Showing posts with label Poetry اشعار. Show all posts
Showing posts with label Poetry اشعار. Show all posts

خوبصورت نعت " یہ میری تمنا ہے مَرجائوں مدینے میں "

 
خوبصورت نعت 
 " یہ میری تمنا ہے مَرجائوں مدینے میں "

پسند آئے تو شیئر ضرور کریں

مزید اسلامی ویڈیوز حاصل کرنےکے لیے ہمارا پیج ضرور لائک کریں
جزاک الله خیرا

Download Link 

شان حضرت ابو بکر رضی الله عنہ پر اشعار

 
 🌴 *ابُوبکر تو ابُوبکر ہے*

نبیِ اکرم کا ہمسفر ہے
*ابوبکر تو ابوبکر ہے*

hazrat abu bakr siddique poetry in urdu -  حضرت ابو بکر رضی الله عنہ پر اشعار islamic poetry islamic images
ابوبکر پہ ہمیں فَخَر ہے
*ابوبکر تو ابوبکر ہے*


hazrat abu bakr siddique poetry in urdu -  حضرت ابو بکر رضی الله عنہ پر اشعار islamic poetry islamic images

وفامیں اول، سَخا میں اول
اطاعتِ مُصطفیٰ میں اول
دنیائے فانی سے بے خبر ہے
*ابوبکر تو ابوبکر ہے*

hazrat abu bakr siddique poetry in urdu -  حضرت ابو بکر رضی الله عنہ پر اشعار islamic poetry islamic images

درویش بھی سالار بھی ہے
قرآں کہے یارِ غار بھی ہے
باغِ نبی کا حسیں شجر ہے
*ابوبکر تو ابوبکر ہے*

بعد از نبی رہنمائے اُمت
بےمثل کی جس نےدیں کی خدمت
اصحابِ آقا میں بالا تر ہے
*ابوبکر تو ابوبکر ہے*

hazrat abu bakr siddique poetry in urdu -  حضرت ابو بکر رضی الله عنہ پر اشعار islamic poetry islamic images

سارے صحابہ نبی کے پیارے
سارے صحابہ نبی کے تارے
جو تارا ہر دم گِردِ قمر ہے
*ابوبکر تو ابوبکر ہے*

ابوبکر سے ہماری نسبت
نہ ٹوٹ پائے گی تاقیامت
ہر اُمتی کو شرحِ صدر ہے
*ابوبکر تو ابوبکر ہے*
hazrat abu bakr siddique poetry in urdu -  حضرت ابو بکر رضی الله عنہ پر اشعار islamic poetry islamic images

سانپوں سےزیادہ وہ پُرخطر ہیں
جو منکرینِ ابوبکر ہیں
سینہءِ باطل زیر و زَبر ہے
*ابوبکر تو ابوبکر ہے*

محبوبِ رب کا محبوب ہے تو
تاحشر مہکے گی تیری خوشبو
آوازِ ہُدہُد نگر نگر ہے
*ابوبکر تو ابوبکر ہے*

🌿(صلی اللہ علیہ وسلم)
🌿(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

hazrat abu bakr siddique poetry in urdu -  حضرت ابو بکر رضی الله عنہ پر اشعار islamic poetry islamic images


Isamic Poetry , اسلامی اشعار، شعر , : Page 1


Share Wale Button say WhatsApp , Facebook , Twitter , Google+ Par Share Karen

یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہمیں انصاف کیا دیں گے

 
 اسلامی اشعار، شعر  , islamic Poetry  urdu
 یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہمیں انصاف کیا دیں گے 
لکھا ہے ان کے چہرے پر جو ہم کو فیصلہ دیں گے

اٹھائیں لاکھ دیواریں طلوع مہر تو ہوگا !
یہ شب کے پاسباں کب تک نہ ہم کو راستہ دیں گے

ہمیں تو شوق ہے اہل جنوں کے ساتھ چلنے کا 
نہیں پروا ہمیں یہ اہل دانش کیا سزا دیں گے

ہمارے ذہن میں آزاد مستقبل کا نقشہ ہے 
زمیں کے ذرے ذرے کا مقدر جگمگا دیں گے

ہمارے قتل پر جو آج ہیں خاموش کل جالب 
بہت آنسو بہائیں گے بہت داد وفا دیں گے

Isamic Poetry , اسلامی اشعار، شعر , : Page 1


Gherat e Deen Say Majbuor Muhajjir koi - غیرت دین سے مجبور مہاجر کو ئی

 

