Showing posts with label حدیث Hadees. Show all posts
Showing posts with label حدیث Hadees. Show all posts

قربانی کے احکام ومسائل

 

 قربانی کے احکام ومسائل -  ماہ ِ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ

 ماہ ِ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ:


          اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم (سورة الفجر آیت نمبر ۲)میں ذی الحجہ کی دس راتوں کی قسم کھائی ہے (وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ) جس سے معلوم ہوا کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ حج کا اہم رکن: وقوفِ عرفہ اسی عشرہ میں ادا کیا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم کو حاصل کرنے کا دن ہے۔ غرض رمضان کے بعد ان ایام میں اخروی کامیابی حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ لہٰذا ان میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کریں، اللہ کا ذکر کریں، روزہ رکھیں، قربانی کریں۔ احادیث میں ان ایام میں عبادت کرنے کے خصوصی فضا ئل وارد ہوئے ہیں، جن میں سے چند احادیث ذکر کررہا ہوں:

      حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی دن ایسانہیں ہے جس میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو۔ (صحیح بخاری )

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک عشرہٴ ذی الحجہ سے زیادہ عظمت والے دوسرے کوئی دن نہیں ہیں، لہٰذا تم ان دنوں میں تسبیح وتہلیل اور تکبیر وتحمید کثرت سے کیا کرو۔ (طبرانی) ان ایام میں ہر شخص کو تکبیر تشریق پڑھنے کا خاص اہتمام کرنا چاہیے، تکبیرِ تشریق کے کلمات یہ ہیں: اَللہُ اَکْبَرُ۔ اَللہُ اَکْبَرُ۔ لَآ اِلٰہ الَّا اللہُ۔ وَاللہُ اَکْبَر۔ اللہُ اَکْبَر۔ وَلِلہِ الْحَمْدُ۔

عرفہ کے دن کا روزہ:


حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عرفہ کے دن کے روزے کے متعلق میں اللہ تعالیٰ سے پختہ امید رکھتا ہوں کہ وہ اس کی وجہ سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو معاف فرمادیں گے۔ ( صحیح مسلم) مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ عرفہ کے دن کا ایک روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کی معافی کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا نویں ذی الحجہ کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام کریں۔


قربانی کی حقیقت:

qurbani ka maqsd qurbani ki fazail qurbani in quran

          قربانی کا عمل اگرچہ ہر امت کے لیے رہا ہے، جیساکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلِکِلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسِکًا لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَی مَا رَزَقَھُمْ مِنْ بَھِیْمَةِ الْاَنْعَامِ (سورة الحج ۳۴) ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی؛ تاکہ وہ چوپایوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے؛ لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی اہم وعظیم قربانی کی وجہ سے قربانی کو سنتِ ابراہیمی کہا جاتا ہے اور اسی وقت سے اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگئی؛ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے جو قیامت تک جاری رہے گی۔ اس قربانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں اپنی جان ومال ووقت ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہیں۔

          حضورِاکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر سو اونٹوں کی قربانی پیش فرمائی تھی جس میں سے ۶۳ اونٹ کی قربانی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے کی تھی اور بقیہ ۳۷ اونٹ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نحر (یعنی ذبح) فرمائے۔ (صحیح مسلم ۔حجة النبی  صلی اللہ علیہ وسلم) یہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد (ذی الحجہ کی ۱۰ تاریخ کو کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں) کا عملی اظہار ہے اور اس عمل میں اُن حضرات کا بھی جواب ہے جو مغربی تہذیب سے متاثر ہوکر کہہ دیتے ہیں کہ جانوروں کی قربانی کے بجائے غریبوں کو پیسے تقسیم کردیے جائیں ۔ اسلام نے جتنا غریبوں کا خیال رکھا ہے اس کی کوئی مثال کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی؛ بلکہ انسانیت کو غریبوں اور کمزوروں کے درد کا احساس شریعتِ اسلامیہ نے ہی سب سے پہلے دلایا ہے۔ غرباء ومساکین کا ہر وقت خیال رکھتے ہوئے شریعت اسلامیہ ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہم عید الاضحی کے ایام میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں اپنے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، جیسا کہ ساری انسانیت کے نبی حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کام میں مال خرچ کیا جائے تو وہ عید الاضحی کے دن قربانی میں خرچ کیے جانے والے مال سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا۔ (سنن دار قطنی، سنن کبری للبیہقی)

          اِن دِنوں بعض حضرات نے باوجویکہ کہ انہوں نے قربانی کے سنتِ موٴکدہ اور اسلامی شعار کا موقف اختیار کیا ہے ۱۴۰۰ سال سے جاری وساری سلسلہ کے خلاف اپنے اقوال وافعال سے گویا یہ تبلیغ کرنی شروع کردی ہے کہ ایک قربانی پورے خاندان کے لیے کافی ہے اور قربانی کم سے کم کی جائے جو سراسر قرآن وحدیث کی روح کے خلاف ہے؛ کیونکہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی روشنی میں امتِ مسلمہ کا اتفاق ہے کہ ان ایام میں زیادہ سے زیادہ قربانی کرنی چاہیے۔

دیگر اعمال صالحہ کی طرح قربانی میں بھی مطلوب ومقصود رضاء الٰہی ہونی چاہیے، جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ صَلاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن (سورة الانعام ۱۶۲) میری نماز، میری قربانی، میرا جینا، میرا مرنا سب اللہ کی رضامندی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ نیز اللہ جلّ شانہ کا فرمان ہے: لَن یَّنَالَ اللہَ لُحُوْمُھَا وَلَا دِمَاوٴُھَا وَلٰکِن یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ (سورة الحج ۳۷) اللہ کو نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے نہ اُن کا خون؛ لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔

قربانی کی اہمیت وفضیلت:

qurbani ka gosht ki barkat in quran urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا (اس قیام کے دوران) آپ  صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے رہے۔ (ترمذی ۔ابواب الاضاحی) غرضیکہ حضورا کرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے قیام کے دوران ایک مرتبہ بھی قربانی ترک نہیں کی باوجویکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلمکے گھرمیں بوجہ قلت طعام کئی کئی مہینے چولہا نہیں جلتا تھا۔

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ قربانی کیا ہے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہمیں قربانی سے کیا فائدہ ہوگا؟ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا: ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی۔ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اون کے بدلے میں کیا ملے گا؟ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے میں (بھی) نیکی ملے گی۔ (سنن ابن ماجہ ۔ باب ثواب الاضحیہ)

ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذی الحجہ کی ۱۰ تاریخ کو کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں اور قیامت کے دن قربانی کرنے والا اپنے جانور کے بالوں ، سینگوں اور کھروں کو لے کر آئے گا (اور یہ چیزیں اجروثواب کا سبب بنیں گی) اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرفِ قبولیت حاصل کرلیتا ہے ، لہٰذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔ (ترمذی ۔ باب ما جاء فی فضل الاضحیہ)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کام میں مال خرچ کیا جائے تو وہ عید الاضحی کے دن قربانی میں خرچ کیے جانے والے مال سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا۔ (سنن دار قطنی باب الذبائح، سنن کبری للبیہقی ج۹ ص ۲۶۱)

قربانی کا وجوب:


          قربانی کو واجب یا سنتِ موٴکدہ قرار دینے میں زمانہٴ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے؛ مگر پوری امتِ مسلمہ متفق ہے کہ قربانی ایک اسلامی شعار ہے اور جو شخص قربانی کرسکتا ہے اس کو قربانی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے خواہ اس کو واجب کہیں یا سنتِ موٴکدہ یا اسلامی شعار۔ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ہمیشہ قربانی کیا کرتے تھے باوجودیکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں اشیاء خوردنی نہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی مہینے تک چولہا نہیں جلتا تھا۔ ۸۰ ہجری میں پیدا ہوئے حضرت امام ابوحنیفہ  نے قرآن وحدیث کی روشنی میں قربانی کو واجب قرار دیا ہے، حضرت امام مالک رحمۃ اللہ اور حضرت امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ کی ایک روایت بھی قربانی کے وجوب کی ہے۔ ہندوپاک کے جمہور علماء نے بھی وجوب کے قول کو اختیار کیا ہے؛ کیونکہ یہی قول احتیاط پر مبنی ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ نے بھی قربانی کے وجوب کے قول کو اختیار کیا ہے۔ قربانی کے وجوب کے لیے متعدد دلائل میں سے چندپیش ہیں:

          (۱) اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم (سورة الکوثر) میں ارشاد فرماتا ہے: فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ اس آیت میں قربانی کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور امر عموماً وجوب کے لیے ہوا کرتا ہے، جیساکہ مفسرینِ کرام نے اس آیت کی تفسیر میں تحریر کیا ہے۔ علامہ ابوبکر جصاص رحمۃ اللہ (ولادت ۳۰۵ھ) اپنی کتاب(احکام القرآن) میں تحریر کرتے ہیں : حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت (فَصَلِّ لِرَبِّکَ) میں جو نماز کا ذکر ہے، اس سے عید کی نماز مراد ہے اور (وَانْحَرْ) سے قربانی مراد ہے۔ مفسر قرآن شیخ ابوبکر جصاص  فرماتے ہیں کہ اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں: (۱) عید کی نماز واجب ہے۔ (۲) قربانی واجب ہے۔

          (۲) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو قربانی کی وسعت حاصل ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ بھٹکے۔ (سنن ابن ماجہ۔ باب الاضاحی ہی واجبہ ام لا، مسند احمد ج۲ ص ۳۲۱، السنن الکبری ج۹ ص ۲۶۰ کتاب الضحایا) وسعت کے باوجود قربانی نہ کرنے پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعید ارشاد فرمائی اور اس نوعیت کی سخت وعید واجب کے چھوڑنے پر ہی ہوتی ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ قربانی کرنا واجب ہے۔

          (۳) حضرت جندب بن سفیان البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عید الاضحی کے دن حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عید کی نماز سے پہلے (قربانی کا جانور) ذبح کر دیا تو اسے چاہیے کہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے (عید کی نماز سے پہلے) ذبح نہیں کیا تو اسے چاہیے کہ وہ (عید کی نماز کے) بعد ذبح کرے۔ (صحیح بخاری۔ باب من ذبح قبل الصلاة اعاد) حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی کی نماز سے قبل جانور ذبح کرنے پر دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا؛ حالانکہ اُس زمانہ میں صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس مالی وسعت نہیں تھی۔ یہ قربانی کے وجوب کی واضح دلیل ہے ۔

Qurbani ka sabuot qurbani ki hadees qurbani ki haqiqat

قربانی کس پر واجب ہے:


          ہر صاحبِ حیثیت کو قربانی کرنی چاہیے جیساکہ حدیث میں گزراکہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو قربانی کی وسعت حاصل ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ قربانی کے وجوب کے لیے صاحب وسعت ہونا ضروری ہے؛ البتہ مسافر پر قربانی واجب نہیں، جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسافر پر قربانی واجب نہیں۔ (المحلی بالآثار لابن حزم ج ۶ ص ۳۷)

قربانی کے جانور:


          بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ (نر و مادہ) قربانی کے لیے ذبح کیے جاسکتے ہیں جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آٹھ جانور ہیں دو بھیڑوں میں سے اور دو بکریوں میں سے، دو اونٹوں میں سے اور دو گائیوں میں سے۔ (سورة الانعام ۱۴۳ و ۱۴۴)

          قربانی کے جانوروں میں بھینس بھی داخل ہے؛ کیونکہ یہ بھی گائے کی ایک قسم ہے، لہٰذا بھینس کی قربانی بھی جائز ہے۔ امتِ مسلمہ کا اجماع ہے کہ بھینس کا حکم گائے والا ہے۔ (کتاب الاجماع لابن منذر ص ۳۷) حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ (متوفی۱۱۰ھ) فرماتے ہیں کہ بھینس گائے کے درجہ میں ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج۷ ص ۶۵) حضرت امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ (متوفی ۱۶۱ھ) فرماتے ہیں کہ بھینسوں کو گائے کے ساتھ شمار کیا جائے گا۔ (مصنف عبد الرزاق ج۴ ص ۲۳) حضرت امام مالک رحمۃ اللہ (متوفی ۱۷۹ھ) فرماتے ہیں کہ بھینس گائے ہی ہے (یعنی گائے کے حکم میں ہے) (موطا مالک باب ما جاء فی صدقہ الفطر) ہندوپاک کے جمہور علماء کی بھی یہی رائے ہے کہ بھینس گائے کے حکم میں ہے۔ سعودی عرب کے مشہور عالم شیخ محمد بن عثیمین رحمۃ اللہ نے بھی بھینس کو گائے کے حکم میں شامل کیا ہے۔ بھینس عربوں میں نہیں پائی جاتی ہے؛ اس لیے اس کاذکر قرآن کریم میں وضاحت سے نہیں ہے۔ (مجموع فتاوی ورسائل شیخ ابن عثیمین رحمۃ اللہ ۲۵) موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں میں یہی مذکور ہے کہ بھینس گائے کے حکم میں ہے۔

