Showing posts with label باطل فرقوں کے عقائد ونظریات اوران کی تفصیلات اور کچه جوابات. Show all posts
Showing posts with label باطل فرقوں کے عقائد ونظریات اوران کی تفصیلات اور کچه جوابات. Show all posts

کام نہ کاج کا ، دشمن اناج کا

 
urdu jokes , funny pic , islamic images , qadiani joke , قادیانی لطیفے ,  قادیانی حوالہ جات.rahehaq

جشن عید میلاد النبی (صلى الله عليه وسلم) کی حقیقت

 
eid milad un nabi ki haqeeqat , jashn e ied milad - eid milad kiya hai


چودہ سو برس سے زیادہ زمانہ گذرا کہ رب العالمین نے ظلمت کدہ عالم کو نور
 بخشنے والا وہ پیغمبر بھیجا جس کے ہاتھ میں سیادت رسل کا علم اور سرپرخاتمیت انبیاء کا تاج تھا۔ اللہ جل جلالہ نے اپنے پیغمبر کو ایسی شریعت کاملہ عطا فرمائی کہ اس کے بعد قیامت تک نوع انسانی کے لیے کسی مذہبی قانون اور نئی شریعت کی ضرورت درپیش نہ ہوگی۔

مگر مسلمانوں نے اس شریعت مطہرہ پرکاربند ہونے کی بجائے ایسے رسوم وقیود اپنالیے جو ہندؤوں اور غیرمسلم اقوام سے درآمد شدہ ہیں جومسلمانوں میں غیرمسلموں کے ساتھ میل جول اوراسلامی تعلیم کے فقدان کے سبب پیدا ہوگئے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ عام سادہ لوح مسلمان ان باطل رسوم کو اسلام کا نام دے رہے ہیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ یہ دین ہے۔!!

افسوس ان حضرات پر ہے جوبدعات و رسوم کی حقیقت سے آگاہی کے باوجود محض دنیوی اغراض اور عاجلانہ مقاصد کے حصول اور سیم وزر کی لالچ میں بدعتوں وجاہلانہ روایتوں کو سنت کا نام دے کر عوام کو تاریکی کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں؛ بلکہ ان بدعتوں و خرافات کو سنت ثابت کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔

آج کل ہمارے معاشرے میں بدعات و خرافات کارواج ہے، باطل نظریات اور غلط عقائد وافکار کی حکمرانی ہے، اہل باطل ان بدعتوں پر دین کا لیبل چسپاں کرکے عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں اور عوام اس پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں، رفتہ رفتہ وہ بدعتیں پھیل جاتی ہیں اور معاشرے میں اس کی جڑیں مضبوط ہوجاتی ہیں۔ ان بدعتوں میں سرفہرست ”عیدمیلاد النبی“ ہے، جسے معاشرے کے اکثر افراد دین تصور کرتے ہیں اور عبادت سمجھ کر منائی جاتی ہے، جلوس نکالے جاتے ہیں، جلسوں کا اہتمام کیاجاتا ہے، محفل میلاد منعقد کی جاتی ہے۔

یہ ایک سچائی ہے کہ اسلام میں حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کا مقام انتہائی اونچا ہے، کوئی دوسرا وہاں تک رسائی نہیں حاصل کرسکتا، نیز حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کے حالات سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا اسلام کا اہم ترین فریضہ ہے اوراس میں مسلمانوں کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کی ولادت خوشی کا باعث ہے۔ مسلمانوں کے دلوں میں حضور صلى الله عليه وسلم کی پیدائش کی خوشی ہونا فطری اور طبعی بات ہے؛ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم کی ولادت کی خوشی میں بدعات وخرافات کا سلسلہ شروع کردیا جائے جیساکہ آج کل کیاجاتا ہے۔ آں حضور صلى الله عليه وسلم نے صاف ارشاد فرمایا: تم پر میری اور میرے خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے، ان کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور نئی نئی باتوں سے دور رہو؛ اِس لیے کہ دین میں ہر نئی بات (جس کا حکم نہ دیاگیا ہو) بدعت ہے۔ (مستدرک حاکم، ج:۱، ص:۹۶)

اس مروّجہ میلاد کا اسلام میں کہیں ثبوت نہیں ہے؛ بلکہ یہ مروّجہ میلاد ساتویں صدی ہجری کی پیداوار ہے۔ پوری چھ صدی تک اِس بدعت کا مسلمانوں میں کہیں رواج نہ تھا؛ نہ کسی صحابی رضى الله تعالى عنه نے، نہ تابعی رحمة الله عليه نے، نہ تبع تابعین رحمة الله عليه نے عید میلاد نبی منائی، نہ کسی محدث نے، نہ مفسر نے، نہ فقیہ نے؛ بلکہ سب سے پہلے میلاد منانے والی شخصیت موصل کے علاقے اربل کا ظالم، ستم شعار اور فضول خرچ بادشاہ ملک مظفرالدین ہے۔ ۶۰۴ھ میں سب سے پہلے اس کے حکم سے محفل میلاد منائی گئی۔ (دول الاسلام، ج:۲، ص:۱۰۴) امام احمد بن محمد مصری اپنی کتاب ”القول المعتمد“ میں لکھتے ہیں:

اس ظالم اورمسرف بادشاہ (ملک مظفرالدین) نے اپنے زمانے کے علماء کو حکم دیاکہ وہ اپنے اجتہاد پر عمل کریں اور اس میں کسی غیر کے مذہب کا اتباع نہ کریں تو اس وقت کے وہ علما جو اپنے دنیوی اغراض ومقاصد کی سرتوڑ کوششیں کررہے تھے اُن کی طرف مائل ہوئے، جب اُنھیں موقع ملا تو ربیع الاوّل کے مہینے میں عیدمیلاد النبی منانا شروع کیا۔ مسلمانوں میں سب سے پہلے عیدمیلادالنبی منانے والا شخص ملک مظفرالدین ہے جوموصل کے علاقے اربل کا بادشاہ تھا۔“

علامہ انور شاہ کشمیری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: یہ شخص ہر سال میلاد پر لاکھوں روپیہ خرچ کرتا تھا اس طرح اُس نے رعایاکے دلوں کو اپنی طرف مائل کرنا شروع کیا اوراس کے لیے ملک وقوم کی رقم کو محفل میلاد پر خرچ کرنا شروع کیا اوراس بہانے اپنی بادشاہت مضبوط کرتا رہا اور ملک وقوم کی رقم بے سود صرف کرتا رہا۔(فیض الباری، ج:۲، ص:۳۱۹)

علامہ ذہبی رحمة الله عليه رقم طراز ہیں: اس کی فضول خرچی اور اسراف کی حالت یہ تھی کہ وہ ہر سال میلادالنبی پر تقریباً تین لاکھ روپے خرچ کیا کرتا تھا۔ (دول الاسلام، ج:۲،ص:۱۰۳)

ذرا اُس باطل پرست اور کج فکر کی حالت بھی سن لیجئے جس نے محفل میلاد کے جواز پر دلائل اکٹھے کیے اور بادشاہ کو اس محفل کے انعقاد کے جواز کا راستہ بتایا اس کا نام ابوالخطاب عمرو بن دحیہ تھا۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمة الله عليه اُس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں: وہ شخص ائمہ کی شان میں گستاخی کیا کرتاتھا، زبان دراز، بے وقوف اور متکبر تھا اور دینی امور میں سست اور بے پرواہ تھا۔ (لسان المیزان،ج:۴،ص:۲۹۶)

یہ تو میلاد کی ابتدائی تاریخ اور اُس کے موجد پر بحث تھی اب آئیے! علماے متقدمین ومتأخرین اس محفل میلاد کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں۔

علامہ عبدالرحمن مغربی رحمة الله عليه لکھتے ہیں: میلاد منانا بدعت ہے؛ اِس لیے کہ اِس کو حضور صلى الله عليه وسلم نے کیا ہے نہ اِس کے کرنے کو کہا ہے۔ خلفائے کرام نے میلاد منائی ہے اورنہ ائمہ نے۔ (الشریعة الالٰہیہ بحوالہ حقیقت میلاد،ص:۴۱)