Gherat e Deen Say Majbuor Muhajjir koi - غیرت دین سے مجبور مہاجر کو ئی


- =

غیرت دین سے مجبور مہاجر کو ئی
اپنے انصار کی بستی میں اتر جاتا ہے
اتنی بیگانگی!تو خواب میں نہ دیکھی تھی
اپنے من میں وہ یہی سوچتا رہ جاتا ہے
ان کے دعوں کی بلندی کو ماپتا ہے اگر
اس کا پیمانہ ستاروں سے سوا جاتا ہے
ان کے رکتے ہوےْ قدموں کو دیکھ کر لیکن
ایک شکوہ لب گویا پہ ہی رک جاتا ہے
یوں کسی شام وہ تنہائی کی کشتی لے کر
یاد شہداء کے سمندر میں اتر جاتا ہے
جن کے اخلاص وعبادت کے تصور سے فقط
اس کے ایمان میں طوفاں سا مچل جاتا ہے
اور اک سیل رواں چشم تحیر سے نکل
ساحل درد کی آغوش میں تھم جاتا ہے
اے مرے ہاجر جاں باز ! ذرا صبر کہ پھر
نصر رب ساتھ لیے ،فتح کا دن آتا ہے !

Urdu nazam - islamic videos - Emotional Nazam - Nazam With Lyric -
Gherat e Deen Say Majbuor Muhajjir koi
Apne Ansar ki Basti Men Utar jata ai
Jihadi nazam- jihadi tarana - Download nazam audio nazam new nazam mp3 nazam naat

ذکراللہ اور اطمینانِ قلب

 

ذکراللہ اور اطمینانِ قلب
شیخ العرب والعجم حضرت مولاناحکیم محمد اختر صاحب نوراللہ مرقدہ

