Showing posts with label Qurbani قربانی. Show all posts
Showing posts with label Qurbani قربانی. Show all posts

قربانی کے احکام ومسائل

 

 قربانی کے احکام ومسائل -  ماہ ِ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ

 ماہ ِ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ:


          اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم (سورة الفجر آیت نمبر ۲)میں ذی الحجہ کی دس راتوں کی قسم کھائی ہے (وَالْفَجْرِ وَلَیَالٍ عَشْرٍ) جس سے معلوم ہوا کہ ماہ ذی الحجہ کا ابتدائی عشرہ اسلام میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ حج کا اہم رکن: وقوفِ عرفہ اسی عشرہ میں ادا کیا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم کو حاصل کرنے کا دن ہے۔ غرض رمضان کے بعد ان ایام میں اخروی کامیابی حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ لہٰذا ان میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کریں، اللہ کا ذکر کریں، روزہ رکھیں، قربانی کریں۔ احادیث میں ان ایام میں عبادت کرنے کے خصوصی فضا ئل وارد ہوئے ہیں، جن میں سے چند احادیث ذکر کررہا ہوں:

      حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی دن ایسانہیں ہے جس میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو۔ (صحیح بخاری )

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک عشرہٴ ذی الحجہ سے زیادہ عظمت والے دوسرے کوئی دن نہیں ہیں، لہٰذا تم ان دنوں میں تسبیح وتہلیل اور تکبیر وتحمید کثرت سے کیا کرو۔ (طبرانی) ان ایام میں ہر شخص کو تکبیر تشریق پڑھنے کا خاص اہتمام کرنا چاہیے، تکبیرِ تشریق کے کلمات یہ ہیں: اَللہُ اَکْبَرُ۔ اَللہُ اَکْبَرُ۔ لَآ اِلٰہ الَّا اللہُ۔ وَاللہُ اَکْبَر۔ اللہُ اَکْبَر۔ وَلِلہِ الْحَمْدُ۔

عرفہ کے دن کا روزہ:


حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عرفہ کے دن کے روزے کے متعلق میں اللہ تعالیٰ سے پختہ امید رکھتا ہوں کہ وہ اس کی وجہ سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو معاف فرمادیں گے۔ ( صحیح مسلم) مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ عرفہ کے دن کا ایک روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کی معافی کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا نویں ذی الحجہ کے دن روزہ رکھنے کا اہتمام کریں۔


قربانی کی حقیقت:

qurbani ka maqsd qurbani ki fazail qurbani in quran

          قربانی کا عمل اگرچہ ہر امت کے لیے رہا ہے، جیساکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلِکِلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسِکًا لِیَذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَی مَا رَزَقَھُمْ مِنْ بَھِیْمَةِ الْاَنْعَامِ (سورة الحج ۳۴) ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی؛ تاکہ وہ چوپایوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے؛ لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی اہم وعظیم قربانی کی وجہ سے قربانی کو سنتِ ابراہیمی کہا جاتا ہے اور اسی وقت سے اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگئی؛ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے جو قیامت تک جاری رہے گی۔ اس قربانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں اپنی جان ومال ووقت ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہیں۔

          حضورِاکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر سو اونٹوں کی قربانی پیش فرمائی تھی جس میں سے ۶۳ اونٹ کی قربانی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے کی تھی اور بقیہ ۳۷ اونٹ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نحر (یعنی ذبح) فرمائے۔ (صحیح مسلم ۔حجة النبی  صلی اللہ علیہ وسلم) یہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد (ذی الحجہ کی ۱۰ تاریخ کو کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں) کا عملی اظہار ہے اور اس عمل میں اُن حضرات کا بھی جواب ہے جو مغربی تہذیب سے متاثر ہوکر کہہ دیتے ہیں کہ جانوروں کی قربانی کے بجائے غریبوں کو پیسے تقسیم کردیے جائیں ۔ اسلام نے جتنا غریبوں کا خیال رکھا ہے اس کی کوئی مثال کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی؛ بلکہ انسانیت کو غریبوں اور کمزوروں کے درد کا احساس شریعتِ اسلامیہ نے ہی سب سے پہلے دلایا ہے۔ غرباء ومساکین کا ہر وقت خیال رکھتے ہوئے شریعت اسلامیہ ہم سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہم عید الاضحی کے ایام میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں اپنے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، جیسا کہ ساری انسانیت کے نبی حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کام میں مال خرچ کیا جائے تو وہ عید الاضحی کے دن قربانی میں خرچ کیے جانے والے مال سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا۔ (سنن دار قطنی، سنن کبری للبیہقی)

          اِن دِنوں بعض حضرات نے باوجویکہ کہ انہوں نے قربانی کے سنتِ موٴکدہ اور اسلامی شعار کا موقف اختیار کیا ہے ۱۴۰۰ سال سے جاری وساری سلسلہ کے خلاف اپنے اقوال وافعال سے گویا یہ تبلیغ کرنی شروع کردی ہے کہ ایک قربانی پورے خاندان کے لیے کافی ہے اور قربانی کم سے کم کی جائے جو سراسر قرآن وحدیث کی روح کے خلاف ہے؛ کیونکہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال کی روشنی میں امتِ مسلمہ کا اتفاق ہے کہ ان ایام میں زیادہ سے زیادہ قربانی کرنی چاہیے۔

