میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع جشن منانے کا حکم
اول:سیرت نگار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش کے بارے میں مختلف اقوال رکھتے ہیں، تاہم سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات گیارہ سن ہجری کو 12 ربیع ا الاول کے دن ہوئی تھی! اور یہی وہ دن ہے جس میں عوام الناس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا جشن مناتی ہے!!
دوم: پوری شریعت اسلامیہ میں ایسا کوئی تہوار نہیں ہے جس کا نام "عید میلاد النبی" ہو، چنانچہ صحابہ کرام، تابعین عظام، اور تمام ائمہ کے عہد میں اس دن جشن منانا تو دور کی بات ہے، اس کا نام و نشان بھی نہیں تھا، بلکہ اس بدعت کی ایجاد باطنی بدعتی لوگوں نے کی پھر ان کے پیچھے سب لوگ لگ گئے اور اسے منانے لگے۔ سوم: کچھ سنت کے شیدائی اپنے ملک میں ہونے والے جشن عید میلاد کے جلسے اور جلوسوں سے متاثر ہو کر بدعت سے بچنے کیلئے صرف اپنے گھر کے لوگوں کو جمع کر تے ہیں، خصوصی طور پر کھانا تیار کیا جاتا ہے اور سب مل کر کھاتے ہیں، اسی طرح کچھ لوگ اپنے ساتھیوں اور عزیز و اقارب کیساتھ مل کر گھر میں اسی مقصد سے پروگرام منعقد کرتے ہیں ، اور کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت خوانی کیلئے اکٹھے ہوتے ہیں یا سیرت نبوی پر خطاب سنتے ہیں۔اس میں یہ امر بھی شامل ہوتا ہے کہ آپ کا مقصد اتفاق و اتحاد اور غیر مسلم ملک میں اپنے دینی تشخص کی پاسداری یہ بہت اچھے مقاصد ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام اچھے مقاصد مل کر بھی عید میلاد النبی کے جشن کو جواز فراہم نہیں کر سکتے، بلکہ یہ جشن بدعت ہی رہے گا، چنانچہ اگر آپ کوئی تہوار منانا چاہتے ہیں تو عید الفطر اور عید الاضحی مسلمانوں کی دو عیدیں ہیں، اور اگر اس سے زیادہ آپ کو تہوار چاہییں تو ہر ہفتے ہمارے پاس جمعہ کا دن ہے،
اس دن جمعہ کیلئے سب اکٹھے ہوں، اور دینی تشخص بیدار کرنے کیلئے اپنی پوری توانائی صرف کر دیں۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر پورے سال کے دن آپ کے پاس موجود ہیں ، آپ کسی بھی دن جمع ہو جائیں بس یہ خیال رہے کہ ایسا کوئی دن نہ ہو جس میں خود ساختہ تہوار منایا جاتا ہو، بلکہ شادی بیاہ، عقیقہ، اور کسی بھی جائز تقریب میں جمع ہو کر آپ ك اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ذیل میں اہل علم کے فتاوی جات ہیں جس میں مذکورہ نیتوں کیساتھ ان تقریبات کے منانے کا حکم موجود ہے۔ 