ..."



Namaz ka tarika in urdu Namaz men dil nai lagan namaz men dil lagane ka tarika , namaz kesy parhen ,namaz men sakuon nai melta namaz parhne ka shai tarika 

جدید پردہ یا فیشن

 
جدید پردہ یا فیشن

اس تحریر کو سوشل میڈیا پر ضرور شیئر کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پردہ کا مطلب ہوتا ہے اپنے آپ کو چھپانا یعنی عورت کسی بڑی چادر، برقعہ یا عباء سے اپنے آپ کو اس طرح چھپائے کہ نہ تو اعضاء کی بناوٹ ظاہر ہو اور نہ حسن وجمال ۔ اسکی زیب وزینت اور بناؤ سنگھار غیر محرم کی نظروں سے چھپا رہے ۔ لوگ اس پر سرسری نظر ڈال کر دوسری نظر نہ ڈالیں ۔ پردےمیں ہروہ چیزآجاتی ہے جو مردکے لیے عورت کی طرف رغبت ومیلان کاباعث ہو،خواہ پیدائشی ہو یامصنوعی۔
آج کل برقعے یا عبا کا استعمال کافی بڑھ گیا ہے لیکن ایمان داری سے بتائیں کہ کیا آج کل استعمال ہونے والے برقعے یا عبائے پردہ کی بنیادی ضرورت کو پورا کررہے ہیں ۔ نت نئے ڈیزانوں والے تنگ اور چست برقعے بجائے پردے کے، غیروں کو اپنی طرف راغب کرنے کا باعث بن رہے ہیں ۔ سیاہ برقعے پر خوبصورت ڈیزائن کے نقش ونگار اور کشیدہ کاری ، رنگ برنگے اسکارف لیے ہوئے عورت دور سے ہی نگاہوں کا مرکز بن جاتی ہے ۔ اس پر برقعہ کا اس قدر چست ہونا کہ جسم کے اعضاء ظاہر ہواوربھی فتنے کا باعث بن رہا ہے
خدارا دین کو مذاق مت بنائیں حکم کی روح کو سمجھیں اور دین کو اپنی خواہشات کے تابع نہ کریں ۔اللہ کو اپنی مخلوق بہت پیار ی ہے اور پردے کاحکم اللہ نے عورت کی بہتری کے لیے ہی دیا ہے۔ جو عورت بھی پردے کو اللہ کا حکم سمجھ کر اور اسکی روح کو سمجھ کر کرے گی اور اپنی خواہش کو پسِ پشت ڈال دے گی وہ ان شاءاللہ بہت سی پریشانیوں سے بچی رہے گی ۔ اللہ ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے ۔
  ۔ آمین

parda burqah hijab

jaded parda Burqa hijab islam aurat islami pardah islami shari pard

Aurat عورت

 


Aurat عورت


 











عورت کا حُسن ، عورت کی بہادری ، عورت کی ہارت ، عورت کے محرم Aurat Ka hussan , Aurat ki Mahrt , aurat ki Bahaduri , aurat ky Mahram

  پیام حجاب خصوصی


Written by: Published by: Copyright holder:
عورت کا حُسن ، عورت کی بہادری ، عورت کی ہارت ، عورت کے محرم
Aurat Ka hussan , Aurat ki Mahrt , aurat ki Bahaduri , aurat ky Mahram پیام حجاب خصوصی

Ghareban Mian Jhank گریبان میں جھانک

 


Ghareban Mian Jhank گریبان میں جھانک


 




 



Written by: Published by: Copyright holder:

Ghareban Mian Jhank گریبان میں جھانک
جن کا کلمہ پڑه کر ہم مسلمان کہلواتے ہیں اُن کے احکامات بهی مانتے ہیں کہ نہیں ؟؟؟

پیام حجاب خصوصی

جہاں ہونا چاہیے وہاں ہے نہیں ، ضرور پڑهیں اور شیئر کریں

 
جہاں ہونا چاہیے وہاں ہے نہیں ، ضرور پڑهیں اور شیئر کریں

 

