Showing posts with label نماز Namaz. Show all posts
Showing posts with label نماز Namaz. Show all posts

عورتوں کا مساجد میں نماز ادا کرنا

 
aurat ka masjid mein jana- aurat ki namaz - aurat ki namaz ka taarika , aurato ky masail , women problem in urdu , girl problem in urdu
یہ انسانی دنیا جب سے وجود میں آئی ہے اس میں کوئی خطہ، کوئی قوم اور کوئی مذہب ایسا نہیں ملتا جس میں فواحش و بدکاری، زنا اورحرام کاری کو مستحسن، اچھا یا مباح و جائز سمجھا گیا ہو بلکہ ساری دنیا اور اس کے مذاہب زنا کی مذمت اور برائی میں متفق و ہم رائے رہے ہیں کیونکہ یہ مذموم جرم نہ صرف یہ کہ فطرتِ انسانی کے خلاف ہے، بلکہ اس درجہ فساد افزا اور ہلاکت خیز ہے جس کے تباہ کن اثرات صرف اشخاص و افراد ہی کو نہیں بلکہ بسا اوقات سارے خاندان اور پورے شہر و قصبہ کو برباد کردیتے ہیں۔ اس وقت فتنہ و فساد اور قتل و غارت گری کے جتنے واقعات سامنے آرہے ہیں ان کی صحیح تحقیق کی جائے تو اکثر واقعات کے پس منظر میں شہوانی جذبات اور ناجائز جنسی تعلقات کا عمل دخل ملے گا۔
البتہ بہت سی قوموں اوراکثر مذاہب میں زنا اور فواحش کی ممانعت کے باوجود اس کے مقدمات اوراسباب و ذرائع کو معیوب و ممنوع نہیں سمجھا جاتا اور نہ ان پر خاص قد غن اور بندش لگائی جاتی ہے۔
مذہب اسلام چونکہ ایک کامل و مکمل نظامِ حیات اور فطرت کے مطابق قانون الٰہی ہے اس لئے اسلام میں جرائم و معاصی کی حرمت کے ساتھ جرائم و معاصی کے ان اسباب و ذرائع کو بھی حرام و ممنوع قرار دے دیاگیا جو بالعموم بطور عادت جاریہ کے ان جرائم تک پہنچانے والے ہیں۔ مثلاً شراب پینے کو حرام کہا گیا تو شراب کے بنانے، بیچنے، خریدنے اورکسی کو دینے کو بھی حرام کردیاگیا۔ سود کو حرام کیاگیا تو سود سے ملتے جلتے سارے معاملات کو بھی ناجائز اورممنوع کردیاگیا۔ شرک و بت پرستی کو گناہ عظیم اور ناقابل معافی جرم ٹھہرایا گیا تواس کے اسباب و ذرائع، مجسمہ سازی و بت تراشی اور صورت گری کو بھی حرام اور ان کے استعمال کو ناجائز کردیاگیا۔
اسی طرح جب شریعت اسلامی میں زنا کو حرام کردیا گیا تواس کے تمام قریبی اسباب و ذرائع اورمقدمات پر بھی سخت پابندی لگادی گئی چنانچہ اجنبی عورت پر شہوت سے نظر ڈالنے کو آنکھوں کا زنا، اس کی باتوں کے سننے کو کانوں کا زنا، اس کے چھونے کو ہاتھوں کا زنا، اس کے پاس جانے کو پیروں کا زنا ٹھہرایا گیا۔جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں وارد ہے:
العینان زنا ہما النظر، والاذنان زنا ہما الاستماع، واللسان زنا الکلام، والید زناہا البطش، والرجل زناہا الخطی“ (مشکوٰة، ص:۲۰ باب الایمان بالقدر)
آنکھوں کا زنا (اجنبی عورت کی جانب شہوت سے) دیکھنا ہے، کانوں کا زنا (شہوت سے اجنبی عورت کی) باتوں کی طرف کان لگانا ہے، زبان کا زنا اس سے گفتگو کرنا ہے، ہاتھ کا زنا اس کو چھونا و پکڑنا ہے، پیروں کا زنا اس کی طرف (غلط ارادہ سے) جانا ہے۔
برے ارادے سے کسی اجنبی عورت کی جانب دیکھنا اس کی باتوں کی جانب متوجہ ہونا، اس سے بات چیت کرنا، اس کو چھونا و پکڑنا اس کے پاس جانا یہ سارے کام حقیقتاً زنا نہیں بلکہ زنا کے اسباب و مقدمات میں سے ہیں مگر انھیں بھی حدیث میں زنا سے تعبیر کیاگیا ہے تاکہ امت سمجھ جائے کہ زنا کی طرح اس کے مقدمات و اسباب بھی شریعت میں حرام و ممنوع ہیں۔ انھیں شہوانی جرائم سے بچانے کے لئے عورتوں کے واسطے پردہ کے احکام نازل و نافذ کئے گئے۔
اس موقع پر یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ شریعت اسلامی کا مزاج تنگی و دشواری کے بجائے سہولت و آسانی کی جانب مائل ہے اس سلسلے میں کتاب الٰہی کا واضح اعلان ہے ”مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَج“ دین میں تمہارے اوپر کوئی تنگی نہیں ڈالی گئی ہے اس لئے اسباب و ذرائع کے بارے میں فطرت سے ہم آہنگ یہ حکمت آمیز فیصلہ کیاگیا کہ جو امور کسی معصیت کاایسا سبب قریب ہوں کہ عام عادت کے اعتبار سے ان کاکرنے والا اس معصیت میں ضرور مبتلا ہوجاتا ہے، ایسے قریبی اسباب کو شریعت اسلام نے اصل معصیت کے حکم میں رکھ کر انھیں بھی ممنوع و حرام کردیا۔اور جن اسباب کا تعلق معصیت اور گناہ سے دور کا ہے کہ ان کے اختیار کرنے اور عمل میں لانے سے گناہ میں مبتلا ہونا عادةً لازم و ضروری تو نہیں مگر ان کا کچھ نہ کچھ دخل گناہ میں ضرور ہے ایسے اسباب و ذرائع کو مکروہ قرار دیا اور جواسباب ایسے ہیں کہ معصیت میں ان کا دخل شاذ و نادر کے درجہ میں ہے ان کو مباحات میں داخل کردیا۔
اس سلسلے کی یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ شریعت اسلام نے جن کاموں کو گناہ کا سبب قریب قرار دے کر حرام کردیا ہے وہ تمام مسلمانوں کے لئے حرام ہیں خواہ وہ کام کسی کے لئے گناہ میں مبتلا ہونے کا سبب بنے یا نہ بنے اب وہ خود ایک حکم شرعی ہے جس پر عمل سب کے لئے لازم اور اس کی مخالفت حرام ہے۔
اس کے بعد سمجھئے کہ عورتوں کاپردہ بھی شرعاً اسی سدذرائع کے اصول پر مبنی ہے کہ ترکِ پردہ گناہ میں مبتلا ہونے کا سبب ہے۔ اس میں بھی اسباب کی مذکورہ قسموں یعنی سبب قریب، سبب بعید اور سبب بعید تر کے احکام جاری ہوں گے، مثلاً جوان مرد کے سامنے جوان عورت کا بدن کھولنا گناہ میں مبتلا ہونے کا قریبی سبب ہے کہ عادتاً آدمی ایسی صورت حال میں بالعموم گناہ میں لازمی طور پرمبتلا ہوجاتاہے اس لئے یہ صورت شریعت کی نظر میں زنا کی طرح حرام ہے، کیونکہ شریعت میں اس عمل کو فاحشہ کا حکم دیاگیا ہے لہٰذا یہ سب کے حق میں حرام ہوگا۔ البتہ مواقع ضرورت علاج وغیرہ کا مستثنیٰ ہونا ایک الگ حکم شرعی ہے اس استثنائی حکم سے اصل حرمت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ پھر یہ مسئلہ اور حکم اوقات و حالات سے بھی متاثر نہیں ہوتا اسلام کے عہد زریں اور خیر و صلاح میں بھی اس کا حکم وہی تھا جوآج کے دورِ ظلمت اور شر و فساد کے زمانہ میں ہے۔
دوسرا درجہ ترک پردہ کا یہ ہے کہ گھر کی چہاردیواری سے باہر برقع یا دراز چادر سے پورا بدن چھپاکر نکلے۔ یہ فتنہ کا سبب بعید ہے۔ اس صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر ایساکرنا فتنہ کا سبب ہوتو ناجائزہے اور جہاں فتنہ کااندیشہ نہ ہو وہاں جائز ہوگا۔ اسی لئے اس صورت کا حکم زمانے اورحالات کے بدلنے سے بدل سکتا ہے۔ آنحضرت … کے عہد خیر مہد میں اس طرح سے عورتوں کاگھر سے باہر نکلنا فتنہ کا سبب نہیں تھا اسلئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عورتوں کو برقع وغیرہ میں سارا بدن چھپا کر چند شرائط کے ساتھ مسجدوں میں آنے کی اجازت دی تھی اور ان کومسجد میںآ نے سے روکنے کو منع فرمایا تھا اگرچہ اس وقت بھی عورتوں کو ترغیب اسی کی دی جاتی تھی کہ وہ گھروں میں ہی نمازادا کریں کیونکہ ان کے لئے مسجد کے مقابلہ میں گھر کے اندر نماز پڑھنا زیادہ باعث ثواب اور افضل ہے۔ چنانچہ حافظ ابن عبدالبر لکھتے ہیں: ”ولم یختلفوا ان صلاة المرأة فی بیتہا افضل من صلاتہا فی المسجد“ (التمہید ج۱۱، ص۱۹۶) اس بارے میں کسی کااختلاف نہیں ہے کہ عورت کی گھر میں نماز مسجد میں نماز سے افضل و بہتر ہے۔
آپ کی وفات کے بعد وہ حالات باقی نہیں رہے۔ بلکہ طبیعتوں میں تغیر اور قلبی اطمینان میں فتور پیداہوگیا چنانچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے ”ما نفضنا ایدینا عن قبر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حتی انکرنا قلوبنا“ (التمہید للحافظ ابن عبدالبر ج۳ ص ۳۹۴ مطبوعہ ۱۴۱۰، ورواہ الترمذی فی الشمائل ص ۲۷ عن انس رضی اللہ عنہ) ہم نے ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کرکے ہاتھوں سے مٹی بھی نہیں جھاڑی تھی کہ اپنے دلوں کی بدلتی ہوئی کیفیت کو محسوس کیا، علاوہ ازیں جن شرائط کے ساتھ مسجد میں حاضری کی اجازت دی گئی تھی ان کی پابندی میں دن بدن کوتاہی بڑھتی رہی اسی تغیر حالات کی جانب مزاج شناسِ نبوت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرماتے ہوئے امت کو متنبہ فرمایا ہے کہ آج کے حالات اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے تو عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے روک دیتے اس لئے عام صحابہٴ کرام نے یہی فیصلہ کیا کہ حالات کی اس تبدیلی کی بناء پر اب عورتوں کا مسجد میںآ نا فتنہ سے خالی نہیں رہا اس لئے ان حضرات (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے روک دیا۔
اس دور فتنہ و فساد میں جب کہ جنسی انارکی اور شہوانی بے راہ روی کی قدم قدم پر نہ صرف افزائش بلکہ ہمت افزائی ہورہی ہے، دین و مذہب اور حیا و مروت کے سارے بندھن ٹوٹ گئے ہیں کوچہ و بازار کا کیا ذکر شرور و فتن کی خود سر موجیں گھروں کی چہار دیواری سے ٹکرانے لگی ہیں، کیا ایسے فساد انگیز حالات میں بھی خواتین اسلام اور عفت مآب ماؤں بہنوں اور بہو بیٹیوں کو گھروں کی چہار دیواری سے باہر نکل کرجمعہ و جماعت میں مردوں کے دوش بدوش شریک ہونے کی اجازت مقاصد شریعت سے ہم آہنگ اوراصول سدّ ذرائع کے مطابق ہے؟
حالاتِ زمانہ اور گردوپیش کے واقعات سے آنکھیں بند کرکے جو لوگ عورتوں کو مسجد میں آکر نماز اداکرنے کی دعوت دے رہے ہیں ان کا یہ رویہ مزاج دین سے کتنا ہم آہنگ اور خود یہ لوگ اسلامی معاشرے کے بارے میں کتنے مخلص ہیں؟
فقہائے اسلام بیک زبان یہ کہتے ہیں کہ ایسے فساد آمیز حالات میں عورتوں کے لئے گھر سے باہر آکر مسجدوں میں حاضر ہونا مقاصد شریعت اور اصول سد ذرائع کے خلاف ہے اس لئے ان حالات میں شرعاً اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
$ $ $
______________________________
ماہنامہ دارالعلوم ‏
--------------------------