1- ابو حفص تاج الدین فاکہانی رحمہ اللہ جشن میلاد کی اقسام بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ایک قسم یہ ہے کہ: انسان اپنے ذاتی مال سے اپنے گھر والوں اور دوست احباب کیلئے کھانا تیار کرے اور اکٹھے بیٹھ کر کھانا تناول کریں، اس سے زیادہ اور کچھ نہ ہو، کسی قسم کا کوئی گناہ کا کام بھی نہ کیا جائے تو اسی قسم کے بارے میں ہم نے یہ کہا ہے کہ یہ بدعت اور برا عمل ہے؛ کیونکہ ایسا عمل ہمارے فقہائے اسلام، علمائے کرام، اور چمکتے ستاروں نے ماضی میں کبھی نہیں کیا" " المورد في عمل المولد " ( ص 5 ) 2- ابن حاج مالکی رحمہ اللہ گانے بجانے، موسیقی، اور مرد و زن کے اختلاط سے پاک جشن میلاد کے بارے میں کہتے ہیں: "اگر عید میلاد میں یہ سب کچھ نہ ہو ، صرف کھانا بنا کر جشن میلاد منایا جائے اور دوست احباب کو بلائے تو صرف اسی نیت کی وجہ سے یہ عمل بدعت قرار پائے گا؛ کیونکہ یہ دین میں اضافہ ہے، سلف صالحین کا عمل نہیں ہے، چونکہ سلف صالحین کی اتباع اور ان کے نقش قدم پر چلنا ضروری امر ہے اس لیے ان کے طریقہ کار سے متصادم طریقہ اپنانے کی وجہ سے گناہ میں مزید اضافہ بھی ہوگا؛ کیونکہ سلف صالحین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے شیدائی تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر سختی سے عمل پیرا رہنے والے لوگ تھے، بلکہ اتباع سنت کیلئے وہ لوگ سب سے آگے تھے، لیکن اس کے باوجود کسی سے ایسی کوئی بات منقول نہیں ہے کہ انہوں نے میلاد منایا ہو ، یا میلاد منانے کی نیت ہی کی ہو، ہم ان کے نقش قدم پر چلیں گے، اور وہی کچھ کرینگے جو انہوں نے کیا تھا، اور یہ بات سب کیلئے عیاں ہے کہ سلف صالحین کی اتباع و پیروی حقیقی مآخذ و مصادر پر عمل کی صورت میں ہی ہے ،
یہی بات شیخ امام ابو طالب مکی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں بھی کہی ہے"" المدخل " ( 2 / 10 ) 3- کچھ لوگ احتیاط کا پہلو اپناتے ہوئے جشن میلاد میں گانے بجانے کی بجائے صحیح بخاری پڑھتے ہیں ، اب یہ عمل بذاتہ خود ایک عظیم عمل اور عبادت ہے، بلکہ خیر و برکت کا موجب بھی ہے، لیکن اس کیلئے شرط وہی ہے کہ اسے بھی اسی انداز سے سر انجام دیا جائے جیسے کہ اسے کرنے کا شرعی طور پر طریقہ بتلایا گیا ہے، جشن میلاد کی نیت سے نہ کیا جائے،
اس کی مثال آپ یوں سمجھیں کہ نماز قرب الہی کے حصول کا عظیم ترین ذریعہ ہے، لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شخص نماز کے وقت سے پہلے ہی یا نماز کا وقت ہی نہ ہو تو
ایسے وقت میں نماز ادا کرنا قابل مذمت اور شریعت سے متصادم ہوگا، اگر نماز کا یہ معاملہ ہے تو اس کے علاوہ دیگر امور کا کیا حال ہوگا؟! " المدخل " ( 2 / 25 ) خلاصہ یہ ہوا کہ: ذکر کردہ اہداف باہمی راوبط اور تعلقات کو فروغ دینے کیلئے بدعتی جشن کو منانا جائز نہیں ہے،" چنانچہ ان عظیم مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے دیگر جائز مواقع کو استعمال کریں، اس کیلئے آپ سال کے کسی بھی دن اکٹھے ہو سکتے ہیں۔مگر کسی دن کو مخصوص کرلینا اور اُس پر ثواب کی نیت رکھنا بدعت ہوگا
ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپکو اچھے مقاصد میں کامیاب کرے اور آپ کی کامیابی کیلئے رہنمائی فرمائے۔واللہ اعلم.