دیگر اعمال صالحہ کی طرح قربانی میں بھی مطلوب ومقصود رضاء الٰہی ہونی چاہیے، جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ صَلاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن (سورة الانعام ۱۶۲) میری نماز، میری قربانی، میرا جینا، میرا مرنا سب اللہ کی رضامندی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ نیز اللہ جلّ شانہ کا فرمان ہے: لَن یَّنَالَ اللہَ لُحُوْمُھَا وَلَا دِمَاوٴُھَا وَلٰکِن یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ (سورة الحج ۳۷) اللہ کو نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے نہ اُن کا خون؛ لیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔

قربانی کی اہمیت وفضیلت:

qurbani ka gosht ki barkat in quran urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا (اس قیام کے دوران) آپ  صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے رہے۔ (ترمذی ۔ابواب الاضاحی) غرضیکہ حضورا کرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے قیام کے دوران ایک مرتبہ بھی قربانی ترک نہیں کی باوجویکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلمکے گھرمیں بوجہ قلت طعام کئی کئی مہینے چولہا نہیں جلتا تھا۔

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ قربانی کیا ہے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہمیں قربانی سے کیا فائدہ ہوگا؟ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا: ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی۔ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اون کے بدلے میں کیا ملے گا؟ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے میں (بھی) نیکی ملے گی۔ (سنن ابن ماجہ ۔ باب ثواب الاضحیہ)

ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذی الحجہ کی ۱۰ تاریخ کو کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں اور قیامت کے دن قربانی کرنے والا اپنے جانور کے بالوں ، سینگوں اور کھروں کو لے کر آئے گا (اور یہ چیزیں اجروثواب کا سبب بنیں گی) اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرفِ قبولیت حاصل کرلیتا ہے ، لہٰذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔ (ترمذی ۔ باب ما جاء فی فضل الاضحیہ)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کام میں مال خرچ کیا جائے تو وہ عید الاضحی کے دن قربانی میں خرچ کیے جانے والے مال سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا۔ (سنن دار قطنی باب الذبائح، سنن کبری للبیہقی ج۹ ص ۲۶۱)

قربانی کا وجوب:


          قربانی کو واجب یا سنتِ موٴکدہ قرار دینے میں زمانہٴ قدیم سے اختلاف چلا آرہا ہے؛ مگر پوری امتِ مسلمہ متفق ہے کہ قربانی ایک اسلامی شعار ہے اور جو شخص قربانی کرسکتا ہے اس کو قربانی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے خواہ اس کو واجب کہیں یا سنتِ موٴکدہ یا اسلامی شعار۔ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ہمیشہ قربانی کیا کرتے تھے باوجودیکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں اشیاء خوردنی نہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی مہینے تک چولہا نہیں جلتا تھا۔ ۸۰ ہجری میں پیدا ہوئے حضرت امام ابوحنیفہ  نے قرآن وحدیث کی روشنی میں قربانی کو واجب قرار دیا ہے، حضرت امام مالک رحمۃ اللہ اور حضرت امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ کی ایک روایت بھی قربانی کے وجوب کی ہے۔ ہندوپاک کے جمہور علماء نے بھی وجوب کے قول کو اختیار کیا ہے؛ کیونکہ یہی قول احتیاط پر مبنی ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ نے بھی قربانی کے وجوب کے قول کو اختیار کیا ہے۔ قربانی کے وجوب کے لیے متعدد دلائل میں سے چندپیش ہیں:

          (۱) اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم (سورة الکوثر) میں ارشاد فرماتا ہے: فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ اس آیت میں قربانی کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے اور امر عموماً وجوب کے لیے ہوا کرتا ہے، جیساکہ مفسرینِ کرام نے اس آیت کی تفسیر میں تحریر کیا ہے۔ علامہ ابوبکر جصاص رحمۃ اللہ (ولادت ۳۰۵ھ) اپنی کتاب(احکام القرآن) میں تحریر کرتے ہیں : حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت (فَصَلِّ لِرَبِّکَ) میں جو نماز کا ذکر ہے، اس سے عید کی نماز مراد ہے اور (وَانْحَرْ) سے قربانی مراد ہے۔ مفسر قرآن شیخ ابوبکر جصاص  فرماتے ہیں کہ اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں: (۱) عید کی نماز واجب ہے۔ (۲) قربانی واجب ہے۔

          (۲) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو قربانی کی وسعت حاصل ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ بھٹکے۔ (سنن ابن ماجہ۔ باب الاضاحی ہی واجبہ ام لا، مسند احمد ج۲ ص ۳۲۱، السنن الکبری ج۹ ص ۲۶۰ کتاب الضحایا) وسعت کے باوجود قربانی نہ کرنے پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعید ارشاد فرمائی اور اس نوعیت کی سخت وعید واجب کے چھوڑنے پر ہی ہوتی ہے، لہٰذا معلوم ہوا کہ قربانی کرنا واجب ہے۔