عورت کا مسجد میں جانا - حدیث کی روشنی میں



کیا عورت مسجد میں نماز پڑهنے جاسکتی ہے  || کیا عورت مسجد میں نماز پڑھ سکتی ہے حدیث || عورتوں کا مسجد میں نماز پڑھنا حدیث || کیا خواتین مسجد میں باجماعت نماز پنجگانہ ادا کر سکتی ہیں؟ || خواتين كا مسجد ميں نماز پڑھنا || عورت
 مسجد میں نماز ادا کرسکتی ہے....! 
aurat ka masjid jana . kya aurat masjid mein namaz parh sakte hain || aurat ka qabristan jana hadees  || aurton ka masjid mein namaz parhna || mard ka ghar mein namaz parhna || aurat ke liye eid ki namaz ||aurat ki juma ki namaz | aurton ki namaz ka tarika sunni || eid ki namaz aurton ke liye

عورت کا مسجد میں جانا - حدیث کی روشنی میں

 




|| کیا عورت مسجد میں نماز پڑھ سکتی ہے حدیث || عورتوں کا مسجد میں نماز پڑھنا حدیث || کیا خواتین مسجد میں باجماعت نماز پنجگانہ ادا کر سکتی ہیں؟ || خواتين كا مسجد ميں نماز پڑھنا || عورت   مسجد میں نماز ادا کرسکتی ہے....!  aurat ka masjid jana . kya aurat masjid mein namaz parh sakte hain || aurat ka qabristan jana hadees  || aurton ka masjid mein namaz parhna |

میرا پہلا سوا ل نمبر5852ہے۔ڈاکٹر ذاکر نائک نے سنن ابوداؤد کی ج:1باب نمبر 
204حدیث نمبر 570جس کے راوی عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ ہیں اس کا حوالہ دیا ہے۔ یہی صرف ایک حدیث ہے جس میں عورتوں کو مسجد میں جانے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی بنیاد پر آپ عورتوں کو مسجد میں جانے سے نہیں روک سکتے ہیں۔جب کہ صحیح مسلم ج:1باب 177حدیث نمبر 886میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی بندیوں کواللہ کی مسجد میں جانے سے مت روکو۔ آپ نے تفصیل پوچھا تھا۔ اتنا ڈاکٹر ذاکر نائک کی ویب سائٹ سے ملا۔ آپ کے گوش گزار ہے، اب آگے آپ جواب دیں گے ۔ اگر مسجد جانے کے لیے منع کیا ہے تو صرف ایک حدیث کے حوالہ سے آپ کیسے ثابت کریں گے؟ جب کہ مسجد میں جانے کے لیے چار سے پانچ حدیث کا حوالہ ڈاکٹر ذاکر نے دیا ہے۔
جواب:فتوی: 752=752/ معن أمّ سلمة رضي اللہ عنھا عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: خیر مساجد النساء قعر بیوتھن (رواہ أحمد وبیہقي وکذا في کنز العمال)

ترجمہ: حضرت ام سلمہ -رضی اللہ عنہا- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے لیے بہترین مسجد ان کی کوٹھریوں کا اندرونی مکان ہے۔

(۲)

عن أم حمید امرأة أبي حمید الساعدي عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال لھا: قد علمتُ أنّکِ تحبّین الصلاة معي، وصلاتُکِ في بیتکِ خیر من صلاتِکِ في حجرتِکِ، وصلاتُکِ في حجرتکِ خیر من صلاتِکِ في دارکِ، وصلاتکِ في دارکِ خیر من صلاتکِ في مسجد قومکِ، وصلاتکِ في مسجد قومِکِ خیر من صلاتکِ في مسجدي (رواہ الإمام أحمد وابن حبان، کذا في کنز العمال)

ترجمہ: ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حمید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ: میں جانتا ہوں کہ تم میرے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہو، مگر تمہاری وہ نماز جو گھر کی اندرونی کوٹھری میں ہو، وہ بیرونی کمرہ کی نماز سے بہتر ہے، اور بیرونی کمرہ کی نماز، گھر کے صحن کی نماز سے بہتر ہے، اور گھر کے صحن کی نماز محلہ کی مسجد کی نماز سے بہتر ہے، اور مسجد محلہ کی نماز میری مسجد کی نماز سے بہتر ہے۔

(۳)

وأوردہ الھیثمي في مجمع الزوائد وزاد: فأمرتْ فبُنِيَ لھا مسجدٌ في أقصی بیت في بیتھا وأظلَمِہ فکانت تُصلي فیہ حتی لقیتْ اللّٰہَ عز وجل، قال الہیثمي: رجالہ رجال الصحیح غیر عبد اللہ بن سوید الأنصاري ووثقہ ابن حبان۔

ترجمہ: اوراس حدیث کو ہیثمی، مجمع الزوائد میں لائے ہیں، اوراس میں اتنی زیادتی ہے کہ ام حمید رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر اپنے گھروالوں گو حکم دیا، ان کے لیے ان کے گھر کی ایک اندرونی کوٹھری میں جو نہایت تاریکی میں تھی، نماز کی جگہ بنادی گئی، اور یہ اس میں نماز پڑھتی رہیں، یہاں تک کہ خدا سے جاملیں۔ حافظ ہیثمی نے کہا کہ اس روایت کے راوی صحیح کے راوی ہیں، سوائے عبداللہ بن سوید انصاری کے اور ابن حبان نے ان کو معتبر بتایا ہے۔

(۴)

عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: صلاة المرأة في بیتھا أفضلُ من صلاتھا في حجرتھا، وصلاتھا في مِخدعھا أفضل من صلاتھا فی بیتھا۔ (أبوداوٴد شریف) 
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کی نماز کوٹھری میں بیرونی کمرہ کی نماز سے بہتر ہے۔ اور کوٹھری کے اندر کی نماز، کوٹھری کی نماز سے بہتر ہے۔

(۵)

وعنہ: ما صلت امرأة من صلاتہ أحب إلی اللہ من أشد مکان في بیتھا ظلمة (مجمع الزوائد) 
ترجمہ: اورابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورت کی کوئی نماز، خدا کو اس نماز سے زیادہ محبوب نہیں، جو اس کی تاریک تر کوٹھری میں ہو۔

(۶)

عن أبي ہریرة -رضي اللہ عنہ- عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: لولا ما في البیوت من النساء والذریة، أقمت صلاة العشاء وأمرتُ فتیاني یحرقون ما في البیوت بالنار (رواہ أحمد، مشکاة) 
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے، تو میں نماز عشاء قائم کرتا، اور اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ گھروں میں آگ لگادیں۔