خوش اخلاقی , ۔نرم لہجہ , شیریں زبان , ایک اچھی صفات ہیں لیکن بدقسمتی سے انکا استعمال جہاں ہونا چاہیے وہاں فقدان نظر آتا ہے اور جہاں ان پر کنٹرول کرنا چاہیے وہاں یہ پہلے سے بھی ڈبل مٹھاس کیساتھ وجود میں آجاتی ہیں ۔
مثال کے طور پر اولاد کیطرف سے ان صفات کے پہلے حقدار انکے والدین ہیں ۔ لیکن ہمارے آس پاس ایسے نوجوان نظر آتے ہیں جو والدین کیساتھ تو بدزبانی اور تلخ لہجے سے پیش آتے ہیں لیکن گھر کے باہر دوست احباب میں ان سے زیادہ وفادار، نرم گو اور جی حضوری کرنے والا کوئی دوسرا نہیں ہوتا ۔۔۔۔
گویا جن کا حق تھا جب انہیں ہی محروم رکھا گیا تو پھر چاہے آپ پوری دنیا سے اخلاق سے پیش آجائیں کوئی ویلیو نہیں ۔۔
میاں بیوی کا رشتہ بھی آپس میں پیار محبت، نرم مزاجی والا ہونا چاہیے لیکن افسوس بہت سے شوہر حضرات گھر میں چوبیس گھنٹے انا کی کشتی پر سوار رہتے ہیں اور گھر کی چار دیواری سے باہر ان سے زیادہ باوقار ، ملن سار اور نیک انسان کوئی اور نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔
یہی معاملہ خواتین کیساتھ بھی ہے جو اپنے شوہروں کے سامنے تو خواہ مخواہ بہادری کے جوہر دکھانا پسند کریں ۔۔۔۔ موقع بے موقع جواب دیں ۔۔۔۔
اینٹ کا جواب پتھر سے دینا اپنا حق سمجھیں لیکن جب مقابل کوئی غیر محرم ہو ۔۔ اجنبی ہو تو نرم لہجہ ۔۔ دھیمہ انداز اور بناوٹی مسکراہٹ سےخود کو سلیقہ مند ثابت کرنا ان پر ختم ہوتا ہے ۔۔۔۔
مجموعی طور پر المیہ پورے معاشرے کا ہے یہ تو چند ایک مثالیں ہیں ۔
ایک صاحب اپنی بیوی کی خوبیاں بیان کیا کرتے تھے ۔۔ اسکے اخلاق اور سمجھداری کے قائل تھے ۔ ایک دن ان کے کسی دوست کو ان صاحب سے کچھ کام آن پڑا تو وہ چل کر ان کے گھر پہنچے اور دستک دی۔۔۔۔
تلخی کیساتھ اندر سے جواب آیا
" کیا ہے ؟؟؟ کون ہے ؟؟ "
وہ صاحب اس شدید رد عمل کیلئے بالکل تیار نہیں تھے ۔ گھبرا سے گئے اور ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ فلاں شخص گھر پر ہے ؟ مجھے ان سے کام تھا ۔۔،
پھر سے خاتون کی غصیلی آواز آئی
"نہیں ہیں گھر ۔ دوبارہ مت پوچھنے آنا ۔۔۔
ان صاحب نے عافیت سمجھتے ہوئے چپ چاپ وہاں سے نکلنے کا ارادہ کیا اور شام کو جب اس دوست سے ملاقات ہوئی تو شکوہ کرنے لگے ۔
" یار آپ تو کہتے تھے آپکی گھر والی بڑی اخلاق والی ہیں لیکن آج جب میں آپکا پوچھنے گیا تو مجھے ڈانٹ دیا ۔۔
تو وہ شخص کہنے لگا
" ٹھیک ہی تو کہا تھا لیکن میری گھر والی کا اخلاق ، نرم لہجہ صرف اور صرف میرے ساتھ ہے ۔ کسی غیر کیلئے نہیں "
اندازہ کیجیے کس قدر گہری بات ہے کہ میٹھی زبان اور نرم لہجے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ شوہر کی عدم موجودگی میں ہر ایرے غیرے کو فری ہونے کا موقع فراہم کیا جائے ۔۔۔۔۔
بس اس ایک نقطے کو اگر سمجھ لیا جائے تو گویا مقصد تحریر سمجھ لیا گیا۔۔۔۔۔

!!

 

جو عورت

 

جو عورت احساسِ کمتری کا شکار ہوتی ہے ، وہ اس احساسِ کمتری کو بے پردگی سے ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے ، کہ لوگ اس کو بے پردہ دیکھیں گے تو ہی اس کی تعریف کریں گے _

اور جو عورت احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہوتی ، وہ با پردہ رہتی ہے ، کہ اس کو کیا لینا کسی دوسرے سے تعریف سن کر جب اس کو معلوم ہے کہ وہ خوبصورت ہے تو ہے ، دوسروں سے اپنی تعریفیں سننے کی کیا ضرورت اور کیا لینا ان تعریفوں سے ؟

 


shari parda ,hijab islam ,parda aurat . islami hijab

شائد کے اُتر جائے تیرے دل میں میری بات

 

اگر کسی بہن کو پردے کی دعوت دی جائے تو جواب ملتا ہے
پرده دل کا ہونا چاہیے

لڑکی اپنے پردہ کا خود خیال رکھیں. اور کوشش کریں کہ خود کو نامحرم سے بچائیں.