          (۳) حضرت جندب بن سفیان البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عید الاضحی کے دن حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عید کی نماز سے پہلے (قربانی کا جانور) ذبح کر دیا تو اسے چاہیے کہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے (عید کی نماز سے پہلے) ذبح نہیں کیا تو اسے چاہیے کہ وہ (عید کی نماز کے) بعد ذبح کرے۔ (صحیح بخاری۔ باب من ذبح قبل الصلاة اعاد) حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی کی نماز سے قبل جانور ذبح کرنے پر دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا؛ حالانکہ اُس زمانہ میں صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس مالی وسعت نہیں تھی۔ یہ قربانی کے وجوب کی واضح دلیل ہے ۔

Qurbani ka sabuot qurbani ki hadees qurbani ki haqiqat

قربانی کس پر واجب ہے:


          ہر صاحبِ حیثیت کو قربانی کرنی چاہیے جیساکہ حدیث میں گزراکہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو قربانی کی وسعت حاصل ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے۔ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ قربانی کے وجوب کے لیے صاحب وسعت ہونا ضروری ہے؛ البتہ مسافر پر قربانی واجب نہیں، جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسافر پر قربانی واجب نہیں۔ (المحلی بالآثار لابن حزم ج ۶ ص ۳۷)

قربانی کے جانور:


          بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ (نر و مادہ) قربانی کے لیے ذبح کیے جاسکتے ہیں جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : آٹھ جانور ہیں دو بھیڑوں میں سے اور دو بکریوں میں سے، دو اونٹوں میں سے اور دو گائیوں میں سے۔ (سورة الانعام ۱۴۳ و ۱۴۴)

          قربانی کے جانوروں میں بھینس بھی داخل ہے؛ کیونکہ یہ بھی گائے کی ایک قسم ہے، لہٰذا بھینس کی قربانی بھی جائز ہے۔ امتِ مسلمہ کا اجماع ہے کہ بھینس کا حکم گائے والا ہے۔ (کتاب الاجماع لابن منذر ص ۳۷) حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ (متوفی۱۱۰ھ) فرماتے ہیں کہ بھینس گائے کے درجہ میں ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج۷ ص ۶۵) حضرت امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ (متوفی ۱۶۱ھ) فرماتے ہیں کہ بھینسوں کو گائے کے ساتھ شمار کیا جائے گا۔ (مصنف عبد الرزاق ج۴ ص ۲۳) حضرت امام مالک رحمۃ اللہ (متوفی ۱۷۹ھ) فرماتے ہیں کہ بھینس گائے ہی ہے (یعنی گائے کے حکم میں ہے) (موطا مالک باب ما جاء فی صدقہ الفطر) ہندوپاک کے جمہور علماء کی بھی یہی رائے ہے کہ بھینس گائے کے حکم میں ہے۔ سعودی عرب کے مشہور عالم شیخ محمد بن عثیمین رحمۃ اللہ نے بھی بھینس کو گائے کے حکم میں شامل کیا ہے۔ بھینس عربوں میں نہیں پائی جاتی ہے؛ اس لیے اس کاذکر قرآن کریم میں وضاحت سے نہیں ہے۔ (مجموع فتاوی ورسائل شیخ ابن عثیمین رحمۃ اللہ ۲۵) موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں میں یہی مذکور ہے کہ بھینس گائے کے حکم میں ہے۔

جانور کی عمر:


          قربانی کے جانوروں میں بھیڑ اور بکرا بکری ایک سال، گائے اور بھینس دو سال اور اونٹ پانچ سال کا ہونا ضروری ہے؛ البتہ وہ بھیڑ اور دنبہ جو دیکھنے میں ایک سال کا لگتا ہو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔

قربانی کے جانور میں شرکاء کی تعداد:


          اگر قربانی کا جانور بکرا، بکری، بھیڑ یا دنبہ ہے تو وہ صرف ایک آدمی کی طرف سے کفایت کرتی ہے:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بکری ایک آدمی کی طرف سے ہوتی ہے۔ (اعلاء السنن۔ باب ان البدنہ عن سبعة)

          اگر قربانی کا جانور اونٹ، گائے یا بھینس ہے تو اس میں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر نکلے تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گائے میں سات سات (آدمی) شریک ہوجائیں۔ (صحیح مسلم ۔ باب جواز الاشتراک الخ.) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ والے سال حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کی؛ چنانچہ اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے اور گائے بھی سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔ (صحیح مسلم ۔ باب جواز الاشتراک الخ.)

          وضاحت: حجة الوداع اور صلح حدیبیہ کے موقع پر اونٹ اور گائے میں سات سات آدمی شریک ہوئے تھے، اس پر قیاس کرکے علماء امت نے فرمایا ہے کہ عید الاضحی کی قربانی میں بھی اونٹ اور گائے میں سات سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں۔

          قربانی کے ایام: قربانی کے تین ایام ہیں ۱۰ و ۱۱ و ۱۲ ذی الحجہ۔


   حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قرآن کی آیت (وَیَذْکَرُوا اسْمَ اللہِ فِیْ اَیَّامٍ مَعْلُوْمَاتٍ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایام معلومات سے مراد یوم النحر (۱۰ ذی الحجہ) اور اس کے بعد دو دن ہیں۔ (تفسیر ابن ابی حاتم الرازی ج۶ چ ۲۶۱)

       حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص قربانی کرے تو تیسرے دن کے بعد اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ نہیں بچنا چاہیے۔ (صحیح بخاری۔ باب ما یوٴکل من لحوم الاضاحی) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کے دن تین ہی ہیں؛ اس لیے کہ جب چوتھے دن قربانی کا بچا ہوا گوشت رکھنے کی اجازت نہیں تو پورا جانور قربان کرنے کی اجازت کہاں سے ہوگی؟

          وضاحت: تین دن کے بعد قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت ابتداء اسلام میں تھی بعد میں اجازت دے دی گئی کہ اسے تین دن بعد بھی رکھا جاسکتا ہے۔ (مستدرک حاکم ج۴ ص ۲۵۹) اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ جب تین دن کے بعد گوشت رکھنے کی اجازت مل گئی تو تین دن کے بعد قربانی بھی کی جاسکتی ہے، اس لیے کہ گوشت تو پورے سال بھی رکھا جاسکتا ہے تو کیا قربانی کی اجازت بھی پورے سال ہوگی؟ ہرگز نہیں۔ تین دن کے بعد قربانی کی اجازت نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے۔

 حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی یہی منقول ہے کہ قربانی کے دن تین ہی ہیں۔ (موطا مالک ۔ کتاب الضحایا)

   حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قربانی کے دن ۱۰ ذی الحجہ اور اس کے بعد کے دو دن ہیں؛ البتہ یوم النحر (۱۰ ذی الحجہ) کو قربانی کرنا افضل ہے۔ (احکام القرآن للطحاوی ج ۲ ص ۲۰۵)

          وضاحت: بعض علماء کرام نے مسند احمد میں وارد حدیث (کُلُّ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ ذِبْحٌ) کی بنیاد پر فرمایا کہ اگر کوئی شخص ۱۲ ذی الحجہ تک قربانی نہیں کرسکا تو ۱۳ ذی الحجہ کو بھی قربانی کی جاسکتی ہے؛ لیکن حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ، حضرت امام مالک رحمۃ اللہ اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ نے مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں فرمایا ہے کہ قربانی صرف تین دن کی جاسکتی ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ نے خود اپنی کتاب میں وارد حدیث کے متعلق وضاحت کردی ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ نے تحریر کیا ہے کہ متعدد صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مثلاً حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کی بھی یہی رائے تھی۔ احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قربانی کو صرف تین دن تک محدود رکھا جائے؛ کیونکہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی ایک صحابی سے ۱۳ ذی الحجہ کو قربانی کرنا ثابت نہیں ہے۔

قربانی کرنے والا ناخن اور بال نہ کاٹے:


          $ ام الموٴمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: جب ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہوجائے اور تم میں سے جو قربانی کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے۔ ( مسلم) اس حدیث اور دیگر احادیث کی روشنی میں قربانی کرنے والوں کے لیے مستحب ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک جسم کے کسی حصے کے بال اور ناخن نہ کاٹیں۔ لہٰذا اگر بال یا ناخن وغیرہ کاٹنے کی ضرورت ہو تو ذی القعدہ کے آخر میں فارغ ہوجائیں۔ ( اگر کوئی ناخن اور بال کاٹ لے تو بھی قربانی ٹھیک ہوگی بس صرف اس مستحب عمل کے ثواب سے محروم ہوگا ..)
%%%
 || Videos || Qurbani ka Bayan Masail o Ahkam

قربانی کا جانورکیسا ہونا چاہیے
Qurbani Ka Janwar Kesa Hona chaiye





Qurbani ky Janwar main 7 Hesse Kase Taqseem Karen
قربانی کے جانور میں حصے کیسے کریں 



Share Wale Button say WhatsApp , Facebook , Twitter , Google+ Par Share Karen

درد بھری تحریر " کیا کُتوں کے لیۓ قربانی کی تھی؟ "

 