علامہ سیوطی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس میلاد کے بارے میں کوئی نص وارد نہیں ہوئی ہے؛ لیکن اس میں قیاس آرائی پر عمل کیا جاتا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ حرّانی دمشقی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب ”اقتضاء الصراط المستقیم“ میں تحریر فرماتے ہیں: نصاری میلاد عیسیٰ علیہ الصلاة والسلام مناتے تھے، جب مسلمانوں کی اس طرف نظر ہوئی تو دیکھا دیکھی مسلمانوں نے یہ رسم اختیار کی؛ حال آں کہ سلف صالحین سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اگر یہ جائز ہوتی اوراس کے منانے میں خیر ہوتی، تو پہلے کے لوگ جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے زیادہ محبت رکھتے تھے اوراچھے کام کرنے کے زیادہ حریص تھے؛ وہ مناتے؛ لیکن سلف صالحین کا میلاد نہ منانا یہ اس بات کابیّن ثبوت ہے کہ میلاد مروّجہ طریقے پر منانا درست نہیں ہے۔“

اس میں لوگوں کا یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ یہ بڑی عبادت ہے حال آں کہ یہ بدعت ہے اوراس میں محرمات کا ارتکاب ہوتا ہے اور دیگر لوگوں کو اس کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ اگرمیلاد منائی جائے اور اس میں محرمات کا ارتکاب نہ ہو اور وہ تمام مفاسد نہ ہوں جو اس کے منانے میں ہوتے ہیں، تب بھی میلاد منانا بدعت ہے؛ کیوں کہ یہ دین میں زیادتی ہے اوراسلاف کا عمل نہیں ہے۔ اگر یہ کارِ خیر اور کارِ ثواب ہوتا تو سب سے پہلے سلف صالحین مناتے؛ لیکن اُن کا میلاد نہ منانا اس کا ثبوت ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔ (مدخل، ج:۱، ص:۳۶۱)

مجدّد الف ثانی رحمة اللہ علیہ اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں: بالفرض اگر آں حضور صلى الله عليه وسلم اس دنیا میں زندہ ہوتے اور یہ مجلس منعقد ہوتی تو آیا وہ اس پر راضی ہوتے اوراس اجتماع کو پسند فرماتے تو اس سلسلے میں بندے کایقین یہ ہے کہ وہ ہرگز اسے قبول نہ فرماتے۔ (دفتر اوّل مکتوب،ص:۱۷۳)

علامہ نصیرالدین الاودی الشافعی علیہ الرحمہ سے کسی نے سوال کیا کہ میلاد منانا کیسا ہے؟ تو انھوں نے جواب میں فرمایا: محفل میلاد نہ منائی جائے؛ کیوں کہ سلف صالحین نے اختیار نہیں کیا ہم اسے کیسے اختیار کرلیں۔ (القول المعتمد)

علامہ شرف الدین رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: بعض امیر لوگ ہر سال محفل میلاد مناتے ہیں، اس میں بہت سے ناجائز تکلّفات پائے جاتے ہیں اور یہ محفل نفس پرستوں کی ایجاد کی ہوئی ہے جن کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے کس چیز کا حکم دیا اور کس چیز سے منع کیا؟ اِس لیے یہ بدعت ہے۔ (القول المعتمد)

حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: مروّجہ میلاد اور اس میں مروّجہ قیام محدثہ، ممنوعہ ہیں، جو ناجائز اور بدعت ہیں۔ (عزیزالفتاوی:۹۹)

قطب ارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ محفل چونکہ زمانہٴ فخردوعالم صلى الله عليه وسلم میں اور زمانہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور زمانہٴ تابعین وتبع تابعین اور زمانہٴ مجتہدین میں نہیں ہوئی، اِس محفل کا موجد چھ سو سال بعد کا ایک بادشاہ ہے جس کو اکثر اہل تاریخ فاسق لکھتے ہیں؛ لہٰذا یہ مجلس بدعت اور گمراہی ہے۔ عدم جواز کے واسطے یہ دلیل کافی ہے کہ قرونِ خیر میں اس کو کسی نے نہیں کیا۔ (فتاویٰ رشیدیہ،ص:۴۰۹)

حضرت مفتی محمد شفیع رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: موجودہ مروّجہ میلاد ہمارے نزدیک ناجائز اور بدعت ہے۔ (امداد المفتیین،ص:۷۹)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ رقم طرازہیں: ذکر ولادتِ نبوی شریف صلى الله عليه وسلم مثل دیگر اذکارِ خیر کے ثواب اور افضل ہے اگر بدعات وقبائح سے خالی ہو۔ اس سے بہتر کیا ہے کما قال الشاعر:

وذکرک للمشتاق خیر شراب * وکل شراب دونہ کسراب

البتہ جیسا ہمارے زمانے میں قیودات اورشنائع کے ساتھ مروّج ہے اس طرح بے شک بدعت ہے۔ (امداد الفتاویٰ،ج:۵،ص:۲۴۹)

سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: میلاد منانا کسی کے لیے بھی جائز نہیں؛ اِس لیے کہ یہ بدعت ہے اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم، صحابہ اور تابعین سے ثابت نہیں۔ (فتاویٰ عبداللہ بن باز،ج:۱،ص:۲۶)

ایک اور جگہ شیخ رحمة الله عليه رقم طراز ہیں: عید منانا خواہ حضور صلى الله عليه وسلم کی پیدائش پر ہو یا کسی اور کی پیدائش پر ناجائز ہے؛ کیوں کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے اِس طریقے پر عید نہیں منائی اورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ عید منائی ہے، سلف امت کا بھی یہی فیصلہ رہا ہے اور خیراُن کی اتباع میں مضمر ہے۔

مولانا بدرعالم میرٹھی رحمة اللہ علیہ رقم طراز ہیں: مروّجہ میلاد حرام ہے؛ اِس لیے کہ یہ میلاد معاصی ظاہرہ وباطنہ پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں محرمات کا ارتکاب ہوتاہے موضوع روایات پڑھی جاتی ہیں، جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی ہے اور سب سے بڑی غلطی یہ کہ آں حضرت صلى الله عليه وسلم کو عالم الغیب مانا جاتا ہے اور یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ آں حضرت صلى الله عليه وسلم اس محفل میلاد میں تشریف لاتے ہیں ان تمام امور کی وجہ سے اس محفل کا انعقاد حرام ہے۔

تمام علما، ائمہ، محدثین، مفسرین اور مفتیان کا اس پر اتفاق ہے کہ عید میلاد النبی منانا ناجائز اور بدعت ہے۔

عید میلاد النبی کے منانے والوں پر اگر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تواکثر ایسے افراد ملیں گے جو دین سے ناواقف اور احکام شریعت سے نا آشنا ہوتے ہیں؛ لیکن جوں جوں ربیع الاوّل کا مہینہ قریب آتا ہے ان افراد میں جوش وخروش پیداہوتا جاتا ہے اور یہ عیدمیلاد النبی منانے کی تیاری شروع کردیتے ہیں۔ اس کو اپنے تمام گناہوں کا کفارہ گردانتے ہیں۔ ان مجالس میں جن منکرات کاارتکاب ہوتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائیں۔

یہ تھی عیدمیلاد النبی کی حقیقت اور مروّجہ میلاد کی مجالس کے منکرات کہ اس بے دینی کو دین کہا جارہا ہے اور اسے اسلام اور مسلمانوں کے نام سے پیش کیا جارہا ہے اور سادہ لوح عوام بھی پوچھے بغیر اس کو کرنے میں مصروف ہیں اور ان مجالس کے لیے زرکثیر صرف کررہے ہیں۔
خدارا! خواب غفلت سے بیدار ہوجائیے اوران ظاہری دل آویزیوں پر نہ جائیے، ان خرافات کی ظاہری چمک دمک دیکھ کر دھوکے میں نہ آئیے۔ ان بدبختانہ عقائد سے اپنا دامن چھڑائیے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہونے کا عہد کیجئے، پھر آپ یہ کہہ سکیں گے کہ ہم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں اور فلاح وکامیابی ہمارا مقدر ہے۔