Allah ka zikar dil ka sakuon  ذکراللہ اور اطمینانِ قلب

دومبارک انسان:
دوستو!اس دنیا میں جس نے اللہ کو نہیں پایا اس نے کچھ نہیں پایا۔جب جنازہ اٹھےگا تو ساتھ کیا جائے گا؟کتنی دولت،کتنا سونا چاندی،کتنی موٹرکار،کتنے موبائل فون لے جاؤ گے؟کیا ساتھ جائے گا قبر میں؟مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے پوری دنیا کے انسانوں میں دو آدمیوں کو مبارک باد پیش کی ہے،فرماتےہیں
؎اے خوشاچشمے کہ آن گریان اوست
مبارک ہیں وہ آنکھیں جو اللہ کو یادکرکے رورہی ہیں۔مبارک ہیں وہ لوگ جو اللہ کو یادکرکے روتے ہیں۔آہ!دیکھو اللہ والوں کو کہ کیسے لوگوں کومبارک بادپیش کرتے ہیں۔
اے ہمایوں دل کہ آن بریان اوست
بہت مبارک دل ہے جو اللہ کی یاد میں رو رہا ہے اورجل رہا ہے۔
دارالعلوم کیا ہے؟
مولانا شاہ محمد احمد صاحب اعظم گڑھ تشریف لے گئے ،حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی‘مصنف عبدالرزاق کے مرتب و محشی ‘بڑے درجہ کے محدث ہیں، جن کاعربوں میں غلغلہ ہے،ان کے دارالعلوم میں جب مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمہ اللہ تشریف لے گئے تو فرمایا
؎دارالعلوم دل کے پگھلنے کا نام ہے
دارالعلوم روح کے جلنے کانام ہے
جس دارالعلوم میں اللہ کی محبت میں تڑپایا نہ جاتا ہواوراللہ کی محبت نہ سکھائی جاتی ہووہ کیا دارالعلوم ہے،وہ بس الفاظ ہیں۔عشق ومحبت ہونا ضروری ہے۔
صحبت شیخ کی ضرورت:
اللہ والوں کی صحبت سے دل میں محبت اور خشیت پیدا ہوتی ہے ۔صحبت اگر ضروری نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیوں فرماتےواصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی کہ آپ صبر کرکے صحابہ میں بیٹھئے اور اپنی صحبت کے شرف سے ان کا تزکیہ فرمائیے۔
مقاصدِ نبوت:
تزکیہ مقاصدِ نبوت میں سے ایک مقصد ہے۔مدارس ومکاتب کا قیام یتلوا علیھم اٰیتہ سے ثابت ہے۔ویعلمھم الکتاب والحکمۃ سے دارالعلوم کا قیام ثابت ہے۔
یزکیھم نفس کا تزکیہ ‘یہ خانقاہوں کا قیام ہے ۔مگر خانقاہ اصلی ہو،جعلی پیر نہ ہوورنہ وہ خانقاہ نہیں خواہ مخواہ ہے اور وہ شاہ صاحب نہیں سیاہ صاحب ہے!اللہ والے کے لیے بھی کسی کا تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے۔اب میں آیت کی تفسیر پیش کرتا ہوں۔
کچھ کام نہ آئے گا:
اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد کام آئے گی۔ عربی میں ایک قاعدہ ہے ان النکرۃاذاوقعت تحت النفی تفید العموم یعنی جب نفی کے بعد نکرہ آئے تو عموم کا فائدہ ہوگا۔مال ولابنون دو نکرہ استعمال فرماتے ہیں یعنی مال اور اولاد قیامت کے دن کچھ بھی مفید نہ ہوگا۔جس پر مولانا محمد احمد صاحب رحمہ اللہ کے دو شعر سناتا ہوں