*درد بھری تحریر*
بابا بابا ! تِین دِن رہ گئے ہیں قربانی والی
عید میں۔ ہمیں بھی گوشت ملے گا نا؟
بابا : ہاں ہاں کیوں نہی بِالکُل ملے گا۔۔
لیکن بابا پچھلی عید پر تو کسی نے بھی ہمیں
گوشت نہیں دیا تھا، اب تو پورا سال ہو گیا
ہے گوشت دیکھے ہوئے بھی،
نہیں شازیہ :اللہ نے ہمیں بھوکا تو نہیں رکھا،
میری پیاری بیٹی، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیۓ
ڈاکٹر صاحب قربانی کے لئے بڑا جانور لے کر آئے ہیں، 
اور ماسٹر جی بھی تو بکرا لے کر آئےہیں، 
ہم غریبوں کے لیے ہی تو قربانی کا گوشت ہوتا ہے، 
امیر لوگ تو سارا سال گوشت ہی کھاتے ہیں،
آج عیدالضحٰی پے مولوی صاحب بیان فرما رہے ہیں
کہ قربانی میں غریب مسکین لوگوں کونہیں بھولنا چاہئے۔۔ 
ان کے بہت حقوق ہوتے ہیں۔۔
خیر شازیہ کا باپ بھی نماز ادا کر کےگھر پھنچ گیا، 
گھنٹہ بھر انتظار کرنے کے بعد شازیہ بولی۔۔ 
بابا ابھی تک گوشت نہیں آیا، 
بڑی بہن رافیہ بولی۔۔ چپ ہو جاٶ شازی بابا کو تنگ نہ کرو۔
وہ چپ چاپ دونوں کی باتیں سنتا رہا اور نظرانداز کرتا رہا۔۔
کافی دیر کے بعد بھی جب کہیں سے گوشت نہیں آیا تو شازیہ کی ماں بولی۔ 
سنیۓ میں نے تو پیاز ٹماٹر بھی کاٹ دیۓہیں۔ لیکن کہیں سے بھی گوشت نہیں آیا، 
کہیں بھول تو نہیں گۓ ہماری طرف گوشت بجھوانا۔
آپ خود جا کر مانگ لائیں، 
شازیہ کی ماں تمہیں تو پتہ ھے آج تک ہم نےکبھی کسی سے مانگانہیں ، 
اللہ کوئ نہ کوئ سبب پیدا کرے گا۔۔
دوپہر گزرنے کے بعد شازیہ کے اسرار پر پہلے ڈاکٹر صاحب کے گھر گئے، 
اور بولے ڈاکٹر صاحب۔ میں آپ کاپڑوسی ہوں کیا قربانی کا گوشت ملسکتا ہے؟ 
یہ سننا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کا رنگ لال پیلا ہونے لگا، 
اور حقارت سے بولے پتہ نہیں کہاںکہاں سے آ جاتے ہیں گوشت مانگنے،
تڑاخ سے دروازہ بند کر دیا ۔۔
توہین کے احساس سے اسکی آنکھوں میں آنسو گۓ۔۔
اور بھوجل قدموں سے چل پڑا راستےمیں ماسٹر جی
کے گھر کی طرف قدم اٹھے اور وہاں بھی وہی دست سوال۔ 
ماسٹر جی نے گوشت کا سن کرعجیب سی نظروں سے دیکھا اور چلےگۓ۔ 
تھوڑی دیر بعدد باہر آۓ تو شاپر دے کرجلدی سے اندر چلۓ گۓ۔
جیسے اس نے گوشت مانگ کر گناہ کر دیا ہو۔۔
گھر پہنچ کر دیکھا تو صرف ہڈیاں اور چربی۔۔
خاموشی سے اٹھ کرکمرے میں چلے گئے اور خاموشی سے رونے لگ گئے۔
بیوی آئ اور بولی کوئی بات نہیں۔۔ آپ غمگین نہ ہوں۔
میں چٹنی بنا لیتی ہوں۔۔
تھوڑی دیر بعد شازیہ کمرے میں آئ۔
اور بولی بابا، 
ہمیں گوشت نہںں کھانا ۔ میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے ویسے بھی،
یہ سننا تھا کہ آنکھوں سے آنسو گرنےلگے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے 
لیکن رونے والے وہ اکیلے نہیں تھے۔۔
دونوں بچیاں اور بیوی بھی آنسو بہا رہے تھے۔۔
اتنے میں پڑوس والے اکرم کی آواز آئ۔۔
جو سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا۔۔ 
انور بھائی، 
دروازہ کھولو، 
دروازہ کھولا تو اکرم نے تین چار کلوگوشت کا شاپر پکڑا دیا، 
اور بولا ،
گاٶں سے چھوٹا بھائ لایا ہے۔ 
اتنا ہم اکیلے نہیں کھا سکتے۔
یہ تم بھی کھا لینا 
خوشی اورتشکر کے احساس سےآنکھوں میں آنسو آ گۓ ۔
اور اکرم کے لیۓ دل سے دعا نکلنے لگی۔
گوشت کھا کر ابھی فارغ ھوۓ ہی تھے کہ بہت زور کا طوفان آیا ۔
بارش شروع ہو گئ۔ اسکے ساتھ ہیبجلی چلی گئی۔
دوسرے دن بھی بجلی نہی آئی۔ 
پتہ کیا تو معلوم ہوا ٹرانسفارمر جل گیا۔
تیسرے دن شازیہ کو لے کرباہر آئے تو دیکھا کہ، 
ماسٹر جی اور ڈاکٹر صاحب بہت سا گوشت باہر پھینک رہے تھے ۔ 
جو بجلی نہ ہونےکی وجہ سے خراب ہو چکا تھا۔ 
اور اس پر کُتے جھپٹ رہے تھے۔
شازیہ بولی، 
بابا۔ 
کیا کُتوں کے لیۓ قربانی کی تھی؟ 
وہ شازیہ کا چہرہ دیکھتے رہ گیے ۔ 
اور ماسٹر جی اور ڈاکٹر صاحب نے یہ سُن کر گردن جھکا لی۔ 
خدرا احساس کریں غریب اور مسکین لوگوں کا۔
یہ صِرف تحریر ھی نہیں، 
اپنے آس پاس خود دار مساکین کیضرورتوں سے ہمہ وقت آگاہ رھنے کی درخواست بھی ھے۔

قربانی اور روشن خیالوں کے تاریک خیالات

 
qurbani in islam , bakra eid qurbani wali eid eid ul azha , qurbani ky masail qurbani hadees