اگر اس کے برعکس عمل کیاتو یاد رکھئے کہ زندگی ایک کتاب کی مانند ہے، ہر روز اس کتاب کا ایک صفحہ پلٹتا ہے اور پورے دن کی کارروائی اس پر محفوظ ہوجاتی ہے جب زندگی کی اس کتاب کے صفحات ختم ہوں گے تو آپ کے اعمال کی یہ کتاب بند ہوجائے گی اور آپ کو قبر میں اتارا جائے گا جہاں بیٹا ہوگا نہ بیوی، بھائی نہ بہن، والد نہ والدہ۔ وہاں آپ اکیلے ہوں گے جہاں آپ کا خاندان آپ کے کام نہیںآ ئے گا، آپ کے ساتھی کام نہ آئیں گے، اگر وہاں کوئی چیز فائدہ دے سکتی ہے تو وہ آپ کے نیک اعمال ہوں گے۔ اس سے ایک قدم آگے میدان حشر میںآ پ کو جواب دہ ہونا ہوگا۔ یہی کتاب اگر آپ کو دائیں ہاتھ میں ملی تو کامیاب خدانخواستہ اگر یہ کتاب بائیں ہاتھ میں ملی تو خسارہ ہی خسارہ ۔

ایسے وقت کے آنے سے پہلے اپنے کیے پر نادم ہوکر توبہ کیجئے اور آیندہ کے لیے حق کو حق کہیے اورحق کا ساتھ دیجئے۔ وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَنْصُرُہ. (۴۰/۱۷)

***
عید میلاد النبی کی شرعی حیثیت  ء  عید میلاد النبی پر مضمون  ء  عید میلاد النبی پر تقریر   ء  جشن عید میلاد النبی مبارک ہو   ء  عید میلاد النبی کی حقیقت   ء  جشن عید میلادالنبی  ء  عید میلاد النبی اشعار    جشن عید میلاد النبی   
احمد رضا خان بریلوی آپ صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش ولادت ۹ ربیع الاول کو ہوئی

بریلویوں کے ایک بڑے عالم کا فتوی . 
آپ صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش ولادت ۹ ربیع الاول کو ہوئی اور وفات ۱۲ ربیع الاول کو ہوئی 

Berlvi Alim ka Fatwa Milad un nabi 9 Rabi ul awal ko hai 



=
Eid Milad un Nabi kiya hai ? - 12 Rabi ul Awal Special Clip

عید میلاد کیا ہے . 
Molana makki al hijazi in makkah sawal o jawab




کیا ۱۲ ربیع الاول عید کا دن ہے . 
 kiya 12 rabi ul awal Eid ka Dn Hai


↓↓  Share's Button say Whatsapp , Facebook , Twitter , Google+ Par share Zaror Karen
Jazak Allah Khair

رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے 11 شادیاں کیوں کی ؟

 




حضور ﷺ نے متعدد شادیاں کیوں کیں؟

ایک  عالی نسب ،خوبرو اور نیک نام شخص جس کے    لئے جوانی  میں  متعدد شادیاں کرنے میں  معاشر تی اور معاشی  لحاظ سے   کوئی ممانعت  نہ ہو۔ ۔ ۔اس  کے زمانے میں ایک سے زائد شادیوں  کو  کسی طرح کا کوئی عیب بھی نا سمجھا جاتا  ہو  پھر بھی وہ  اپنے سے پندرہ سال بڑی   ایک بیوہ عورت کےساتھ زندگی کے بہترین سال (25- 50)گزار دے۔ ۔ ۔
پھر پچاس سال کی عمر کے بعد شادیاں کرے بھی تو مختلف خاندانوں اور  قبائل کی  اکثر  ان  بیوہ عورتوں سے  ہی   جو فطری طور پر جنسی تحریک کے لئے کوئی خاص رغبت بھی   نہ  رکھتی ہوں ۔ ۔  ۔پھر  بھی کوئی یہ کہے کہ   یہ  متعدد شادیاں تو اس نے  خواہشات نفسانی کی وجہ سے کی تھیں’  کتنی غیر حقیقی اور ناانصافی والی بات  ہوگی…  ؟ !
اگر صرف یہی اک وجہ  تهی توپچاس سال بعد جو شادیاں کیں وہ تو کم از کم انہیں خوبصورت کنواری لڑکیوں سے کرنی چاہیے تهیں  جب کہ انکے پاس   حکومت و طاقت بھی تھی ،حکومت بھی عام نہیں  کہ چند   علاقوں  پر ہو، وہ تو  لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے تھے  ۔ ۔  لوگ ان پر جانیں قربان کرنے کو تیار تھے۔۔!!(صلی اللہ علیہ وسلم)

حقیقت میں  جس طرح حضورﷺ  کے باقی ہر عمل کے پیچھے  بھی کوئی نا کوئی حکمت ہوتی تھی  اسی طرح آپ کی زندگی کایہ پہلو بھی  حکمتوں  سے آزاد نہ تھا ، حضور ﷺ کی ازواج کی   کچھ اہم حکمتوں کا تذکرہ پیش خدمت ہے ۔

1. اسلامی انقلاب کی وسعت تک پہونچنے کیلئے تعلقات کی وسعت اور مختلف خاندانوں اور بااثر قبائل کا تعاون ایک بنیادی ضرورت تھی ، اس غرض سے حضور نے بہت سی شادیا ں کیں ، یہ سب نکاح مختلف قبائل سے تھے ، جن میں سے اکثر کاسبب تالیف ِقلب یا سہارا دینا تھا، یا اس خاندان سے تعلق ورشتہ کی مزید گہرائی مقصود تھی ، یا ان رشتو ں سے اسلام کو تقویت اور اللہ کی خوشنودی مقصود تھی ۔حضرت عائشہ ایک ایسے محبوب ترین رفیق اور دوست سے رشتہ کی استواری تھی ، جس نے مکہ کے مشکل ترین دور میں آپ کاساتھ دیا ، معراج کی حیران کن خبر سب سے پہلے آپ نے کی ۔غار ثور کی ہولناک تاریکی میں آپ کا ساتھ دیا ، جس نے آپ پر اپنی ہر متاع عزیز لٹانے کی کوشش کی ۔ جوآپکے اولین جانشین ہوئے اور مزاج نبوت کی حامل صحابی اور رفیق رسول تھے ۔انکے ساتھ رشتہ کاتعلق قائم کرنا ان کے احسانات ومحبت کا قلبی وعملی اعتراف تھا ۔اس کے علاوہ حضرت عائشہ کے ساتھ شادی میں حکمت یہ تھی کہ  آپ صلى الله علیه وسلم کے حرم میں کوئی ایسی چھوٹی عمر کی خاتون داخل ہو جس نے اپنی آنکھ اسلامی ماحول میں ہی کھولی ہو  پھر  نبی صلى الله علیه وسلم کے گھرانے میں آ کر پروان چڑھے ، تاکہ اس کی تعلیم و تربیت ہر لحاظ سے مکمل اور مثالی طریقہ پر ہو اور وہ مسلمان عورتوں اور مردوں میں اسلامی تعلیمات پھیلانے کا موٴثر ترین ذریعہ بن سکے۔  چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے اپنی اس نوعمری میں کتاب وسنت کے علوم میں گہری بصیرت حاصل کی۔ اسوئہ حسنہ اور آنحضور  صلى الله علیه وسلم کے اعمال و ارشادات کا بہت بڑا ذخیرہ اپنے ذہن میں محفوظ رکھا اور درس و تدریس اور نقل و روایت کے ذریعہ سے اُسے پوری امت کے حوالہ کردیا۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے اپنے اقوال و آثار کے علاوہ اُن سے دوہزار دو سو دس (۲۲۱۰) مرفوع احادیث صحیحہ مروی ہیں۔ اور حضرت ابوہریرہ رضی الله عنه  کو چھوڑ کر صحابہ وصحابیات میں سے کسی کی بھی تعدادِ حدیث اس سے زائد نہیں ۔۔