؎مال اولاد تیری قبر میں جانے کو نہیں
تجھ کو دوزخ کی مصیبت سے چھڑانے کو نہیں
جز عمل قبر میں کوئی بھی ترا یار نہیں
کیا قیامت ہے کہ تو اس سے خبردار نہیں
ہر شخص کا جنازہ یہ کہتا ہے
؎شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہ
اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم
دوسرا جنازہ یہ کہتا ہے
؎دبا کے قبرمیں سب چل دیئے دعانہ سلام
ذرا سی دیر میں کیا ہوگیا زمانے کو
آکر قضاباہوش کو بے ہوش کرگئی
ہنگامۂ حیات کو خاموش کرگئی
جب تک زندگی ہے بیٹے کی شادی ہے بیٹی کی شادی ہے۔فلاں مکان فلاں دکان۔میں اس کو منع نہیں کررہا ہوں لیکن بتلا رہا ہوں کہ آنکھ بند ہوئی اور سب کھیل ختم ہوجائے گا۔
کشتی پانی پر:
دنیا کی ساری ضرورتوں کو پوراکرتے ہوئے ہم اللہ کی محبت کو سب کر غالب رکھیں،دنیا و آخرت کا امتزاج ہو۔مولانا رومی رحمہ اللہ نے سمجھایا کہ دنیا کو ہم کس طرح ساتھ لے کر چلیں۔جیسے کشتی پانی کے اوپر رہتی ہے تو کشتی چلتی ہے لیکن اگرپانی کشتی کے اندرگھس جائے تو کشتی ڈوب جاتی ہے۔اگر دنیا نیچے رہےاور اللہ کی محبت وآخرت غالب رہے تو بہترین آخرت رہے گی کیونکہ وہ دنیا آخرت کے کام آئے گی لیکن اگر دنیا کا پانی آخرت کی کشتی میں گھس گیا تو وہی پانی جو کشتی کے چلنے کا ذریعہ تھا،کشتی ڈبو دے گا
؎آب درکشتی ہلاک کشتی است
آب اندرزیرکشتی پشتی است
پانی کشتی کے اندرآجائے تو کشتی ہلاک ہوجائے گی اور پانی کشتی کے نیچے ہے تو کشتی چلتی رہتی ہے۔
دنیا مطلق بری نہیں:
علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دنیا کو مطلق بری نہ کہو۔
کہتے ہیں کہ دنیا پر لات مارو دنیا پر لات مارو لیکن اگر تین وقت کھانا نہ ملے تو مارنے کے لیے لات بھی نہ اٹھے گی۔ 
علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دنیا وہ بری ہے جو ہمیں نافرمانی میں مبتلا کر دے۔
وان جعلت الدنیا ذریعۃ الآخرۃ ووسیلۃ لھا فھی نعم المتاع اور اگر دنیا کو آخرت کا ذریعہ بنا دو تو دنیا بہترین متاع ہے۔الا من اتی اللہ بقلب سلیم مگر جو قلب سلیم اللہ تعالیٰ کے یہاں پیش کرے گا جنت ‘قیامت کے دن بغیرحساب کے اسی کو ملے گی۔بغیر حساب بخشا جائے گا۔اب قلب سلیم کیسے ہوگا؟اس کے پانچ راستے علامہ سید محمودآلوسی بغدادی رحمہ اللہ نے بیان فرمائے،اس کو سن کر ہم فیصلہ کرلیں کہ ہمارا قلب سلیم ہے یا نہیں۔
قلب سلیم کے پانچ راستے
۱۔انفاق فی سبیل اللہ:
الذی ینفق مالہ فی سبیل البر۔جو اللہ کے راستے میں مال خرچ کرتا ہے ۔چونکہ اسے یقین ہے کہ وہاں ملے گا،خرچ ن