شائد کے اُتر جائے تیرے دل میں میری بات

 

 

قبروں کی زیارت ، سوال و جواب

 


قبرستان پر کتنی دُور سے سلام کہہ سکتے ہیں؟
س… قبرستان میں جاتے ہوئے یا قریب سے گزرتے ہوئے “السلام علیکم یا اہل القبور” کہنا چاہئے، دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ بس، ٹرین یا کسی بھی سواری میں سفر کے دوران کوئی قبرستان یا کوئی مزار نظر آجائے تو “السلام علیکم یا اہل القبور” یا “السلام علیکم یا صاحب مزار” کہنا چاہئے یا نہیں؟
ج… اگر پاس سے گزریں تو “السلام علیکم یا اہل القبور” کہہ لینا چاہئے۔
قبرستان کس دن اور کس وقت جانا چاہئے؟
س… قبرستان جانے کے لئے سب سے بہتر وقت اور دن کون سے ہیں؟
ج… قطعی طور پر کسی خاص وقت اور دن کی تعلیم نہیں دی گئی، آپ جب چاہیں جاسکتے ہیں، وہاں جانے سے اصل مقصود عبرت حاصل کرنا ہے، موت و آخرت کو یاد کرنا ہے، البتہ بعض روایات میں شبِ برأت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ طیبہ کے قبرستان (بقیع) میں تشریف لے جانا اور ان کے لئے دُعائے مغفرت فرمانا آیا ہے، بعض حضرات نے ان روایات پر کلام فرمایا ہے، اور ان کو ضعیف کہا ہے۔ ایک مرسل روایت میں ہے کہ جس نے اپنے والدین کی یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی ہر جمعہ کو زیارت کی، اس کی بخشش ہوجائے گی اور اسے ماں باپ سے حسنِ سلوک کرنے والا لکھ دیا جائے گا۔ (مشکوٰة از شعب الایمان بیہقی)
فی الجملہ ان روایات سے متبرک دن میں قبرستان جانے کا اہتمام معلوم ہوتا ہے، علامہ شامی لکھتے ہیں: “ہر ہفتے میں قبروں کی زیارت کی جائے، جیسا کہ “مختارات النوازل” میں ہے، اور “شرح لباب المناسک” میں لکھا ہے کہ: جمعہ، ہفتہ، پیر اور جمعرات کا دن افضل ہے۔ محمد بن واسع فرماتے ہیں کہ مردے اپنے زائرین کو پہچانتے ہیں جمعہ کے دن، اور ایک دن پہلے اور ایک دن بعد، اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا دن افضل ہے۔” (رد المحتار ج:۲ ص:۲۴۲)
پختہ مزارات کیوں بنے؟
س… حدیث شریف میں ہے کہ بہترین قبر وہ ہے جس کا نشان نہ ہو اور کچی ہو، پھر ہندوستان اور پاکستان میں اتنے سارے مزارات کیوں ہیں جن کو لوگ پوجا کی حد تک چومتے ہیں اور منتیں مانتے ہیں؟
ج… بزرگوں کی قبروں کو یا تو عقیدت مند بادشاہوں نے پختہ کیا ہے، یا دُکان دار مجاوروں نے، اور ان لوگوں کا فعل کوئی شرعی حجت نہیں۔
مزارات پر جانا جائز ہے، لیکن وہاں شرک و بدعت نہ کرے
س… کیا مزاروں پر جانا جائز ہے؟ جو لوگ جاتے ہیں یہ شرک تو نہیں کر رہے؟
ج… قبروں کی زیارت کو جانا مستحب ہے، اس لئے مزاراتِ اولیاء پر جانا تو شرک نہیں، ہاں! وہاں جاکر شرک و بدعت کرنا بڑا سخت وبال ہے۔
بزرگوں کے مزارات پر منّت ماننا حرام ہے
س… کئی جگہ پر کچھ بزرگوں کے مزار بنائے جاتے ہیں (آج کل تو بعض نقلی بھی بن رہے ہیں)، اور ان پر ہر سال عرس ہوتے ہیں، چادریں چڑھائی جاتی ہیں، ان سے منتیں مانگی جاتی ہیں، یہ کہاں تک صحیح ہے؟
ج… یہ تمام باتیں بالکل ناجائز اور حرام ہیں، ان کی ضروری تفصیل میرے رسالے “اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم” میں دیکھ لی جائے۔
مزارات پر پیسے دینا کب جائز ہے اور کب حرام ہے؟
س… میں جس رُوٹ پر گاڑی چلاتا ہوں اس راستے میں ایک مزار آتا ہے، لوگ مجھے پیسے دیتے ہیں کہ مزار پر دے دو، مزار پر پیسے دینا کیسا ہے؟
ج… مزار پر جو پیسے دئیے جاتے ہیں، اگر مقصود وہاں کے فقراء و مساکین پر صدقہ کرنا ہے تو جائز ہے، اور اگر مزار کا نذرانہ مقصود ہے تو یہ ناجائز اور حرام ہے۔
مزارات کی جمع کردہ رقم کو کہاں خرچ کرنا چاہئے؟
س… مزاروں یا قبروں پر جو پیسے جمع کئے جاتے ہیں یہ کیسے ہیں؟ (جمع کرنے کیسے ہیں؟) اگر ناجائز ہیں تو پہلے جو جمع ہیں ان کو کہاں خرچ کیا جائے؟
ج… اولیاء اللہ کے مزارات پر جو چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں وہ “ما اھل بہ لغیر الله” میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہیں، اور ان کا مصرف مالِ حرام کا مصرف ہے، یعنی بغیر نیتِ ثواب کے یہ مال کسی مستحقِ زکوٰة کو دے دیں۔