اسی طرح حضرت عمر فاروق (رض) کی صاحبزادی حضرت حفصہ(رض) سے شادی کی، جوبیوہ تھیں انکے شوہر خنیس بن حذافہ جنگ احد میں شہید ہوئے تو حضرت عمر(رض) ان کی بیوگی سے بہت پریشان ہوگئے اور چند اکابر صحابہ کرام (رض)سے اس کا تذکرہ بھی کیالیکن انھوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ۔ یہاں تک کہ خود حضور اکرم  نے ان سے نکاح کرلیا ، یہ رشتہ حضرت عمر (رض) سے تعلق کا مزیدگہرائی کا ذریعہ بن گیا ۔ اور ان کی دل جوئی اور معاونت کا سبب بھی بنا ، اس طرح اسلامی تحریک کے درجہ اول کے دو اہم ترین سے حضور اکرم  کا رشتہ کا قریب ترین تعلق پیداہوگیا ۔ ظاہر ہے کہ نکاح برائے عشرت اس طرح کے نہیں کئے جاتے یہ صریحا تعلقات کی مضبوطی گہرائی امداد وتعاون تالیف قلب اعتراف خدمت اسلامی اور سہارا دینے کیئے دکھائی دیتے ہیں ۔اپنی پہلی شادی اپنے بھر پور عالم شباب میں ایک چالیس سالہ بیوہ خاتون سے کر کے آپ ﷺ نے اپنے اوپر کسی جنسی جذبے کے غلبے کی مکمل نفی کردی تھی جو ہمارے مستشرق کے دماغ پر باالعموم سوار رہتا ہے۔

2. متعدد شادیوں   کی ایک ظاہری حکمت یہ بھی  تھی  کہ  حضور ﷺکو ایک سخت نا ترشیدہ قوم سے سابقہ تھا جو تہذیب وتمدن میں بہت پیچھے تھی اور جسکی معاشرتی زندگی بہت ہی غیر منظم بے ہنگم تھی ،حضور ﷺ کے پیش نظر اس قوم  کی تربیت تھی  اور انکے گھروں تک اسلامی قوانین و تعلیم پہنچانے کاذریعہ یہی امہات المؤمنین تھیں ، امہات المؤمنین  ہی دوسری مسلمان خواتین کی تعلیم کا ذریعہ بنیں ۔حضور ﷺ کی  ذاتی اور گھریلو زندگی    کے   معمولات  امہات المومنین  خصوصا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے ذریعے  ہی امت کے سامنے آئے۔

3. پہلے جنگ بدر پھر جنگ اُحد میں  بہت سے  صحابہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔ نصف سے زیادہ گھرانے بے آسرا ہوگئے ، بیوگان اور یتیمو ں کا کوئی سہا را نہ رہا  تھا ۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحا بہ رضی اللہ عنہ کو بیوگان سے شادی کرنے کو کہا ، لو گو ں کو تر غیب دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہ ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہ سے مختلف اوقات میں نکا ح کیے ۔ آپ کو دیکھا دیکھی صحا بہ کرام رضی اللہ عنہ نے بیوگان سے شا دیا ں کیں جس کی وجہ سے بے آسرا گھرا نے آبا د ہوگئے ۔سودہ رضی اللہ تعالی عنہا کا خاوند فوت ہوچکا تھا ، اوریہ مشرک قوم کے درمیان رہائش پذیر تھیں ۔ یہ پچاس سال  کی عمر اوپر سے بیوہ ،  اس قابل نہیں تھی کہ کو ئی ان سے شادی کرتا اوران کا معاشی اور معاشرتی سہارا بنتا ، اپنے گھر جاتیں تو ان کے گھر والے کفار تھے اور جیسے دوسرے مؤمنین کو وہ اذیتیں دے رہے تھے انہیں بھی اذیتوں میں مبتلا کردیتے، اور دوبارہ کفر میں داخل ہونے پر زبردستی کرتے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا۔حضرت ام سلمہ کے شو ہر بھی جنگ احد میں شہید ہوگئے تھے ، انھوں نے اور ان کے شوہر نے اللہ کے راستہ میں بہت زیادہ صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کیں ، انکا یوں بے یار ومددگار رہ جانا بہت بڑا حادثہ تھا ۔ حضور اکرم  نے بچوں سمیت ان کے سہارے کیلئے ان سے نکاح کر لیا ، اس طرح  حضرت زینب بنت خزیمہ  سے نکا ح کیا ، انکے شوہر بھی  جنگ احد میں شہید ہوگئے تھے ، حضور ﷺ نے ان سے شادی کرلی ۔

4. اس قبائلی معاشرہ میں آپ ﷺ نے مختلف قبائل کی خواتین سے نکاح  کے ذریعے  ان قبائل سے اپنے معاشرتی تعلقات استوار  کیے  جس سے بہت قبائلی دشمنیاں آپ ﷺ کے خلاف سرد پڑگئیں ۔عربو ں میں دستور تھا کہ جو شخص ان کا داما د بن جاتاا س کے خلا ف جنگ کر نا اپنی عزت کے خلا ف سمجھتے ۔ جنا ب ابو سفیان رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید ترین مخالف  تھے  ۔ مگر جب ان کی بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہ سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکا ح ہو اتو یہ دشمنی کم  ہوگئی۔ اس طرح  حضرت جو یر یہ رضی اللہ عنہ کا وا لد قبیلہ معطلق کا سر دار تھا۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ کے درمیان رہتا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلہ سے جہا د کیا ، ان کا سر دار ما را گیا ۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ قید ہو کر آئیں ، ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نکاح  فرمایا۔ان سے نکاح کے نتیجہ میں مسلمانوں نے بنی المصطلق کے سب قیدی رہا کر دیئے ۔ اور وہ بعد میں   سب مسلمان  بھی ہو گئے ۔اسی طرح   حضر ت صفیہ رضی اللہ عنہا  سے شادی ہوئی۔ خیبر کی لڑائی میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ قید ہو کر  آئیں،   یہ حضرت ہارون علیہ السلام کے خاندان سے تھیں اور مشہور یہودی سردار حی بن اخطب کی صاحب زادی تھی ۔ انکا شوہر مارا گیا تھا ،حضور  ﷺ نے انکو لونڈی بننے نہیں دیا بلکہ انکو آزاد کر کے نکاح کر لیا ان کے ذریعہ  یہود کے قبیلوں میں  اسلام کے اچھے اثرات پھیلے ۔

5. ان شا دیو ں کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آسکیں ، اخلاقِ نبی کا مطالعہ کر سکیں تاکہ انہیں راہ ہدایت نصیب ہو ۔حضور ﷺ  کے  نکاح کے ذریعے  مختلف قبائل سے رشتے قائم  ہوئے اور  بہت سی قبائلی عصبیتوں کا قلع قمع  ہوا ۔ اس کی ایک مثال میمونہ رضی اللہ عنہ سے نکا ح  ہے ، انکی  وجہ سے نجد کے علا قہ میں اسلام پھیلا ۔

6. معاشرہ کی جاہلی رسم ورواج کو توڑنا بھی آپ ﷺکے فرائض میں شامل تھا ۔ جاہلی معا شرے میں منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا سمجھاجاتا تھا ۔جو حرمتیں سگے بیٹے سے متعلق ہوتی ہیں وہی حرمتیں منہ بولے بیٹے سے بھی وابستہ ہوتی تھیں، اس جاہلی رسم ورواج کو ختم کرنے کیلئے اللہ نے آپ کا نکاح  حضرت زینب بنت جحش سے نکاح کیا ۔ حضرت زینب بنت جحش  کا پہلا نکاح آپﷺ  منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ (رض)سے ہواتھا۔