(۷) 
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: لو أدرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما أحدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بني اسرائیل۔ 
یعنی اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان حرکات کو دیکھتے جو آج کل کی عورتوں نے ایجاد کرلی ہیں تو ان کو مسجد میں جانے سے روک دیتے، جس طرح کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ (بخاری شریف)
ان تمام حدیثوں سے صراحةً ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جماعتوں میں حاضر ہونا، محض رخصت واباحت کی بنا پر تھا، کسی تاکید یا فضیلت واستحباب کی بنا پر نہیں، اس رخصت واباحت کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور ارشاد، ان کے لیے یہی تھا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں، اور اسی کی ترغیب دیتے تھے اور فضیلت بیان فرماتے تھے۔ حدیث نمبر (۶) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں کو جو جماعت عشاء میں حاضر نہ ہوتے تھے، آگ سے جلادینے کا ارادہ فرمایا مگر عورتوں، بچوں کا گھروں میں ہونا اس کی تکمیل سے مانع آیا، عورتوں کا اس حدیث میں ذکر فرمانا اس کی دلیل ہے کہ وہ جماعت میں حاضر ہونے کی مکلف نہ تھیں، اور جماعت ان کے ذمے موٴکد نہ تھی، ورنہ وہ بھی اسی جرم کی مجرم اوراسی سزا کی مستوجب ہوتیں۔ اور حدیث نمبر ۱،۲،۳،۴ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عورت کی کوٹھری کے اندر کی نماز، دالان کی نماز سے افضل او ردالان کی نماز، صحن کی نماز سے افضل اور صحن کی نماز محلہ کی نماز سے افضل ہے، پس اس میں کیا شبہ رہا کہ عورتوں کو جماعت میں اورمسجد نبوی میں حاضر ہونا کسی استحباب وفضیلت کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ محض مباح تھا۔ پس کس قدر افسوس ہے ان لوگوں کے حال پر جو عورتوں کو مسجد میں بلاتے اورجماعتوں میں آنے کی ترغیب دیتے ہیں، اورغضب یہ کہ اسے سنت بتاتے ہیں اوراپنے اس فعل کو احیائے سنت سمجھتے ہیں۔ اگر عورتوں کے لیے جماعتوں میں حاضر ہونا سنت ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد کی نماز سے مسجد محلہ کی نماز کو اور مسجد محلہ کی نماز سے گھر کی نماز کو افضل کیوں فرماتے۔ کیوں کہ اس صورت میں گھر میں تنہا نماز پڑھنا عورتوں کے لیے ترک سنت ہوتا تو کیا ترک سنت میں ثواب زیادہ تھا، اور سنت پر عمل کرنے میں ثواب کم؟ اور کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنے کی ترغیب دے کر گویا ترک سنت کی ترغیب دیتے تھے؟ شاید یہ لوگ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ سے زیادہ بزرگ اور اپنی مسجدوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد شریف سے افضل سمجھتے ہیں۔ جن حدیثوں میں خاوندوں کو عورتوں کو مسجد میں جانے سے روکنے کی ممانعت ہے، ان حدیثوں سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ عورتوں کو مسجد میں جانا، مستحب یا سنت موٴکدہ ہے، عورتوں کو چونکہ آپ کے زمانہ میں مسجدوں میں جانا مباح تھا، تو اس اباحت ورخصت سے فائدہ اٹھانے کا حق انھیں حاصل تھا؛ اس لیے مردوں کو ان کے روکنے سے منع فرمایا کہ ان کا یہ حق زائل نہ ہو، دوسرے یہ کہ اس وقت عورتوں کے مسجد میں آنے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ عورتوں کو تعلیم کی بہت حاجت تھی، اور اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ مسجد میں حاضر ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال نماز کو دیکھیں اور سیکھیں۔ کوئی بات پوچھنی ہو تو خود پوچھ لیں۔ تیسرے یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک زمانہ فتنہ وفساد سے مامون تھا۔ وغیرہ وغیرہ

پس ان حدیثوں سے عورتوں کے لیے جماعتوں کی حاضری کا سنت یا مستحب ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔

واللہ تعالیٰ اعلم 
بشکریہ دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

کیا عورت مسجد میں نماز پڑهنے جاسکتی ہے  || کیا عورت مسجد میں نماز پڑھ سکتی ہے حدیث || عورتوں کا مسجد میں نماز پڑھنا حدیث || کیا خواتین مسجد میں باجماعت نماز پنجگانہ ادا کر سکتی ہیں؟ || خواتين كا مسجد ميں نماز پڑھنا || عورت
 مسجد میں نماز ادا کرسکتی ہے....!


 
=
aurat ka masjid jana . kya aurat masjid mein namaz parh sakte hain || aurat ka qabristan jana hadees  || aurton ka masjid mein namaz parhna || mard ka ghar mein namaz parhna || aurat ke liye eid ki namaz || aurat ki juma ki namaz | aurton ki namaz ka tarika sunni || eid ki namaz aurton ke liye

کرسی پر نماز

 


(ایک مفصل فتویٰ)
                                                                                                                               