اولیاء اللہ کی قبروں پر بکرے وغیرہ دینا حرام ہے
س… جو لوگ اولیاء اللہ کی قبروں پر بکرے وغیرہ دیتے ہیں کیا یہ جائز ہیں؟ حالانکہ اگر ان کی نیت خیرات کی ہو تو ان کے قرب و جوار میں مساکین بھی موجود ہیں۔
ج… اولیاء اللہ کے مزارات پر جو بکرے بطور نذر و نیاز کے چڑھائے جاتے ہیں، وہ قطعاً ناجائز و حرام ہیں، ان کا کھانا کسی کے لئے بھی جائز نہیں، اِلَّا یہ کہ مالک اپنے فعل سے توبہ کرکے بکرے کو واپس لے لے، اور جو بکرے وہاں کے غریب غرباء کو کھلانے کے لئے بھیجے جاتے ہیں، وہ ان غریب غرباء کے لئے حلال ہیں۔
مردہ، قبر پر جانے والے کو پہچانتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے
س… قبر پر کوئی عزیز مثلاً: ماں باپ، بہن بھائی یا اولاد جائے تو کیا اس شخص کی رُوح انہیں اس رشتے سے پہچانتی ہے؟ ان کو دیکھنے اور بات سننے کی قوّت ہوتی ہے؟
ج… حافظ سیوطی نے “شرح الصدور” میں اس مسئلے پر متعدّد روایات نقل کی ہیں کہ میّت ان لوگوں کو جو اس کی قبر پر جائیں، دیکھتی اور پہچانتی ہے اور ان کے سلام کا جواب دیتی ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ: “جو شخص اپنے موٴمن بھائی کی قبر پر جائے، جس کو وہ دُنیا میں پہچانتا تھا، پس جاکر سلام کہے تو وہ ان کو پہچان لیتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔” یہ حدیث “شرح صدور” میں حافظ ابنِ عبدالبر کی “استذکار” اور “تمہید” کے حوالے سے نقل کی ہے، اور لکھا ہے کہ محدث عبدالحق نے اس کو “صحیح” قرار دیا ہے۔ (ص:۸۸)
قبر پر ہاتھ اُٹھاکر دُعا مانگنا
س… قبرستان میں یا ایک قبر پر ہاتھ اُٹھاکر دُعا مانگنا کیسا ہے؟
ج… فتاویٰ عالمگیری (ج:۵ ص:۳۵۰ مصری) میں لکھا ہے کہ قبر پر دُعا مانگنا ہو تو قبر کی طرف پشت اور قبلے کی طرف منہ کرکے دُعا مانگے۔
قبرستان میں فاتحہ اور دُعا کا طریقہ
س… قبرستان میں جاکر قبر پر فاتحہ پڑھی جاتی ہے، اس فاتحہ نامی دُعا میں کیا پڑھا جاتا ہے؟ (یعنی کیا دُعا مانگنی چاہئے؟)
ج… قبرستان میں جاکر پہلے تو ان کو سلام کہنا چاہئے، اس کے الفاظ حدیث میں یہ آتے ہیں: “السلام علیکم یا اھل الدیار من الموٴمنین والمسلمین وانا انشاء الله بکم للاحقون، نسأل الله لنا ولکم العافیة۔” اور پھر جس قدر ممکن ہو ان کے لئے دُعا و اِستغفار کرے، اور قرآن مجید پڑھ کر ایصالِ ثواب کرے۔ بعض روایات میں سورہٴ یٰسین، سورہٴ تبارک الذی، سورہٴ فاتحہ سورہٴ زلزال، سورہٴ تکاثر اور سورہٴ اِخلاص اور آیت الکرسی کی فضیلت بھی آئی ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ قبر کی طرف منہ اور قبلے کی طرف پشت کرکے کھڑا ہو، اور جب دُعا کا ارادہ کرے تو قبر کی طرف پشت اور قبلے کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو۔
قبرستان میں پڑھنے کی مسنون دُعائیں
س… کون سی مسنون اور بہتر دُعائیں ہیں جو قبرستان میں پڑھنی چاہئیں؟
ج… سب سے پہلے قبرستان میں جاکر اہلِ قبور کو سلام کہنا چاہئے، اس کے مختلف الفاظ احادیث میں آئے ہیں، ان میں سے کوئی سے الفاظ کہہ لے، اگر وہ یاد نہ ہوں تو “السلام علیکم” ہی کہے، اس کے بعد ان کے لئے دُعا و اِستغفار کرے اور جس قدر ممکن ہو تلاوتِ قرآنِ کریم کا ثواب ان کو پہنچائے۔ احادیث میں خصوصیت کے ساتھ بعض سورتوں کا ذکر آیا ہے، مثلاً: سورہٴ فاتحہ، آیت الکرسی، سورہٴ یٰسین، سورہٴ تکاثر، سورہٴ کافرون، سورہٴ اِخلاص، سورہٴ فلق، سورہٴ ناس وغیرہ۔
قبرستان میں قرآنِ کریم کی تلاوت آہستہ جائز ہے، آواز سے مکروہ ہے
س… ایک مولوی صاحب فرما رہے تھے کہ قرآن مجید قبرستان میں نہیں پڑھنا چاہئے، کیونکہ عذاب والی آیات پر مردے پر عذاب نازل ہوتا ہے، بلکہ مخصوص دُعاوٴں بشمول آیات جو کہ سنتِ نبوی سے ثابت ہیں، پڑھنی چاہئیں۔
ج… قبر پر بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنا مکروہ ہے، آہستہ پڑھ سکتے ہیں۔
قبرستان میں عورتوں کا جانا صحیح نہیں
س… ۱: کیا عورتوں کا قبرستان جانا منع ہے؟
۲:… اگر جاسکتی ہیں تو کیا کسی خاص وقت کا تعین ہونا چاہئے؟