جانور کی عمر:


          قربانی کے جانوروں میں بھیڑ اور بکرا بکری ایک سال، گائے اور بھینس دو سال اور اونٹ پانچ سال کا ہونا ضروری ہے؛ البتہ وہ بھیڑ اور دنبہ جو دیکھنے میں ایک سال کا لگتا ہو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔

قربانی کے جانور میں شرکاء کی تعداد:


          اگر قربانی کا جانور بکرا، بکری، بھیڑ یا دنبہ ہے تو وہ صرف ایک آدمی کی طرف سے کفایت کرتی ہے:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بکری ایک آدمی کی طرف سے ہوتی ہے۔ (اعلاء السنن۔ باب ان البدنہ عن سبعة)

          اگر قربانی کا جانور اونٹ، گائے یا بھینس ہے تو اس میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر نکلے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے میں سات سات (آدمی) شریک ہوجائیں۔ (صحیح مسلم ۔ باب جواز الاشتراک الخ.) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ والے سال حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کی؛ چنانچہ اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے اور گائے بھی سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔ (صحیح مسلم ۔ باب جواز الاشتراک الخ.)

          وضاحت: حجة الوداع اور صلح حدیبیہ کے موقع پر اونٹ اور گائے میں سات سات آدمی شریک ہوئے تھے، اس پر قیاس کرکے علماء امت نے فرمایا ہے کہ عید الاضحی کی قربانی میں بھی اونٹ اور گائے میں سات سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔

          قربانی کے ایام: قربانی کے تین ایام ہیں ۱۰ و ۱۱ و ۱۲ ذی الحجہ۔


   حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قرآن کی آیت (وَیَذْکَرُوا اسْمَ اللہِ فِیْ اَیَّامٍ مَعْلُوْمَاتٍ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایام معلومات سے مراد یوم النحر (۱۰ ذی الحجہ) اور اس کے بعد دو دن ہیں۔ (تفسیر ابن ابی حاتم الرازی ج۶ چ ۲۶۱)

       حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص قربانی کرے تو تیسرے دن کے بعد اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ نہیں بچنا چاہیے۔ (صحیح بخاری۔ باب ما یوٴکل من لحوم الاضاحی) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کے دن تین ہی ہیں؛ اس لیے کہ جب چوتھے دن قربانی کا بچا ہوا گوشت رکھنے کی اجازت نہیں تو پورا جانور قربان کرنے کی اجازت کہاں سے ہوگی؟

          وضاحت: تین دن کے بعد قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت ابتداء اسلام میں تھی بعد میں اجازت دے دی گئی کہ اسے تین دن بعد بھی رکھا جاسکتا ہے۔ (مستدرک حاکم ج۴ ص ۲۵۹) اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ جب تین دن کے بعد گوشت رکھنے کی اجازت مل گئی تو تین دن کے بعد قربانی بھی کی جاسکتی ہے، اس لیے کہ گوشت تو پورے سال بھی رکھا جاسکتا ہے تو کیا قربانی کی اجازت بھی پورے سال ہوگی؟ ہرگز نہیں۔ تین دن کے بعد قربانی کی اجازت نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے۔

 حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے کہ قربانی کے دن تین ہی ہیں۔ (موطا مالک ۔ کتاب الضحایا)

   حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قربانی کے دن ۱۰ ذی الحجہ اور اس کے بعد کے دو دن ہیں؛ البتہ یوم النحر (۱۰ ذی الحجہ) کو قربانی کرنا افضل ہے۔ (احکام القرآن للطحاوی ج ۲ ص ۲۰۵)

          وضاحت: بعض علماء کرام نے مسند احمد میں وارد حدیث (کُلُّ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ ذِبْحٌ) کی بنیاد پر فرمایا کہ اگر کوئی شخص ۱۲ ذی الحجہ تک قربانی نہیں کرسکا تو ۱۳ ذی الحجہ کو بھی قربانی کی جاسکتی ہے؛ لیکن حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ، حضرت امام مالک رحمۃ اللہ اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ نے مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں فرمایا ہے کہ قربانی صرف تین دن کی جاسکتی ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ نے خود اپنی کتاب میں وارد حدیث کے متعلق وضاحت کردی ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ نے تحریر کیا ہے کہ متعدد صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مثلاً حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی بھی یہی رائے تھی۔ احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قربانی کو صرف تین دن تک محدود رکھا جائے؛ کیونکہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی ایک صحابی سے ۱۳ ذی الحجہ کو قربانی کرنا ثابت نہیں ہے۔

قربانی کرنے والا ناخن اور بال نہ کاٹے:


          $ ام الموٴمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: جب ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہوجائے اور تم میں سے جو قربانی کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ ( مسلم) اس حدیث اور دیگر احادیث کی روشنی میں قربانی کرنے والوں کے لیے مستحب ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک جسم کے کسی حصے کے بال اور ناخن نہ کاٹیں۔ لہٰذا اگر بال یا ناخن وغیرہ کاٹنے کی ضرورت ہو تو ذی القعدہ کے آخر میں فارغ ہوجائیں۔ ( اگر کوئی ناخن اور بال کاٹ لے تو بھی قربانی ٹھیک ہوگی بس صرف اس مستحب عمل کے ثواب سے محروم ہوگا ..)
%%%
 || Videos || Qurbani ka Bayan Masail o Ahkam

قربانی کا جانورکیسا ہونا چاہیے
Qurbani Ka Janwar Kesa Hona chaiye





Qurbani ky Janwar main 7 Hesse Kase Taqseem Karen
قربانی کے جانور میں حصے کیسے کریں 



Share Wale Button say WhatsApp , Facebook , Twitter , Google+ Par Share Karen

اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ بد گمانی اور ہمارا معاشرہ

 

اللہ تعالی کے ساتھ بد گمانی


allah par yaqeen , allah par bharosa in hadees urduحديث :عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ان الله عز و جل قال : « انا عند ظن عبدي بي ان ظن بي خيرا فله وان ظن شرا فله». {صحيح مسلم:2877 صفة الجنة، سنن ابوداود:3113 الجنائز، مسند احمد3/315.}