غرض حضور ﷺ کا کوئی رشتہ ازدواج بھی محض نکاح کی خاطر نہ تھا بلکہ  اس میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ تھیں ۔۔ کوئی ایک نکاح ایسانہیں جس نے اسلامی انقلاب کے لئے راستہ ہموار کر نے میں کوئی مددنہ دی ہو ۔ اس لیے  بے شمار دینی، تعلیمی اور دیگر مصلحتوں اور حکمتوں کی بنیاد پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے بھی یہ اجازت خاص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے  ہی تھی۔

hazrat muhammad ki biwi ke naam   -  rasool allah ki shadi

عورت کا مسجد میں جانا - حدیث کی روشنی میں

 




|| کیا عورت مسجد میں نماز پڑھ سکتی ہے حدیث || عورتوں کا مسجد میں نماز پڑھنا حدیث || کیا خواتین مسجد میں باجماعت نماز پنجگانہ ادا کر سکتی ہیں؟ || خواتين كا مسجد ميں نماز پڑھنا || عورت   مسجد میں نماز ادا کرسکتی ہے....!  aurat ka masjid jana . kya aurat masjid mein namaz parh sakte hain || aurat ka qabristan jana hadees  || aurton ka masjid mein namaz parhna |

میرا پہلا سوا ل نمبر5852ہے۔ڈاکٹر ذاکر نائک نے سنن ابوداؤد کی ج:1باب نمبر 
204حدیث نمبر 570جس کے راوی عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ ہیں اس کا حوالہ دیا ہے۔ یہی صرف ایک حدیث ہے جس میں عورتوں کو مسجد میں جانے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی بنیاد پر آپ عورتوں کو مسجد میں جانے سے نہیں روک سکتے ہیں۔جب کہ صحیح مسلم ج:1باب 177حدیث نمبر 886میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی بندیوں کواللہ کی مسجد میں جانے سے مت روکو۔ آپ نے تفصیل پوچھا تھا۔ اتنا ڈاکٹر ذاکر نائک کی ویب سائٹ سے ملا۔ آپ کے گوش گزار ہے، اب آگے آپ جواب دیں گے ۔ اگر مسجد جانے کے لیے منع کیا ہے تو صرف ایک حدیث کے حوالہ سے آپ کیسے ثابت کریں گے؟ جب کہ مسجد میں جانے کے لیے چار سے پانچ حدیث کا حوالہ ڈاکٹر ذاکر نے دیا ہے۔
جواب:فتوی: 752=752/ معن أمّ سلمة رضي اللہ عنھا عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: خیر مساجد النساء قعر بیوتھن (رواہ أحمد وبیہقي وکذا في کنز العمال)

ترجمہ: حضرت ام سلمہ -رضی اللہ عنہا- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے لیے بہترین مسجد ان کی کوٹھریوں کا اندرونی مکان ہے۔

(۲)

عن أم حمید امرأة أبي حمید الساعدي عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال لھا: قد علمتُ أنّکِ تحبّین الصلاة معي، وصلاتُکِ في بیتکِ خیر من صلاتِکِ في حجرتِکِ، وصلاتُکِ في حجرتکِ خیر من صلاتِکِ في دارکِ، وصلاتکِ في دارکِ خیر من صلاتکِ في مسجد قومکِ، وصلاتکِ في مسجد قومِکِ خیر من صلاتکِ في مسجدي (رواہ الإمام أحمد وابن حبان، کذا في کنز العمال)

ترجمہ: ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حمید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ: میں جانتا ہوں کہ تم میرے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہو، مگر تمہاری وہ نماز جو گھر کی اندرونی کوٹھری میں ہو، وہ بیرونی کمرہ کی نماز سے بہتر ہے، اور بیرونی کمرہ کی نماز، گھر کے صحن کی نماز سے بہتر ہے، اور گھر کے صحن کی نماز محلہ کی مسجد کی نماز سے بہتر ہے، اور مسجد محلہ کی نماز میری مسجد کی نماز سے بہتر ہے۔

(۳)

وأوردہ الھیثمي في مجمع الزوائد وزاد: فأمرتْ فبُنِيَ لھا مسجدٌ في أقصی بیت في بیتھا وأظلَمِہ فکانت تُصلي فیہ حتی لقیتْ اللّٰہَ عز وجل، قال الہیثمي: رجالہ رجال الصحیح غیر عبد اللہ بن سوید الأنصاري ووثقہ ابن حبان۔

ترجمہ: اوراس حدیث کو ہیثمی، مجمع الزوائد میں لائے ہیں، اوراس میں اتنی زیادتی ہے کہ ام حمید رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر اپنے گھروالوں گو حکم دیا، ان کے لیے ان کے گھر کی ایک اندرونی کوٹھری میں جو نہایت تاریکی میں تھی، نماز کی جگہ بنادی گئی، اور یہ اس میں نماز پڑھتی رہیں، یہاں تک کہ خدا سے جاملیں۔ حافظ ہیثمی نے کہا کہ اس روایت کے راوی صحیح کے راوی ہیں، سوائے عبداللہ بن سوید انصاری کے اور ابن حبان نے ان کو معتبر بتایا ہے۔

(۴)

عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: صلاة المرأة في بیتھا أفضلُ من صلاتھا في حجرتھا، وصلاتھا في مِخدعھا أفضل من صلاتھا فی بیتھا۔ (أبوداوٴد شریف) 
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کی نماز کوٹھری میں بیرونی کمرہ کی نماز سے بہتر ہے۔ اور کوٹھری کے اندر کی نماز، کوٹھری کی نماز سے بہتر ہے۔

(۵)

وعنہ: ما صلت امرأة من صلاتہ أحب إلی اللہ من أشد مکان في بیتھا ظلمة (مجمع الزوائد) 
ترجمہ: اورابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورت کی کوئی نماز، خدا کو اس نماز سے زیادہ محبوب نہیں، جو اس کی تاریک تر کوٹھری میں ہو۔

(۶)

عن أبي ہریرة -رضي اللہ عنہ- عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: لولا ما في البیوت من النساء والذریة، أقمت صلاة العشاء وأمرتُ فتیاني یحرقون ما في البیوت بالنار (رواہ أحمد، مشکاة) 
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے، تو میں نماز عشاء قائم کرتا، اور اپنے جوانوں کو حکم دیتا کہ گھروں میں آگ لگادیں۔

(۷) 
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: لو أدرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما أحدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بني اسرائیل۔ 
یعنی اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان حرکات کو دیکھتے جو آج کل کی عورتوں نے ایجاد کرلی ہیں تو ان کو مسجد میں جانے سے روک دیتے، جس طرح کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ (بخاری شریف)
ان تمام حدیثوں سے صراحةً ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جماعتوں میں حاضر ہونا، محض رخصت واباحت کی بنا پر تھا، کسی تاکید یا فضیلت واستحباب کی بنا پر نہیں، اس رخصت واباحت کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور ارشاد، ان کے لیے یہی تھا کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں، اور اسی کی ترغیب دیتے تھے اور فضیلت بیان فرماتے تھے۔ حدیث نمبر (۶) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں کو جو جماعت عشاء میں حاضر نہ ہوتے تھے، آگ سے جلادینے کا ارادہ فرمایا مگر عورتوں، بچوں کا گھروں میں ہونا اس کی تکمیل سے مانع آیا، عورتوں کا اس حدیث میں ذکر فرمانا اس کی دلیل ہے کہ وہ جماعت میں حاضر ہونے کی مکلف نہ تھیں، اور جماعت ان کے ذمے موٴکد نہ تھی، ورنہ وہ بھی اسی جرم کی مجرم اوراسی سزا کی مستوجب ہوتیں۔ اور حدیث نمبر ۱،۲،۳،۴ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عورت کی کوٹھری کے اندر کی نماز، دالان کی نماز سے افضل او ردالان کی نماز، صحن کی نماز سے افضل اور صحن کی نماز محلہ کی نماز سے افضل ہے، پس اس میں کیا شبہ رہا کہ عورتوں کو جماعت میں اورمسجد نبوی میں حاضر ہونا کسی استحباب وفضیلت کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ محض مباح تھا۔ پس کس قدر افسوس ہے ان لوگوں کے حال پر جو عورتوں کو مسجد میں بلاتے اورجماعتوں میں آنے کی ترغیب دیتے ہیں، اورغضب یہ کہ اسے سنت بتاتے ہیں اوراپنے اس فعل کو احیائے سنت سمجھتے ہیں۔ اگر عورتوں کے لیے جماعتوں میں حاضر ہونا سنت ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد کی نماز سے مسجد محلہ کی نماز کو اور مسجد محلہ کی نماز سے گھر کی نماز کو افضل کیوں فرماتے۔ کیوں کہ اس صورت میں گھر میں تنہا نماز پڑھنا عورتوں کے لیے ترک سنت ہوتا تو کیا ترک سنت میں ثواب زیادہ تھا، اور سنت پر عمل کرنے میں ثواب کم؟ اور کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنے کی ترغیب دے کر گویا ترک سنت کی ترغیب دیتے تھے؟ شاید یہ لوگ اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ سے زیادہ بزرگ اور اپنی مسجدوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد شریف سے افضل سمجھتے ہیں۔ جن حدیثوں میں خاوندوں کو عورتوں کو مسجد میں جانے سے روکنے کی ممانعت ہے، ان حدیثوں سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ عورتوں کو مسجد میں جانا، مستحب یا سنت موٴکدہ ہے، عورتوں کو چونکہ آپ کے زمانہ میں مسجدوں میں جانا مباح تھا، تو اس اباحت ورخصت سے فائدہ اٹھانے کا حق انھیں حاصل تھا؛ اس لیے مردوں کو ان کے روکنے سے منع فرمایا کہ ان کا یہ حق زائل نہ ہو، دوسرے یہ کہ اس وقت عورتوں کے مسجد میں آنے کا ایک فائدہ یہ بھی تھا کہ عورتوں کو تعلیم کی بہت حاجت تھی، اور اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ مسجد میں حاضر ہوکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال نماز کو دیکھیں اور سیکھیں۔ کوئی بات پوچھنی ہو تو خود پوچھ لیں۔ تیسرے یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک زمانہ فتنہ وفساد سے مامون تھا۔ وغیرہ وغیرہ