ہیں ہورہا بلکہ اللہ کے یہاں جمع ہورہاہے۔
۲۔اولاد کی تربیت:
الذی یرشد بنیہ الی الحق جو اپنی اولاد کو بھی نیک بنائے۔حضرت ابراہیم وحضرت اسماعیل علیہماالسلام نے دعا مانگی ربنا واجعلنا مسلمین لک
 اے اللہ ہمیں مسلمان بنائے۔ کیا وہ مسلمان نہیں تھے؟
حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ تفسیر فرماتے ہیں کہ مسلمان تھے اب اسلام میں مزیدترقی ہو،ایمان بڑھ جائے۔
بَڑھیا مسلمان بن جائیں۔اعلیٰ سے اعلیٰ مقام حاصل ہو کیونکہ ایمان کی دو قسم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
لیزدادواایمانا مع ایمانھم ایمان پر ایمان کا اضافہ کیسے ہو؟
حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو ایمان موروثی عقلی استدلالی ہے وہ ایمان ذوقی حالی وجدانی میں تبدیل ہو جائے۔یہ زیادتِ ایمان ۔آگے سیدناابراہیم علیہ السلام نے دعا کی ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک معلوم ہوا کہ اولاد کو نیک بنانے کی دعا اور فکر کرنا پیغمبرانہ ذوق ہے۔تو قلب سلیم یہ ہے کہ اپنی اولاد کی تربیت کی بھی فکر کرے۔یہ نہیں کہ ابا تو مسجد میں ہے اللہ اللہ کررہا ہےاوربیٹے ٹی وی اورسنیما دیکھ رہے ہیں،کوئی فکر نہیں۔
انہیں روکو،دو رکعت پڑھ کربیٹے کوہاتھ جوڑکرلےجاؤ،گلاب جامن کھلاؤ،پیسہ دوکہ بیٹا آج تبلیغی جماعت میں چلے چلو،ایک چلہ لگالو ۔یا کوئی اللہ والے بزرگ آئے ہیں یا بزرگوں کے غلام آئے ہیں ان کے پاس لے جاؤ۔یہ بتاؤ کہ اگر ان کو کوئی بیماری لگ جائے تو بزرگوں کے پاس چھاڑپھونک کے لیے لے جاتے ہویا نہیں؟مگر روحانی بیماری کے لیے اللہ والوں کے پاس لے جانے کی کوئی فکر نہیں ہے کہ خدا کا کچھ خوف پیدا ہوجائے تو بیماری بھی ختم ہو جائے۔
۳۔غلط عقیدوں سے پاکی:
الذی یکون قلبہ خالیا عن العقائد الباطلہ جس کا دل باطل عقیدوں سے پاک ہو۔ایسا عقیدہ نہ ہو کہ پیروں سے بیٹا وغیرہ مانگنے لگے
؎خدا فرماچکا ہے قرآں کے اندر
مرے محتاج ہیں پیروپیمبر
وہ کیا ہے جو نہیں ہوتا خدا سے
جسے تو مانگتا ہے اولیا سے
اورسنت کے خلاف جو پیر چلے اگر وہ ہوا پر اُڑتا ہوتو اس کو شیطان سمجھو
؎ترکِ سنت جو کرے شیطان گن
اگرکوئی پیرفقیرکرامت دکھاوے ہوا پر اُڑنے لگے مگر داڑھی نہیں رکھتا،نماز نہیں پڑھتا، سنت کے خلاف زندگی ہے،اس کو ولی اللہ سمجھنا جائز نہیں۔خلافِ شرع امورکو قربِ الٰہی کا ذریعہ سمجھنا کفر ہے۔
۴۔خواہشات کا غلبہ نہ ہو:
الذی یکون قلبہ خالیا عن غلبۃ الشہوات۔جس کا دل شہوتوں کے غلبہ سے پاک ہو۔ شہوت تو رہے کہ بیوی کا حق ادا کرسکے‘ہاں!کافور کی گولی بھی نہ کھالے کہ بیوی کے قابل بھی نہ رہے اور اتنا اوورفل شہوت بھی نہ ہو کہ کسی کی تمیز ہی نہ رہے۔
ہر ایک کوتانک جھانک کرنے لگے۔دل غلبۂ خواہش سے پاک ہو یعنی دل خواہش پر غالب ہو، جہاں حلال ہووہاں ٹھیک ہے۔
جہاں حرام دیکھا بس اللہ کی پناہ مانگے اور وہاں سے بھاگے ۔ خواہشات سے مغلوب نہ ہو۔
۵۔غیراللہ سے دل پاک ہو:
الذی یکون قلبہ خالیا عماسوی اللہ۔جس کا دل ماسوااللہ سے خالی ہو۔یعنی بیوی بچوں اور مال ودولت پر اللہ کی محبت غالب آجائے۔جس کو جگر مراد آبادی نے کہا تھا
؎میر اکمالِ عشق بس اتنا ہے اے جگر
وہ مجھ پر چھاگئے میں زمانہ پہ چھا گیا
اس کو خواجہ عزیزالحسن مجذوب رحمہ اللہ نے فرمایا اور ذکر کے وقت یہ شعر پڑھتے تھے
؎دل مرا ہوجائے اِک میدانِ ھُو
تو ہی تو ہوتو ہی تو ہوتو ہی تو
اورمرے تن میں بجائے آب وگِل
دردِ دل ہودردِدل ہودردِ دل
غیر سے بالکل ہی اٹھ جائے نظر
تو ہی توآئے نظر دیکھوں جدھر
ترے جلوؤں کے آگے ہمت شرح وبیاں رکھ دی
زبان بے نگہ رکھ دی ناگہِ بے زباں رکھ دی
جو کچھ ہوسارے عالم میں ذرہ ذرہ میں اللہ تعالیٰ نظر آئے۔اگر اللہ مل جائے،دل باخدا ہوجائے تو آنکھیں بھی باخدا ہوجاتی ہیں۔جیسا دل ہوتا ہے ویسی ہی آنکھ ہوتی ہے۔ ابوجہل کا دل خراب تھا اس لیے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمیز اور پہچان نہیں ہوسکی۔اللہ والوں کو بھی پہچاننے کے لیے اللہ تعالیٰ دل میں بینائی اور بصیرت عطاکرتا ہے۔بس اب دعا کیجیے۔
وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین
Allah ka zikar dil ka sakuon sakuon ka  wazifa dil  ka  sakuon quran me