ترجمہ :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی نے فرمایا : میرا بندہ میرے بارے میں جیسا گمان رکھتا ہے میں اسکے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں ، اگروہ میرے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے تو میرا معاملہ اسکے ساتھ ویسا ہی ہے اور اگروہ میرے بارے برا گمان رکھتا تو معاملہ اسکے ساتھ ویسے ہی ہے ۔ {مسند احمد اور صحیح ابن حبان}


تشریح :
باری تعالی کے ساتھ حسن ظن واجب اور سوئے ظن [براگمان] کفر اور حرام ہے قرآن مجید میں متعدد جگہ باری تعالی کے ساتھ سوئے ظن کو کافروں اور منافقوں کا عمل بتلایاگیا ہے اور اس پر انہیں خوف ناک اورر سوا کن عذاب کی دھمکی دی گئی ہے ، {ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ} “یہ گمان تو کافروں کا ہے سو کافروں کے لئے خرابی ہے آگ کی” ۔ [ص : 27]

نیز فرمایا : {الظَّانِّينَ بِاللَّهِ ظَنَّ السَّوْءِ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًا} 
[الفتح :6] ”جو اللہ تعالی کے بارے میں بد گمانیاں رکھنے والے ہیں در اصل بری گردش انھیں پر پڑےگی، اللہ ان سےناراض ہو اور ان پر لعنت کی اور انکے لئے دوزخ تیار کی اور وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے” ۔

زیر بحث حدیث میں بھی اللہ تعالی کے ساتھ حسن ظن رکھنے والوں کو بشارت اور برا گمان رکھنے والوں کیلئے دھمکی ہے کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالی کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالی اسکے اوپر رحم ضرور کریگا ، اسکی روزی میں برکت دیگا ، دشمن کے مقابلے میں اسے ہر گز رسوا نہ کریگا، دنیا وآخرت میں اسکی دستگیری کرے گا اور اسی کے ساتھ ساتھ بندہ اچھے عمل میں بھی کوشاں رہتا ہے تو اللہ تعالی اسکے اس ظن کو پورا کر دکھائے گا اور اگر اسکے بر عکس اللہ تعالی کے بارے میں برا گمان رکھا گیا کہ اللہ تعالی اسکی دعا قبول نہ کریگا ،
 اگر حصول رزق کیلئے وہ ناجائز طریقہ اختیار نہ کریگا تو اسے روزی نہ ملے گی اور اپنی مدد وتایید کے بارے میں وہ اللہ تعالی سے متعلق زبان حال یا مقال سے بد ظنی میں پڑا رہا ، اسکا دروزہ چھوڑ کر کمزور و ناتواں مخلوق کے در پر ڈیرہ ڈالا تو اللہ تعالی بھی اسکے ساتھ دنیا وآخرت میں ایسا ہی معاملہ کریگا ،
 ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : “میرا معاملہ میرے بندے کے ساتھ ویسے ہی رہتا ہے جیسا وہ میرے بارے میں گمان رکھتا ہے لہذا وہ میرے بارے میں جو گمان چاہے رکھ لے “[مسند احمد ، الطبرانی بروایت واثلہ]

ان تمام تاکیدات کے باوجود آج اللہ رحیم و کریم ، غفور ودود اور رب العالمین کی ضعیف مخلوق اسکے بارے میں بد گمانی کی شکار ہے ، حلانکہ بہت سے لوگوں کو یہ شعور بھی نہیں ہے کہ یہ کوئی بڑاجرم اور بھیانک غلطی ہے ، بلکہ مصیبت بر مصیبت یہ کہ بہت سے لوگ اپنی زبان سے تو اللہ تعالی کے بارے میں اچھے گمان کے دعویدار ہیں اور اسی بنیاد پر اس سے اچھی امیدیں باندھے ہوئے ہیں لیکن اپنے اعمال و کردار سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ اپنے مالک حقیقی اور مربی اصلی کے بارے میں بد ظنی کے شکار ہیں ، ذیل میں باری تعالی کےباے میں بدگمان کے چند مظاہرکا ذکر کیا جاتا ہے ۔




{1} شرک و کفر : مشرک اور کافر یہ سمجھتا ہے کہ اگر اپنے باطل معبود کو راضی نہ رکھیں گے ، انکے لئے اپنی عبادت کا کچھ حصہ خاص نہ کریں گے تو وہ اللہ تعالی سے ہماری سفارش نہ کریں گے اور جب تک وہ اللہ تعالی کےحضور ہمارے سفارشی نہ بنیں گے اللہ تعالی بھی ہماری مراد پوری نہ کرے گا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسی غلط نظرئے اور عقیدے سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا 
allah par yaqeen , allah par bharosa in hadees urdu:{أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ} [الصافات :86 ،87] 
“ کیا تم اللہ تعالی کو چھوڑ کر جھوٹ موٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو ، تو یہ تو بتلاو کہ رب العالمین کو تم نے کیا سمجھ رکھا ہے” ۔

{2} اپنی زندگی کے مقصد کو نہ سمجھنا : آج لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ بلکہ کلمہ شھادت کا اقرار کرنے والا ایک بہٹ بڑا گروہ اپنی زندگی کے مقصد کو نہیں سمجھ رہا ہے اسکا خیال ہے کہ یہ آسمان و زمین اور دنیا کی گونا گو ں نعمتیں اللہ تعالی نے صرف اسی لئے پیدا کی ہے کہ ہم کھائیں پئیں ، اور موج کریں ۔ حلانکہ ارشاد باری تعالی ہے : { وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاء وَالأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلاً ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّار أَمْ نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِي الأَرْضِ أَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَّار }[ص :27 ، 28 ]
 “ہم نے آسمان و زمین اور انکے درمیان کی چیزوں کو ناحق پیدا نہیں کیا ، یہ گمان تو کافروں کا ہےسو کافروں کیلئے خرابی ہے آگ کی ، کیاہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئےانکے برابر کر دیں گے جو فساد مچائے رہے ، یا ہم پرہیز گاروں کو بد کاروں جیسا کردیں گے” ۔