پس ان حدیثوں سے عورتوں کے لیے جماعتوں کی حاضری کا سنت یا مستحب ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔

واللہ تعالیٰ اعلم 
بشکریہ دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

کیا عورت مسجد میں نماز پڑهنے جاسکتی ہے  || کیا عورت مسجد میں نماز پڑھ سکتی ہے حدیث || عورتوں کا مسجد میں نماز پڑھنا حدیث || کیا خواتین مسجد میں باجماعت نماز پنجگانہ ادا کر سکتی ہیں؟ || خواتين كا مسجد ميں نماز پڑھنا || عورت
 مسجد میں نماز ادا کرسکتی ہے....!


 
=
aurat ka masjid jana . kya aurat masjid mein namaz parh sakte hain || aurat ka qabristan jana hadees  || aurton ka masjid mein namaz parhna || mard ka ghar mein namaz parhna || aurat ke liye eid ki namaz || aurat ki juma ki namaz | aurton ki namaz ka tarika sunni || eid ki namaz aurton ke liye

قربانی اور روشن خیالوں کے تاریک خیالات

 
qurbani in islam , bakra eid qurbani wali eid eid ul azha , qurbani ky masail qurbani hadees

سوال: ہمارے علاقہ کے ایک جدید تعلیم یافتہ استاذ نے نیا فتنہ شروع کررکھا ہے کہ جانور کی قربانی صرف حاجی حج کے موقع پر مکہ معظمہ میں کرسکتا ہے، اس کے علاوہ اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں، ہر سال مسلمان عیدالاضحیٰ کے موقع پر فریضۂ حج کی ادائیگی کے بغیر جو دنیا کے مختلف حصوں میں قربانی کرتے ہیں اس کا کوئی جواز نہیں، بلکہ یہ بدعت ہے۔ اس کے اس پروپیگنڈہ نے کئی ضعیف الاعتقاد لوگوں کو گمراہ کررکھا ہے۔ نیز بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مساجد وغیرہ کی تعمیر پر یا رفاہ عامہ کے کاموں میں لگا دیئے جائیں تو پوری امت کا کتنا نفع ہو؟ ان حالات میں ہم نے آپ کی طرف رجوع کرنا مناسب سمجھا، آپ مفصل فتویٰ صادر فرمائیں کہ: 
(۱) قربانی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
(۲) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حج کے علاوہ بھی کبھی قربانی کی ہے؟ 
(۳) صحابۂ کرام، تابعین و تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین کا قربانی کے سلسلے میں کیا معمول رہا ہے؟ 
(۴) کیا صدقہ و خیرات قربانی کے قائم مقام ہوسکتا ہے؟ 
(ابو احسان کوثر نیازی، رحیم یار خان۔ عبدالقادر، کوٹلی پائیں، مانسہرہ۔ دیگرمتعدد سائلین) 
جواب:  اس دور کے فتنوں میں سے ایک بہت بڑا فتنہ یہ ہے کہ مغرب سے مرعوب بلکہ ذہنی غلامی کا شکار ایک طبقہ دین اسلام کے یقینی طور پر ثابت شدہ احکام و شعائر کو مسلمانوں کی مادی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھ کر ان میں قطع و بیونت اور ردوبدل کے در پے رہتا ہے اور جہاں اس سے بھی کام بنتا نہیں دیکھتا تو سرے سے انکار کر بیٹھتا ہے، یوں امت مسلمہ کے درد اور خیرخواہی کے پردوں میں الحاد کا بہت بڑا دروازہ کھل جاتا ہے اور جاہل عوام احکام اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہوکر گمراہ ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات ایمان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 
ایسے حالات میں عوام پر لازم ہے کہ وہ دینی مسائل میں جدید تعلیم یافتہ مغرب زدہ طبقہ… جو دین کی مبادیات سے بھی جاہل ہے… کی بے سروپا باتوں پر کان دھرنے کے بجائے مستند علماء سے مضبوط تعلق قائم کریں اور احکام اسلام کے بارے میں ان سے رہنمائی حاصل کریں کہ یہ انہی کا منصب ہے۔ 
ایک مسلمان کا مطمح نظر بہرکیف احکام الٰہیہ کی بجا آوری ہے، خواہ کسی حکم کی علت اس کی عقل کی ڈبیا میں آئے یا نہ آئے۔ بس اتنا کافی ہے کہ وہ حکم اور عمل قابل قبول دلیل سے ثابت ہو۔ 
قربانی ایک مستقل واجب عبادت بلکہ شعائر اسلام میں سے ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دس سالہ قیام میں ہر سال قربانی فرمائی، حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم، تابعین و تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین و اسلاف رحمہم اﷲ تعالیٰ غرض پوری امت کا متوارث و مسلسل عمل بھی قربانی کرنے کا ہے، آج تک کسی نے نہ اسے حج اور مکہ معظمہ کے ساتھ خاص سمجھا ہے اور نہ صدقہ و خیرات کو اس کے قائم مقام سمجھا ہے۔ قربانی کے بارے میں جتنی آیات و احادیث ہیں وہ سب جانوروں کا خون بہانے سے متعلق ہیں، نہ کہ صدقہ و خیرات سے متعلق۔ نیز ان میں حج اور مکہ معظمہ کی کوئی تخصیص نہیں، بطورِ نمونہ چند آیات و احادیث 
ملاحظہ ہوں: (۱)وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاً لِّیَذْکُرُوْا اسْمَ اﷲِ عَلیٰ مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ۔(سورۂ حج: آیت ۳۴) ترجمہ: ہم نے (جتنے اہل شرائع گزرے ہیں ان میں سے) ہر امت کے لیے قربانی کرنا اس غرض سے مقرر کیا تھا کہ وہ ان مخصوص چوپائوں پر اﷲ کا نام لیں جو اس نے ان کو عطا فرمائے ہیں۔ 
امام ابن کثیر و امام رازی رحمہما اﷲتعالیٰ وغیرہ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں تصریح فرمائی ہے کہ خون بہا کر جانوروں کی قربانی کا دستور شروع دن سے ہی تمام اَدیان و مذاہب میں چلا آ رہا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر:۳/۲۲۷، تفسیر کبیر۳/ ۳۴) 
(۲)وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکاً ھُمْ نَاسِکُوْہُ۔ (سورۂ حج: آیت۶۷) ترجمہ: ہم نے ہر امت کے لیے ذبح کرنے کا طریقہ مقرر کیا ہے کہ وہ اس طریقہ پر ذبح کیا کرتے تھے۔ (۳)فَصَلِّ لِرَّبِکَ وَاْنَحْر۔(سورۂ کوثر۔ آیت:۲) 
ترجمہ: سو آپ اپنے پروردگار کی نماز پڑھئے اور (اسی کے نام کی) قربانی کیجئے۔ (۴)عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: من وجد سعۃً فلم یضح فلا یقربن مصّلانا۔ (ابن ماجہ: ص۲۲۶) 
ترجمہ: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہیں کرتا وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔ 
(۵)عن ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما قال: أقام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بالمدینۃ عشر سنین یضحی۔ (ترمذی:۱/۱۸۲) 
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا اور اس عرصۂ قیام میں آپ مسلسل قربانی فرماتے رہے۔ 