۷۲۳/د
بسم اللہ الرحمن الرحیم
                سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام، مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہمارے شہر کی مساجد میں معذور افراد کے لیے {جیسے پیر میں تکلیف، گھٹنوں میں درد، کمردرد یا کھڑے نہ ہوپانا، یا سجدہ زمین پر نہ کرپانا یا کوئی اور عذر ہو جس سے نماز کھڑے ہوکر ادا نہیں کرسکتے} مسجد کی صف میں دونوں کنارے پر کرسیاں رکھی جاتی ہیں؛ تاکہ معذور افراد اس پر نماز ادا کرسکیں، ایسے ہی ہماری بھی مسجد میں معذور افراد کے لیے کرسی کا انتظام ہے؛ مگر وہ کرسیاں ایک خاص ڈیزائن کی  بنی ہوئی ہیں، بعض افراد نے اعتراض کیا ہے کہ ایسی کرسی پر نماز کا پڑھنا درست نہیں ہے۔
                جواب طلب امر یہ ہے کہ اس خاص ڈیزائن والی کرسی پر مذکورہ معذور افراد کی نماز درست ہوسکتی ہے یا نہیں؟ یا پلاسٹک والی کرسی پر نماز ادا کی جائے، یا د رہے کہ خاص ڈیزائن والی کرسی اِسٹیل کی بنی ہوئی ہے، مزید معلومات کے لیے کرسی کی تصویر نماز ادا کرنے کی حالت  کی بھیجی جارہی ہے؛ تاکہ نماز کی ہیئت سمجھنے میں دشواری نہ ہو، جس میں تصویر نمبر ایک کی حالت سجدہ کی ہے جس میں مکمل سجدہ کرسی پر ہے اور تصویر نمبر دو کی حالت بھی سجدہ کی ہے جس میں اشارتاً سجدہ کیا جارہا ہے اور تصویر نمبر تین کی حالت رکوع کی ہے جس میں رکوع کو ادا کرتے ہوئے دکھایا ہے ایک رکوع کی شکل گھٹنے پر کرتے ہوئے دکھایاگیا ہے اور ایک رکوع کی لکڑی پر ہے دونوں میں سے کونسی شکل درست ہے، آپ حضرات سے درخواست ہے کہ تصویر میں خاص شکل والی کرسی پر نماز کا ادا کرنا درست ہے یا نہیں جو کہ اسٹیل کی ہے اور پلاسٹک والی کرسی پر نماز ادا کرنے کا کیا حکم ہے، نماز ادا ہوجائے گی یا نہیں؟ یعنی رکوع، سجدہ وغیرہ کا کیا طریقہ ہے؟ اور تصویر میں جو سجدہ اور رکوع کی حالت دکھائی گئی ہے اس حالت میں نماز ادا ہوجائے گی یا نہیں؟ قرآن واحادیث کی روشنی میں اور فقہاء کرام کے ارشادات کے مطابق جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ومشکور ہوں۔
فقط
                                                                                                                بندہ آفاق احمد خاں  کوپر کھیرنہ نوی ممبئی
                                                                                                                                9320033837
نوٹ: فوٹو ضرورت کے تحت کھینچا گیا ہے واپس جواب کے ساتھ بھیج دیں مہربانی ہوگی
-------------------------
۲۲۳/فائل ’’د‘‘
بسم اللہ الرحمن الرحیم
                الجواب وباللّٰہ التوفیق: قیام اور سجدہ پر قادر شخص کے لیے نماز میں قیام فرض اور نماز کارکن ہے۔ اگر قیام اور سجدہ پر قدرت ہوتے ہوئے فرض نماز بیٹھ کر ادا کی جائے تو رکن کے فوت ہونے کی وجہ سے نماز نہیں ہوگی، نماز کا اعادہ ضروری ہوگا،  مِنْ فرائضِہا القیامُ في فرضٍ لِقادرٍ علیہ علی السجود (درمختار مع الشامی زکریا: ۲/۱۳۲) یہاں تک کہ اگر نماز میں قیام کے کچھ حصے پر قدرت ہے مکمل طور پر قیام پر قادر نہیں تو جتنی دیر قیام کرسکتا ہے خواہ کسی عصا یا دیوار پر ٹیک لگاکر ہی کیوں نہ ہو، اتنی دیر قیام کرنا فرض ہوگا، اگر اتنی دیر قیام نہ کیا یا ٹیک لگاکر کھڑا نہ ہوا اور بیٹھ کر نماز مکمل کی تو نماز نہیںہوگی۔  وإن قدر علی بعض القیام ولو متکئاً علی عصاً أو حائط قام لزوماً بقدر ما یقدر ولو قدر آیۃ أو تکبیرۃ علی المذہب؛ لأن البعض معتبر بالکل (درمختار مع الشامی زکریا: ۲/۵۶۷) اگر کوئی شخص قیام پر قادر ہے؛ مگر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے میں رکوع سجدہ یا صرف سجدہ پر قادر نہیں تو اس کے لیے بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز ہے وہ اشارہ سے رکوع وسجدہ  ادا کرے، اس صورت میں کھڑے ہوکر نماز ادا کرنے کے مقابلے میں بیٹھ کر اشارہ سے نماز ادا کرنا افضل اور بہتر ہے  و ان تعذرا، لیس تعذُّرَہما شرطاً بل تعذر السجود کافٍ، لا القیام أومأ قاعدًا؛ لأن رکنیۃ القیام للتوصل إلی السجود فلا یجب دونہ (درمختار مع الشامی زکریا: ۲/۵۶۷) فتاویٰ عالمگیری: ۱/۱۳۶ میں بھی اسی کے مثل ہے۔
                جو اعذار قیام کو ساقط کرنے والے ہیں وہ دو قسم کے ہیں: (۱) حقیقی: یعنی اس طرح معذور ہو کہ قیام اس کے لیے ممکن نہ ہو۔ (۲) حکمی: یعنی اس درجہ معذور نہ ہو کہ قیام پر قدرت ہی نہ ہو؛ بلکہ قدرت تو ہو مگر گرجانے کا اندیشہ ہو یا ایسی کمزور حالت ہو جو عند الشرع عذر میں شامل ہے، مثلاً : بیمار ہے اور ماہر مسلم تجربہ کار ڈاکٹر نے کہا ہو کہ کھڑے ہونے میں بیماری میںاضافہ ہوگا یا بیماری دیر سے صحیح ہوگی؛ یا کھڑے ہونے میں ناقابلِ برداشت درد ہوتا ہو، ان صورتوں میں بیٹھ کر نماز ادا کرنا جائز ہے۔  مَنْ تعذر علیہ القیامُ لمرضٍ حقیقي، وحدَہ أن یلحَقَہ بالقیامِ ضررٌ، وفي البحر: أراد بالتعذر، التعذر الحقیقی بحیث لو قام سقط، أو حکمي بأن خاف أي غلب علی ظنہ بتجربۃ سابقۃ أو إخبار طبیب مسلم حاذق زیادتہ أو بُطأِ برئہ بقیامہ أو دوران رأسہ أو وجد لقیامہ ألماً شدیدًا صلی قاعدًا (در مع الرد زکریا: ۲/۵۶۵) اگر غیرمعمولی درد نہ ہو؛ بلکہ ہلکی اور قابل برداشت تکلیف کا سامنا ہوتو یہ عند الشرع عذر نہیں اس صورت میں بیٹھ کر نماز اداکرنا جائز نہیں،  وإن لم یکن کذلک (أي بما ذُکر) ولکن یلحقہ نوعُ مشقۃٍ لا یجوز ترکُ القیام (تاتارخانیہ زکریا: ۲/۶۶۷)، جو شخص قیام پر قادر نہیں، لیکن زمین پر بیٹھ کر سجدہ کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہے تو اس کو زمین پر بیٹھ کر سجدہ کے ساتھ نماز ادا کرنا ضروری ہے، زمین پر سجدہ نہ کرتے ہوئے کرسی پر یا زمین پر اشارہ سے سجدہ کرنا جائز نہیں۔  وإن عجز عن القیام وقَدَرَ علی القعود؛ فإنہ یصلي المکتوبۃَ قاعدًا برکوعٍ وسجود ولا یجزیہ غیر ذلک (تاتارخانیہ زکریا: ۲/۶۶۶۷)، اگر رکوع سجدہ پر قدرت نہیں اور زمین پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز ادا کرسکتا ہے تو تشہد کی حالت پر بیٹھنا ضروری نہیں؛ بلکہ جس ہیئت پر بھی خواہ تورک (عورت کا تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ) کی حالت پر یا آَتی پالتی مارکر بیٹھنا سہل وممکن ہو اس ہیئت کو اختیار کرکے زمین ہی پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز ادا کی جائے، کرسیوں کو اختیار نہ کیا جائے؛ کیوںکہ شریعت نے ایسے معذورین کو زمین پر بیٹھنے کے سلسلے میں مکمل رعایت دی ہے کہ جس ہیئت میں ممکن ہو بیٹھ کر نماز ادا کرے  من تَعَذَّرَ علیہ القیامُ لمرضٍ۔۔۔ أو خَافَ زیادتَہٗ۔۔۔ أو وَجَدَ لقیامہ ألماً شدیداً صلی قاعداً کیف شاء (درمختار مع الشامی زکریا: ۲/۵۶۶) اس صورت میں بلا ضرورت کرسیوں پر بیٹھ کر نماز اداکرنا بہ چند وجوہ کراہت سے خالی نہیں۔
(۱)          زمین پر بیٹھ کر ادا کرنا مسنون طریقہ ہے اسی پر صحابہ کرامؓ اور بعد کے لوگوں کا عمل رہا ہے، نوے کی دہائی سے قبل تک کرسیوں پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے کا رواج نہیں تھا، نہ ہی خیرالقرون سے اس طرح کی نظیر ملتی ہے۔
(۲)         کرسیوں کے بلا ضرورت استعمال سے صفوں میں بہت خلل ہوتا ہے؛ حالاںکہ اتصال صفوف کی حدیث میں بہت تاکید آئی ہے:  قال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: راصّوا صفوفَکُمْ وقارِبوا بینہا وحَاذَوا بالأعناق فوالذي نفسُ محمدٍ بیدہٖ إني لَأری الشیاطین تدخل من خلل الصف کأنہا الخذف (نسائی:۱/۱۳۱)
(۳)         بلاضرورت کرسیوں کو مساجد میں لانے سے اغیار کی عبادت گاہوں سے مشابہت ہوتی ہے اور دینی امور میں ہم کو غیروں کی مشابہت سے منع کیاگیا ہے۔
(۴)         نماز، تواضع وانکساری سے عبارت ہے اور بلاضرورت کرسی پر بیٹھ کر ادا کرنے کے مقابلے میں زمین پر ادا کرنے میں یہ انکساری بدرجۂ اتم پائی جاتی ہے۔
(۵)         نماز میں زمین سے قرب ایک مطلوب شے ہے جو کرسیوں پر ادا کرنے میں مفقود ہے۔ البتہ اگر زمین پر کسی بھی ہیئت میں بیٹھ کر نماز ادا کرنا دشوار ہوجائے تو پھر کرسیوں پر ضرورت کی وجہ سے نماز ادا کی جاسکتی ہے؛ لیکن اگر زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجدہ کی قدرت ہوگی تو پھر کرسی پر نماز ادا کرنا جائز نہیں ہوگا۔
                بہرحال جس صورت میں ضرورۃً کرسی پر بیٹھ کر نمازادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اس میں بھی مصلی کو چاہیے کہ سجدے کے وقت اشارہ پر اکتفا کرے؛ جہاں تک کرسی کے کسی حصے (مثلاً: اس پر لگی لکڑی) پر سجدہ کرنے کی بات ہے تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ بحالت معذوری کسی اونچی چیز پر سجدہ کرنے کے سلسلے میں روایات مختلف آئی ہیں: چناںچہ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ ایک صحابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے وہ صحابی معذوری کی وجہ سے نماز میں ایک تکیہ پر سجدہ کرتے تھے، آپﷺ نے ان کو اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا: اگر زمین پرسجدہ کرنا تمہارے بس میں نہ ہوتو اشارے سے نماز ادا کرو اور سجدہ میں رکوع کے مقابلے میں زیادہ جھکو،  رواہ البزار، ورجالہ رجال الصحیح (اعلاء السنن: ۷/۱۷۸)
                دوسری روایت ہے کہ ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا جب بیمار ہوئیں تو ان کے سامنے تکیہ رکھ دیاگیا تھا اس پر وہ سجدہ کرتی تھیں، آپﷺ نے دیکھا تو اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی، اور آں حضورﷺ کا کسی عمل کو دیکھ کر سکوت اختیار کرنا اس کے اذن کی دلیل ہے۔