{3} بد عملی اور ترک عمل : کچھ لوگ ایمان کے باوجود نیک عمل سے دور رہتے ہیں اور بہت سے لوگ گناہ پرگناہ کئے جاتے ہیں اور بڑی ہی دلیری اور لاپر واہی سے کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالی غفور اور رحیم ہے ، حلانکہ جہاں اللہ تعالی غفور و رحیم ہے وہیں وہ شدید العقاب بھی ہے ، جہاں پر اللہ رحمان و رووف ہے وہیں قہار وجبار بھی ہے ۔ { نَبِّىءْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَ أَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الأَلِيمَ} [ الحجر : 49 ، 50]
 “میرے بندوں کو بتلا دو کہ میں بہت بخشنے والا اور بڑ اہی مہر بان ہو ں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتلا دو کہ میرا عذاب بھی نہایت ہی درد ناک ہے” ، نیز فرمایا :”کیا ان لوگوں کا جو برے کام کرتے ہیں یہ گمان ہے کہ ہم انھیں ان لوگوں جیسا کر دیں گے جو ایمان لائے اور نیک کام کئے کہ ان کا مرنا جینا یکساں ہے ، برا ہے وہ فیصلہ جو وہ کر رہے ہیں”. {الجاثیہ :21}

{4} دعا میں وسیلہ کو ضروری سمجھنا  : بہت سے گمراہ فرقوں اور جاہلوں کا عقیدہ ہے کہ جسطرح دنیا کے کسی بادشاہ یا بڑی شخصیت تک پہنچنے کیلئے کسی کے وسیلہ یا سفارش کی ضرورت ہے ، اسی طرح اللہ تعالی تک پہنچنے کیلئے ولیوں اور بزرگوں کے وسیلہ لینا بھی بہت ضروری ہے اس بغیر اللہ تک ہماری بات نہیں پہنچے گی ، وہ سنے گا نہیں  ، یہ اللہ تعالی کے ساتھ بد ظنی اور اس پر ظلم ہے کہ اسے ظالم و جابر اور فاسق و فاجر بادشاہوں اور حاکموں کی صف میں لاکردیا گیا ۔

{5} روزی کے حرام ذرایع : جسکی روزی میں تنگی رہی اس نے یہ سمجھا کہ جب تک حرام ذریعہ رزق استعمال نہ کریں گے ہمیں روزی نہ ملے گے ، اگر ہم جھوٹ نہ بولے تو تجارت میں کامیاب نہ ہونگے، اگر سودی کاروبار نہ کیا تو ترقی نہ ہوگی وغیرہ ۔

ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے پھر لوگوں کو آواز دی کہ ادھر آو ، لوگ آپ کے قریب آکر بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا : یہ اللہ رب العالمین کے رسول حضرت جبریل علیہ السلام ہیں ، انہوں نے ابھی ابھی میرے دل یہ پھوک ماری {یعنی وحی کی } کہ کوئی بھی جاندار اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک کہ وہ اپنا رزق پورا نہ کرلے ، اگر چہ اسے رزق ملنے میں دیر ہو رہی ہے ، لہذا اللہ تعالی سے ڈرو اور روزی حاصل کرنے کا اچھا { جائز } طریقہ اختیار کرو اور کسی کی روزی پہنچنے میں تاخیر ہو رہی ہے تو اسے حاصل کرنے کیلئے ناجائز طریقہ نہ استعمال کرے اسلئے کہ اللہ تعالی کی دی ہوئی روزی اسکی طاعت ہی سے حاصل ہو سکتی ہے ۔ {مستد رک حاکم ، مسند بزار بروایت حذیفہ و ابن مسعود }

{6} خود کشی : روزی ، بیماری اور حالات سے تنگ آکر خوکشی کرنے کا معنی ہے کہ بندہ اپنی زبان حال یا مقال سے یہ کہہ رہا ہے کہ یہ زندگی جو اللہ تعالی نے مجھے دی ہے وہ میرے لئے اچھی نہیں ہے ، یا یہ حالات جسمیں اللہ تعالی نے مجھے رکھا ہے وہ میرے ساتھ زیادتی ہے لہذا اسے کسی بھی طرح ختم کردینا چا ہئے ، اللہ تعالی کے ساتھ بدگمانی ہی کا نتیجہ ہے کہ ایسے شخص سے متعلق حدیث قدسی میں اللہ تعالی فر ماتا ہے : “میرے بندے نے مجھ سے آگے بڑھنے کی کو شش کی لہذا میں اس پر جنت کو حرام کر دے رہا ہوں” ۔ {صحیح البخاری ، صحیح مسلم بروایت جند بن عبد اللہ } نیز فرمایا : “اے میرے بندے ! اپنے جس عضو کو تو نے اپنے ہاتھ سے بر باد کیا ہے میں اسے نہیں بنا وں گا”. { صحیح مسلم بروایت جابر }


{7} برتھ کنٹرول : جو یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے لئے زیادہ بچے فقروفاقہ کا سبب بنیں گے اور میں سب کی پر ورش نہ کر سکوں گا ، یا لڑکیوں کی پیدائش ہمارے لئے خوش آئند نہیں ہے،جبکہ اللہ تعالی ہی پیدا کرنے والا ہے اور وہی روزی کا بھی ذمہ دار ہے ، { وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا } [ھود : 6] زمین پر چلنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالی پر ہیں ۔ نیز فرمایا :
 {وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ} [الانعام :151] “اور مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو کیونکہ ہم ہی تمھیں رزق دیتے ہیں اور انکو بھی ہم ہی رزق دینگے” ۔

{8} کافروں کا مسلط : جو یہ گمان رکھتا ہے کہ اگر عصر حاضر میں مسلمان کا فروں کے ساتھ تعاون نہ کریں گے اور ہر ظلم وعدل میں انکا ساتھ نہ دینگے تو انھیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جائے گا ، یہی گمان منافقین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے بارے میں رکھا تھا تو اللہ تعالی نے فرمایا: { بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ أَبَدًا وَزُيِّنَ ذَلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَكُنتُمْ قَوْمًا بُورًا} {الفتح :12 }”بلکہ تم نے تو یہ گمان کر رکھا تھا کہ رسول {صلی اللہ علیہ وسلم }اور مسلمانوں کا اپنے گھروں کی طرف لوٹ آنا قطعا ناممکن ہے اور یہی خیال تمھارے دلوں میں رچ بس گیا اور تم نے برا گمان رکھا ، در اصل تم لوگ ہو بھی ہلاک ہونے والے” ۔