۳:… قبرستان جاکر عورتوں یا مردوں کے لئے قرآن پڑھنا یا نوافل پڑھنا منع ہیں، اگر نماز کا وقت ہوجائے اور وقت تھوڑا ہو جیسے مغرب کا وقت ہوتا ہے تو کیا نماز کو قضا کردینا چاہئے یا وہیں پڑھ لینی چاہئے؟
ج… ۱: عورتوں کے قبرستان جانے پر اختلاف ہے، صحیح ہے یہ کہ جوان عورت کو تو ہرگز نہیں جانا چاہئے، بڑی بوڑھی اگر جائے اور وہاں کوئی خلافِ شرع کام نہ کرے تو گنجائش ہے۔
۲:… خاص وقت کا کوئی تعین نہیں، پردہ کا اہتمام ہونا اورنامحرموں سے اختلاط نہ ہونا ضروری ہے۔
۳:… قبرستان میں تلاوت صحیح قول کے مطابق جائز ہے، مگر بلند آواز سے نہ پڑھے، قبرستان میں نماز پڑھنے کی حدیث میں ممانعت آئی ہے، اس لئے قبرستان میں نفل پڑھنا جائز نہیں، اگر کبھی فرض نماز پڑھنے کی ضرورت پیش آجائے تو قبرستان سے ایک طرف کو ہوکر کہ قبریں نمازی کے سامنے نہ ہوں، نماز پڑھ لی جائے۔
کیا عورتوں کا مزارات پر جانا جائز ہے؟
س… کیا عورتوں کے قبرستان، مزارات پر جانے، محفلِ سماع (قوالی) منعقد کرنے کی مذہب نے کہیں اجازت دی ہے؟ اگر یہ جائز ہے تو آپ قرآن و حدیث کی روشی میں ثابت کریں، ویسے مجھے خدشہ ہے کہ کہیں آپ اسے اختلافی مسئلہ سمجھتے ہوئے گول نہ کرجائیں۔
ج… مسئلہ اتفاقی ہو یا اختلافی، لیکن جب جناب کو ہم پر اتنا اعتماد بھی نہیں کہ ہم مسئلہ صحیح بتائیں گے یا گول کرجائیں گے تو آپ نے سوال بھیجنے کی زحمت ہی کیوں فرمائی؟
آپ کو چاہئے تھا کہ یہ مسئلہ کسی ایسے عالم سے دریافت فرماتے جن پر جناب کو کم از کم اتنا اعتماد تو ہوتا کہ وہ مسئلے کو گول نہیں کریں گے، بلکہ خدا و رسول کی جانب سے ان پر شریعت کی ٹھیک ٹھیک ترجمانی کی جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اسے وہ اپنے فہم کے مطابق پورا کریں گے۔
میرے بھائی! شرعی مسائل تو نہ ذہنی عیاشی کے لئے ہیں، نہ محض چھیڑچھاڑ کے لئے، یہ تو عمل کرنے اور اپنی زندگی کی اصلاح کے لئے ہیں، لہٰذا مسئلہ کسی ایسے شخص سے پوچھئے جو آپ کی نظر میں دین کا صحیح عالم بھی ہو، اور اس کے دِل میں خدا کا اتنا خوف بھی ہو کہ وہ محض اپنی یا لوگوں کی خواہشات کی رعایت کرکے شریعت کے مسائل میں تلبیس یا ترمیم نہیں کرے گا۔
اب آپ کا مسئلہ بھی عرض کئے دیتا ہوں، ورنہ آپ فرمائیں گے کہ دیکھو گول کرگئے ناں!
عورتوں کا قبروں پر جانا واقعی اختلافی مسئلہ ہے، اکثر اہلِ علم تو حرام یا مکروہِ تحریمی کہتے ہیں، اور کچھ حضرات اس کی اجازت دیتے ہیں، یہ اختلاف یوں پیدا ہوا کہ ایک زمانے میں قبروں پر جانا سب کو منع تھا، مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی، بعد میں حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی اور فرمایا: “قبروں کی زیارت کیا کرو، وہ آخرت کی یاد دِلاتی ہیں۔”
جو حضرات عورتوں کے قبروں پر جانے کو جائز رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ اجازت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی، مردوں اور عورتوں سب کو شامل ہے۔
اور جو حضرات اسے ناجائز کہتے ہیں، ان کا استدلال یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو قبروں کی زیارت کے لئے جائیں، لہٰذا قبروں پر جانا ان کے لئے ممنوع اور موجبِ لعنت ہوگا۔
یہ حضرات یہ بھی فرماتے ہیں کہ عورتیں ایک تو شرعی مسائل سے کم واقف ہوتی ہیں، دُوسرے ان میں صبر، حوصلہ اور ضبط کم ہوتا ہے، اس لئے ان کے حق میں غالب اندیشہ یہی ہے کہ یہ وہاں جاکر جزع فزع کریں گی یا کوئی بدعت کھڑی کریں گی، شاید اسی اندیشے کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قبروں پر جانے کو موجبِ لعنت فرمایا، اور یہ اختلاف بھی اسی صورت میں ہے کہ عورتوں قبروں پر جاکر کسی بدعت کا ارتکاب نہ کرتی ہوں، ورنہ کسی کے نزدیک بھی اجازت نہیں ہے، آج کل عورتیں بزرگوں کے مزارات پر جاکر جو کچھ کرتی ہیں اسے دیکھ کر یقین آجاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مزاروں پر جانے والی عورتوں پر لعنت کیوں فرمائی ہے؟