                علامہ شامیؒ نے دونوں روایتوں میں یہ تطبیق دی ہے کہ کراہت اس صورت میں ہے جب آدمی دوران نماز کوئی چیز اٹھاکر اس پر سجدہ کرے اگر زمین میں پہلے سے کوئی چیز نصب کردی گئی ہو جس پر مصلی سجدہ کرے تو یہ بلا کراہت جائز ہے۔
                اقول: ہذا محمول علی ما إذا کان یحمل إلی وجہہ شیئاً یسجد علیہ، بخلاف ما إذا کان موضوعاً علی الأرض۔ (وقال بعد أسطر:) بأن مفاد ہذہ المقابلۃ والاستدلال عدم الکراہۃ في الموضوع المرتفع (شامی: ۲/۵۶۸) علامہ چلپیؒ نے بھی کراہت کو شکل اوّل پرمحمول کیا ہے (حاشیہ الشلبی علی التبیین: ۱/۲۰۰، ط: پاکستان) فتاویٰ عالمگیری میں بھی یہی تطبیق منقول ہے۔ (ہندیہ: ۱/۱۳۶، ط: زکریا)
                مذکورہ بالا عبارات کاحاصل یہی ہے کہ کسی نصب شدہ اونچی چیز پر سجدہ کرنا، یا بغیر کچھ رکھے ہوئے سجدہ کے لیے صرف اشارہ کرنا دونوں جائز ہے، مگر مذکورہ ٹیبل والی کرسی پر سجدہ، حقیقی سجدہ نہیں ہوگا؛ بلکہ وہ بھی اشارہ ہی ہوگا، مذکورہ کرسی پر بیٹھ کر اگر کوئی شخص نماز پڑھائے گا تو اس کے پیچھے رکوع وسجدہ کرنے والوں کی نماز نہیں ہوگی، علامہ شامی لکھتے ہیں: إن کان الموضوع مما یصح السجود علیہ کحجر مثلاً ولم یزد ارتفاعہ علی قدر لبنۃ أو لبنتین فہو سجود حقیقي فیکون راکعاً وساجدًا، وإن لم یکن الموضوع کذلک یکون مومئاً فلا یصح اقتداء القائم بہ (شامی زکریا: ۲/۵۶۹) لیکن نبی کریم علیہ السلام اور دیگر صحابۂ کرامؓ کے منع کرنے کی وجہ سے اس کا غیر اولیٰ ہونا معلوم ہوتا ہے، نیز ایک خرابی یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کو جو عام کرسی پر نماز ادا کررہے ہوں، اپنی نماز میں کمی کا شبہ ہوگا کہ ہم نے کسی میز پر سجدہ نہیں کیا، حکیم الامت حضرت تھانوی قدس سرہ نے بھی اس کو غیر اولیٰ کہا ہے: ’’سجدہ کرنے کے لیے تکیہ وغیرہ کوئی اونچی چیز رکھ لینا اور اس پر سجدہ کرنا بہتر نہیں، جب سجدہ کی قدرت نہ ہو تو بس اشارہ کرلیا جائے، تکیہ کے اوپر سجدہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ (بہشتی زیور: ۲/۴۵ بیمار کی نماز کا بیان)
                اب اختصار کے ساتھ جواب کا ماحصل ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:
(۱)          جو شخص قیام پر قادر نہ ہو، لیکن کسی بھی ہیئت پر زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجدہ کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہے ، تو اس کو زمین ہی پر بیٹھ کر رکوع وسجدہ کے ساتھ نماز اداکرنا ضروری ہے، کرسی پر بیٹھ کر رکوع وسجدہ کے اشارے سے نماز ادا کرنا جائز نہیں، نماز نہیںہوگی۔
(۲)         اگر قیام پر قدرت ہے، لیکن گھٹنے کمر میں شدید تکلیف کی وجہ سے سجدہ کرنا طاقت سے باہر ہو، یا وہ شخص جو زمین پر بیٹھنے میں قادر ہے، مگر رکوع وسجدہ پر قدرت نہیں رکھتا تو یہ حضرات زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کریں کرسیوں کو استعمال کرنا کراہت سے خالی نہیں؛ البتہ اگر زمین پر کسی بھی ہیئت میں بیٹھنا دشوار ہو تب کرسی پر نماز ادا کی جاسکتی ہے، کرسی استعمال کرنے کی صورت میں بھی عام سادہ کرسی پر نماز ادا کی جائے، ٹیبل والی کرسی پر نماز ادا کرنے سے احتراز کیا جائے، رکوع کے لیے تین نمبر کی شکل صحیح ہے۔ (اس جملے کا تعلق مستفتی کی بھیجی ہوئی تصویر سے ہے۔ (زین)
                زمین یا کرسی پر نماز اداکرنے سے متعلق دو امر قابل لحاظ ہیں:
 (۱)         کرسی پر اشارہ کرنے کی صورت میں بعض لوگ رکوع میں ہاتھ کو ران پر رکھتے ہیں اور سجدہ کی حالت میں فضا میں معلق رکھ کر اشارہ سے سجدہ کرتے ہیں ایسا کرنا ثابت نہیں، رکوع وسجدہ دونوں میں ہاتھ کو ران پر رکھنا چاہیے۔
(۲)         معذوری کی حالت میں زمین پر بیٹھ کر رکوع وسجدہ کے ساتھ نماز ادا کرنے کی صورت میں رکوع میں سرین کا زمین سے اٹھنا ضروری نہیں؛ بل کہ پیشانی کا گھٹنے کے مقابل ہونا ضروری ہے، جیساکہ امداد الاحکام میں ہے: بحالت جلوس رکوع کرتے ہوئے صرف اتنا ضروری ہے کہ پیشانی کو گھٹنے کے مقابل کردیا جائے، اس سے زیادہ جھکنے کی ضرورت نہیں، نہ سرین اٹھانے کی ضرورت ہے۔ (امداد الاحکام، ۱/۶۰۹)
                اب کرسیوں پر نماز ادا کرنے والے حضرات اپنے احوال پر غور فرمائیں کہ کیا واقعتا وہ اس درجہ معذور ہیں کہ شرعاً ان کے لیے کرسی پر نماز اداکرنا جائز ہو، اگر وہ اُس درجہ معذور نہیں تو پھر کرسیوں پر نماز پڑھنے سے احتراز کریں؛ تاکہ مساجد میں بے ضرورت کرسیوں کی کثرت نہ ہو۔ بوقت ضرورت کرسی اختیار کرنے کی صورت میں ٹیبل والی کرسی اختیار نہ کی جائے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ الاحقر                                                
زین الاسلام قاسمی الہ آبادی                      
نائب مفتی دارالعلوم دیوبند                         
۲۵؍۵؍۱۴۳۲ھ                                     
الجواب صحیح              حبیب الرحمن عفا اللہ عنہ                                            الجواب صحیح              فخرالاسلام                                الجواب صحیح              محمودحسن غفرلہ بلندشہری


٭           ٭           ٭
kursi par namaz parhna chair in mosque masjid ptayer chair . salah quote raahehaq313 islamic videos fatwa rahehaq313 raaheaq313 free videos 
parhna kesa hai namaz k masail ftwa fatwa sawal o ja
wab namaz par sawal kursi par namaz chair in masjid islamic prayer chair

میں نماز پڑھنا شروع کرتی ہوں پھر چھوٹ جاتی ہے

 




میں نماز پڑھنا شروع کرتی ہوں پھر چھوٹ جاتی ہے ... کبھی بہت اچھا لگتا ہے، کبھی نماز سکون دیتی ہے مگر تھوڑے ہی ٹائم بعد بیزاریت ہو جاتی ہے، نماز بوجھ لگتی ہے.. مجھے اپنا بھاری وجود نماز کےلئے اٹھانا مشکل لگتا ہے" وہ بہت تھکے ہوۓ لہجے میں کہہ رہی تھی..مجھے لگ رہا تھا بات کرتے کرتے اس کا سانس پھول رہا تھا..وہ مجھے ظاہری نہیں باطنی طور پر تھکی ہوئی محسوس ہوئی .. "نظر کا پردہ کرتی ہو؟؟"میں نے نرمی سے اسے دیکھتے ہوۓ اس سے سوال کیا۔اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا، اس بات کی شاید توقع نہیں تھی اسے۔ "نظر کا پردہ ؟ ... میں .. میں تو نقاب کرتی ہوں خود، میں ...سمجھی نہیں ... نظر کے پردے کا کیا تعلق نماز سے ..؟؟" ...الفاظ بےترتیب تھے۔ میں مسکرا دی۔ "تعلق تو ہے ..بہت گہرا ہے .بری نظر شیطان کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے جو انسان کے دل میں اتر جاتا ہے، پردہ کرنا تو بہت آسان ہے مگر نظر کا پردہ کچھ مشکل ہے۔ جب نگاہ پاک نہیں رہتی نا تو عبادتوں سے لذّت جاتی رہتی ہے .. جب نگاہ پاک نہیں رہتی تو سوچ بھی پاک نہیں رہتی، اور جب سوچ خراب تو نیت خراب ..اور اعمال کا دارومدار تو ہے ہی نیتوں پر۔ تمہیں پتا ہے؟ انسان جو دیکھتا ہے سوچتا ہے، جو سنتا ہے وہ اس کے دل پر اثر رکھتا ہے۔ ہم کیا دیکھتے ہیں، کیا سنتے ہیں، کیا بات کرتے ہیں، کبھی سوچا ہے ؟؟ ... تم خود تو پردہ کرتی ہو تو کیا ہر وہ نا محرم جو تمہاری نظر کو اچھا لگے، اسے پہلی نظر کے بعد اپنے نفس کی تسکین کے لئے کتنی بار دیکھتی ہو کہ وہ کس قدر خوبصورت ہے ؟؟ فیس بک پر کوئی غیر مناسب تصویر، کوئی ویڈیو، کوئی بات .. جب کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا.. تنہائی میں .. مگر صرف اللّه !! تو کیا ایک دفع اس پر رکتی ہو ؟..کبھی کوئی فلم، کوئی گانا ... جس میں نا محرم تو خیر چھوڑو .. ہماری اپنی صنف کا بھی پردہ پورا نہیں ہوتا، بے خیالی میں دیکھ لیتی ہو ؟؟ اور پھر نا محرم ہمارے ارد گرد کے مرد تو نہیں ہیں نا ... یہ جو ٹیلی ویژن پر آنے والے ایکٹرز، ماڈلز، ..جن کی غائبانہ محبت میں ہم گرفتار ہوتے ہیں، انہیں غور سے دیکھتے ہیں، ان کی باڈی، ڈریسنگ اور لُکس کی تعریف... یہ سب نظر کا پردہ ختم ہونے کے بعد ہی ہو پاتا ہے .. تو تم سوچو .. میں نہیں کہہ رہی اس کا جواب مجھے دو ..اپنا تجزیہ کرو اس کا جواب اپنے دل کو دو ... اگر اسکا جواب ہاں میں آۓ تو سمجھ جاؤ یہ نظر کی خیانت تم سے تمہاری عبادت کی لذت چھین رہی ہے.. دل کو سیاہ کر رہی ہے ... زنا صرف ایک طرح کا تو نہیں ہوتا.. اگر ہاتھ سے کچھ غلط چھوا تو وہ ہاتھ کا زنا، زبان سے فحش بات کہی تو زبان کا زنا ہے، آنکھوں سے کچھ حرام دیکھا تو وہ آنکھوں کا زنا ہے.. نظر کی بے پردگی دل میں ایسا سوراخ کر دیتی ہے کہ جس سے ہمارے دل کا نور بہتا جاتا ہے.. اور پھر جو لوگ نظر کا پردہ نہیں کرتے، ان کی نمازیں ان پر بھاری ہو جاتی ہیں، اگر وہ نماز پڑھ بھی لیں تو بےدلی سے پڑھتے ہیں، دل نہیں لگتا.. بوجھ سا رہتا ہے دل پر ... تو کیا تم نظر کا پردہ کرتی ہو ؟ اگر نہیں تو آج سے عہد کر لو کہ کرو گی ... جب کبھی غلطی سے کچھ غلط دیکھ بھی لو، اگر کبھی تمہارا نفس تمہارے ایمان پر حاوی آجاۓ تو فوراً استغفار کر لیا کرو .. اللہ کی طرف رجوع کر لیا کرو، پھر تم دیکھنا نمازوں کا لطف، عبادت کی لذت اور دل کا سکون ... سب تمہیں عطا کر دیا جائے گا ..." اور ایک اور بات .. سکون نماز میں رکھا گیا ہے کہ قرآن خود کہتا ہے کہ "بے شک اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون حاصل ہے .." اب اگر کسی کو وہ سکون محسوس نہیں ہوتا نا تو اسے ایک مثال سے سمجھو .. ایک بیمار شخص ہے..اسکو آپ اس کے پسندیدہ کھانا لا کر دو وہ نہیں کھاے گا .. اب وہ کہے کھانے میں لذت نہیں ہے یہ تو کوئی بات نہ ہوئی نا .. کھانے میں لذت ہے، کھانا وہی ہے مگر اس کا معدہ بیمار ہے ...اسی طرح سکون عبادت میں رکھا گیا ہے لیکن جس کو نہیں ملتا اسے سمجھ جانا چاہئے کہ اس کا دل بیمار ہے .... اور اس دل کی صحتیابی کا نظر کی حفاظت کا بہت گہرا تعلق ہے میری پیاری ..." میں نے تحمل سے اپنی بات مکمل کر کہ اس کی جانب دیکھا .. جو بات میں نے خود ایک عرصے کی کوشش، بیچینی اور اضطراب کے بعد سمجھی تھی وہ اس تک پہنچا دی تھی ... مجھے جواب کی ضرورت نہیں رہی تھی ... اس کی آنکھوں کی چمک میرے لئے کافی تھی ..."