{9} کافروں کا طرز معاشرت : جو یہ سمجھتا ہے کہ عزت کافروں کے طرز معاشرت اپنانے اور انکے بتائے ہوئے نظام کو نافذ کرنے میں ہے خواہ لباس میں ہو یا زبان میں ،کھانے پینے میں ہو، خاندانی زندگی میں یا طرز حکومت وغیرہ میں ہو، حلانکہ اللہ تعالی فرماتا ہے : { وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ} { المنافقون :8} “اور عزت تو صرف اللہ تعالی ، اسکے رسول اور مومنوں کیلئے ہے لیکن یہ منافق جانتے نہیں” ۔


نیز فرمایا :{ الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ العِزَّةَ لِلّهِ جَمِيعًا} [النسا : 139] “جنکی یہ حالت ہے کہ وہ  مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں کیا ان کے ہاں سے عزت چاہتے ہیں سو ساری عزت الله ہی کے قبضہ میں ہے” ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے اسکا شمار انھیں لوگوں میں ہے .[سنن ابو داود بروایت ابن عمر ]

{10} بخالت ، سود کا لین دین : جو شخص مال اسلئے نہیں خرچ کرتا کہ اسکا مال ختم ہو جائے گا ، بچوں کا مستقبل بنانے کیلئے ناجائز مال کماتا اور ناجائز زمین ہڑپ کرتا ہے ، بینک میں فیکس ڈبوزٹ یا بیمہ بچوں کے مستقبل کیلئے کرتا ہے ، یا یہ سمجھتا ہے کہ سود سے ہمیں تو فائدہ ہے وغیرہو یہ سارے لوگ اللہ تعالی کے بارے میں بدگمانی کے شکار ہیں ،ارشاد باری تعالی :{ وما آتيتم من ربا ليربو في أموال الناس فلا يربو عند الله وما آتيتم من زكاة تريدون وجه الله فأؤلئك هم المضعفون اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ….} الآیہ [ الروم : 39 ،40 ]

تم جو سود میں دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وہ اللہ تعالی کے یہاں نہیں بڑھتا اور جو کچھ صدقہ و زکاۃ تم اللہ تعالی کی خوشنودی کیلئے دیتے ہو تو ایسے ہی لوگ اپنے مال کو دگنا چوگنا کر رہے ہیں ۔

اللہ تعالی کے ساتھ بدگمانی کے اس قسم کے اور بھی بہت سے مظاہر ہمارے درمیان موجود ہیں، ہر صاحب بصیرت تھوڑی سی توجہ سے یہ اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ لوگ کس قدر اپنے خالق و مالک حقیقی کے بارے بد ظنی کے شکار ہیں لہذا ضرورت ہے کہ لوگوں کو ان سے متنبہ کیا جائے اور اس وصیت نبوی پر عمل کیا جائے جو آ پ نے اپنی وفات سے صرف تین دن قبل کی تھی کہ : تم میں سے کسی شخص کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ عز وجل کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہو ، [صحیح مسلم بروایت جابر ] یہیں سے اس وصیت نبوی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔


allah par yaqeen , allah par bharosa in hadees urdu


وصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ۔
 



Share Wale Button say WhatsApp , Facebook , Twitter , Google+ Par Share Karen

قرآن حدیث کی روشنی میں شرعی اسلامی لباس اور تشبہ کا المیہ

 
قرآن حدیث کی روشنی میں شرعی لباس شرعی اسلامی لباس اور تشبہ کا المیہ - 
لباس کے شرعی وطبعی تقاضے 
islami libas shari libas or kufr ke seth mushabihat ka masla
قرآن حدیث کی روشنی میں شرعی لباس شرعی اسلامی لباس islamic libas in urdu libas ki ahmiyat  islam aur libas  libas ke adab in urdu  hadees about black dress

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس اور آپ کی وضع قطع پر قومیت اور وطنیت کے بجائے اتباعِ انبیاء کا غلبہ تھا، ذخیرہ حدیث میں ”کتاب اللباس“ اور ”شمائل نبوی“ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام  صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس اور عادی طور و طریقوں میں بھی انبیائے کرام علیہم السلام کی اتباع اور وحی و الہام کا عنصر شامل تھا، عرب میں قدیم زمانے سے چادر اور تہہ بند کا دستور چلا آرہا تھا، جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کالباس تھا،جیساکہ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے آذربائجان کے عربوں کو حلہ(ازار اور چادر)پہننے کی یہ کہہ کر ترغیب دی کہ وہ تمہارے باپ اسماعیل علیہ السلام کا لباس ہے۔

أما بعد، فاتزروا وارتدوا وانتعلوا وألقوا الخفاف والسراویلات وعلیکم بلباس أبیکم إسماعیل وإیاکم والتنعم وزی العجم (فتح الباری لابن حجر۱۰/۲۸۶، باب لبس الحریر،ط؛ دارالمعرفہ، بیروت)

نیز اللہ کے نبی طبعی آداب میں بھی وحی اور الہام سے خالی نہیں ہوتے؛بلکہ اللہ کی وحی اور اس کے حکم سے قوم کو عقائد، اخلاق، اعمال، عبادات، اور معاملات سب کے متعلق ہدایت جاری کرتے ہیں؛ یہاں تک کہ بول وبراز (پیشاب، پاخانہ) کے آداب بھی ان کو سکھاتے ہیں، یہ ناممکن ہے کہ نبی عام لوگوں کے رسم و رواج کی پیروی پر اکتفاء کریں۔

حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے لباس کے متعلق بھی احکام جاری فرمائے یہاں تک کہ مسلمانوں اور کافروں کے لباس میں امتیاز ہوگیا، آحادیث ِ نبویہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کی مشابہت سے ممانعت فرمائی ہے اور ان کی مخالفت کا حکم دیا ہے، اور جو لباس دشمنانِ خدا سے مشابہت کا سبب بنے ایسے لباس کو ممنوع قرار دیا ہے۔

جیساکہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:

إن فرق ما بیننا وبین المشرکین العمائم علی القلانس.(سنن ترمذی۱/۴۴۱،باب العمائم علی القلانس،ط؛ رحمانیہ)

ترجمہ: ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق یہ ہے کہ ہم عمامہ ٹوپیوں پر باندھتے ہیں۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے:

 قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم.... من تشبہ بقوم فھو منھم. (المسند الجامع، (الجھاد)، ۱۰/۷۱۶،رقم الحدیث ۸۱۲۷، دار الجیل، بیروت)

ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے؛ جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ شخص اسی قوم میں شمار ہوگا۔

ایک اور حدیث ِ مبارکہ میں ہے:

ان ھذہ من ثیاب الکفار فلا تلبسھا (مسلم،۳/۱۶۴۸، باب النھی عن لبس الرجل الثوب المعصفر،ط؛ داراحیاء التراث)

یعنی یہ کافروں کے(جیسے)کپڑے ہیں ، پس ان کو نہ پہنو!