عورتوں اور بچوں کا قبرستان جانا، بزرگ کے نام کی منّت ماننا
س… عورتوں اور بچوں کا قبر پر جانا جائز ہے کہ نہیں؟ نیز قبر والے کے نام کی منّت ماننا جیسے کہ بکرا دینا یا کوئی چادر چڑھانا وغیرہ؟
ج… اہلِ قبور کے لئے منّت ماننا بالاجماع باطل اور حرام ہے، درمختار میں ہے:
“جاننا چاہئے کہ اکثر عوام کی طرف سے مُردوں کے نام کی جو نذر مانی جاتی ہے اور اولیائے کرام کی قبروں پر روپے، پیسے، شرینی، تیل وغیرہ کے جو چڑھاوے ان کے تقرّب کی خاطر چڑھائے جاتے ہیں، یہ بالاجماع باطل اور حرام ہیں، اِلَّا یہ کہ نذر اللہ کے لئے ہو اور وہاں کے فقراء پر خرچ کرنے کا قصد کیا جائے، لوگ خصوصاً اس زمانے میں اس میں بکثرت مبتلا ہیں، اس مسئلے کو علامہ قاسم نے “درر البحار” کی شرح میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔”
علامہ شامی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
“ایسی نذر کے ناجائز اور حرام ہونے کی کئی وجوہ ہیں، اوّل یہ کہ یہ نذر مخلوق کے لئے کی جاتی ہے، اور مخلوق کے نام کی منّت ماننا جائز نہیں، کیونکہ نذر عبادت ہے، اور غیراللہ کی عبادت نہیں کی جاتی۔ دوم یہ کہ جس کے نام کی منّت مانی گئی وہ میّت ہے، اور مردہ کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔ سوم یہ کہ اگر نذر ماننے والے کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا یہ فوت شدہ بزرگ بھی تکوینی اُمور میں تصرف رکھتا ہے تو یہ عقیدہ غلط ہے۔” (رد المحتار قبیل باب الاعتکاف ج:۲ ص:۴۳۹، نیز دیکھئے البحر الرائق ج:۲ ص:۳۲۰)
چھوٹے بچوں کو قبرستان لے جانا تو بے ہودہ بات ہے، رہا عورتوں کا قبر پر جانے کا مسئلہ! اس میں علماء کا اختلاف ہے، بعض کے نزدیک عورتوں کا قبروں پر جانا حرام ہے، کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
“اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ان عورتوں پر جو بہ کثرت قبروں کی زیارت کو جاتی ہیں۔”
(رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ، مشکوٰة ص:۱۵۴)
بعض حضرات کے نزدیک مکروہ ہے، اور بعض کے نزدیک جائز ہے، بشرطیکہ وہاں جزع فزع نہ کریں اور کسی غیرشرعی امر کا ارتکاب نہ کریں، ورنہ حرام ہے۔ اس زمانے میں عورتوں کا وہاں جانا مفسدہ سے خالی نہیں، اکثر بے پردہ جاتی ہیں، اور پھر وہاں جاکر غیرشرعی حرکتیں کرتی ہیں، منتیں مانتی ہیں، چڑھاوے چڑھاتی ہیں، اس لئے صحیح یہ ہے کہ جس طرح آج کل عورتوں کے وہاں جانے کا رواج ہے، اس کی کسی کے نزدیک بھی اجازت نہیں، بلکہ بالاجماع حرام ہے۔
قبرستان وقف ہوتا ہے، اس میں ذاتی تصرفات جائز نہیں
س… اگر کوئی شخص مسلمان کہلائے اور مسلمانوں کے قبرستان میں قبروں کو مسمار کرکے ان پر مکانات اور کارخانے تعمیر کرلے، اور ان میں رہائش اختیار کرکے احترامِ قبرستان کی پامالی کا سبب بنے، اس کے اس عمل پر قانون شریعت کیا حد قائم کرتا ہے؟ اور اس کے عمل کا تذکرہ کس انداز میں کیا جائے گا؟
ج… مسلمانوں کا قبرستان وقف ہوتا ہے، اور وقف میں اس قسم کے تصرفات، جو سوال میں ذکر کئے گئے ہیں جائز نہیں، البتہ اگر کسی کی ذاتی زمین میں قبریں ہوں، ان کو ہموار کرسکتا ہے۔
خواب کی بنا پر کسی کی زمین میں بنائے گئے مزار کا کیا کریں؟
س… مولانا صاحب! ہمارے قصبے سے کوئی ایک میل دُور ایک کھیت میں ایک پیر صاحب دریافت ہوئے ہیں، وہ ایسے کہ ایک عورت نے خواب میں دیکھا کہ پیر صاحب کہتے ہیں کہ فلانی جگہ پر میرا مزار بناوٴ۔ لوگوں نے مزار بنادیا، آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ اس مزار پر روزانہ تقریباً ۲۰۰ سے زائد آدمی دُعا مانگنے آتے ہیں، جس مالک کی یہ زمین ہے وہ بہت تنگ ہے، اور کہتا ہے کہ میری زمین سے یہ جعلی مزار ہٹاوٴ، لیکن وہ نہیں ہٹاتے۔ آپ بتائیں کہ اس کا کیا حل ہے؟
ج… ایک عورت کے کہنے کی بنا پر مزار بنالینا بے عقلی ہے، زمین کے مالک کو چاہئے کہ وہ اس کو ہموار کردے اور لوگوں کو وہاں آنے سے روک دے۔
آپکے مسائل اور انکا حل ، جلد ۳  حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمتہ اللہ