Namaz ka tarika in urdu Namaz men dil nai lagan namaz men dil lagane ka tarika , namaz kesy parhen ,namaz men sakuon nai melta namaz parhne ka shai tarika 

مردوں اور عورتوں کی نماز کا مکمل طریقہ تصویر کے ساته

 

مردوں اور عورتوں کی نماز کا مکمل طریقہ تصویر کے ساته

Mardon Or Aurton Ki Namaz Ka Mukmal TariQa Tasveer ( Picture Image ) Ky Sath


 ************************ 
مردوں کی نماز کا طریقہ


***************
عورتوں کی نماز کا طریقہ

*************
image Picture ko full Size Men Karne ky Leye
Tasveer Par Right Click Karen And Select “View Image:


عورتوں کا مساجد میں نماز ادا کرنا

 


aurto ka masjid men namaz pahrna  عورتوں کا مساجد میں نماز ادا کرنا aurto ki masajid men jana aurat namaz masjid men pahr sakti hai kia?

یہ انسانی دنیا جب سے وجود میں آئی ہے اس میں کوئی خطہ، کوئی قوم اور کوئی مذہب ایسا نہیں ملتا جس میں فواحش و بدکاری،


زنا اورحرام کاری کو مستحسن، اچھا یا مباح و جائز سمجھا گیا ہو بلکہ ساری دنیا اور اس کے مذاہب زنا کی مذمت اور برائی میں متفق و ہم رائے رہے ہیں کیونکہ یہ مذموم جرم نہ صرف یہ کہ فطرتِ انسانی کے خلاف ہے، بلکہ اس درجہ فساد افزا اور ہلاکت خیز ہے جس کے تباہ کن اثرات صرف اشخاص و افراد ہی کو نہیں بلکہ بسا اوقات سارے خاندان اور پورے شہر و قصبہ کو برباد کردیتے ہیں۔ اس وقت فتنہ و فساد اور قتل و غارت گری کے جتنے واقعات سامنے آرہے ہیں ان کی صحیح تحقیق کی جائے تو اکثر واقعات کے پس منظر میں شہوانی جذبات اور ناجائز جنسی تعلقات کا عمل دخل ملے گا۔

البتہ بہت سی قوموں اوراکثر مذاہب میں زنا اور فواحش کی ممانعت کے باوجود اس کے مقدمات اوراسباب و ذرائع کو معیوب و ممنوع نہیں سمجھا جاتا اور نہ ان پر خاص قد غن اور بندش لگائی جاتی ہے۔

مذہب اسلام چونکہ ایک کامل و مکمل نظامِ حیات اور فطرت کے مطابق قانون الٰہی ہے اس لئے اسلام میں جرائم و معاصی کی حرمت کے ساتھ جرائم و معاصی کے ان اسباب و ذرائع کو بھی حرام و ممنوع قرار دے دیاگیا جو بالعموم بطور عادت جاریہ کے ان جرائم تک پہنچانے والے ہیں۔ مثلاً شراب پینے کو حرام کہا گیا تو شراب کے بنانے، بیچنے، خریدنے اورکسی کو دینے کو بھی حرام کردیاگیا۔ سود کو حرام کیاگیا تو سود سے ملتے جلتے سارے معاملات کو بھی ناجائز اورممنوع کردیاگیا۔ شرک و بت پرستی کو گناہ عظیم اور ناقابل معافی جرم ٹھہرایا گیا تواس کے اسباب و ذرائع، مجسمہ سازی و بت تراشی اور صورت گری کو بھی حرام اور ان کے استعمال کو ناجائز کردیاگیا۔

اسی طرح جب شریعت اسلامی میں زنا کو حرام کردیا گیا تواس کے تمام قریبی اسباب و ذرائع اورمقدمات پر بھی سخت پابندی لگادی گئی چنانچہ اجنبی عورت پر شہوت سے نظر ڈالنے کو آنکھوں کا زنا، اس کی باتوں کے سننے کو کانوں کا زنا، اس کے چھونے کو ہاتھوں کا زنا، اس کے پاس جانے کو پیروں کا زنا ٹھہرایا گیا۔جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں وارد ہے:

العینان زنا ہما النظر، والاذنان زنا ہما الاستماع، واللسان زنا الکلام، والید زناہا البطش، والرجل زناہا الخطی“ (مشکوٰة، ص:۲۰ باب الایمان بالقدر)

آنکھوں کا زنا (اجنبی عورت کی جانب شہوت سے) دیکھنا ہے، کانوں کا زنا (شہوت سے اجنبی عورت کی) باتوں کی طرف کان لگانا ہے، زبان کا زنا اس سے گفتگو کرنا ہے، ہاتھ کا زنا اس کو چھونا و پکڑنا ہے، پیروں کا زنا اس کی طرف (غلط ارادہ سے) جانا ہے۔

برے ارادے سے کسی اجنبی عورت کی جانب دیکھنا اس کی باتوں کی جانب متوجہ ہونا، اس سے بات چیت کرنا، اس کو چھونا و پکڑنا اس کے پاس جانا یہ سارے کام حقیقتاً زنا نہیں بلکہ زنا کے اسباب و مقدمات میں سے ہیں مگر انھیں بھی حدیث میں زنا سے تعبیر کیاگیا ہے تاکہ امت سمجھ جائے کہ زنا کی طرح اس کے مقدمات و اسباب بھی شریعت میں حرام و ممنوع ہیں۔ انھیں شہوانی جرائم سے بچانے کے لئے عورتوں کے واسطے پردہ کے احکام نازل و نافذ کئے گئے۔

اس موقع پر یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ شریعت اسلامی کا مزاج تنگی و دشواری کے بجائے سہولت و آسانی کی جانب مائل ہے اس سلسلے میں کتاب الٰہی کا واضح اعلان ہے ”مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَج“ دین میں تمہارے اوپر کوئی تنگی نہیں ڈالی گئی ہے اس لئے اسباب و ذرائع کے بارے میں فطرت سے ہم آہنگ یہ حکمت آمیز فیصلہ کیاگیا کہ جو امور کسی معصیت کاایسا سبب قریب ہوں کہ عام عادت کے اعتبار سے ان کاکرنے والا اس معصیت میں ضرور مبتلا ہوجاتا ہے، ایسے قریبی اسباب کو شریعت اسلام نے اصل معصیت کے حکم میں رکھ کر انھیں بھی ممنوع و حرام کردیا۔اور جن اسباب کا تعلق معصیت اور گناہ سے دور کا ہے کہ ان کے اختیار کرنے اور عمل میں لانے سے گناہ میں مبتلا ہونا عادةً لازم و ضروری تو نہیں مگر ان کا کچھ نہ کچھ دخل گناہ میں ضرور ہے ایسے اسباب و ذرائع کو مکروہ قرار دیا اور جواسباب ایسے ہیں کہ معصیت میں ان کا دخل شاذ و نادر کے درجہ میں ہے ان کو مباحات میں داخل کردیا۔

اس سلسلے کی یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ شریعت اسلام نے جن کاموں کو گناہ کا سبب قریب قرار دے کر حرام کردیا ہے وہ تمام مسلمانوں کے لئے حرام ہیں خواہ وہ کام کسی کے لئے گناہ میں مبتلا ہونے کا سبب بنے یا نہ بنے اب وہ خود ایک حکم شرعی ہے جس پر عمل سب کے لئے لازم اور اس کی مخالفت حرام ہے۔

اس کے بعد سمجھئے کہ عورتوں کاپردہ بھی شرعاً اسی سدذرائع کے اصول پر مبنی ہے کہ ترکِ پردہ گناہ میں مبتلا ہونے کا سبب ہے۔ اس میں بھی اسباب کی مذکورہ قسموں یعنی سبب قریب، سبب بعید اور سبب بعید تر کے احکام جاری ہوں گے، مثلاً جوان مرد کے سامنے جوان عورت کا بدن کھولنا گناہ میں مبتلا ہونے کا قریبی سبب ہے کہ عادتاً آدمی ایسی صورت حال میں بالعموم گناہ میں لازمی طور پرمبتلا ہوجاتاہے اس لئے یہ صورت شریعت کی نظر میں زنا کی طرح حرام ہے، کیونکہ شریعت میں اس عمل کو فاحشہ کا حکم دیاگیا ہے لہٰذا یہ سب کے حق میں حرام ہوگا۔ البتہ مواقع ضرورت علاج وغیرہ کا مستثنیٰ ہونا ایک الگ حکم شرعی ہے اس استثنائی حکم سے اصل حرمت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ پھر یہ مسئلہ اور حکم اوقات و حالات سے بھی متاثر نہیں ہوتا اسلام کے عہد زریں اور خیر و صلاح میں بھی اس کا حکم وہی تھا جوآج کے دورِ ظلمت اور شر و فساد کے زمانہ میں ہے۔