ان احادیث سے ثابت ہوگیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کالباس اور آپ کی وضع قطع یہ سب وحی الٰہی کے تابع تھی۔

نیزیہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین سے لے کر آسمان تک خواہ حیوانات ہوں یا نباتات یا جمادات، سب کو ایک ہی مادہ سے پیدا کیا ہے؛ مگر اس کے باوجود ہر چیز کی صورت اور شکل مختلف بنائی؛ تاکہ ان میں امتیاز قائم رہے؛کیوں کہ امتیاز کا ذریعہ یہی ظاہری شکل و صورت ہے اور جس طرح دنیاکی قومیں ایک دوسرے سے معنوی خصائص اور باطنی امتیازات کے ذریعہ جدا ہیں، اسی طرح ہر قوم کا تمدن، تہذیب اور لباس بھی دوسری قوم سے ممتاز کرتا ہے، عبادات کی انھیں خاص شکلوں کی وجہ سے ایک مسلم ، موحد، مشرک اور بت پرست سے جدا ہے، اور ایک عیسائی ایک پارسی سے جدا ہے، غرض قوموں میں امتیاز کا ذریعہ یہی قومی خصوصیات ہیں؛ جب تک ان مخصوص شکلوں اور ہیئتوں کی حفاظت نہ کی جائے تو قوموں کا امتیاز باقی نہیں رہتا۔

دینِ اسلام ایک کامل اور مکمل مذہب ہے، تمام ملتوں اور شریعتوں کا ناسخ بن کر آیا ہے، وہ اپنے پیروکاروں کو اس کی اجازت نہیں دیتاکہ وہ ناقص اورمنسوخ ملتوں کے پیروکاروں کی مشابہت اختیار کریں، جس طرح اسلام معتقدات اور عبادات میں مستقل ہے کسی کا تابع نہیں ہے، اسی طرح اسلام اپنے معاشرتی آداب اور عادات میں بھی مستقل ہے، کسی دوسرے کا تابع اور مقلد نہیں ہے۔

حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ تشبہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے یوں رقم طراز ہیں:

”تشبہ کی تعریف سنیے؛ تاکہ آپ تشبہ کی قباحتوں اور مضرتوں کا اندازہ لگاسکیں“!

۱- اپنی حقیقت ، اپنی صورت اور وجود کو چھوڑ کر دوسری قوم کی حقیقت، اس کی صورت اور اس کے وجود میں مدغم ہونے کا نام تشبہ ہے۔

۲- یا اپنی ہستی کو دوسرے کی ہستی میں فنا کردینے کا نام تشبہ ہے۔

۳- اپنی ہیئت اور وضع کو تبدیل کرکے دوسری قوم کی وضع اور ہیئت اختیار کرلینے کا نام تشبہ ہے۔

۴- اپنی شانِ امتیازی کو چھوڑ کر دوسری قوم کی شانِ امتیازی کو اختیار کرلینے کا نام تشبہ ہے۔

۵- اپنی اور اپنوں کی صورت اور سیرت کو چھوڑ کر غیروں اور پرایوں کی صورت اور سیرت کو اپنالینے کا نام تشبہ ہے۔

اس لیے شریعت حکم دیتی ہے کہ مسلمان قوم دوسری قوموں سے ظاہری طور پر ممتاز اور جدا ہونی چاہیے اور وضع و قطع میں بھی۔(سیرتِ المصطفیٰ۳/۳۰۶، تشبہ کی تعریف، ط؛ مکتبة الحسن)

شریعت میں تشبہ (دوسروں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے)کی ممانعت کسی تعصب پر مبنی نہیں ہے؛ بلکہ غیرت ، حمیت اور اسلامی خصوصیات وامتیازات کے تحفظ کے لیے ہے؛ اس لیے کہ کوئی قوم اس وقت تک قوم نہیں کہلاسکتی؛ جب تک اس کی خصوصیات اور امتیازات پائیدار اورمستقل نہ ہوں۔

نیز یہود ونصاریٰ اور کافروں کو دوست بنانے یا ان کی مشابہت اختیار کرنے سے مسلمانوں کے دل بھی ان کی طرح سخت ہوجاتے ہیں اور احکامِ شریعت کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

واضح رہے کہ غیروں کی وضع قطع اور ان جیسا لباس اختیار کرنے میں بہت سے مفاسد ہیں:

(۱) پہلا نتیجہ تو یہ ہوگا کہ مسلمان اور کافر میں ظاہری کوئی امتیاز باقی نہیں رہے گا، حقیقت یہ ہے کہ تشبہ بالکفار اہلِ کفر میں دلچسپی اور ان کی قربت کا زینہ ہے۔

(۲) غیروں کی مشابہت اختیار کرنا غیرت کے بھی خلاف ہے۔

(۳) کافروں کا لباس اختیار کرنا درحقیقت ان کی سیادت اور برتری کو تسلیم کرنا ہے۔

(۴) اور یہ اپنی کمتری اور غلامی کا اقرار اور اعلان ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا؛کیوں کہ اسلام غالب ہوتا ہے، تابع اور مغلوب نہیں ہوتا۔

نیز اس تشبہ کا نتیجہ یہ ہوگاکہ رفتہ رفتہ کافروں سے مشابہت کا دل میں میلان اور داعیہ پیدا ہوگا جو صراحةً ممنوع ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَا تَرْکَنُوا إِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللہِ مِنْ أَوْلِیَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ﴾ (ہود:۱۱۳)

ترجمہ: اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں، پھر تم کو لگے گی آگ اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا مددگار، پھر کہیں مدد نہ پاوگے۔ (ترجمہ از شیخ الہند)