سوال: ہمارے علاقہ کے ایک جدید تعلیم یافتہ استاذ نے نیا فتنہ شروع کررکھا ہے کہ جانور کی قربانی صرف حاجی حج کے موقع پر مکہ معظمہ میں کرسکتا ہے، اس کے علاوہ اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں، ہر سال مسلمان عیدالاضحیٰ کے موقع پر فریضۂ حج کی ادائیگی کے بغیر جو دنیا کے مختلف حصوں میں قربانی کرتے ہیں اس کا کوئی جواز نہیں، بلکہ یہ بدعت ہے۔ اس کے اس پروپیگنڈہ نے کئی ضعیف الاعتقاد لوگوں کو گمراہ کررکھا ہے۔ نیز بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مساجد وغیرہ کی تعمیر پر یا رفاہ عامہ کے کاموں میں لگا دیئے جائیں تو پوری امت کا کتنا نفع ہو؟ ان حالات میں ہم نے آپ کی طرف رجوع کرنا مناسب سمجھا، آپ مفصل فتویٰ صادر فرمائیں کہ: 
(۱) قربانی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
(۲) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حج کے علاوہ بھی کبھی قربانی کی ہے؟ 
(۳) صحابۂ کرام، تابعین و تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین کا قربانی کے سلسلے میں کیا معمول رہا ہے؟ 
(۴) کیا صدقہ و خیرات قربانی کے قائم مقام ہوسکتا ہے؟ 
(ابو احسان کوثر نیازی، رحیم یار خان۔ عبدالقادر، کوٹلی پائیں، مانسہرہ۔ دیگرمتعدد سائلین) 
جواب:  اس دور کے فتنوں میں سے ایک بہت بڑا فتنہ یہ ہے کہ مغرب سے مرعوب بلکہ ذہنی غلامی کا شکار ایک طبقہ دین اسلام کے یقینی طور پر ثابت شدہ احکام و شعائر کو مسلمانوں کی مادی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھ کر ان میں قطع و بیونت اور ردوبدل کے در پے رہتا ہے اور جہاں اس سے بھی کام بنتا نہیں دیکھتا تو سرے سے انکار کر بیٹھتا ہے، یوں امت مسلمہ کے درد اور خیرخواہی کے پردوں میں الحاد کا بہت بڑا دروازہ کھل جاتا ہے اور جاہل عوام احکام اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہوکر گمراہ ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات ایمان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 
ایسے حالات میں عوام پر لازم ہے کہ وہ دینی مسائل میں جدید تعلیم یافتہ مغرب زدہ طبقہ… جو دین کی مبادیات سے بھی جاہل ہے… کی بے سروپا باتوں پر کان دھرنے کے بجائے مستند علماء سے مضبوط تعلق قائم کریں اور احکام اسلام کے بارے میں ان سے رہنمائی حاصل کریں کہ یہ انہی کا منصب ہے۔ 
ایک مسلمان کا مطمح نظر بہرکیف احکام الٰہیہ کی بجا آوری ہے، خواہ کسی حکم کی علت اس کی عقل کی ڈبیا میں آئے یا نہ آئے۔ بس اتنا کافی ہے کہ وہ حکم اور عمل قابل قبول دلیل سے ثابت ہو۔ 
قربانی ایک مستقل واجب عبادت بلکہ شعائر اسلام میں سے ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دس سالہ قیام میں ہر سال قربانی فرمائی، حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم، تابعین و تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین و اسلاف رحمہم اﷲ تعالیٰ غرض پوری امت کا متوارث و مسلسل عمل بھی قربانی کرنے کا ہے، آج تک کسی نے نہ اسے حج اور مکہ معظمہ کے ساتھ خاص سمجھا ہے اور نہ صدقہ و خیرات کو اس کے قائم مقام سمجھا ہے۔ قربانی کے بارے میں جتنی آیات و احادیث ہیں وہ سب جانوروں کا خون بہانے سے متعلق ہیں، نہ کہ صدقہ و خیرات سے متعلق۔ نیز ان میں حج اور مکہ معظمہ کی کوئی تخصیص نہیں، بطورِ نمونہ چند آیات و احادیث 
ملاحظہ ہوں: (۱)وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاً لِّیَذْکُرُوْا اسْمَ اﷲِ عَلیٰ مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ۔(سورۂ حج: آیت ۳۴) ترجمہ: ہم نے (جتنے اہل شرائع گزرے ہیں ان میں سے) ہر امت کے لیے قربانی کرنا اس غرض سے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپائوں پر اﷲ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا فرمائے ہیں۔ 
امام ابن کثیر و امام رازی رحمہما اﷲتعالیٰ وغیرہ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں تصریح فرمائی ہے کہ خون بہا کر جانوروں کی قربانی کا دستور شروع دن سے ہی تمام اَدیان و مذاہب میں چلا آ رہا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر:۳/۲۲۷، تفسیر کبیر۳/ ۳۴) 
(۲)وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاً ھُمْ نَاسِکُوْہُ۔ (سورۂ حج: آیت۶۷) ترجمہ: ہم نے ہر امت کے لیے ذبح کرنے کا طریقہ مقرر کیا ہے کہ وہ اس طریقہ پر ذبح کیا کرتے تھے۔ (۳)فَصَلِّ لِرَّبِکَ وَاْنَحْر۔(سورۂ کوثر۔ آیت:۲) 
ترجمہ: سو آپ اپنے پروردگار کی نماز پڑھئے اور (اسی کے نام کی) قربانی کیجئے۔ (۴)عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: من وجد سعۃً فلم یضح فلا یقربن مصّلانا۔ (ابن ماجہ: ص۲۲۶) 
ترجمہ: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔ 
(۵)عن ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما قال: أقام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بالمدینۃ عشر سنین یضحی۔ (ترمذی:۱/۱۸۲) 
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا اور اس عرصۂ قیام میں آپ مسلسل قربانی فرماتے رہے۔ 