دوسرا درجہ ترک پردہ کا یہ ہے کہ گھر کی چہاردیواری سے باہر برقع یا دراز چادر سے پورا بدن چھپاکر نکلے۔ یہ فتنہ کا سبب بعید ہے۔ اس صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر ایساکرنا فتنہ کا سبب ہوتو ناجائزہے اور جہاں فتنہ کااندیشہ نہ ہو وہاں جائز ہوگا۔ اسی لئے اس صورت کا حکم زمانے اورحالات کے بدلنے سے بدل سکتا ہے۔ آنحضرت … کے عہد خیر مہد میں اس طرح سے عورتوں کاگھر سے باہر نکلنا فتنہ کا سبب نہیں تھا اسلئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عورتوں کو برقع وغیرہ میں سارا بدن چھپا کر چند شرائط کے ساتھ مسجدوں میں آنے کی اجازت دی تھی اور ان کومسجد میںآ نے سے روکنے کو منع فرمایا تھا اگرچہ اس وقت بھی عورتوں کو ترغیب اسی کی دی جاتی تھی کہ وہ گھروں میں ہی نمازادا کریں کیونکہ ان کے لئے مسجد کے مقابلہ میں گھر کے اندر نماز پڑھنا زیادہ باعث ثواب اور افضل ہے۔ چنانچہ حافظ ابن عبدالبر لکھتے ہیں: ”ولم یختلفوا ان صلاة المرأة فی بیتہا افضل من صلاتہا فی المسجد“ (التمہید ج۱۱، ص۱۹۶) اس بارے میں کسی کااختلاف نہیں ہے کہ عورت کی گھر میں نماز مسجد میں نماز سے افضل و بہتر ہے۔

آپ کی وفات کے بعد وہ حالات باقی نہیں رہے۔ بلکہ طبیعتوں میں تغیر اور قلبی اطمینان میں فتور پیداہوگیا چنانچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے ”ما نفضنا ایدینا عن قبر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حتی انکرنا قلوبنا“ (التمہید للحافظ ابن عبدالبر ج۳ ص ۳۹۴ مطبوعہ ۱۴۱۰، ورواہ الترمذی فی الشمائل ص ۲۷ عن انس رضی اللہ عنہ) ہم نے ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کرکے ہاتھوں سے مٹی بھی نہیں جھاڑی تھی کہ اپنے دلوں کی بدلتی ہوئی کیفیت کو محسوس کیا، علاوہ ازیں جن شرائط کے ساتھ مسجد میں حاضری کی اجازت دی گئی تھی ان کی پابندی میں دن بدن کوتاہی بڑھتی رہی اسی تغیر حالات کی جانب مزاج شناسِ نبوت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ فرماتے ہوئے امت کو متنبہ فرمایا ہے کہ آج کے حالات اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے تو عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے روک دیتے اس لئے عام صحابہٴ کرام نے یہی فیصلہ کیا کہ حالات کی اس تبدیلی کی بناء پر اب عورتوں کا مسجد میںآ نا فتنہ سے خالی نہیں رہا اس لئے ان حضرات (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے روک دیا۔

اس دور فتنہ و فساد میں جب کہ جنسی انارکی اور شہوانی بے راہ روی کی قدم قدم پر نہ صرف افزائش بلکہ ہمت افزائی ہورہی ہے، دین و مذہب اور حیا و مروت کے سارے بندھن ٹوٹ گئے ہیں کوچہ و بازار کا کیا ذکر شرور و فتن کی خود سر موجیں گھروں کی چہار دیواری سے ٹکرانے لگی ہیں، کیا ایسے فساد انگیز حالات میں بھی خواتین اسلام اور عفت مآب ماؤں بہنوں اور بہو بیٹیوں کو گھروں کی چہار دیواری سے باہر نکل کرجمعہ و جماعت میں مردوں کے دوش بدوش شریک ہونے کی اجازت مقاصد شریعت سے ہم آہنگ اوراصول سدّ ذرائع کے مطابق ہے؟

حالاتِ زمانہ اور گردوپیش کے واقعات سے آنکھیں بند کرکے جو لوگ عورتوں کو مسجد میں آکر نماز اداکرنے کی دعوت دے رہے ہیں ان کا یہ رویہ مزاج دین سے کتنا ہم آہنگ اور خود یہ لوگ اسلامی معاشرے کے بارے میں کتنے مخلص ہیں؟

فقہائے اسلام بیک زبان یہ کہتے ہیں کہ ایسے فساد آمیز حالات میں عورتوں کے لئے گھر سے باہر آکر مسجدوں میں حاضر ہونا مقاصد شریعت اور اصول سد ذرائع کے خلاف ہے اس لئے ان حالات میں شرعاً اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

aurto ka masjid men namaz pahrna

$ $ $
مضمون نگار: مولانا حبیب الرحمن قاسمی اعظمی
 
بواسطہ: ماہنامہ دارالعلوم ديوبند
ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ11، جلد: 90 ‏،شوال المکرم1427 ہجری مطابق نومبر2006

Aurto ki Behtirin Masjid aur Aurto ka Tariqa e Namaaz

 

 

 

Mohtaram Baraadraan-E-Islam.! Deen-E-Islam Me Aurto'n Ko Pardah Nasheen Rehne Ka Hukm Diya Gaya Hai. Islam Ne Aurat Ko Ghar Ka Charaagh Banaya Hai.

Isi Wajah Se Aurto'n Ka Masjid Aa Kar Namaz Parhna Lazim Nahi Hai Balke Huzoor Aqdas (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) Ne Apne Mubarak Zamanah Ki Pakeezah Aurto'n Ko Bhi Ghar Me Namaz Parhne Ki Baar Baar Targheeb Di Hai Aur Is Par Zyadah Sawaab Ki Basharat Sunaayi Hai.

Mardo Se Toh Yeh Farmaaya Ke Agar Koi Aurat Tum Se Masjid Jaane Ki Ijaazat Maangne Toh Ijaazat De Toh Ma’na Mat Karo Lekin Kisi Bhi Khatoon Ko Aap Saw Ne Masjid Aakar Namaz Padhne Ka Hukum Nahi Diyaa Balke Uski Targheeb Bhi Nahi Di Aur Yahi Ahnaaf Wa Shwaafe Aur Puri Ummat Ka Hukum Hai ,

Lekin Is Sunnat E Nabawi Aur Ijma E Ummat Ke Barqilaaf Daur E Haazir Keg Hair Muqallideen Ahle Hadees Ahbaab Khwateen Ko Masjido Me Aakar Namaz Padhne Ka Hukum De Raha Hai Aur Ghair Muqallid Ahle Hadees Khwateen Bhi Poore Zauq Wa Shauq Ke Saat Sawaab Ka Kaam Samaj Kar Masjid Aakar Namaz Aada Karti Hai (Balke Toh Ghair Muqallideen Aurto Ko Maah E Ramzaan Me 10 Din Masjido Me Mardo Ke Saat Aitekaaf Bhi Karaane Ki Koshish Kar Rahe Hai , Aage Aage Dekhiye Hota Hai Kya ) ,

Lekin Dar Haqiqat Ghair Muqallideen Hazraat Yeh Fa’al Shariyat Ke Ahkaam Ke Khilaaf Hai.Kyunke Nabi E Karim Sallallahu Alaihi Wasallam Ke Daur E Mubarak Me Fitna Ka Andesha Nahi Tha Aur Us Waqt Khwatein Sharii Usool Aur Chand Bandhiyo Aur Sharto Ke Saat Masjid Aakar Namaz Aada Karti Thi Lekin Hazrat Umar Farooq Rdh. Ke Zamana E Khilaafat Me Jab Aurto Ki Halat Me Kuch Tabdeeli Aane Lagi Toh Unko Masjid Me Aakar Padhne Se Rook Diya , Jaisa Ke Khud Hazrat Ayesha Siddiqua Rdh. Bayaan Farmaati Hai Ke :Aurto Ne Jo Nayi Cheese Ijaad Ki Hai Agar Rasoolullah Saw Usko Dekh Lete Toh Unko(Apne Daur Me Hi)Masjid Aane Se Zaroor Ma’na Farmaa Dete Jaisa Ke Bani Israel Ki Aurto Ko Ma’na Kardiyaa Gaya Tha.

Huzoor E Akram Saw Ke Zamane Me Aurto Ko Din Ki Namazo Me Nahi Balke Raat Ki Namaz Me Masjid Me Haazir Hone Ki Ijaazat Thi Jaisa Kea Lama Kirmaani Rh. Farmaate Hai Ke Rasool Ullah Saw Ka Irshaad E Giraami “Aurto Ko Masjid Jaane Se Na Rooko “ Raat Ke Bare Me Hai.(Kiraamaani) Phir Huzur E Akram  Saw Ki Wafaat Ke Ba’ad Tabdeeli Ki Waje Se Sahaba Ikraam Rdh. Apni Khwateen Ko Maasajid  Jaane Se Rokne Lage. “Hazrat Abdullah Bin Masood Rdh. Juma Ke Din Aurto Ko Yeh Kehte Huwe Masjid Se Nikaal Dete The Ke Apne Ghar Ko Jaao Wo Tumaare Liye Behtar Hai.(Tabraani E Kabeer) Alama Hishmo Rh. aur Alama Manzri Rh. Farmaate Hai Ke : Is Riwayat ke Tamaam Raavi Siqa Qabil e Aaitemaad hai aur Iski Sanad me Koi Aaib Nahi (Majmua Al Zawaid 35/2 , Targheeb 94/1).

Hazrat Abdullah Bin Omer Rdh. Masjid Aane Waali Khwatein Ko Kankariyaa Maarkar Masjid Se Nikaalte The.(Umda Tul Qaari : 225/6)

Hazrat Ibn Omer Rdh. Ghar Ki Aurto Ko Dono Eido Me Eidgah Nahi Leejaate The.(Musannaf Ibn Abi Shaiba).