************************************************************* 



سوال:
عورتوں کا قبرستان جانا کیوں منع ہے؟ مزارات پر عورت کیا جاسکتی ہے؟ اگر نہیں کیوں؟
جواب:
عورتیں بالعموم چونکہ مردوں کی نسبت کم ہمت اور بزدل ہوتی ہیں، آہ و بکاء، جزع و فزع بہت زیادہ کرتی ہیں، عقیدے میں بھی بگاڑ ہوتا ہے اسی لیے اہل قبور سے استمداد، منت مانگنا وغیرہ شروع کردیتی ہیں، ان وجوہات کی بنا پر عورتوں کو قبرستان جانے سے منع کیا گیا ہے، کما ورد في الحدیث: لعن زوّارات القبور (ترمذي) وقال بعضھم إنما کرہ زیاة القبور في النساء لقلّة صبرھن وکثرة جزعھن (حوالہٴ سابق) بوڑھی عورتوں کے لیے آہ وبکاء کے بغیر عبرت و ترحم اور صالحین کی قبروں سے تبرک حاصل کرنے کی غرض سے زیارت قبور کی فقہاء نے اجازت دی ہے، کما في الشامي: وإن کان للاعتبار والترحم من غیر بکاء والتبرک بزیارة قبور الصالحین فلا بأس إذا کن عجائز (شامي زکریا: ۳​۱۵۱) لیکن فی زمانہ بوڑھی عورتوں کو بھی نہ جانا احوط و اسلم ہے۔ اور چونکہ مزارات پر عورتیں مذکورہ بالا خرافات زیادہ کرتی ہیں؛ اس لیے مزارات پر جانے کی ممانعت بھی شدید ہوگی۔  

واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند
 ******************************************* 
سوال:

 ء کیا عورتوں کا مزار پر جانا صحیح ہے ؟ اس کے بارے میں کویی حدیث ہے ؟مردوں کا مز ار پر جانا صحیح ہے ؟ اگر ہاں تو مزار پر جانے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
۲ء مزا ر پر جاکر کیا عمل کرنا چاہئے؟ اگر عورتوں کا مزار پر جانا منع ہیتو مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پر عورتوں کو جانے سے کیوں نہیں منع کیا جاتاہے؟مزار پر کتبہ بنانا جائز ہے؟اگر نہیں حضور کے روضہ پر گنبد خضرا کیوں ہے؟
جواب:
عورتوں کا زیارت قبور کے لیے دور دراز سفر کرکے مزارات یا درگاہوں پر جانا جائز نہیں، کیوں کہ وہاں مردوں وعورتوں کا اجتماع ہوتا ہے، نیز عورتیں وہاں جاکر وہاں ہورہے افعالِ شرکیہ وغیرہ سے متأثر ہوکر بسا اوقات خود بھی افعالِ شرکیہ ومحرمہ کرلیتی ہیں؛ اس لیے عورتوں کے لیے مزارات ودرگاہوں وغیرہ کے سفر کی اجازت نہیں، مردوں کا مزاروں ودرگاہوں وغیرہ کی زیارت کے لیے سفر کرنا ممنوع نہیں ہے، زیارتِ قبور فی نفسہ مباح ہے، البتہ مزاروں یادرگاہوں پر جاکر سنت کے مطابق ایصالِ ثواب وغیرہ کرکے چلے آنا چاہیے، زیارت قبور کا طریقہ یہ ہے کہ جب قبرستان میں داخل ہو تو ”السلام علیکم اہل الدیار من الموٴمنین والمسلمین وإنا إن شاء اللہ بکم للاحقون، نسأل اللہ لنا ولکم العافیة“ پڑھے۔ (مشکاة شریف: ۱۵۴، باب زیارة القبور) پھر قرآن شریف میں سے جو آسان ہو، سورہٴ فاتحہ، سورہٴ بقرہ کی ابتدائی آیتیں ”مفلحون“ تک، آیت الکرسی، وآمن الرسول، وسورہٴ یسین، وتبارک الملک، وسورة التکاثر، والإخلاص اثني عشر مرة أو عشرا أو سبعا أو ثلاثا ثم یقول: اللہم أوصل ثواب ما قرأناہ إلی فلان أو إلیہم“ (شامی: ۳​۱۵۱، ط: زکریا دیوبند) ۔مزارات پر جاکر وہاں ہورہے افعالِ شرکیہ میں حصہ لینا یا وہاں اپنے نفع ونقصان کے لیے جانا، اور ان کی روحوں کو اپنے افعال واحوال پر مطلع جان کر ان کی قبر کے سامنے عاجزی وانکساری کرکے مرادیں مانگنا وغیرہ ناجائز وحرام ہیں، عورتیں مدینہ منورہ میں روضہٴ اقدس پر حاضر نہیں ہوتیں اور نہ ہی وہ مواجہہ شریف کے پاس کھڑی ہوکر سلام وغیرہ پڑھتی ہیں؛ بلکہ وہ مسجد نبوی کے ایک حصہ میں جو عورتوں کے لیے خاص ہے، عبادت کرکے چلی آتی ہیں، نیز وہاں مرد وزن کا اختلاط بھی نہیں رہتا ہے، اس لیے ان کا مزاروں پر جانے کے لیے استدلال کرنا درست نہیں۔ مزار پر کتبہ لگانا یا اس پر لکھنا درست نہیں۔ عن جابر رضي اللہ عنہ قال: نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أن تجصص القبور وأن یکتب علیہا وأن یبنی علیہا وأن توطأ (رواہ الترمذی: ۱​۲۰۳) اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر پر گنبد خضراء سے جواز پر استدلال نادرست ہے۔ کیوں کہ حجت کسی بادشاہ وغیرہ کا قول وفعل نہیں بلکہ حجت تو شارع علیہ الصلاة والسلام کا قول وفعل ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند


Aurto ka Qabrustan men Jana, Aurto Mardon ka Mazaruon Par Jana kesa?