ان آیات و احادیث سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے: (۱) صاحبِ نصاب پر قربانی واجب ہے اور استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والے پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے سخت ناراضی کا اظہار فرمایا، حتیٰ کہ اس کا عیدگاہ کے قریب آنا بھی پسند نہ فرمایا۔ (۲) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے ۱۰ سال میں ہر سال قربانی فرمائی، حالانکہ حج آپ نے صرف آخری سال فرمایا۔ معلوم ہوا کہ قربانی نہ حج کے ساتھ خاص ہے اور نہ مکہ معظمہ کے ساتھ، ورنہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ۹ سال قربانی کیوں فرماتے؟ 
(۳) قربانی سے مقصد محض ناداروں کی مدد نہیں جو صدقہ و خیرات سے پورا ہوجائے، بلکہ قربانی میں مقصود جانور کا خون بہانا ہے، یہ عبادت اسی خاص طریقہ سے ادا ہوگی، محض صدقہ و خیرات کرنے سے نہ یہ عبادت ادا ہوگی، نہ اس کے مطلوبہ فوائد وثمرات حاصل ہوں گے، ورنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے دور میں غربت و افلاس دورِ حاضر کی نسبت زیادہ تھا، اگر جانور ذبح کرنا مستقل عبادت نہ ہوتی تو وہ حضرات جانور ذبح کرنے کے بجائے ناداروں کے لیے چندہ جمع کرتے یا اتنی رقم رفاہ عامہ کے کاموں میں صرف فرماتے۔ 
قربانی کے بجائے صدقہ و خیرات کا مشورہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی نادان یہ مشورہ دے کہ آج سے نماز، روزہ کے بجائے اتنا صدقہ کردیا جائے، ظاہر ہے کہ اس سے نماز، روزہ کی عبادت ادا نہ ہوگی، اسی طرح صدقہ و خیرات سے قربانی کی مستقل عبادت بھی ادا نہ ہوگی۔ 
درحقیقت قربانی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس عظیم الشان عمل کی یادگار ہے جس میں انہوں نے اپنے لختِ جگر کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیا تھااور ہونہار فرزند حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بلاچوں وچرا حکمِ الٰہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرکے ذبح ہونے کے لیے اپنی گردن پیش کردی تھی، مگر اﷲ تعالیٰ نے اپنا فضل فرما کر دنبے کو فدیہ بنادیا تھا۔ اس پر ذبح کرکے ہی عمل ہوسکتا ہے، محض صدقہ و خیرات سے اس عمل کی یاد تازہ نہیں ہوسکتی۔ 
نیز حافظ ابن کثیر و امام رازی رحمہما اﷲتعالیٰ نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما، حضرت عطائ، حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت حسن بصری، حضرت قتادہ، حضرت محمد بن کعب قرظی، حضرت ضحاک رحمہم اﷲتعالیٰ و غیرہم کا قول نقل کیا ہے کہ مشرکین عرب غیراﷲ کے نام پر جانور ذبح کیا کرتے تھے، اس لیے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنے رب کے نام پر جانور ذبح کریں۔ (تفسیر ابن کثیر: ص۷۲۴، ج۴) اس بناپر جانور ذبح کرکے ہی اس حکم الٰہی کو پورا کیا جاسکتا ہے، صدقہ و خیرات اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔ اﷲ تعالیٰ ملحدین کی تحریف سے دین کی حفاظت فرمائیں اور مسلمانوں کو مستند علماء کرام سے دین حق کی رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ واﷲ العاصم من جمیع الفتن وھوالموفق لما یحب و یرضیٰ۔ قربانی سے کیا سبق حاصل کیا جائے؟ 
(۱) قربانی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جس عظیم الشان عمل کی یادگار ہے، اس کا دل و دماغ میں استحضار کیا جائے اور اس حقیقت کو سوچا جائے کہ یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضا جوئی کے لیے تھا۔ اور یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ اگر بیٹے ہی کو ذبح کرنے کا حکم باقی رہتا تو ہم بخوشی اس کی تعمیل کرتے۔ ہر والد کا جذبہ یہ ہو کہ میں ضرور اپنے لخت ِجگر کو قربان کرتا اور ہر بیٹے کا جذبہ یہ ہو کہ میں قربان ہونے کے لیے بدل و جان راضی ہوتا اور یہ عزم ہونا چاہیے کہ اگر یہ حکم آج نازل ہوجائے تو ہم اس میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کریں گے۔ 
(۲) قربانی کی اصل روح اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنی تمام نفسانی خواہشات کو قربان کردے۔ جانور ذبح کرکے قربانی دینے کے حکم میں یہی حکمت پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں تمام خواہشات نفسانیہ کو ایک ایک کرکے ذبح کرو۔ اگر کوئی شخص جانور کی قربانی تو بڑے شوق سے کرتا ہے مگر خواہش نفس اور گناہوں کو نہیں چھوڑتا، نہ اس کی فکر ہے تو اگرچہ واجب تو اس کے ذمّہ سے ساقط ہوگیا، مگر قربانی کی حقیقت و روح سے محروم رہا، اس لیے قربانی کی ظاہری صورت کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقت کو حاصل کرنے کا عزم، کوشش اور دُعابھی جاری رہنا چاہیے۔ 
(۳) حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صرف ایک جانور کی قربانی نہیں کی، بلکہ پوری زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزارا، جو حکم بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا فوراً تعمیل کی۔ جان، مال، ماں باپ، وطن و مکان، لخت جگر غرض سب کچھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربان فرمایا۔ ہمیں بھی اپنے اندر یہی جذبہ پیدا کرنا چاہیے کہ دین کا جو تقاضا بھی سامنے آئے اور اللہ تعالیٰ کا جو حکم بھی سامنے آئے اس پر عمل کریں گے۔ اپنے اعزہ و احباب، بیوی بچوں، ماں باپ، خاندان، قوم کسی چیز کو بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں ترجیح نہیں دیں گے۔ 
سارا جہاں ناراض ہو پروا نہ چاہیے 
مدنظر تو مرضیٔ جاناناں چاہیے 
بس اس نظر سے دیکھ کر تو کر یہ فیصلہ 
کیا کیا کرنا چاہیے کیا کیا نہ چاہیے 