ان آیات و احادیث سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے: (۱) صاحبِ نصاب پر قربانی واجب ہے اور استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والے پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے سخت ناراضی کا اظہار فرمایا، حتیٰ کہ اس کا عیدگاہ کے قریب آنا بھی پسند نہ فرمایا۔ (۲) رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے ۱۰ سال میں ہر سال قربانی فرمائی، حالانکہ حج آپ نے صرف آخری سال فرمایا۔ معلوم ہوا کہ قربانی نہ حج کے ساتھ خاص ہے اور نہ مکہ معظمہ کے ساتھ، ورنہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ۹ سال قربانی کیوں فرماتے؟ 
(۳) قربانی سے مقصد محض ناداروں کی مدد نہیں جو صدقہ و خیرات سے پورا ہوجائے، بلکہ قربانی میں مقصود جانور کا خون بہانا ہے، یہ عبادت اسی خاص طریقہ سے ادا ہوگی، محض صدقہ و خیرات کرنے سے نہ یہ عبادت ادا ہوگی، نہ اس کے مطلوبہ فوائد وثمرات حاصل ہوں گے، ورنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے دور میں غربت و افلاس دورِ حاضر کی نسبت زیادہ تھا، اگر جانور ذبح کرنا مستقل عبادت نہ ہوتی تو وہ حضرات جانور ذبح کرنے کے بجائے ناداروں کے لیے چندہ جمع کرتے یا اتنی رقم رفاہ عامہ کے کاموں میں صرف فرماتے۔ 
قربانی کے بجائے صدقہ و خیرات کا مشورہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی نادان یہ مشورہ دے کہ آج سے نماز، روزہ کے بجائے اتنا صدقہ کردیا جائے، ظاہر ہے کہ اس سے نماز، روزہ کی عبادت ادا نہ ہوگی، اسی طرح صدقہ و خیرات سے قربانی کی مستقل عبادت بھی ادا نہ ہوگی۔ 
درحقیقت قربانی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس عظیم الشان عمل کی یادگار ہے جس میں انہوں نے اپنے لختِ جگر کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دیا تھااور ہونہار فرزند حضرت اسماعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بلاچوں وچرا حکمِ الٰہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرکے ذبح ہونے کے لیے اپنی گردن پیش کردی تھی، مگر اﷲ تعالیٰ نے اپنا فضل فرما کر دنبے کو فدیہ بنادیا تھا۔ اس پر ذبح کرکے ہی عمل ہوسکتا ہے، محض صدقہ و خیرات سے اس عمل کی یاد تازہ نہیں ہوسکتی۔ 
نیز حافظ ابن کثیر و امام رازی رحمہما اﷲتعالیٰ نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما، حضرت عطائ، حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت حسن بصری، حضرت قتادہ، حضرت محمد بن کعب قرظی، حضرت ضحاک رحمہم اﷲتعالیٰ و غیرہم کا قول نقل کیا ہے کہ مشرکین عرب غیراﷲ کے نام پر جانور ذبح کیا کرتے تھے، اس لیے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنے رب کے نام پر جانور ذبح کریں۔ (تفسیر ابن کثیر: ص۷۲۴، ج۴) اس بناپر جانور ذبح کرکے ہی اس حکم الٰہی کو پورا کیا جاسکتا ہے، صدقہ و خیرات اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔ اﷲ تعالیٰ ملحدین کی تحریف سے دین کی حفاظت فرمائیں اور مسلمانوں کو مستند علماء کرام سے دین حق کی رہنمائی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ واﷲ العاصم من جمیع الفتن وھوالموفق لما یحب و یرضیٰ۔ قربانی سے کیا سبق حاصل کیا جائے؟ 
(۱) قربانی حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جس عظیم الشان عمل کی یادگار ہے، اس کا دل و دماغ میں استحضار کیا جائے اور اس حقیقت کو سوچا جائے کہ یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضا جوئی کے لیے تھا۔ اور یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ اگر بیٹے ہی کو ذبح کرنے کا حکم باقی رہتا تو ہم بخوشی اس کی تعمیل کرتے۔ ہر والد کا جذبہ یہ ہو کہ میں ضرور اپنے لخت ِجگر کو قربان کرتا اور ہر بیٹے کا جذبہ یہ ہو کہ میں قربان ہونے کے لیے بدل و جان راضی ہوتا اور یہ عزم ہونا چاہیے کہ اگر یہ حکم آج نازل ہوجائے تو ہم اس میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کریں گے۔ 
(۲) قربانی کی اصل روح اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنی تمام نفسانی خواہشات کو قربان کردے۔ جانور ذبح کرکے قربانی دینے کے حکم میں یہی حکمت پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں تمام خواہشات نفسانیہ کو ایک ایک کرکے ذبح کرو۔ اگر کوئی شخص جانور کی قربانی تو بڑے شوق سے کرتا ہے مگر خواہش نفس اور گناہوں کو نہیں چھوڑتا، نہ اس کی فکر ہے تو اگرچہ واجب تو اس کے ذمّہ سے ساقط ہوگیا، مگر قربانی کی حقیقت و روح سے محروم رہا، اس لیے قربانی کی ظاہری صورت کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقت کو حاصل کرنے کا عزم، کوشش اور دُعابھی جاری رہنا چاہیے۔ 
(۳) حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صرف ایک جانور کی قربانی نہیں کی، بلکہ پوری زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزارا، جو حکم بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا فوراً تعمیل کی۔ جان، مال، ماں باپ، وطن و مکان، لخت جگر غرض سب کچھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربان فرمایا۔ ہمیں بھی اپنے اندر یہی جذبہ پیدا کرنا چاہیے کہ دین کا جو تقاضا بھی سامنے آئے اور اللہ تعالیٰ کا جو حکم بھی سامنے آئے اس پر عمل کریں گے۔ اپنے اعزہ و احباب، بیوی بچوں، ماں باپ، خاندان، قوم کسی چیز کو بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں ترجیح نہیں دیں گے۔ 
سارا جہاں ناراض ہو پروا نہ چاہیے 
مدنظر تو مرضیٔ جاناناں چاہیے 
بس اس نظر سے دیکھ کر تو کر یہ فیصلہ 
کیا کیا کرنا چاہیے کیا کیا نہ چاہیے 