باقی آج کل ہر خاص و عام یہ دعوی کرتا رہتا ہے کہ پینٹ شرٹ مسلم اور غیر مسلم دونوں کاہی لباس ہے ، اب تو ہر جگہ مسلمان بھی پہنتے ہیں، تو عرض ہے کہ یہ بات ہمیں تسلیم نہیں؛بلکہ شرٹ اور پتلون غیر مسلموں کا ہی لباس تھا ، پھر جب اسلامی سلطنتوں کے فرمانروا اقتدار کے نشہ میں عیش پرستی کا شکار بن گئے تو نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی حکومتیں زوال پذیر ہوگئیں اور مسلمانوں سے شکست خوردہ قومیں برسرِ اقتدار آگئیں، چند روز تک مسلمانوں کو اپنی شکست اور ذلت کا احساس رہا؛ مگر پھر رفتہ رفتہ مسلمانوں نے ان کے معاشرے ، تمدن اور وضع قطع کو قبول کرنا شروع کردیا ،یہاں تک کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کی اسلامی ممالک کے باشندے اپنے من و تن میں غیروں کے رنگ میں ایسے رنگے گئے کہ مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق ہی نہ رہا۔

اگریہ بات تسلیم کرلی جائے کہ موجودہ زمانے میں پینٹ شرٹ کے کثرتِ استعمال اور معاشرے میں اس کے عام ہونے کے سبب یہ کسی غیر قوم کا شعار تو نہیں رہا؛ اس لیے اس میں غیر اقوام کے شعار ہونے کی حد تک توتشبہ باقی نہیں رہا؛ مگر اس کی کوئی تاویل ممکن نہیں ہے کہ یہ فساق و فجاراور غیر صلحاء کا لباس ہے ، اور جس طرح غیر مسلموں سے مشابہت ممنوع ہے اسی طرح فساق و فجار اور غیر صلحاء سے مشابہت بھی ممنوع ہے۔

اور مشابہت کی شناعت میں زمان اور مکان کے لحاظ سے سختی یا نرمی کی بات ممکن ہے، جس علاقہ میں جتنی زیادہ مشابہت متصور ہوگی، اسی حساب سے کراہت تحریمی یا تنزیہی ہونے کا حکم لگے گا۔

اسلامی ممالک کے لیے تو علی الاطلاق یہ حکم لگانا بھی درست نہیں ہے کہ کثرتِ استعمال کی وجہ سے مشابہت بالکل ختم ہوگئی ہے؛ اس لیے کہ اگرچہ اکثر شہری علاقوں اور بعض دیہاتی علاقوں میں اس کو بطورِ لباس استعمال کیا جاتا ہے؛ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سارے علاقے بالخصوص قبائلی علاقے اور گاؤں دیہاتوں میں اب بھی اس کو کفار یا کم از کم فساق و فجار اور غیر صلحاء کا لباس تصور کیا جاتا ہے اور اپنے قومی و علاقائی لباس کو اس لباس(پینٹ شرٹ)پر ترجیح دی جاتی ہے، لہٰذا جس علاقے میں جس قدر مشابہت متصور ہوگی، اسی حساب سے کراہت کا حکم لاگو ہوگا۔

نیز یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ یہ تمام تفاوت اور فرقِ مراتب علم اور اعتقاد کے اعتبار سے ہے، ورنہ عملا ہر درجہ کے تشبہ کو ممنوع العمل قرار دینا ہی ایک مسلمان کے لیے احتیاط اور پرہیزگاری کا باعث ہوسکتا ہے؛ کیوں کہ تمدن اور معاشرت کا ایک طویل سلسلہ ہے اور اس سلسلہ کی ایک کڑی دوسری کو کھینچتی ہے، پس کسی تمدن کی کسی چیز کو اختیار کرنا گویا دوسری چیزکے لیے راستہ صاف کردینا ہے تو اس طرح انجام کار پورے ہی تمدن کا حلقہ اپنی گردن میں ڈال لینا ہے؛ اس لیے سدِ ذرائع کے طورپر تشبہ کے تمام مراتب سے خواہ حرام ہو ں یا مکروہ تحریمی ہوں یا مکروہ تنزیہی، عمل کے دائرہ میں یکساں ہی ممانعت کی جائے گی۔


aj-kal-k-burqe parda burqah hijab hijab fahsion - aurat ka parda - hiba fashion or islam - islamic hijab in urdu . parde wali aurat. islamic  parda . women hijab

جماعت اسلامی کا پروگرام : حجاب گالا . اور اسلامی نقط نظر


--------------------------------------------------

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ4، جلد:101 ‏، رجب 1438 ہجری مطابق اپریل 2017ء
===========
سوال :
عورتوں اور مردوں کے لیئے شرعی لباس کیا ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ لباس کے معاملہ میں شریعت مطہرہ نے مرد وعورت کو کسی خاص وضع اور تراش کا پابند نہیں کیا،البتہ کچھ حدود وقیود رکھیں ہیں جن سے تجاوز کی اجازت نہیں،
 ان حدود میں رہتے ہوئے کسی بھی وضع کو اختیار کرنے کی اجازت ہے۔ 
جن کا خلاصہ یہ ہے :
 ۱) لباس اتنا چھوٹا ،باریک یا چست نہ ہو کہ جسم کے جن اعضاء کا چھپانا واجب ہے وہ یا ان کی ساخت ظاہر ہوجائے۔
 ۲) لباس میں مرد عورت کی یا عورت مرد کی مشابہت اختیار نہ کریں۔
 ۳) کفار وفساق کی نقالی اور مشابہت نہ ہو۔
 ۴) مرد شلوار،پائجامہ یا تہبند وغیرہ اتنا نیچے نہ پہنیں کہ ٹخنے یا ٹخنوں کا کچھ حصہ چھپ جائے اور نہ ہی خواتین شلوار وغیرہ اتنی اونچی پہنیں کہ ان کے ٹخنے ظاہر ھوجائیں۔
 ۵) لباس میں سادگی ہو، تصنع، بناوٹ یا نمائش مقصود نہ ہو۔
 ۶) مالدار شخص نہ تو فاخرانہ لباس پہنے اور نہ ہی ایسا لباس پہنے کہ اس سے مفلسی جھلکتی ہو۔
۷) اپنی مالی استطاعت کے مطابق ہی لباس کا اہتمام ہونا چاہیے۔
 ۸) مرد کے لیئے خالص ریشم پہننا حرام ہے۔
 ۹) مرد کے لیئے خالص سرخ رنگ مکروہ ہے ،
 البتہ سرخ کے ساتھ کسی اور رنگ کی بھی آمیزش ہو تو جاہز ہے۔ 
۱۰) لباس صاف ستھرا ہو، نیز مردوں کے لیئے سفید رنگ پسندیدہ ہے ۔ واللہ اعلم

=============

 Share's Button say WhatsApp , Facebook , Twitter , Google+ Par Share Zaror Karen