Allah ka zikar Karne ka Tarika or Fazail fawaid - ذکر 


Astaghfar ki fazilat Fawaid - استغفار کی فضیلت





  Upar Share's Button say Whatsapp Facebook , Twitter , Google+ Par share Zaror Karen
Jazak Allah Khair

نادان یہ عورت کیا جانے ..!

 
نادان یہ عورت کیا جانے
سب گھات لگائے بیٹھے ہیں

باتوں میں تو کیسے آئے گی
سب بات بنائے بیٹھے ہیں

کب قدم تیرے رستہ بھٹکیں
سب نظریں جمائے بیٹھے ہیں

یہ مال سمجھتے ہیں تجھکو
بازار سجائے بیٹھے ہیں

منہ سے تجھے مظلوم کہیں
سوچوں میں نچائے بیٹھے ہیں

تو بہن بھی ہے تو ماں بھی ہے
سب رشتے گمائے بیٹھے ہیں

یہ عورت مرد کے رشتے کو
بس کھیل بنائے بیٹھے ہیں

یہ بد ہیں, بدکردار بھی ہیں
صورت کو چھپائے بیٹھے ہیں

گر ایسا نہیں تو چپ کیوں ہیں
کیوں دین گمائے بیٹھے ہیں

سبق ہیں جو الله نے دیے
کیوں سارے بھلائے بیٹھے ہیں

تو ان پہ بھروسہ نہ کرنا
یہ جال بچھائے بیٹھے ہیں

خود اپنی حفاظت کرنی ہے
یہ شرم مٹائے بیٹھے ہیں


aurat in islam , hijab quotes in urdu , women islam ,love story , piyar ka wazifa, parda , girls beauty tips in urdu  , islamic images , whatsapp images , pakistani girls photos


ماہ رمضان مبارک پر کچه اشعار

 


بے زبانوں کو جب وہ زبان دیتا ہے
پڑھنے کو پھر وہ قرآن دیتا ہے
بخشش پہ آتا ہے جب امت کے گناہوں کو
تحفے میں گناہ گاروں کو رمضان دیتا ہے
———–
چشم بار ہو کہ مہمان آ گیا
دامن میں الہی تحفہ ذیشان آ گیا
بخشش بھی، مغفرت بھی،جہنم سے بھی نجات
دست طلب بڑھاؤ کہ رمضان آ‌گی
——————
ramzan ul mubark msg ramzan poetry ramzan mubark msg sms urdu poetry islamic poetry
————
گناہوں کی عادت چھڑا دے یا الہی
ہمیں نیک انسان بنا دے یا الہی
جو تجھ کو جو تیرے محبوب کو پسند ہو
ہمیں ایسا انسان بنا دے یا الہی
—————–
اہلِ ایماں کے لئے ہے یہ مسرت کا پیام
آگیا سرچشمہء فضلِ خدا ماہِ صیام
روح پرور ہے یہ تسبیح و تلاوت کا سماں
کررہے ہیں سب بقدرِ ظرف اس کا اہتمام
مسجدیں فضلِ خدا سے مطلعِ انوار ہیں
پی رہے ہیں اہلِ ایماں بادہء وحدت کا جام
بارگاہِ رب العزت میں سبھی ہیں سجدہ ریز
دید کے قابل ہے یہ قانونِ قدرت کا نظام
طالبِ فضلِ خدا ہیں بچے بوڑھے اور جوان
بھوکے پیاسے ہیں مگر پھر بھی نہیں ہیں تشنہ کام
ماہِ رمضاں میں یہ افطار و سحر کا انتظار
ہے نشاطِ روح کا ساماں برائے خاص و عام
پیش خیمہ عید کا ہے ماہِ رمضاں اس لئے
ہو مبارک سب کو برقی اِس کا حُسنِ اختتام
————-
عبادتوں کے اس دور میں
آؤ مانگیں سب کے لیے مغفرت
مانگتے ہیں ہم کچھ نہ کچھ اپنے لیے
چلو آج دوسروں کے لیے مانگیں
رمضان کی آمد کی خوشی ہے بہت
ساتھ ہی اس کے رخصت ہو جانے کا غم
خدا کرے وقت تھم جائے اس وقت
جب برس رہی ہو خدا کی رحمت ہم پر
رمضان کے رخصت ہونے سے پہلے
درِ توبہ بند ہونے سے پہلے
اس مبارک مہینے کی ہر فضیلت حاصل کر لیں
جو ہم گزشتہ سالوں میں حاصل نہ کر سکے
—————————-
میری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اس مبارک ماہ اپنی رحمتوں کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے سب کو….. آمین
 , Ramazan ul mubark ki amad par asahr ramazan poetry islamic poetry  urdu poetry islamic poetry ramzan رمضان پر اردو اشعار

ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺯﺧﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﮭﻮﻝ ﺑﺮﺳﺎﺋﮯ

 


ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﮯ ﮐﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﺳﺘﮕﯿﺮﯼ ﮐﯽ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻓﻘﯿﺮﯼ ﮐﯽ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺳﮑﮭﻼﺋﮯ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺯﺧﻢ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﮭﻮﻝ ﺑﺮﺳﺎﺋﮯ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺧﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﺎﺳﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺒﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮟ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮟ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﻮ ﺣﯿﺎﺕ ﺟﺎﻭﺩﺍﮞ ﺩﮮ ﺩﯼ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ، ﺍﺑﻮ ﺳﻔﯿﺎﻥ ﮐﻮ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﻣﺎﮞ ﺩﮮ ﺩﯼ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺻﺤﺎﺋﻒ ﻣﯿﮟ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ، ﮨﻮﺍ ﻣﺠﺮﻭﺡ ﺟﻮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻃﺎﺋﻒ ﻣﯿﮟ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ، ﻭﻃﻦ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺗﻨﮓ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﺳﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﭨﻮﭨﺎ ﺑﻮﺭﯾﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺑﭽﮭﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻮ ﺳﭽﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﺩﮐﮫ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ، ﺟﻮ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺭﮦ ﮐﮯ ﺍﻭﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻼﺗﺎ ﺗﮭﺎ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ، ﺟﻮ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﺗﺎ ﺗﮭﺎ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ، ﺟﻮ ﻓﺮﺵ ﺧﺎﮎ ﭘﺮ ﺟﺎﮌﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﮨﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮨﮯ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻓﺨﺮ ﺁﺩﻣﯿﺖ ﮨﮯ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺟﮭﻮﻟﯿﺎﮞ ﺑﮭﺮ ﺩﯾﮟ ﻓﻘﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﻣﺸﮑﯿﮟ ﮐﮭﻮﻝ ﺩﯾﮟ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﺗﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﺍﮦ ﺩﯼ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺳﻨﮓ ﭘﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯼ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ، ﺷﮑﺴﺘﯿﮟ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﯾﮟ ﺑﺎﻃﻞ ﮐﯽ ﻓﻮﺟﻮﮞ ﮐﻮ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺳﻨﮓ ﭘﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯼ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺭﺍﺯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﺪﺭ ﮐﮯ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺷﯿﺪﺍﺋﯽ
ﺍﻟﭧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺨﺖ ﻗﯿﺼﺮﯾﺖ، ﺍﻭﺝ ﺩﺍﺭﺍﺋﯽ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﻟﯿﻮﺍ ﮨﺮ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭨﮑﮍﺍ، ﺳﺮﻓﺮﻭﺷﯽ ﮐﮯ ﻓﺴﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﺳﻼﻡ ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﭘﺮ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﮞ ﺣﺎﻝ ﺩﯾﻮﺍﻧﮯ
ﺳﻨﺎﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺧﺎﻟﺪ ﻭ ﺣﯿﺪﺭ ﮐﮯ ﺍﻓﺴﺎﻧﮯ
ﺩﺭﻭﺩ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺑﺰﻡ ﻣﯿﮟ ﻗﺴﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﺗﯽ
ﺩﺭﻭﺩ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺫﮐﺮ ﺳﮯ ﺳﯿﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﺩﺭﻭﺩ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺗﺬﮐﺮﮮ ﮨﯿﮟ ﭘﺎﮎ ﺑﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﺩﺭﻭﺩ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ
ﺩﺭﻭﺩ ﺍﺱ ﭘﺮ، ﺟﺴﮯ ﺷﻤﻊ ﺷﺒﺴﺘﺎﻥ ﺍﺯﻝ ﮐﮩﺌﮯ
ﺩﺭﻭﺩ ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﭘﺮ، ﻓﺨﺮِ ﺑﻨﯽ ﺁﺩﻡ ﺟﺴﮯ ﮐﮩﺌﮯ

Isamic Poetry , اسلامی اشعار، شعر , : Page 2

 

اسلامی اشعار، شعر

 Islamic Poetry in Urdu

  ***************************************

کُھلا ہے جُھوٹ کا بازار، آؤ سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار، آؤ سچ بولیں
سکُوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر
یہی ہے موقعِ اِظہار، آؤ سچ بولیں
جو وصف ہم میں نہیں کیوں کریں کسی میں تلاش
اگر ضمیر ہے بیدار، آؤ سچ بولیں
چُھپائے سے کہیں چُھپتے ہیں داغ چہروں کے
نظر ہے آئینۂ بردار، آؤ سچ بولیں

***********

ﻣُﺠﮭﮯ ﮐﺮ ﻋﻄﺎ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻟﻠﮧ، ﺗﻮُ ﺑﮩﺖ ﺑﻨﺪﮦ ﻧﻮﺍﺯ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺻﺒﺢ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺰﻭﻝ ﮐﯽ