(۴) اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرما کر دنبے کو حضرت اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فدیہ بنادیا اور اس کی بناپر اب بیٹے کی قربانی کا حکم نہیں ہے، مگر جہاد فی سبیل اللہ میں اپنی جان اور اولاد کو قربان کرنے کا حکم تو ہمیشہ کیلیے ہے۔ جہاد تو قیامت تک جاری رہے گا، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار جہاد کا حکم فرمایا ہے اور آج یہ حکم پوری تاکید کے ساتھ امت مسلمہ کی طرف متوجہ ہے۔ کیا کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی اس آواز پر لبیک کہے اور دنیا بھر کی مظلوم مائوں، بہنوں کی سسکیوں پر کان دھرنے اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان کی بازی لگانے کی تڑپ دل میں پیدا کرے؟؟؟ 
مذکورہ شرائط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں: 
مذکورہ شرائط کا قربانی کے پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں، بلکہ وقت وجوب کے آخری جزومیں بھی اگر یہ شرطیں پائی گئیں تو اس پر قربانی واجب ہے۔ یعنی اگر ۱۲ ذی الحجہ کی شام میں غروب آفتاب سے ذرا پہلے کوئی کافر مسلمان ہوگیا، یا مسافر وطن پہنچ گیا، یا غلام آزاد ہوگیا، یا بچہ بالغ ہوگیا، مجنون کو صحت ہوگئی، یا فقیر صاحب نصاب بن گیا تو ان پر قربانی واجب ہوگئی، اس میں مردوزن کا حکم یکساں ہے۔ 
آخر وقت میں کوئی شرط فوت ہوگئی: اگر ابتداء ایام اضحیہ میں کسی پر قربانی واجب تھی، مگر آخر میں کوئی شرط فوت ہوگئی تو قربانی واجب نہیں رہی، مثلاً: مالدار تنگ دست ہوگیا، یا مقیم مسافر بن گیا تو ان پر قربانی واجب نہیں رہی۔ 
فقیر قربانی کے بعد مالدار ہوگیا: اگر کسی فقیر نے قربانی کردی، پھر آخر وقت میں مالدار ہوگیا، یعنی بقدر نصاب مال اسے حاصل ہوگیا تو راجح قول کے مطابق اس پر نئے سرے سے قربانی کرنا واجب نہیں۔ 
حاجی مسافر ہو تو قربانی واجب نہیں: اگر کسی شخص کا قیام مکہ مکرمہ میں منیٰ کے 4، 5 دنوں کو ملاکر 15 دن یا اس سے زیادہ ہو تو وہ مقیم ہے۔ 
اگر وہ صاحب نصاب ہے تو اس پر قربانی واجب ہے، جسے وہ وہاں بھی ادا کرسکتا ہے اور اپنے وطن میں کسی کو وکیل بناکر بھی ادا کرسکتا ہے اور اگر مکہ مکرمہ میں قیام 15 دن سے کم ہو، پھر مدینہ منورہ جانا ہو یا وطن واپس لوٹنا ہو تو وہ مسافر ہے، اس پر قربانی واجب نہیں۔ 
ملحوظہ: اب چونکہ منیٰ مکہ مکرمہ کا حصہ ہوگیا، اس لیے منیٰ میں قیام کے دن شامل کرکے مقیم یا مسافر ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مندرجہ بالا مسئلہ اسی تبدیل شدہ صورتِ حال پر مبنی ہے۔ واـضح رہے کہ حج تمتع و قران کرنے والے پر بطور شکر الگ قربانی واجب ہوتی ہے، جس کا وہیں کرنا ضروری ہوتا ہے۔

  Upar Share's Button say Whatsapp , Facebook , Twitter , Google+ Par share Zaror Karen
Jazak Allah Khair
==========