مفہوم حدیث Hadees in Urdu Zikar ki Fazilat حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور میزان پر بھاری ہیں رحمن کو محبوب ہیں اور وہ سُبحَانَ اللَّـهِ وَبِحَمدِہِ، سُبحَانَ اللَّـهِ العَظِیِم ہیں... (رواه البخاري: [6406]) ""كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وبحمدہ سُبْحَانَ اللَّهِ العظیمِ" (رواه البخاري: [6406])
فرشتے وہ مخلوق جن کے اندر برائی کی صلاحیت ہی نہیں ،وہ اگر تقوی اختیار کریں تو کمال نہیں،کمال تو یہ ہے کہ برائی کی صلاحیت ہو اور اللہ کے ڈر سے رک جائیں۔آنکھیں ہی نا ہوں، اور اگر کسی غیر محرم کی طرف وہ نہیں دیکھتا تو کمال نہیں، کمال یہ ہے کہ آنکھیں بھی ہیں سامنے دیکھنے کے لئے ناجائز منظر بھی ہے،لیکن اللہ کے خوف سے آنکھوں کو جھکا لیتا ہے۔
درست فرمایا شیخ نےالله سبحان و تعالی شیخ کے درجات بلند فرمائے الله سبحان و تعالی کے تقوی میں ایسی لذت اور مٹھاس ہے جو ناقابل بیان ہے جس کسی کو یہ خصوصیت حاصل ہے وہ کامیاب انسان ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی الله سبحان و تعالی مجھے اور تمام لوگوں کو اپنا تقوی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
---------
بدنظری چهوڑ دو- بدنظری کا گناه - Badnazri Chuor do Nojwano
Ab tu Tubah kar le Ay insaan - Emotional Bayan
Nazar ki Hifazat ka Lock - حفاظت نظر کا تالا اصلاحی بیان ایک بار ضرور سنیں
SHO Ki Beti Ko konn Dekhy ga ..! ایس اچ او کی بیٹی کو کون دیکهے گا
Gunaho se bachne ki dua - badnazri ka ilaj - badnazri ki saza - gunaho say tubah - Tubah karne ka tarika islamic quotes in urdu islamic bayan islamic videos urdu bayan nazar ki hifazat kaise kare
اچھا دوست:
وہ ہے جو اللہ کا مطیع وفرمانبردارہو ،اس کے اوامر کی پابندی کرنیوالا
،منہیات سے دور رہنے والا،فرائض کو ادا کرنے والا،سنن کی پابندی کرنے
والا،حدود اللہ کا لحاظ رکھنے والا،اچھے اور اعلی اخلاق سے پیش آنے
والا،برے اخلاق سے بچنے والا،صلہ رحمی کرنے والا،والدین سے حسن سلوک
کرنیوالا ، ہمسائے سے احسان کرنے والا،بردبار عاجز ،لوگوں کے کام آنے والا
اورلوگوںکواذیت دینے سے دور رہنے والا ہو۔
برا دوست
وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کا باغی ہو،فرائض میں کوتاہی کرنے
والا،منہیات میں جرأت کرنے والا،حدود اللہ کو پامال کرنے والا،برے اخلاق
سے پیش آنے والا،قطع رحمی کرنے والا،والدین کا نافرمان،ہمسائے سے برائی
کرنے والا،جلد اور بہت زیادہ غصہ کرنے والا،متکبراور لوگوں کو اذیت دینے
والا ہو۔گویا کہ عقیدہ عمل اور سلوک کرنے میں دین سے منحرف ہو۔
اچھی صحبت کے اثرات:بے شک انسانی زندگی پر اچھی صحبت کے اچھے اثرات مرتب
ہوتے ہیں کیونکہ اچھا دوست آپ کو خیر اور بھلائی کی جانب راہنمائی کرے
گا۔اور آپ کو دین ودنیا کی بہتری کا مشورہ دے گا۔اللہ کی اطاعت اور
فرمانبرداری پر راغب کرے گا جبکہ آپ کے عیوب کی بھی نشاندہی کرتا رہے
گا۔برے اخلاق چھوڑ کر اچھے اخلاق اپنانے کی دعوت دے گا۔یا کم از کم آپ اس
کی نیکی کو دیکھ کر خود نیکی کرنے کی کوشش کریں گے۔آپ کی موجوگی یا عدم
موجودگی میں آپ کی خیر خواہی کرے گا اور آپ کی زندگی یا موت کے بعدآپ کے
لئے دعا مغفرت کرے گا۔
بری صحبت کے اثرات:جس طرح اچھی صحبت سے انسانی زندگی پر اچھے اثرات مرتب
ہوتے ہیں اسی طرح بری صحبت اختیار کرنے سے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔کیونکہ
برے دوست کے تمام احوال ونقائص میں آپ اس کے برابر کے شریک ہیں۔اور سب سے
برا اثر جو انسان پر مرتب ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یا تو برا دوست آپ کو بھی
برائی میں شرکت کی دعوت دے گاجو آپ کے دین و دنیا دونوں کے لئے مضر ہے یا
پھر برائی پر آپ کی حوصلہ افزائی کرے گا۔اور آپ کو والدین کی نافرمانی
اورقطع رحمی پر ابھارے گا۔آپ کے رازوں کو مخفی رکھے گا تاکہ آپ اپنے