Phir Jamhoor Sahaba Rdh. Bhi Khwatein Ko Masjid Jaane Se Ma’na Karne Lage Jasa Ke Hazrat Shah Wali Ullah Rh. Tehreer Farmaate Hai : Aksar Sahaba Ikraam Rdh. Ne Aurto Ko Masjid Jaane Se Ma’na Karne Ka Faisla Farmaya…Aur Fitna Ke Andesha Se Aurto Ko Roknaa Jayez Hai.(Hujjat Ul Baalegha).

Huzoor E Aqdas Ka Irshaad E Giraami Hai : Aurat Ka Ghar Me Namaz Aada Karna Chahiye Mohalle Ki Masjid Me Namaz Padhne Se Behtar Hai.(Tabraani , Targheeb 93/1) Is Rivayaat Ki Sanad Jaiyad Hai.

Aurto Ko Masjid Jaane Se Mat Roko Lekin Unke Ghar Unke Liye Masjid Se Behtar Hai.Hazrat Abdullah Bin Masood Rdh Aur Abdullah Bin Abbas Rdh. Farmaaya Karte The “Aurat Ka Apne Ghar Ke Kamre Me Namaz Padhna Apne Mohalle Ki Masjid Me Namaz Padhne Se Afzal Hai “.(Tabraani Uski Raavi Saheeh Ke Raavi Hai , Majmua E Zawaid 35/2 , Musannaf Ibn Abi Shaiba 354/2 , Iski Rivayat Hasan Hai) Is Ke Alaawa Aur Kai Riwaayate Hai Jin Se Waajeh Hota Hai Ke Shariyat Me Aurto Ka Qususan Jawaan Aurto Ka Masjid Me Aakar Namaz Padhna Harghiz Jayez Pasanad-Dida Kaam Nahi.(Tafseel Ke Liye Padhiye : Majmua Rasail Wa Maqaalaat : Jild Duwam)

Aurto'n Ki Namaz Ka Islami Tareeqah:

Mohtaram Baraadaraan-E-Islam.! Shari'at Islami Ke Ahkaam Par Amal Karna Jis Tarah Mardo'n Par Farz Hai Waise Hi Aurto'n Par Bhi Farz Hai. Insano Ki Ye Dono Sanafei'n Aksar Ahkaam Me Yaksaa'n Aur Barabar Hain Lekin Mard-O-Aurat Ke Darmyan Jo Khalqi, Jismani Wa Tib'i Farq Hai, Iska Lihaaz Rakhte Hue Islam Ne Apne Ba'z Ahkaam Me Mard-O-Aurat Ke Darmyan Kuch Farq Rakha Hai.

Isi Tarah Namaz Ke Bhi Aksar Ahkaam Me Mard-O-Aurat Dono Barabar Hain Lekin Kuch Ahkaam Me Dono Ke Darmiyaan Kuch Farq Hai, Jo Ahadees Rasool (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) Aur Aasaar Sahaba (Raz.) Se Sabit Hai.

Imam Al- Azam Abu Haneefah, Imam Shafa'i, Imam Malik, Imam Ahmad (Rahmatullahi Alaihim) Aur Jamhoor Fuqaha' Wa Muhaddiseen Ka Bhi Yehi Maslak Hai.

Aur To Aur Chand Dahay (Decades) Pehle Tak Maujoodah Hindustani Jama't Ahle Hadis Ka Bhi Yehi Maslak Tha Jaisa Ke Unki Kitab Nuzlul Abraar, Risaalah Ta'leem As-Salaath Se Ma'loom Hota Hai Jisme Aurto'n Ko Mardo'n Ki Tarah Sajdah Karne Se Mana' Kiya Gaya Hai. [Tafseel Ke Liye Dekhiye Majmua' Rasaa'il Wa Maqaalaat Jild Duwwam]

Lekin Aaj Ke Ghair Muqallideen Hazraat Bohat Saare Masaa'il Ki Tarah Is Masla'h Me Bhi Jam'hoor Ummat Aur Khud Apne Akabireen Buzrugo Ki Mukhalifat Kar Rahe Hain.

Maujuda Ghair Muqallideen Ek Hadees Shareef "Namaz Us Tarah Parho, Jis Tarah Mujhe Parhte Dekhte Ho." [Sahih Bukhari] Ka Ghalat Matlab Nikaal Kar Ye Propaganda Kar Rahe Hain Ke Mard-O-Aurat Ki Namaz Me Koi Farq Nahi Hai.

Sawaal Ye Hai Ke Agar Is Hadees Ki Roo Se Mard-O-Aurat Ki Namaz Me Koi Farq Nahi Hai To Phir Charo'n Maslako'n Me Farq Kyon Bayan Kiya Gaya Hai.?

Kya 14vi Sadi Ke Ghair Muqallideen Hi Ko Is Hadis Ka Matlab Samajh Me Aaya Aur Inse Pehle Kisi Ko Hatta Ke Unki Hi Jama't Ke Buzrugo'n Ko Bhi Sahih Matlab Ma'loom Nahi Hua.?

Sahih Bukhari Ki Mash'hoor Shuroohaat Ibne Hajar, Ibne Battal, Allamah Aini (Rah.) Waghera Ne Likhi Hain Par Kisi Ne Is Hadis Ka Ye Matlab Kyon Nahi Bayan Kiya.?

Dar Haqeeqat Sahih Baat Yehi Hai Ke Mard-O-Aurat Ki Namaz Me Kuch Farq Hai Aur Mard-O-Aurat Ko Waisi Namaz Parhni Chahiye Jaisa Ke Unko Shari'at Me Bataya Gaya Hai.

Farq Ko Waazeh Karne Waali Rivaayaat:

1. Jaleel ul Qadr Tabii Yazeed Bin Habeeb (Rah.) Se Rivayat Hai Ke Rasoolullah (Sallallahu Alaihi Wa Sallam) ka 2 Aurto par Guzar Huwa Jo Namaz Padh Rahi Thi , Aap SAW ne Farmaya : Jab Tum Sajda Karo Toh Jism ka Kuch Hissa Zameen se Chipka Diyaa Karo , Kyunke Aurat Is Masle me Mard ki Tarah Nahi hai.(Marasil e Abu Dawud : 8)

2. Hazrat Ali (Raz.) Ne Farmate hai ke Jab Aurat Sajda Kare Toh Samet Jaaye aur Apni Raano ko Milaale.(Musannaf Ibn Abi Shaiba : 504/2 ,Sunan e Kubra , Musannaf Abdur Razzak ] Muhaddis e Kabeer Alama Zafer Ahmed Usmani Rh. Farmaate Hai:Yeh Riwayat Hasan Darje ki Hai.(A’aa Al Sunan : 182/2).

3. Hazrat Umm Darda Rdh. Apne Kaandho Tak Uthaati Thi.(Juz e Rafedain : Safa 66 , Musannaf Ibn Abi Shaiba) Fuqaha wa Muhaddiseen Rehmaullah ke Nazdeek Is Riwayat ki rooshni me Aurat ke Liye Kaandho tak Haat Utaana Behtar Kyunke isme Satar aur Parda Zyada Paaya Jaata hai aur Muslim Shareef ki Hadees ki bunyaad par mardo ke liye kaano tak haat utaana sunnat hai.

4. Hazrat Ibn Umar Rdh. Farmaate hai ke : Rasoolullah SAW ke Mubarak Zamaane me Aurto ko Hukum Diya Gaya ke Wo (Namaz me) Sareen ke Bal Zameen par Baithe(Mardo ki Tarah Pairo par Na Baithe).(Jaami Al Saaneed : 400/1) Yeh hadees imam e azam abu hanifa rh. ki musnad me saheeh sanad ke saat hai aur musaaneed imam e azam ummat ke nazdeek qaabil e aaitemaad hai.(Tafseel ke Liye Dekhiye A’aalaa ul Sunan).

5. Ibne Umar (Raz.) Se Marfooan Naqal Kiya Gaya Hai Ke Aurat Jab Sajdah Kare To Apne Peit Ko Raano Se Chipka Le. [Ibne A’adi]

6. Jaleel ul Qadr Tabii Hazrat Ata' (Rah.) Farmate Hain: Rukoo' Karte Waqt Aurat Sukad Kar Rahe, Apne Hatho'n Ko Dauran Rukoo' Peit Tak Uthaaye Rakhe Jitna Ho Sakta Hai Apne Badan Ke Aizaa Ko Ek Doosre Se Chimtaaye Rakhe Aur Jab Sajdah Kare To Apne Hath Peit Se Mila Kar Rakhe. [Musannaf Abdur Razzaq]

Inke Alawah Mujahid, Hasan Basri, Qatadah, Ibrahim Naqa'i Waghera Jaleelo Qadar Taba'een Rehmaullah Se Bhi Mardo'n Aur Aurto'n Ki Namaz Me Farq Bataane Wali Rivayat Naqal Ki Gayi Hain.

In Rivaayaat Se Saaf Waazeh Hua Ke Mard-O-Aurat Ki Namaz Me Kuch Farq Hai Aur Aurto'n Ko Namaz Ke Dauraan e Satar Aur Pardah Ka Ahtemaam Karte Hue Simat Kar Namaz Ke Arkaan Bajaa Laane Chahiye. Aurto'n Ki Namaz Ka Tareeqah Batlaane Wali In Mazkoorah Baala Rivaayaat Par Chand Tarah Ke Aaitrazaat Karte Hain. Lekin Usool Hadis Ki Roshni Me Wo Aaiterazaat Durust Nahi Hain. [Aaiterazaat Ki Tafseel Ke Liye Dekhei'n: Nafa-e-sul , Daleel-E-Namaz; Masnoon Namaz; Allah Ta'la Ki Pasandeedah Namaz Aur Majmua Rasaa'il Wa Maqaalaat: Jild Duwam].

Home » باطل فرقوں کے عقائد ونظریات اوران کی تفصیلات اور کچه جوابات » Masail مسائل » Aurto ki Behtirin Masjid aur Aurto ka Tariqa e Namaaz

a