***********

ویلنٹائن کا دن کیا ہے؟


یہ شہوت کا پکارا ہے، یہ عریانی کا نعرہ ہے

یہ دعوت ہے فحاشی کی ، ہوس کا استعارہ ہے

  **********

*********

  " وہ عطا کرے تو شکر اس کا
وہ نہ دے تو ملال نہیں
میرے رب کے فیصلے کمال ہیں
ان فیصلوں میں زوال نہیں
"

**********

***********

*********

جو یقین کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پہ بہک گۓ

********

یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہمیں انصاف کیا دیں گے 

  ***********


  *********

ﺍﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﭼﺎﺭ ﭼﺎﻧﺪ
ﺑﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﮨﻮﮐﮯ ﺣﺴﻦ ﮐﯽ ﻧﮑﮩﺖ ﮐﮩﺎﮞ ﺭﮨﯽ
ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﮭﻮﺩﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻗﺎﺭ ﮐﻮ
ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﻋﺰﺕ ﮐﮩﺎﮞ ﺭﮨﯽ

********

(((میرے پیارے اللہ تعالی)))


آسمانوں پہ ستاروں کوسجاتا تو ہے
اور مہتاب کا فانوس جلاتا تو ہے
یہ تری شانِ کریمی ہے کہ ہر بندے پر
عقل و حکمت کے خزینوں کو لٹاتا تو ہے

**********
وہ سنتا ہے سب کی دعا کرکے تو دیکھو
تم اپنے نصیب آزما کر تو دیکھو

سیاہی گناہوں کی دھل جائے دل سے
تم آنکھوں سے آنسو بہا کر تو دیکھو
********

 جتنے بھی تاریک گھر ہیں اجالوں سے دور دور

اتنی ہی روشنی میں اجالوں سے چھین لوں

جتنے بھی ننگے تن ہیں جاڑوں سے بے نیاز

اتنی ہی چاردریں میں مزاروں سے چھین لوں

اللہ!اتنے تو حوصلے ہوں کم سے کم میرے بلند

کہ شاہوں کےتاج سب میں اشاروں سے چھیں لوں 

********

شرافت سوز تصویروں کی عریانی نہیں جاتی
ادب کی آڑ میں ترغیب رومانی نہیں جاتی
خدا معلوم کیا انجام ہوگا نسل آدم کا
وطن سے فحش نغموں کی فراوانی نہیں جاتی
عذاب آئے تو اس میں سینکڑوں کی جان جاتی ہے
نہیں جاتی تو شیطانوں کی شیطانی نہیں جاتی
کہیں بستی کی بستی بوند پانی کو ترستی ہے
کہیں بارش برستی ہے تو طغیانی نہیں جاتی
جہاں کے ذرے ذرے سے نمایاں ہے جلال اس کا
مگر ہم سے خدا کی ذات پہچانی نہیں جاتی
اہل زمانہ اس قدر قائل ہوا ہے جھوٹ کا ثانی
جو سچ کہتا ہے اس کی ایک بھی مانی نہیں جاتی  

**********

ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺟﺐ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﻮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ
ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﺍٓﺑﺎﺩﯼ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﺗﮭﮯ
ﻭﯾﺮﺍﻥ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﯾﮩﯽ ﺑﯿﺎﮞ ﺗﮭﮯ
ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﭼﻞ ﻣﺴﺎﻓﺮ
ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ ​

*********
میری تحریر میں لِپٹے ہُوئے تابُوت نہ کھول۔
لفظ جی اُٹھے تَو، تُو خوف سے مَر جائے گا۔

*****

آئینہ پھیلا رہا ہے ... خود فریبی کا یہ مرض
ہر کسی سے کہہ رہا ہے ... آپ سا کوئی نہیں  

********

خطائیں دیکھ کر بھی عطائیں کم نہیں کرتا
میں اکثر سوچتا ہوں میرا رب مہربان کتنا ہے  

 *******

مجھے گماں ہے کہ چاہا ہے بھت زمانے نے مجھے
میں عزیز تو سب کو ہوں مگر ضرورتوں کی طرح  

*******

Isamic Poetry , اسلامی اشعار، شعر , : Page 1