گناہوں کو جاری رکھیں۔نیز آپ کی عدم موجودگی میںآپ کے رازوں کو افشاء
کردینا آپ کے لئے ذلت ورسوائی کا سبب ہو گا۔ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا
جاتا ہے اور اپنے دوستوں کے دین پر ہوتا ہے جیسا کہ کسی شاعر کا کلام ہے:
کسی بھی آدمی کے بارے میں مت پوچھ! بلکہ اس کے دوست کے متعلق پوچھ۔کیونکہ دوست اپنے دوستوں کے پیروکار ہوتے ہیں۔
حضرت ابو موسی اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اچھے دوست اور برے دوست کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ((مثل الجلیس الصالح والجلیس السوء کحامل المسک ونافخ
الکیر ،فحامل المسک اما أن یحذیک ،واما أن تبتاع منہ،واما أن تجد منہ
ریحا طیبۃ،ونافخ الکیر اما أن یحرق ثیابک،واما أن تجد منہ
ریحاخبیثۃ))[متفق علیہ]
’’
اچھے دوست اور برے دوست کی مثال کستوری اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے
والے کی مانند ہے،کستوری اٹھانے والا یا تو آپ کو ہدیہ میں دے دیگایا آپ
اس سے خرید لیں گے یا کم از کم اچھی خوشبو تو پائیں گے،جبکہ بھٹی جھونکنے
والا آپ کے کپڑوں کو جلا دے گا یا کم از کم آپ اس سے بدبوپائیں گے۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے اس مثال کے ذریعہ معقول کو محسوس کے قریب کر دیا ہے۔جس سے
صحبت کے اثرات کوسمجھنے میں مدد ملے گی۔کہ جس طرح کستوری والے کے پاس
بیٹھنے سے فائدہ ہی فائدہ ہے اسی طرح اچھی صحبت اختیار کرنے سے انسان خیر
اور بھلائی میں رہتا ہے جبکہ بھٹی جھونکنے والے پاس بیٹھنے سے نقصان ہی
نقصان ہے اسی بری صحبت اختیار کرنے سے انسان خسارہ میں ہی رہتا ہے۔ نیک لوگوں کے ساتھ محبت اور ان کی صحبت اختیار کرنے کے فوائد
نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے ان کے ساتھ بیٹھنے اور ان سے محبت کرنے کی
فضیلت میں کتاب وسنت میں بہت ساری نصوص وارد ہیں۔جیسا کہ حضرت ابوسعید خدری
روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ((لاتصاحب الا مؤمناولا یأکل طعامک الا تقی)) [ابوداؤد،ترمذی]
’’صرف مومن شخص کی صحبت اختیار کر،اور تیرا کھانا صرف متقی شخص کھائے۔‘‘
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ((الرجل علی دین خلیلہ فلینظر أحدکم من یخالل))[ابوداؤد،ترمذی]
’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے،پس چاہئیے کہ تم میں سے ہر شخص اپنے دوست کو دیکھے۔‘‘
حضرت ابوموسی أشعری روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ((المرء مع من أحب))
’’آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرتا ہے۔‘‘
ایک دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ جو شخص کسی قوم کے
ساتھ محبت کرتا ہے اسے اس قوم کے ساتھ ملحق کیوں کر دیا جاتا ہے؟تو نبی
کریم ﷺ نے فرمایا:((المرء مع من أحب))’’آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرتا ہے۔‘‘
اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ دین دار عورت سے شادی کی جائے تاکہ وہ
تمہارے دین میں تمہاری مدد گار ثابت ہو سکے۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ((تنکح المرأۃ لأربع لمالھا ولحسبھا ولجمالھا ولدینھا فاظفر بذات الدین تربت یداک)) [متفق علیہ]
’’چار وجوہ سے عورت کے ساتھ نکاح کیا جاتا ہے۔اس کے مال کی وجہ سے،اس کے
حسب ونسب کی وجہ سے،اس کے جمال کی وجہ سے ،اور اس کے دین کی وجہ سے۔دین
والی کو ترجیح دوتیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔‘‘
حضرت ابو ہریرہ کی حدیث میں ان سات افراد کا تذکرہ ہے جن کو قیامت کے دن
اللہ تعالیٰ اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائیں گے جن میں سے دو افرادوہ بھی
ہیں: ((رجلان تحابا فی اللہ اجتمعا علیہ وتفرقا علیہ))
’’جو فقط اللہ کے لئے محبت کرتے ہیں اسی محبت پر جمع ہوتے ہیں اور اسی پر ہی علیحدہ ہوتے ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺکو نیک اور اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں کے ساتھ