(۴) اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرما کر دنبے کو حضرت اسمٰعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فدیہ بنادیا اور اس کی بناپر اب بیٹے کی قربانی کا حکم نہیں ہے، مگر جہاد فی سبیل اللہ میں اپنی جان اور اولاد کو قربان کرنے کا حکم تو ہمیشہ کیلیے ہے۔ جہاد تو قیامت تک جاری رہے گا، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار جہاد کا حکم فرمایا ہے اور آج یہ حکم پوری تاکید کے ساتھ امت مسلمہ کی طرف متوجہ ہے۔ کیا کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی اس آواز پر لبیک کہے اور دنیا بھر کی مظلوم مائوں، بہنوں کی سسکیوں پر کان دھرنے اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان کی بازی لگانے کی تڑپ دل میں پیدا کرے؟؟؟ 
مذکورہ شرائط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں: 
مذکورہ شرائط کا قربانی کے پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں، بلکہ وقت وجوب کے آخری جزومیں بھی اگر یہ شرطیں پائی گئیں تو اس پر قربانی واجب ہے۔ یعنی اگر ۱۲ ذی الحجہ کی شام میں غروب آفتاب سے ذرا پہلے کوئی کافر مسلمان ہوگیا، یا مسافر وطن پہنچ گیا، یا غلام آزاد ہوگیا، یا بچہ بالغ ہوگیا، مجنون کو صحت ہوگئی، یا فقیر صاحب نصاب بن گیا تو ان پر قربانی واجب ہوگئی، اس میں مردوزن کا حکم یکساں ہے۔ 
آخر وقت میں کوئی شرط فوت ہوگئی: اگر ابتداء ایام اضحیہ میں کسی پر قربانی واجب تھی، مگر آخر میں کوئی شرط فوت ہوگئی تو قربانی واجب نہیں رہی، مثلاً: مالدار تنگ دست ہوگیا، یا مقیم مسافر بن گیا تو ان پر قربانی واجب نہیں رہی۔ 
فقیر قربانی کے بعد مالدار ہوگیا: اگر کسی فقیر نے قربانی کردی، پھر آخر وقت میں مالدار ہوگیا، یعنی بقدر نصاب مال اسے حاصل ہوگیا تو راجح قول کے مطابق اس پر نئے سرے سے قربانی کرنا واجب نہیں۔ 
حاجی مسافر ہو تو قربانی واجب نہیں: اگر کسی شخص کا قیام مکہ مکرمہ میں منیٰ کے 4، 5 دنوں کو ملاکر 15 دن یا اس سے زیادہ ہو تو وہ مقیم ہے۔ 
اگر وہ صاحب نصاب ہے تو اس پر قربانی واجب ہے، جسے وہ وہاں بھی ادا کرسکتا ہے اور اپنے وطن میں کسی کو وکیل بناکر بھی ادا کرسکتا ہے اور اگر مکہ مکرمہ میں قیام 15 دن سے کم ہو، پھر مدینہ منورہ جانا ہو یا وطن واپس لوٹنا ہو تو وہ مسافر ہے، اس پر قربانی واجب نہیں۔ 
ملحوظہ: اب چونکہ منیٰ مکہ مکرمہ کا حصہ ہوگیا، اس لیے منیٰ میں قیام کے دن شامل کرکے مقیم یا مسافر ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مندرجہ بالا مسئلہ اسی تبدیل شدہ صورتِ حال پر مبنی ہے۔ واـضح رہے کہ حج تمتع و قران کرنے والے پر بطور شکر الگ قربانی واجب ہوتی ہے، جس کا وہیں کرنا ضروری ہوتا ہے۔

  Upar Share's Button say Whatsapp , Facebook , Twitter , Google+ Par share Zaror Karen
Jazak Allah Khair
==========

پچھلے سال کا ایک بہترین دن اور ایک خوبصورت یاد

 
mulihd suchi khaniyan urdu khani mulihdo ki pitai , sawal jawab
پچھلے سال کا ایک بہترین دن اور ایک خوبصورت یاد، یہاں تو بس نام ہی ہے کام تو وہاں ہوا کرتے تھے جو یہاں نہیں ہو سکتے۔۔
ایک نئے نویلے ملحد کے باپ کا انتقال ہوگیا، اس کا باقی پورا گھر مسلم تھا بس اس کے دماغ میں اچانک خناس بھر گیا تھا، پورا گھر اور خاندان اس سے پریشان تھا لیکن یہ کسی کی مانتا نہیں تھا بس ادھورے "سائینس" کی دیوانگی سر چڑھ کر بولنے لگی تھی میں تعزیت کے لئے گیا، ڈیرے میں مجمع لگا ہوا تھا، باقی تمام بھائیوں سے اظہار افسوس کیا، اور اس بات کی اجازت طلب کی، پھراسی ملحد کی طرف بڑھ گیا جو گم سم بیٹھا تھا، میں نے دونوں بانہیں کھول کر با آواز بلند کہا: مبارک ہو یار بہت بہت مبارک ہو اور اسے گرم جوشی سے گلے لگا لیا، مجمع حیرانگی اور رشتہ دار غصہ سے مجھے دیکھنے لگے لیکن کسی کو کچھ کہنے کا موقع دئیے بغیر میں نے کہا بھائیوں پریشانی کی کوئی بات نہیں ایک طرف آپ ایک معزز انسان کی تدفین کی تیاری کر رہے ہیں اور دوسری طرف اس کی اولاد کی نظر میں خدا کا کوئی وجود نہیں بس ایک کیڑے سے پیدا ہونے والی چیز کچھ عرصہ زندہ رہنے کے بعد مر گئی ہے! ملحد طیش میں آکر کہنے لگا! مذاق کی کوئی حد ہوتی ہے! میرا باپ تھا وہ! میں نے کہا تو کیا ہوا؟ تب ہی تو مبارک باد دے رہا ہوں، پہلے ایک کیڑا تھا اب قبر میں ہزاروں لاکھوں کیڑے بن جائیں گے، اس لئے تمہیں ہزاروں لاکھوں باپ مبارک ہو! وہ مجھے مارنے کے لئے آگے بڑھا میں نے عین اسی وقت ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا وہ ہکا بکا رہ گیا، میں نے کہا کہ یار یہ خود بخود اٹھ گیا میں نے نہیں مارا، تم ہی تو کہتے ہو سب کچھ خودبخود ہوتا ہے، یہ ہاتھ دوبارہ اٹھنے کی کوشش کر رہا ہے میں کچھ نہیں کر سکتا، پھر اس نے قریب آنے کی ہمت نہیں کی اور ایک چارپائی پر بیٹھ کر رونے لگ گیا، اسے خوب رونے دیا اور سب سے کہا کہ آپ اسے اکیلا چھوڑ دیں، کافی دیر بعد میں اس کے پاس گیا اور کہا رات کو بھابی سے ملاقات کے لئے آ جاوں؟؟ وہ مجھے حیرت سے دیکھنے لگا ، میں نے کہا یار ذائقہ بدلنے کا دل کر رہا ہے کیا مضائقہ ہے اس میں ؟ جب خدا نہیں تو گناہ کیسا ؟ آدھا گھنٹا درکار ہے تعاون کا ؟ ان کی مرضی پوچھ لینا! اس نے اپنی "انا" کو روندتے ہوئے کہا کہ بھائی میں غلط تھا، مجھے مزید تنگ نہ کرو، میں مانتا ہوں واقع اللہ ہے ، بس پھر کلمہ پڑھتے ہوئے کہا کہ اللہ مجھے معاف کرے، میں نے گلے سے لگایا اور کان میں کہا والد کے لئے کثرت سے دعا کرو، بدتمیزی کے لئے معذرت لیکن مجھے اس سے بہتر موقع پھر نہیں ملتا، اس نے شکریہ ادا کیا اور اذکار میں مصروف ہوگیا۔۔ جنازے کو کندھا، وضو، نماز جنازہ، تدفین میں آنسوؤں کے ساتھ دعائیں سب ہی کچھ کلمہ پر ایمان لانے کا نتیجہ تھا۔۔
میرے پاس اس سے بہتر موقع نہ تھا چوٹ مار کر روح تک کو ہلا دینے کا، نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا تھا، سب مل کر میری درگت بھی بنا سکتے تھے، لیکن رسک لیا اللہ پر بھروسہ کرکے ، ویسے بھی سب پہلے ہی اس کے خلاف تھے، جو اب بہت خوش ہیں۔۔
یاد رہے یہ میرا انفرادی عمل ہے، جو کہ غلط ہے، اسے اسلام سے نہ جوڑا جائے۔۔
اور ہر کوئی یہ کرنے لگ گیا تو نتائج کا ذمہ دار میں نہیں۔۔
Copid