بیٹھنے اور ان کی صحبت پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ ان کو دھتکارنے سے
منع کیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ((
وَٱصۡبِرۡ نَفۡسَكَ مَعَ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ رَبَّہُم بِٱلۡغَدَوٰةِ
وَٱلۡعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجۡهَهُ ۥۖ وَلَا تَعۡدُ عَيۡنَاكَ عَنۡہُمۡ
تُرِيدُ زِينَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَا تُطِعۡ مَنۡ أَغۡفَلۡنَا
قَلۡبَهُ ۥ عَن ذِكۡرِنَا وَٱتَّبَعَ هَوَٮٰهُ وَكَانَ أَمۡرُهُ ۥ فُرُطً۬ا )) [الکھف:۲۸] '
اور آپ اپنے کو ان لوگوں کے ساتھ مقید رکھا کیجیئے جو صبح و شام (یعنی علی
الدوام) اپنے رب کی عبادت محض اس کی رضا جوئی کے لیے کرتے ہیں اور دنیوی
زندگانی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں (یعنی توجہات) ان سے ہٹنے نہ
پائیں اور ایسے شخص کا کہنا نہ مانیے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے غافل
کر رکھا ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہش پر چلتا ہے۔ (۲۸) نیکو
کاروں کی صحبت اختیار کرنے میں بے شمار فوائد ہیں۔ان کے پاس بیٹھنے سے
علمی اور اخلاقی فوائد ملتے ہیں۔اور یہ نیک لوگوں کی دوستی کل قیامت کو بھی
قائم رہے گی جبکہ باقی سب دوستیاں ختم ہوجائیں گی۔اللہ تعالیٰ کا فرمان
ہے: ((اَلْأَخِلَّآئُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلاَّ الْمُتَّقِیْنَ))[الزخرف:۶۷] ''اس دن گہرے دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیز گاروں کے۔‘‘ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ((وَیَوْمَ
یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ اتَّخَذْتُ مَعَ
الرَّسُوْلِ سَبِیْلاً٭یٰوَیْلَتٰی لَیْتَنِیْ لَمْ أَتَّخِذْ فُلَاناً
خَلِیْلاً٭لَقَدْ أَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ اِذْ جَآئَ نِیْ
وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلاً))[الفرقان:۲۷ء۲۹] ''اور
اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول
اللہ ﷺ کی راہ اختیار کی ہوتی۔ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ
بنایا ہوتا۔اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کر دیا کہ نصیحت میرے پاس
آپہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے والا ہے۔‘‘ظالم شخص
غم اور افسوس سے اپنی انگلیوں کو کاٹے گا کہ اس نے غلط اور شریر شخص کو
اپنا دوست بنا لیا جس نے اسے ہدایت اورصراط مستقیم سے ہٹا کر ضلالت و
گمراہی اور بد بختی کے رستے پر لگا دیالیکن اس وقت یہ افسوس کسی کام نہیں
آئیگا کیونکہ ہاتھ سے نکلاہوا وقت واپس نہیں آتا ۔ اسی
طرح جہنمی جہنم میں ندامت کا اظہار کریں گے کہ کاش ہم اپنے سرداروں اور
بڑوں کی اطاعت نہ کرتے جنہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا اور صراط مستقیم سے ہٹا
دیا، کاش کہ ہم اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کا دامن تھام لیتے اور آج اس
ذلت آمیز عذاب سے بچ جاتے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ((يَوۡمَ
تُقَلَّبُ وُجُوۡهُهُمۡ فِى النَّارِ يَقُوۡلُوۡنَ يٰلَيۡتَـنَاۤ
اَطَعۡنَا اللّٰهَ وَاَطَعۡنَا الرَّسُوۡلَا ﴿۶۶﴾ وَقَالُوۡا رَبَّنَاۤ
اِنَّاۤ اَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوۡنَا
السَّبِيۡلَا ﴿۶۷﴾ ))[الأحزاب] ''جس روز ان کے چہرے
دوزخ میں الٹ پلٹ کیے جاویں گے یو ں کہتے ہوں گے کہ اے کاش ہم نے الله
تعالیٰ کی اطاعت کی ہوتی اور ہم نے رسولﷺ کی اطاعت کی ہوتی۔ (۶۶) اور
کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا تھا
سو انہوں نے ہم کو سیدھے راستے سے گمراہ کیا تھا۔ (۶۷) ۔‘‘اس سے معلوم
ہوا کہ برے لوگوں کی صحبت نہ صرف علمی واخلاقی فوائد سے محروم کر دیتی ہے
بلکہ انسان کو اسفل سافلین تک جا پہنچاتی ہے۔